ملی مسائل

دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

حفیظ نعمانی

مسلم پرسنل لاء بورڈ نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ راجیہ سبھا میں ایک وقت میں تین طلاق بل کے منظور نہ ہونے سے ناراض حکومت آرڈی نینس کے ذریعہ اس بل کو مسلمانوں پر مسلط کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ بورڈ نے کہا ہے کہ وہ محترم صدر سے درخواست کرے گا کہ وہ ایسے بل کو منظور نہ کریں۔ یہ بات اب کہنے کی نہیں ہے کہ وزیر اعظم نے اب تک کے اپنے اقتدار میں سب کا ساتھ سب کا وکاس کا تو صرف نعرہ لگایا ہے لیکن کام صرف یہ کیا ہے کہ پورے ملک پر کیسے حکومت ان کی ہو اور ہر کلیدی عہدہ پر انہیں بٹھایا جائے جن کے لئے مودی جی اتنے محترم ہوں کہ وہ دیکھتے ہی ادب سے کھڑے ہوجائیں۔

دستور نے یوں بھی صدر کے ہاتھ پوری طرح باندھ دیئے ہیں وہ پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد جن سے زیادہ محترم صدر پھر کوئی نہیں ہوا انہوں نے اپنے سیاسی ساتھی پنڈت سندر لال، مولانا حفظ الرحمن، ڈاکٹر ذاکر حسین، پنڈت داتریہ، کیفیؔ جیسے دوستوں سے جب یہ کہہ دیا تھا کہ آپ لوگ میرے پاس کیوں آئے ہیں؟ میں تو وہ کروں گا جو جواہر لال اور سردار پٹیل کہیں گے۔ اور آج جو صدر محترم ہیں وہ تو اپنی سائیکل کے کیریئر پر مودی جی کو بٹھاکر گھمایا کرتے تھے وہ تو دستخط کرنے سے پہلے پڑھیں گے بھی نہیں کہ لکھا کیا ہے؟

سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل کپل سبل نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کے فیصلہ میں کہیں بھی طلاق ثلاثہ کو مجرمانہ عمل قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن حکومت نے اپنے اس بل میں طلاق ثلاثہ کو مجرمانہ عمل اور اس کی سخت سزا مقرر کرکے مسلم مردوں کو نشانہ بنانے کی اپنی بدنیتی کا صاف مظاہرہ کردیا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کے معاملے میں خاموش رہ کر جو سیاسی غلطی کی تھی راجیہ سبھا میں اس کی تلافی کردی ہے اور اسے مسترد کرنے کے بجائے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کی بات کہی ہے۔ حکومت کا سلیکٹ کمیٹی کو نہ بھیجنا اس کا ثبوت ہے کہ اس کی نیت خراب ہے اور اس کے پیش نظر مسلمان مطلقہ عورتوں کے بجائے صرف مسلمان مرد ہیں جن کو وہ 2019 ء میں دہشت زدہ کرکے انہیں بے عمل بنانا چاہ رہی ہے۔

دُخترانِ اسلام کچھ بھی ہوجائے سڑکوں پر نہیں آئیں گی ان کے سامنے صرف یہی پردہ نہیں ہے کہ وہ اپنے کو چھپاکر اور ڈھک کر رکھیں بلکہ ان کے سامنے حضور رسول اکرمؐ کی یہ حدیث بھی ہے کہ جب ایک صاحب درِدولتؐ پر حاضر ہوئے اور آپؐ نے گھر کی خواتین سے فرمایا کہ پردہ میں ہوجائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ حضوؐر وہ تو نابینا ہیں ان سے کیا پردہ؟ تو آپؐ نے فرمایا تھا کہ تم تو نابینا نہیں ہو۔ وہ دُخترانِ اسلام کیسے ہوسکتی ہیں جو سر کھول کر بال بکھیرکر اور میک اپ کرکے ٹی وی اسٹوڈیو میں بیٹھ کر مردوں سے بحث کریں اور ڈنکے کی چوٹ پر کہیں کہ جب طلاق دینے والے کو سزا دی جائے تو اس مولوی کو بھی دی جائے جو اسے غلط نہیں مانتا۔

جن لوگوں نے فلموں سے متعلق مضامین پڑھے ہوں گے وہ جانتے ہیں کہ فلموں میں ہیرو ہیروئن اور فلم کا حصہ بننے والے چند دوسرے ہوتے ہیں لیکن فلم بنانے والوں کو بھیڑ دکھانا ہوتی ہے تو وہ ایکسٹرا کہے جانے والے ہزاروں مردوں اور عورتوں کو دلالوں کے ذریعہ بلالیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں مرد بھی کرایہ پر ملتے ہیں اور عورتیں بھی جو ان لڑکے لڑکیاں بھی اور بچے بھی۔ یہ جو ہاتھوں میں جھنڈے اور تختیاں پکڑے کالے برقعے پہنے پارلیمنٹ کے سامنے نعرے لگاتی گھوم رہی ہیں یہ دُخترانِ اسلام نہیں یہ طلاق ثلاثہ نام کی فلم میں دکھانے کے لئے ایکسٹرا ہیں جو دلالوں کے ذریعہ بلائی گئی ہیں۔ ان میں سے نہ جانیں کتنی وہ ہیں جو رات کو دوسروں کے بستروں پر سوکر صبح نوٹ گنتی ہوئی گھر آجاتی ہیں اور جب دلال بلانے آتا ہے تو جس فلم میں کام کرنے کے لئے جانا ہوتا ہے چلی جاتی ہیں۔ حکومت نے جو بل پیش کیا ہے وہ پندرہ سو برس سے رائج شریعت کو مجروح کرنے کے لئے ہے۔ مودی جی مسلمانوں میں درار ڈالنا چاہتے ہیں۔

حکومت بغیر محرم کے عورتوں کو حج کے کارنامے پر فخر محسوس کررہی ہے۔ جبکہ پابندی سعودی حکومت کی تھی ملک کی حکومت میں اس پر کہاں پابندی تھی کہ جوان عورت اکیلی دوسرے ملک نہ جائے۔ سعودی عرب میں اب جو حکومت آئی ہے اسے تیل کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی پیسے حاصل کرنا ہیں اس نے سنیما ہال بھی دوبارہ کھولنے کا اشارہ دیا ہے اور جو لوگ وہاں رہ رہے ہیں ان پر طرح طرح کے ٹیکس لگائے ہیں۔ مودی سرکار کے سامنے صرف حکومت ہی نہیں ہندو دھرم بھی ہے وہ بھی پڑھ رہے ہوں گے کہ یوروپ میں ایک لاکھ سے زیادہ لڑکیاں اور لڑکے مسلمان ہوگئے۔ وہ اسلام کی ایسی شکل بنا دینا چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام کے نام سے لوگ بھڑکنے لگیں۔

طلاق کے لغوی معنی عورت کا نکاح سے آزاد ہونا ہے عقد نکاح کے ذریعہ جو مرد اور عورت کو باندھا جاتاہے وہ معاہدہ طلاق سے ختم ہوجاتا ہے۔ نکاح میں سرکار کا کوئی دخل نہیں ہوتا تو نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے میں وہ کیوں مداخلت کرے؟ اور جب سپریم کورٹ کے تین ججوں نے ایک مجلس کی تین طلاق کو کالعدم قرار دے دیا اور ان تینوں نے جو اکثریت میں تھے حکومت سے قانون سازی کے لئے نہیں کہا تو حکومت سپریم کورٹ کے دو ججوں کے اقلیتی فیصلہ کو نوٹس میں لیتے ہوئے قانون سازی میں جلدبازی کیوں کررہی ہے جبکہ حکومت اس قانون سازی کی پابند بھی نہیں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی نیت قانون سازی کی نہیں ہے۔ وہ صرف طلاق کو دیوانی معاملہ کے خانہ سے نکال کر فوجداری معاملہ کے خانہ میں لانا چاہتی ہے۔ جس کے بعد ہر شادی شدہ مسلمان کی عزت اس پولیس کے ہاتھ میں ہوگی جو سنگھ پریوار کا ایک شعبہ ہے اور جس کی بدولت آج ملک میں مسلمان آبادی کا پانچواں حصہ ہونے کے باوجود جیلوں میں اکثریت سے زیادہ ہیں اور اگر وزیر قانون کو بے لگام چھوڑ دیا گیا تو سیکڑوں نئی جیلیں بنوانا پڑیں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close