ملی مسائل

دینی مدارس کا المیہ!

محمد عرفان ندیم

مدارس کی دنیا میں، آنے والے زمانے میں، زیر زمین ایک لاوابل رہا ہے، ایک سونامی ہے جس کی لہریں دن بدن بلند ہوتی جا رہی ہیں، حالات ایک خطرناک طوفان کا پتا دے رہے ہیں، لیکن کیا ارباب مدارس کو اس کا اندازہ ہے، وہ اس آتش فشاں اور سونامی کی شدت سے آگاہ ہیں ؟اگر ہاں تو اس کے سامنے بند باندھنے کے لیے وقت بہت کم ہے، اگر نہیں تو عنقریب یہ طوفان سب کچھ ملیا میٹ کر دے گا۔ میرا اضطراب مگر یہ ہے کہ ارباب مدارس ان حالات سے بے خبرہیں یا دانستہ چشم پوشی کر رہے ہیں، وجہ کوئی بھی ہو،نتائج خطرناک اور ہوش ربا ہیں۔ اس وقت ان کے پاس صرف دو آپشن ہیں، ممکنہ طوفان سے نمٹنے کے لیے حکمت علمی اپنائیں یا نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

یہ لاوا کیوں ابل رہا ہے اور سونامی کی لہریں کیوں بلند ہو رہی ہیں اس کی بہت ساری وجوہات ہیں، مدارس کا نصاب و نظام، طریقہ تدریس، اسناد کا مسئلہ، عصری تعلیم کا معاملہ،امتحانات کا نظام، مہتممین کا رویہ، بعد از فراغت روزگار کے مسائل اور سماج میں اپنی معتبر شناخت کا حصول۔ یہ چند نمائندہ مسائل ہیں ورنہ مسائل کا ایک طویل غار ہے جس کے نیچے لاوا ابل رہا ہے، یہ کسی بھی وقت آتش فشاں بن کر پھٹ جائے گا اور ارباب مدارس کی جملہ مساعی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گی جنہیں وہ سمیٹنا بھی چاہیں تو نہیں سمیٹ سکیں گے۔

اصل مسائل کی طرف آنے سے قبل چند تمہیدی باتیں سمجھ لی جائیں۔ مدارس اہل پاکستان کے لیے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں اور ان کی بدولت آج بھی سماج کا رشتہ اللہ اور رسول سے جڑا ہوا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج یہ مدارس اپنی اتھارٹی، اہمیت اور حیثیت کو برقرا نہیں رکھ پائے۔ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن نتیجہ ایک ہی ہے کہ ایک عالم جسے سوسائٹی میں لیڈرشپ کا کردار ادا کرنا تھا وہ سوسائٹی میں اپنی ذات کی شناخت تک نہیں کروا سکا۔ وہ بذات خود شناخت کے بحران کا شکار ہے۔ مدارس کے علاوہ جو دینی قوتیں مصروف کار ہیں وہ بھی زمانے کے تقاضوں کا کما حقہ ادارک نہ ہونے کی وجہ سے بظاہر ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ ہماری پوری روایتی مذہبی فکر، مجموعی طور پر تنزلی کا شکار ہے اوراس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس فکر کے حاملین کو اس کا احساس تک نہیں۔ اگر کہیں احساس ہے بھی تو وہ کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے عصری تعلیمی ادارے بھی وہ رجال کا ر پیدا نہیں کر پا رہے جو دین و مذہب اور ملک و ملت کے خیر خواہ اور اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں۔ اس سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ان اداروں کا جو ماحول ہے اس سے کوئی بہت ذیادہ امید بھی نہیں کی جاسکتی۔ایسی صورت میں لامحالہ نظریں مدارس کی طرف اٹھتی ہیں کہ اہل مدارس ہی ہماری تراث کے وارث اور آئندہ اس کے احیاء کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملک کا دانشور اور اہل علم طبقہ متعدد مواقع پر ا ہل مدارس کی اس صلاحیت کا اعتراف کر چکاہے۔

اس ساری صورتحال کے پیش نظر گزشتہ پندرہ بیس سالوں سے، مدارس سے فیض یافتہ کچھ ایسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے اپنی ذاتی محنت، لگن، شوق، حالات کے ا دارک اور مستقبل بینی کے تحت اپنی شناخت خود پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے قدیم و جدید پر عبور حاصل کیا، وقت کے تقاضوں اور حالات کو سمجھا اورجدید فقہی،ریاستی اورآئینی مسائل پر عبورحاصل کر کے انہیں رسپانڈ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سارے اپنی بنیاد سے ہٹ گئے، اکابرین اور بڑوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا اور اصلاح کی بجائے بذات خود مدارس کو تنقید و تحقیر کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ایسا رویہ اپنانے والوں پر گزشتہ دو کالموں میں تفصیلی تبصرہ کر چکا ہوں۔ قدیم و جدید پر عبور اور اپنی محنت سے شناخت پیدا کرنے والوں میں سے، سو میں سے دو چارایسے ہوں گے جنہوں نے بڑوں اور اکابرین پر اعتماد قائم رکھا اور اپنی حد تک بہتری اور اصلاح کی کوشش جا ری رکھی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قابل قدر ہیں اور جن سے مدارس اور ہماری روایت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس پر تفصیلی بات اگلے کالم میں کریں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Close