ملی مسائل

دیکھ اپنی سادگی اوروں کی عیاری بھی دیکھ

قاسم سید

کبھی جسم پر ننھے دانے ہوجاتے ہیں انہیں بے ضرر سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں یا انہیں کھجلاتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ناخن لگنے سے وہ دانے پریشان کن شکل اختیارکرلیتے ہیں کھجاتے وقت دنیا جہاں کی لذت محسو س ہوتی ہے پھر پسینہ لگنے سے بھی مرچ محسوس ہوتی ہے ۔ سوچتے ہیں کہ اب یہ کام نہیں کریں گی مگر کھجانے کی لذت اس پر آمادہ کرلیتی ہے ۔ کبھی کوئی دانہ گہراناخن لگنے سے چھوٹاسازخم بن جاتا ہے۔لاپرواہی، بے احتیاطی اور بے توجہی کارویہ اسے پھوڑا بنا سکتا ہے ۔بسااوقات دیکھا گیا ہے کہ پھوڑا کی ہیت بڑی بھیانک ،اذیت ناک اور ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ آپریشن ناگزیر ہوجاتا ہے۔ اس تکلیف کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو اس مرحلہ سے گزریہوں۔ عام زندگی میں یہ مشاہدہ روزوشب کاحصہ ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے کتابوں کوپڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہمارے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہرمسئلہ کا ذمہ داردوسروں کو قرار دے کر اپنی غلطیوں وکوتاہیوں سے بری الزمہ ہوجاتے ہیں۔ راہ فرار کے طریقہ کارنے بے وزن وبے توقیر بنادیاہے۔ مسلمانوں کااستحصال صرف سیکولر پارٹیوں یا ان کے ہمدرد سمجھے جانے والوں نے ہی نہیں کیا بلکہ وہ لوگ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جوانہیں فروعی امور میں الجھا کر باہم دست گریبان ہونے پر اکساتے رہے اور اپنا الوسیدھا کرتے رہے ہیں ان میں مسلم سیاسی طبقہ کے ساتھ دنیا پرست ، جاہ پرست مولویوں کا وہ مٹھی بھرگروہ بھی شامل ہے جسے مولانا ابوالکلام آزاد نے سگ دنیا کہا ،جو دین کو تماشہ بناکر اپنی ضرورتوں کے مطابق اس کی تشریح وتعبیر کرنے میں ذرا ساڈر محسوس نہیں کرتے جسے اپنی دنیا اور مسلمانوں کی عاقبت سنوارنے کی فکر زیادہ ہوتی ہے ۔امت واحدہ کی بجائے مسلکی گروپوں اور تابعداروں کے گروہوں میں بانٹ کر اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کی سوچتے ہیں۔ مسلمانوں کو باہم لڑانے سرپھٹول پرآمادہ کرنے کی تاریخ بڑی گھناؤنی ہے اس کے نتائج بھی بڑے بھیانک رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت سادہ لوح ،اللہ سے ڈرنے والی ،رسولﷺ سے بے پناہ عشق ومحبت کرنے والی ہیجو اللہ کی عظمت اور رسولﷺ کی حرمت کیلئے جان ہتھیلی پر رکھتی ہے گاہے بگاہے اس کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے ۔جب بھی ایسی ناپاک جسارت کی گئی کم مائیگی کے باوجود اپنی حمیت وغیرت کا ثبوت دیتی رہی ہے، مگر دیدہ ونادیدہ طاقتوں نے اتنے خانوں میں تقسیم کردیا ہے کہ کروڑوں کی تعداد تسبیح کے بکھرے دانے بن کر رہ گئی ہے۔ جو مسائل ہم نے بڑی محنت کے ساتھ خود پیدا کئے ہیں ان کا علاج بھلا دوسراکیسے کرسکتا ہے ۔
ہمیں جب یہ معلوم ہو کہ بنیادیں کھودنے والا کون ہے۔ پھر بھی پڑوسی کو ذمہ دار قرار دیں تو اس سے بڑی نادانی ،بے وقوفی اور خود فریبی اور کیا ہوسکتی ہے۔ ان کا لموں میں بہت سے مسائل کا بار ہا تذکرہ کیاگیا ان میں مسلکی اختلافات کی سنگینی اور بڑھتے طوفان کو روکنے پر توجہ دلائی جاتی رہی مگر کوئی سمجھنے کیلئے تیارنہیں ۔ علما کا وہ طبقہ جو بہت کچھ کرسکتا ہے نہ جانے کیوں مصلحت کی چادراوڑھے بیٹھا ہے نتیجہ یہ ہے کہ تنگ نظر تنگ ذہن مولویوں کا وہ گروہ جو مسلمانوں کی باہمی آمیزش اور انہیں لڑانے میں ہی اپنی دنیاوی فلاح وبہبود سمجھتا ہے اس کیلئے میدان خالی چھوڑدیاگیا ہے ۔ یہ نفرت وعداوت کی فصل بڑی محنت سے تیار کی گئی ہے اس میں کھاد پانی معاف کیجئے ایسے اداروں نے بھی فراہم کیا جو صرف اورصرف مسلکی تبلیغ واشاعت کیلئے قائم ہوئے جہاں دوسرے مسالک کے رد کی تعلیم دی گئی ۔ اب یہاں جو کھیپ تیار کی گئی وہ مسلم سماج میں پھیل کرہی کام کررہی ہے جس کے لئے انہیں تیار کیاگیا ۔ اسی طرح وہ کتابیں جو ایک دوسرے کو کافر ،زندیق ،جہنمی بتاتی ہیں مسلم معاشرہ کی جڑوں کو کھوکھلاکر رہی ہیں ہوسکتا ہے یہ سب کہنے لکھنے والے کو بھی ضال ومضل کہہ دیا جائے ۔ اس کے اوپر بھی کہیں سے کفر کا فتویٰ آجائے اس کیلئے بھی تجدید ایمان کی ہدایت آجائے اسے بھی تجدید نکاح کاحکم دیاجائے اور یہ روایت تو بہت پرانی ہے ہم نے کسے چھوڑا ہے کون سا ثقہ عالم دین ہے جو کفر کی توپوں سے محفوظ رہا ہو جن کی مخلصانہ کوششوں کو برداشت کیاگیاہو۔ کسی کی داڑھی نوچی ،کسی کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا کافربنادیئے جانے والوں کی طویل فہرست ہے۔
سب نے اپنے معیار مطلوب بنالئے ہیں جو اس سانچہ میں فٹ نہیں بیٹھتا اس کا دائرہ اسلام میں رہنامشتبہ ہوجاتا ہے ۔ ہمارے طرز عمل سے اسلام بدنام ہورہا ہے مگر لگتا ہے کسی کو فکر ہی نہیں ۔ سب اپنی دکان محفوظ کرنے میں لگے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک تباہ خیز طوفان برپا ہیں مسلمانوں کی ملک سے وفاداری اور حب الوطنی کو شکوک وشبہات میں بدلنے کی بات تو بہت دور مسلم مکت بھارت کی سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہیں۔ مسلم پرسنل لامیں مداخلت کادروازہ کھولاجارہا ہے۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی بات زور وشور سے اٹھ رہی ہے۔ ہندوستان نظریاتی جنگ میں الجھا ہوا ہے یہ جنگ بہت فیصلہ کن ہے اور اس کا فائنل راؤنڈ 2019 میں ہوگا جبکہ سیمی فائنل 2017میں اترپردیش میں ہورہا ہے ۔ مگر ان تمام باتوں بے نیاز مسلمان مسجد کی امامت پر قبضہ کی جنگ میں الجھا ہے ۔ آئے دن ایسی خبریں کلیجہ پانی کئے دیتی ہیں کہ مسجد پر قبضہ کی لڑائی میں سر پھٹ گے ۔ لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال ہوا۔ پولیس فورس لگادی گی ،انتظامیہ نے مسجد پر تالہ لگادیا اور اللہ اکبرکی صدائیں آنا بند ہوگئیں ہوسکتاہے کہ بعض عاقبت نااندیش اس میں بھی مودی سرکار اور مسلم دشمن طاقتوں کا ہاتھ بتانے لگیں اپنی بداعمالیوں اور گناہوں کو دوسروں کے سر تھوپنا عادت ثانیہ بن چکی ہے۔
گزشتہ دنوں ماہ رمضان المبارک میں مرادآباد کی مسجد ارقم میں جو 13جون 2015سے وقتاًفوقتاً ایسے عذاب دیکھ رہی ہے ایک بار پھر ملت اسلامیہ کے جیالے فرزند وں نے مسجد کے اندر ایک دوسرے پر خوب ہاتھ آزمائے، سرپھوڑے ،گریباں چاک کئے ،زمین پر گراکر مارا داڑھیاں پکڑ کر نوچیں ،ایک اللہ اور ایک رسول کو ماننے والے ایک دوسرے مسلک کو برداشت کرنے کیلئے تیارنہیں تھے ۔ پولیس نے مداخلت کی ،نمازیوں کو گرفتار کیا، احتیاط کے طورپر مسجد کے اطراف میں پولیس کوتعینات کردیاگیا مسجد پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہوگئی۔گرفتار فرزندان توحید جیل میں سحری افطار کرکے سنت یوسفی ادا کررہے ہیں ،کئی فرار ہیں ان کے مکانوں پر دبش دی جارہی ہے مسجد میں کئی وقتوں کی نماز نہیں ہوسکی کیا یہ صورتحال شرمناک نہیں ؟کیا مسلمانوں کی خجالت ورسوائی اور ہوا خیزی کا باعث نہیں کیا ان کی بے وزنی بے توقیری بڑھانے والے کرتوت نہیں ؟کون ہے جو اس پر بغلیں بجائے گااور کون ہے جو خون کے آنسو نہیں روے گا ایسے واقعات بڑھتے جارہے ہیں ان کا دائرہ وسیع ہورہا ہے ۔ کیا ہمارے سرپرآفتوں وآزمائشوں کی پوٹلی کا بوجھ کچھ کم ہے کہ ہم اور اس میں اضافہ کررہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ایسے فسادی عناصر تعداد میں کم ہے لیکن وہ مسلم معاشرہ پر حاوی ہوتے جارہے ہیں ۔
حیرت یہ ہے کہ کسی متعددادارے کو اس کی سفاکیت وہلاکت کا احساس نہیں مسلم پرسنل لا بورڈ کو اس بات کی توفکر ہے کہ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کونظرانداز کررہی ہیں انہیں قانون ساز اداروں میں مناسب نمائندگی نہیں دے رہی ہیں آثار قدیمہ کے تحت بند مساجد کو آزاد کرنیکی بھی فکر ہیلیکن مسلکی فسادات کے سبب جن مسجدوں پر انتظامیہ کیتالے لگ رہے ہیں نمازیں بند ہوگئی ہیں ان کے بارے میں کوئی تشویش نہیں۔
یہ چھوٹا سادانہ زخم سے پھوڑابن گیا ہے اسے ناسور بننے سے روکاجائے ورنہ لاوا پک رہا ہے ایسا نہ ہوکہ صورتحال قابو سے باہر ہوجائے بعض حلقوں سے اتحاد کی آواز اٹھی ہے اسے مضبوطی دینے کی ضرورت ہے اب شاید صحیح وقت ہے کہ تمام مسالک کے ممتاز ثفہ علما پر مشتمل مسلکی یکجہتی کونسل تشکیل دی جائے جو پورے ملک کا دورہ کرے۔ ایک دوسرے کی مساجد میں نماز پڑھے اور مسلمانوں کو اس فتنہ کی سنگینی سے آگاہ کرکے مسلکی اتحاد نہیں مسائل پر اتحاد مطلوب ہے۔ مسلم پرسنل لابورڈ یہ کام کرسکتا تھا مگر اس کے کاندھوں پر بہت بوجھ ہے اور اسے شاید دلچسپی بھی نہیں وہ اس میں پڑنانہیں چاہتا۔ ہماری آنکھیں نہ کھلیں تو کب کھلیں گی ،مذہب کی روسیمایوسی کفر کی علامت ہے اور عقل کی روسے خوف وہراس ظلم کو دعوت دینے کانام ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

قاسم سید

معروف صحافی اور روز نامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر

متعلقہ

Close