ملی مسائل

دینی مدارس اور روز گار کا مسئلہ!

محمد عرفان ندیم

کارل مارکس انسانی تاریخ کا عظیم مفکر اور فلسفی تھا، یہ انیسویں صدی میں جرمنی میں پیدا ہوا لیکن یہ اپنی فکر اور فلسفے کی وجہ سے آج بھی زندہ ہے۔ پچھلے ایک ہزار سال میں اگر کسی فکر نے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا تو وہ کارل مارکس ہے۔ اقبال نے اس کے بارے میں کہا تھا وہ پیغمبر تو نہیں لیکن اس کی فکراور فلسفہ پیغمبرانہ ہے۔ کارل مارکس ایک اچھے اور کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوا تھا لیکن اس نے دنیاوی آسائشوں کو چھوڑ کر اپنی زندگی غریبوں اور محنت کشوں کے لیے وقف کر دی تھی۔ اس نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت کی اور سوشلزم کا نظریہ پیش کر کے دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اس کے لیے اسے مشکلات کے سمندر بھی عبو رکرنے پڑے مگر وہ اپنی فکر سے باز نہیں آیا، اسی نوکری سے نکالاگیا، جلاوطن کیا گیا، ا س پر فتوے بھی لگے اور اسے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن اسے اپنی سوچ، فکر اور نظریے پر شرح صدر ہو چکا تھا لہذا وہ کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ وہ مختلف ملکوں میں دھکے کھاتا ہوا آخر میں لندن پہنچ گیا، وہ لندن میں لائبریری میں بیٹھ کر ساری رات مطالعہ کرتا تھا، برٹش میوزیم میں آج بھی وہ کرسی محفوظ ہے جس پر بیٹھ کروہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف’’داس کیپٹل‘‘ کے لیے مواد اکٹھا کرتا تھا۔ وہ ساری رات تمباکو کے دھویں اور کتابوں کے اوراق میں ڈوبا رہتا تھا۔ دنیا میں بہت کم انسان ایسے تھے جو اتنے وسیع مطالعے کے حامل تھے۔ وہ اپنی زندگی میں اپنی فکر کو عام نہیں کر سکا، جب وہ مراتو اس کے جنازے میں صرف گیارہ لوگ شریک تھے لیکن اس کے مرنے کے بعد اس کی فکر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے جنازے میں، اس کے دوست اینگلز نے اس کے نظریات اور جدوجہد کو بیان کرتے ہوئے کہا’’مارکس نے انسانی تاریخ کے ارتقا کا قانون دریافت کیا، اْس نے دریافت کیا کہ سیاسیات، سائنس، مذہب اور فن کی جستجو سے پہلے انسان کو کھانے،پینے، سر چھپانے اور بدن ڈھکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہی وہ بنیاد ہے جس پر کسی سماج کے ریاستی ادارے، قانونی تصورات، فن اور مذہبی خیالات ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔ ‘‘کارل مارکس کا کہنا تھا انسانی تاریخ میں جتنے بھی جھگڑے،لڑائیاں اور جنگیں ہوئی ہیں اس کی واحد وجہ صرف اور صرف معاشیات ہے، معاشیات انسانی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور دوسری تمام حقیقتوں کاتعین اسی سے ہوتا ہے۔ اس کا کہنا تھا سوسائٹی کے اخلاق، کردار، اقدار، مذہب، تعلیم، سائنس، سیاست اور حکومت کا تعین بھی معاشیات کرتی ہیں اور یہ دنیا کی واحد اور سب سے بڑی سچائی ہے۔ مذہب کے بارے میں اس کا کہنا تھاکہ یہ غریب عوام کے لیے افیون کا درجہ رکھتا ہے، مطلب یہ تھا کہ سرمایہ دار طبقے نے ہمیشہ مذہب کا سہارا لے کر غریبوں کا استحصال کیا ہے، اپنے لیے بینک بیلنس، سرمایہ اور جائیداد اکٹھی کرنے والا سرمایہ دار غریب کو سادگی، مذہب اور آخرت کا حوالہ دے کر رام کر لیتا ہے۔ آج اس کے اس نعرے کو غلط طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس کا یہ نعرہ مذہب کے خلاف نہیں سرمایہ دار کے خلاف تھا۔ آپ دیکھ لیں آج بھی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ معاشیات ہے،جو ملک اقتصادی طور پر پیچھے ہیں وہ عالمی سیاست میں بھی ناکام ہیں اور جو ملک اقتصادی طور پر خوش حال ہیں ہر دوسرا ملک ان کی عزت کر تاہے، ان کی فکری، نظریا تی اور جغرافیائی سرحدیں محفوظ ہیں۔ جو ملک اقتصادی طور پر بد حال ہیں ان کی نظریا تی سرحدیں محفوظ ہیں نہ جغرافیائی، وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے محتاج ہیں، ان کی پالیسیاں باہر سے بن کر آتی ہیں، ان کا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے، ان کی جمہوریت امریکہ کے رحم و کرم پر ہے اور ان کے صدرا ور وزیراعظم تک کا انتخاب ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کرتا ہے۔آپ اس کو چھوٹی سطح پر قیاس کریں تو یہی مثال ایک گھراور ایک فرد پر بھی صادق آتی ہے۔

اب ہم آتے ہیں دینی مدارس کی طرف، 1982ء تک دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کی ڈگری حکومتی اور نجی اداروں میں قبول نہیں کی جاتی تھی، یہ سب علماء فراغت کے بعد صرف مسجد اور مدرسے تک محدود ہوتے تھے، آپ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ1982سے قبل ایک پرائمری پاس شخص تو خواندہ تسلیم کیا جاتا تھا لیکن مدرسے میں آٹھ سال پڑھنے اور درس نظامی کرنے والے عالم کوان پڑھ اور ناخواندہ شمارکیا جاتا تھا۔ مدارس کے طلباء کے ساتھ یہ ذیادتی کیوں کی جاتی رہی اورہمارے بڑے اس پر کیوں خاموش رہے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔ آپ اس کو اپنے بڑوں کی سادگی کہیں یا کچھ اور نام دیں لیکن بہر حال یہ المیہ تھا جو دینی مدارس کے ہزاروں طلباء پر گزر چکا۔ 1982میں کچھ اصحابِ درد نے اس صورتحال کو محسوس کیااورصدر ضیاء الحق کی توجہ اس جانب مبذول کروائی۔ انہوں نے صدر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ مدارس کی سند کو ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے مساوی قراردیا جائے۔صدر نے یہ معاملہ یوجی سی (Grants Commission University) کو بھجوا دیا۔ یوجی سی نے مسئلے پر ورک شروع کیااور اس پرمشاورت اور غور وخوض کے لیے ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور ماہرینِ تعلیم کو اسلام آباد بلالیا۔ مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء نے مدارس کی نمائندگی کی،طویل مشاورت کے بعد یو جی سی اور ماہرینِ تعلیم نے متفقہ طور پر یہ سفارش کی کہ دینی مدارس کی آخری سند کو ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے مساوی قرار دیاجائے۔ ماہرین کی سفارشات کی روشنی میں یوجی سی نے نوٹیفیکیشن نمبر80198CAD128مورخہ17نومبر1982ء جاری کرکے ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ حقیقت تسلیم کی کہ شہادۃ العالمیہ کی سند کو ایم اے اسلامیات اورعربی کے مساوی تسلیم کیا جاتا ہے۔

مدارس کی دنیا میں یہ ایک بڑی پیش رفت تھی، ہزاروں طلباء کا مستقبل اور انہیں قوموں دھارے میں شامل کرنے کا یہ بہترین موقعہ تھا لیکن افسوس یہ موقعہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکا اور امید کا یہ درخت حالات کی بے رخی کی نذر ہو گیا۔ بعد میں آنے والی حکومتوں، پاکستان کے سرکاری اداروں اور بڑوں کی عدم دلچسپی اور حالات کے عدم ادارک کی وجہ سے یہ معاملہ پھر لٹک گیا۔ سرکاری اور نجی ادارے اپنی مرضی کرنے لگے، کسی جگہ ان اسناد کو قبول کر لیا جاتا اور کہیں رد کر دیا جاتا، نواز شریف، مشرف اور زرداری دور میں یہ معاملہ بار بار ڈسکس ہوتا رہا لیکن ہر بار بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوجاتا۔بعد میں یہ معاملہ ایچ ای سی کے پاس چلا گیا، فیصلہ ہوا کہ ایچ ای سی درس نظامی کی بنیاد پر معادلہ کی سند جاری کر گا اور یہ معادلہ ہر جگہ قابل قبول ہو گا۔معادلہ کی سند کا حصول بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، پہلے وفاق پھر آئی بی سی سی اور آخر میں ایچ ای سی،اچھی خاصی مت مارنے اورہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد آپ کو کاغذ کا ایک ٹکڑا تھما دیا جاتا ہے، کاغذ کا یہ ٹکڑا حاصل کرنے کے بعد کچھ لوگ تو کافی خوش فہم ہوتے ہیں لیکن یہ ساری خوش فہمی اس وقت دور ہو جاتی ہے جب آپ کسی جگہ جاب یا مزیڈ سٹڈی کے لیے اپلائی کرتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں اس کے ساتھ ریگولر بی اے کی شرط رکھی جاتی ہے اور پرائیویٹ ادا روں میں میرٹ اس سے بھی ذیادہ سخت ہوتا ہے۔ ہر ادارے کی اپنی مرضی اور پالیسی ہوتی ہے، انہیں ایچ ای سی کا نوٹیفیکیشن اور معادلہ کی سند دکھائی جائے تو کہا جاتا ہے یہ ہمارا معاملہ نہیں آپ کورٹ میں جائیں۔ سال قبل پنجاب میں ایجوکیٹرز کی بھرتیاں آئی، لوگوں نے معادلے کی بنیاد پر ایم اے اسلامیات کی پوسٹو ں پر اپلائی کیا، ٹیسٹ کلیئر کرنے اور مہینوں انتظا رکے بعد جب میرٹ بننے کی باری آئی تو یہ کہہ کر انہیں رد کر دیاگیا کہ آپ کا ماسٹرریگولر نہیں، جب انہیں ایچ ای سی کا نو ٹیفیکیشن دکھایا گیا تو کہا گیا یہ ہمارا معاملہ نہیں آپ کورٹ میں جائیں۔ صورتحال یہ ہے کہ 1982سے آج تک یہ آنکھ مچولی جاری ہے، ہر آنے والی نئی حکومت مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی بات کرتی ہے، طویل مذاکرات اور میٹنگز ہوتی ہیں اور اسی ہیر پھیر میں پانچ سال گزر جاتے ہیں۔ اب تک یہی ہوتا چلا آیا ہے اور مجھے امید نہیں یقین ہے کہ خان صاحب کے دور میں بھی یہی سب کچھ ہوگا۔ اس سارے عرصے میں نقصان کس کا ہوا اور حالات کے جبرکا شکار کسے ہونے پڑھا، ان ہزاروں طلباء کو جو آٹھ دس سال مدارس میں پڑھتے ہیں، زندگی کا بہترین حصہ خدمت دین کے لیے وقف کرتے ہیں اور آخر میں انہیں یہ کہہ کر دھتکار دیا جاتا ہے کہ آپ کا ماسٹر ریگولر نہیں۔ یہ ہے وہ اصل صورتحال،پس منظر اورموجودہ منظر نامہ ہے جو اس وقت چل رہا ہے۔

روزگار کا مسئلہ انسانی زندگی کے بنیادی اور اہم ترین مسائل میں سے ہے، انسانی زندگی کے تمام مسائل اسی بنیادی مسئلے کے گرد گھومتے ہیں، آپ ایک منٹ کے لئے اپنی زندگی پر غور کریں، آپ اپنے ارد گرد رہنے والے انسانوں پر ریسرچ کریں اور سڑکوں پر بھاگتے دوڑتے انسانوں کا تجزیہ کریں آپ کو نظر آئے گا ہر انسان معاشیا ت کے پیچھے دھوڑ رہا ہے، آپ کا اپنا سارا دن معاشیات کی نذر ہوتا ہے، آپ کے ارد گرد رہنے والے سارے انسان کمانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور سڑک پر دھوڑتا ہر انسان معاشیات کا پیچھا کر رہا ہے۔ ایک صدر اوروزیر اعظم سے لے کر ایک عام مزدورتک ہر زندہ انسان کی یہی کہانی ہے۔ آپ کسی دن اپنے گھر کے باہر یا کسی مین شاہراہ پر بیٹھ جائیں اور صبح سے شام تک ہر آنے جانے والے انسان کا تجزیہ کریں آپ کو سو میں سے ایک سو ایک فیصد انسان معاشیات کے چکر میں بھاگتے دوڑتے نظر آئیں گے۔ حتی کہ وہ لوگ جو نظاہر سادگی اور ترک دنیا کا درس دیتے ہیں وہ بھی آپ کو اس صف میں کھڑے نظر آئیں گے، ایک عالم اور شیخ الحدیث تک اس اصول سے مستثنیٰ نہیں کہ وہ بھی زندگی گزارنے کے لیے، اسباب کی حد تک معاشیات کے محتاج ہیں۔ یہ سب کیا ہے، یہ وہ ازلی حقیقت اور ابدی سچائی ہے جس کا کوئی معقول انسان انکار نہیں کر سکتا۔کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ کارل مارکس اور اس کی فکر و فلسفے کو سلام پیش کروں جس نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی تھی کہ ساری انسانی تاریخ معاشی جھگڑوں کے ارد گرد گھومتی ہے۔

میرا کرب اور اضطراب یہی ہے کہ ارباب مدارس نے انسانی زندگی کے اس بنیادی اور اہم ترین مسئلے کو کیوں نظر انداز کر رکھا ہے۔ ایک عالم کہ جس شان میں استغناء اور بے نیازی کوٹ کوٹ کر بھری ہونی چایئے اسے دوسروں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑا جا سکتا ہے۔ عالم یا امام سوسائٹی کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، وہ جو منبر و محراب پر درس دے رہا ہوتا ہے جب تک اپنے عمل سے اس کا اظہار نہ کرے اس کی بات کھوٹے سکے جتنی اہمیت نہیں رکھتی اور معذرت کے ساتھ کہ اس کے جو معاشی حالات ہوتے ہیں ان کے ہوتے ہوئے وہ کبھی رول ماڈل نہیں بن سکتا، رول ماڈل تو کجا وہ اپنی عزت نفس اور سفید پوشی کا بھرم بھی قائم رکھ لے تو بڑی بات ہے۔ میں نے بڑے بڑے مؤدب،بڑوں پر اعتماد کرنے والے اورذہین طلباء کو دیکھا ہے کہ وہ فراغت کے بعد جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں اور انہیں مذکورہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مایوسی میں ان کی زبانیں لمبی ہو جاتی ہیں، بڑوں پر اعتماد ختم اور شکوے شکایتیں باقی رہ جاتی ہیں۔ میں نے اساتذہ کے بہت قریبی اور بخاری شریف کی عبارت پڑھنے والے طلباء کو لاہور ہال روڈ پر موبائل کی دکانوں کے باہر اڈا لگائے دیکھا ہے، دورہ حدیث کی پانچ سو طلباء کی کلاس کے امیر کو کریانہ کی دکان چلاتے دیکھا ہے۔ باصلاحیت طلباء کو غم روز گار کے سلسلے میں لبرلز اور نام نہاد اسلامی اسکالرز کے ہاتھوں استعال ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ سب پیشے اور محنت مزدوری معیوب نہیں اور نہ یہ میرا مطمح نظر ہے، میرا کرب البتہ یہ ہے کہ جب آپ کا ذہین ترین طالبعلم اور آپ کی آٹھ دس سالہ محنت یوں سڑکوں اور بازاروں میں ضائع ہوتی ہے تو کم از کم میرا دل ضرور دکھتا ہے۔

قحط الرجال کے اس دور میں اگرہم باصلاحیت طلباء کو ایسے ہی نظر انداز کرتے رہیں گے تو ایک دن یہ نسل بڑوں پر عدم اعتماد اور بیزار ی کا اظہا ر کر دے گی۔ یہی وہ طوفان ہے جس کے خدشے کا اظہار میں نے چند دن قبل ان الفاظ میں کیا تھا’’ مدارس کی دنیا میں، آنے والے زمانے میں، زیر زمین ایک لاوابل رہا ہے، ایک سونامی ہے جس کی لہریں دن بدن بلند ہوتی جا رہی ہیں، حالات ایک خطرناک طوفان کا پتا دے رہے ہیں، لیکن کیا ارباب مدارس کو اس کا اندازہ ہے، وہ اس آتش فشاں اور سونامی کی شدت سے آگاہ ہیں ؟اگر ہاں تو اس کے سامنے بند باندھنے کے لیے وقت بہت کم ہے، اگر نہیں تو عنقریب یہ طوفان سب کچھ ملیا میٹ کر دے گا۔ میرا اضطراب مگر یہ ہے کہ ارباب مدارس ان حالات سے بے خبرہیں یا دانستہ چشم پوشی کر رہے ہیں، وجہ کوئی بھی ہو،نتائج خطرناک اور ہوش ربا ہیں۔ اس وقت ان کے پاس صرف دو آپشن ہیں، ممکنہ طوفان سے نمٹنے کے لیے حکمت علمی اپنائیں یا نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ ‘‘

روز گار کا مسئلہ وہ بنیادی مسئلہ ہے جسے کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس مسئلے کو نظر انداز کر کے ہم اپنی نئی نسل سے خدمت دین کے اس کام کی توقع نہیں کر سکتے جس کی اس وقت ضرورت ہے۔ نبی اکرم نے فرمایا تھا کہ بعید نہیں فقر تمہیں کفر تک پہنچا دے۔ سید حسین احمد مدنی نے آج سے اسی سال قبل اس مسئلے کی نشاندہی کر دی تھی، 1937میں علی گڑھ میں ہونے والی مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی پچاس سالہ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا تھا :’’غور طلب یہ امر ہے کہ صرف ہندوستان میں شاید کئی لاکھ مسلمان ہر سال عربی تعلیم میں مشغول رہتے ہیں اور ہر سال ہزاروں طالب علم آٹھ دس برس کی محنت شاقہ کے بعد سند فراغ حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لیے بظاہر معاش کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ یہی لوگ قومی اور مذہبی رہنما اور قومی رہبر ہوتے ہیں، مگر معمولی بسر اوقات اور اپنی قوت سے قدر کفاف حاصل کرنے کا موقع بھی ان کو حاصل نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رہنما ہوتے ہیں مگر محتاج، رہبر بنتے ہیں مگر مفلس اور احتیاج کی وجہ سے جو جو خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں وہ ہوتی رہتی ہیں۔

یہ چیز ناممکن ہے کہ مسلمانوں کو عربی تعلیم سے روک دیا جائے اور روکنا مناسب اور جائز بھی نہیں۔ ورنہ یہ مسلمانوں کی مذہبی اور ملی تباہی کا باعث ہو جائے گا۔ لہٰذا کیا مسلمانوں کی اس تعلیمی کانفرنس کے لیے یہ امر غور طلب نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی عربی تعلیم کے مسئلہ کی طرف اپنی مکمل توجہ منعطف کرتی ہوئی عربی تعلیم یافتہ اشخاص کے ذرائع معاش کے مسئلہ کو حل کرے۔

یقیناًمسلم ایجوکیشنل کانفرنس نے اس مسئلہ سے اب تک بہت بڑی غفلت برتی ہے۔ شکایت کی جاتی ہے کہ اچھے علماء پیدا نہیں ہوتے، مگر اچھے علماء پیدا ہونے کے اسباب و ذرائع کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کا مشہور مقولہ ہے’’ لو کلفت بصل ما عرفت مسئلہ‘‘ کہ اگر مجھے پیاز کی تکلیف دی جاتی تو ایک مسئلہ کو بھی نہ پہچانتا۔ ضروری ہے کہ علماء کو احتیاج اور افلاس سے نکالا جائے۔ ان کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ اپنی روزی اپنے قوت بازو سے حاصل کر سکیں تاکہ ان میں فارغ البالی، خود داری، آزادی رائے پیدا ہو سکے اور ’’چہ خورد بامداد فرزندم‘‘ سے فی الجملہ آزاد ہو جائیں۔ یہ امر مشکل نہیں ہے مگر اس کے لیے متفقہ قومی آواز کی ضرورت ہے۔ ‘‘(جاری ہے)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Close