ملی مسائل

ذاکر نائک: جتنے منہ، اتنی باتیں!

ندیم احمد انصاری
میڈیا میں یہ خبروایرل ہوتے ہی کہ۔۔ ڈھاکہ میں ایک ہندوستانی خاتون سمیت22 لوگوں کو بے رحمی سے قتل کرنے والے6 جنگ جوؤں میں سے ایک ذاکر نائک سے متاثر تھا، تب سے وہ انٹلیجنس ایجنسیوں کی نظر میں ہیں۔۔ایک ہنگامہ بپا ہے۔ اس خبر کے آنے کے بعد جتنے منہ اتنی باتیں سننے میں آرہی ہیں،تقریباً ہر روز ایک سے زائد خبریں اس سے متعلق اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اور سوشل میڈیا میں تو ہر کس و ناکس اسی موضوع پر بحث کرتا نظر آرہا ہے۔ جہاں ہندو اپنے کمنٹ میں لکھ رہے ہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائک وہ آدمی ہے، جس نے ہندوؤں کو ان کی مذہبی کتابوں کی طرف متوجہ کیا، ورنہ پنڈت صرف بچے کی ولادت، نام اور شادی بیاہ کی رسموں تک مذہب کو محدود کیے ہوئے تھے، وہیں مسلمانوں میں اس بات کو لے کر بحث ہو رہی ہے کہ ذاکر نائک پر یہ الزام تراشیاں درست ہیں یا نہیں۔ ایسے میں کچھ نام نہاد مسلمان ایسے بھی نظر آرہے ہیں جو اس موقع پر موصوف سے پرانی خصومت نکالنے کی فراق میں ہیں، ویسے کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ یہ تماشا 45000کے ٹیلی گھوٹالے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو عین ممکن ہے۔آئیے ڈاکٹر ذاکر نائک سے متعلق اہم باتوں کا سرسری جائزہ لیں:
بے جاالزامات
*ذرائع کے مطابق سابق وزیر عارف محمد خان کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک کی تقریریں اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں،وہ دوسرے مذاہب کو مذموم قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ قرآن مجید کی روح کے بالکل خلاف ہے۔
اس الزام کے دو جزو ہیں؛ پہلا ان کی تقریروں کا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہونا، جو بہ طور کلیہ کسی طرح درست نہیں اور خود ہم ڈاکٹر ذاکر نائک سے متعدد مسائل میں نظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود یہ بات ماننے سے قاصر ہیں۔ دوسر ا جزو ہے دیگر مذاہب کو مذموم قرار دینا، یہ بھی محض افترا ہے۔ ہم نے انھیں جتنا دیکھا اور سنا ہے، وہ تقابل کے ذریعے علمی اور سنجیدہ گفتگو کرتے نظر آئے۔
*ایک خبر یہ ہے کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں منگل (12۔07۔2016)کو مسلم راشٹریہ منچ کے بینر تلے منچ کے نوجوانوں نے اسمبلی کے سامنے ڈاکٹر ذاکر نائک کا پتلا پھونکا، جس کے سماجی رابطہ سربراہ شفاعت حسین کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک مسلم نوجوانوں کو گمراہ کر کے اسلام کی شبیہ خراب کر رہے ہیں، وہ قرآن کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو دہشت گرد بننے کی ترغیب دیتے ہیں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایتوں سے گمراہ کر کے جنت کے بجائے دوزخ کے راستے پر جانے کی حمایت کر رہے ہیں۔
اس کا جواب بھی اوپر گزر چکا، پھر ہم پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہے تو کیا آج تک آپ سرکاری طور پر ڈاکٹر ذاکر نائک کی مخالفت ہونے کا انتظار کر رہے تھے، اس سے قبل آپ نے اس جانب پیش رفت آخر کیوں نہیں کی، آج کیا بات ہے کہ اچانک آپ کے لہو میں اسلام کی غلط تعلیمات پیش کرنے والے پر یوں گرمی پیدا ہو گئی؟خدارا جو کہنا اور کرنا ہو، د س بار سوچ لیں!
انتہا پسندی
حالات کا فایدہ اٹھاتے ہوئے بعض ہندو انتہا پسندوں نے بھی اپنی زبانیں کھولی ہیں اور زبانیں کیا کھولیں،یوں زہر افشانی کی ہے؛
*شیوسینا نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو سعودی عرب سے ہندوستان لوٹتے ہی گرفتار کیے جانے اور ان کے پیس ٹی وی نیٹ ورک کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اور شیوسینا کے ترجمان ’سامنا‘ نے اپنے اداریے میں لکھا کہ نائک کو اسی کوٹھری میں رکھا جانا چاہیے جہاں پہلے ممبئی حملے کے مجرم اجمل قصاب کو رکھا گیا تھا اور اس کا مطالبہ ہے کہ مودی حکومت اور مہاراشٹر کی دیویندر فڈنویس حکومت کو ہمت دکھانا چاہیے اور اس پیس ٹی وی چینل کی تمام مشینری کو تباہ کر دینا چاہیے۔
’پیس‘ یعنی امن و شانتی کے پیغام کی مخالفت کرنا اور اس کو تباہ کرنے کا مطالبہ کرناتو خود امن مخالف ہے، اس پر کیا تبصرہ کیا کہا جائے، اس لیے اس مسئلے کو ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں۔
*مخالفت کا سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ اپنے متنازعہ بیانات سے خبروں میں رہنے والی وشو ہندو پریشد کی سادھوی پراچی نے بھی جلتی آگ میں گھی ڈالتے ہوئے اعلان کر دیا کہ جو کوئی بھی سعودی عرب جاکر ذاکر نائک کا سر کاٹ کر لے آئے گا اسے 50 لاکھ کا انعام دیا جائے گا۔ سادھوی پراچی کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک ہندستان کا سب سے بڑا دشمن ہے، وہ مذہبی رہنما بن کر دہشت گردی کا پلانٹ تیار کر رہا ہے۔ اس مذہبی رہنما اور دیگر مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانچ ہونی چاہیے۔
ویسے تو اب ملک کے سیکولر ہندو بھی ان جیسے لوگوں کی باتوں پر کان نہیں دھرتے پھر بھی جب بات مذہبی رہنماؤں کی جانچ چل نکلی ہے تو ہم کہنا چاہیں گے کہ کم از کم اس معاملے میں تو ہندو مسلم تفریق نہ کی جائے، تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو سکے کہ کون کتنے پانی میں ہے!
عجب مخالفت
*واضح رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کو ان حالات میں ایک الگ نوعیت کی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ اس طرح کہ انھیں پریس کانفرنس کے لیے ممبئی کاکوئی ہوٹل جگہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے،جیسا کہ ان کے ترجمان عارف ملک نے بتایا کہ ممبئی میں ہوٹلوں کو کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نائک کی پریس کانفرنس کے لیے جگہ نہ دی جائے۔ کم از کم 4 ہوٹل ہیں جنھوں نے پہلے جگہ دینے کی بات کہی تھی، اب وہ اپنی بات سے مکر گئے ہیں، یہاں تک کہ کچھ نے تو پیشگی رقم لے کر بھی اب بکنگ کینسل کر دی ہے۔قارئین کے علم میں ہونا چاہیے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف اب تک کوئی گرفتاری وارنٹ جاری نہیں ہوا ہے اور نہ ان پر لگائے گئے الزام کا کوئی ثبوت ہی ملا ہے، اس کے باوجود جب ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو جن پر جھوٹے الزامات لگا کر جھوٹے ثبوت گڑھ لیے جاتے ہیں، ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا آسان ہے۔
کلین چٹ
یہ سب باتیں چل ہی رہی تھیں کہ انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ نے یہ خبر شایع کر دی کہ مہاراشٹر انٹلیجنس ڈپارٹمنٹ (ایس آئی ڈی) نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو کلین چٹ دے دی ہے۔ جانچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ نائک کے یوٹیوب پر موجود سیکڑوں ویڈیو کی جانچ کرنے کے بعد ایجنسی نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو کلین چٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے، نیز ایجنسی کے سینئر آفسر نے کہاکہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا مقدمہ درج ہوا ہے لیکن اب تک اس سلسلے میں بھی کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا ہے۔ اسامہ بن لادن کی حمایت والے بیان میں بھی دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے، اس لیے اس ویڈیو کو بھی ان پر کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
ویسے اس خبر پر بعض حلقوں سے اس تشویش کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں یہ خبر دامِ فریب نہ ثابت ہو کہ اس بہانے وہ بے فکر ہوکر ملک میں داخل ہوں اور پھر آتے ہی ان پر شکنجہ کس لیا جائے۔
بدخواہوں کے پیٹ میں درد
کلین چٹ والی خبر نے ویسے بد خواہوں کی نیندیں اڑا دی ہیں اور اب وہ دیگر الزامات تراش کر ذاکر نائک کو نالائق اور کھلنائک ثابت کرنے کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں اور اسی درد سے کراہتے ہوئے بعض نے حکومت کو بلاوجہ انھیں ہیرو بنانے سے محتاط رہنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک کو گرفتار کرنے سے ان کی مقبولیت اور اثر آفرینی میں مزید اضافہ ہوگا۔یعنی انھیں اس سے سروکار نہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر لگے الزامات درست ہیں یا غیر درست، بس انھیں فکر اس بات کی ہے کہ کہیں اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ نہ ہو۔
حمایت
ان حالات میں ضرورت تھی کہ حق کے لیے متحد ہو کر آواز اٹھائی جائے اور خدا کا شکر ہے اس بار حالات نے مختلف مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر جمع کر دیا اور ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف‘ جو کہ اصلاً اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ ہے، ہندستان کے اکثر مسلمان متحد ہو کر سامنے آئے۔
*دارالعلوم وقف دیوبندکے صدرمہتمم مولانا محمد سالم قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹرذاکرنائک سے کسی کو بھی ہزار اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن ہندستانی میڈیا نے انکے حوالے سے قبل از تحقیق جو منفی رخ اختیار کیا ہے وہ افسوسناک ہی نہیں بلکہ ہندستان کے سیکولر آئین کی اہانت وتوہین کے مترادف ہے۔
*جمعیۃ العلماء ، ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو نشانہ بنائے جانے اور انھیں دہشت گردی سے جوڑنے کی غیر ضروری کوشش کرنے پر افسو س کا اظہار کیا اور کہا کہ نظریانی اعتبارسے میں ان کی تائید نہیں کرتا،لیکن میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا یا سنا کہ وہ کسی کو تشدد یا دہشت گردی کی کوئی ترغیب دیتے ہوں یا کہ مختلف مذاہب کے درمیان کسی طرح کی نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوں۔ اب اگر ان کے بیان سے متاثر ہوکرکوئی شخص یا ان کا کوئی پیرو کار اپنے طور پر کوئی غلط قدم اٹھا تا ہے تو اس کے لیے انھیں کیسے ذمّے دار قرار دیا جا سکتا ہے؟
*جمعیۃ العلماء، ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی نے ذاکر نائک کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کو غلط بتاتے ہوئے منصفانہ رویہ اپنانے کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ ذاکر نائک کی بہت سی باتو ں سے مختلف مسالک کے اہلِ علم کو شدید اختلاف ہے اور بعض ان کے اندازِ بیان کو بھی پسند نہیں کرتے ہیں ، لیکن یہ معاملہ دہشت گردی سے بالکل الگ ہے۔
*جماعتِ اسلامی کے نائب امیرِ جماعت نصرت علی نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ملک کے دیگر مذاہب کی سیکڑوں معروف شخصیات کی طرح اس دور کے تمام ممکن ذرائعِ ابلاغ کے توسط سے ملکی اور عالمی سطح پر دستورِ ہند کے حدود کی پاسداری کرتے ہوئے شائستہ ، مہذب اور علمی انداز میں اسلام کے پیغامِ توحید، رسالت اور آخرت کو انتہائی خوش گوار ماحول میں پیش کرتے رہے ہیں، جس کو ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے کروڑوں افراد برسوں سے توجہ اور دل چسپی سے سنتے رہے ہیں اور ان میں کبھی دستور و اخلاقیات کے خلاف کوئی بات محسوس نہیں کی گئی۔ حیرت ہے کہ اب اچانک ان کی انسانی خدمات کے تجزیے کی ضرورت کا ذکر کرکے اور اسے ایک خاص رنگ دے کرملک میں پہلے سے کشیدہ فرقہ وارانہ ماحول کو مزید خراب کرنے کی ناروا کوشش کی جارہی ہے۔
*راشٹریہ علماء کاؤنسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر ہندستانی میڈیا کا حملہ صرف ایک شخص پر حملہ نہیں بلکہ یہ ڈاکٹر ذاکر نائک کی اسلامی شناخت پر حملہ ہے۔ان کے بیان کو دہشت گردی سے جوڑنا اور انھیں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والا بتانا غلط ہوگا اور اس کی سخت سے سخت مذمت ہونی چاہیے۔
ان تمام باتوں اور حالات پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف جو محاذ آرائی کی جا رہی ہے، وہ دراصل شخصِ واحد کے خلاف نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے، اس لیے ایسے میں اپنے نظریاتی اختلافات کو باقی رکھتے ہوئے ہمیں ان کے ساتھ کھڑ اہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں نظریاتی اختلافات کو اسلام و کفر کا مسئلہ بنا کر پیش کرنا دوراندیشی سے دور ہوگا۔ نیز جو لوگ ان حالات میں بھی مصلحت و حکمت کو پسِ پشت رکھ کر اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، یا ذاکر نائک کے حوالے سے ہوئے اس اتحاد کو نہیں دیکھ پارہے ہیں، وہ خیال رکھیں کہ انگلیوں کا الگ ہونا جس طرح بعض کاموں کے لیے ضروری ہے، اسی طرح ان کا مجتمع ہو کرمٹھی بن جانا بھی بعض حالات میں ناگزیر ہے، ورنہ ان کا جو انجام ہو سکتا ہے، وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Close