ذاکر نائیک: تیر ایک نشانے دو

275

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
یکم جولائی 2016 کو ڈھاکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد گرفتار کیے گئے ایک مجرم نے مبینہ طور پر یہ بیان دیاکہ وہ معروف اسلامی اسکالر اور مبلغ ذاکرنائک کی تقریروں سے متاثر ہے۔  اس بیان کے فورا بعد بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ نے ہمارے ملک کی وزارت داخلہ کو ذاکرنائک کے بارے میں مطلع کیا،اس سے پہلے کہ ہماری وزارت داخلہ اس سلسلے میں کوئی اقدام کرتی، یا بیان جاری کرتی، قومی میڈیاکے ایک متاثر کن حلقے نے خبر کو اچک لیاور اپنے مخصوص انداز میں اسے پیش کرنا شروع کردیا۔ بنگلہ دیش کے انگریزی روزنامہ ’دی اسٹار‘نے سب سے پہلے یہ خبر شائع کی تھی اور اسی کی بنیاد پر ہماری میڈیانے اس خبر پر تبصرے بازی شروع کی تھی۔ پچھلے ایک ہفتے میں مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر ذاکرنائک صاحب کو اس انداز سے پیش کیاگیا گویا دنیاکے ہر دہشت گردانہ واقعے کے پیچھے وہی ماسٹر مائنڈ ہوں اور دنیاکا ہر دہشت گرد انھیں کی تقریروں سے متاثر ہوتا ہو۔ بڑے چینلوں نے اپنے اپنے انداز سے گویا یہ ثابت کردیاکہ وہ واقعی اسلام کے مبلغ نہیں بلکہ دہشت گردی کے مبلغ ہیں۔ ہر چند کہ ذاکر نائک صاحب خود ہی مستقل یہ بیانات دیتے رہے ہیں کہ میں دہشت گردی کا مخالف ہوں اور داعش وغیرہ جیسی تنظیموں کو خلاف اسلام سمجھتاہوں،کسی نے ان کی ایک نہ سنی،حتی کہ مذکورہ بنگلہ دیشی اخبار نے بھی بعد میں یہ وضاحت شائع کردی کہ ان کی خبر غلط تھی، لیکن حیرت ہے کہ اس کے باوجود ہماری میڈیانے ہرزہ سرائی کی اپنی مہم بند نہیں کی۔ ذاکر نائک سن 1990 سے ہی اسلام کی تبلیغ میں مشغول ہیں۔ عام طور پر وہ سیاسی معاملات سے خود کو دور رکھتے ہیں اور اپنی توجہ محض بین المذاہب تقابلی جائزے کی بنیاد پر اسلام پر مرکوز رکھتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان کا تعلق وہابی یا عرف عام اہل حدیث مسلک سے ہے، تو ان کی گفتگومیں وہ مسلکی رنگ بھی کہیں نہ کہیں چھلک جاتاہے۔ گزشتہ 25 سال میں مقامی تبلیغ سے لے کر ایک معروف ٹیلی ویژن چینل قائم کرنے تک ان کو مقامی چندوں کے علاوہ غیر ملکی سلفی حکومتوں کا تعاون بھی حاصل رہاہے،جس کی بنیاد پر ان کا رابطہ دنیاکے تقریبا 200 ممالک سے استوار ہوااور اپنے ٹی وی چینل کے ذریعے ہی وہ کروڑوں لوگوں کے من پسند مبلغ بن سکے۔ بین المذاہب تقابل کی وجہ سے ہی غیر مذاہب کے لوگوں کو بھی متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد سامنے آئی۔ ان نو مسلمیں صرف ہندوستان کے ہندو ہی نہیں بلکہ دنیاکے ہر گوشے غیر مسلمین شامل ہیں۔ ابھی چند مہینہ قبل جب انھوںنے جاپان کے کچھ عیسائیوں کو مسلمان کیاتو اس پروگرام کی خبریں ہمارے ملک کی وزارت داخلہ کو دانستہ طور پر پہنچائی گئیں اور حکومت سے یہ فرمائش بھی کی گئی کہ چونکہ یہ سلسلہ ہندوستان سے نکل کر پوری دنیامیں پھیل رہاہے اس لیے اس کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں۔ لیکن چونکہ ملک میں ہر مذہب ومسلک کی تبلیغ کی اجازت دی گئی ہے،اس لیے قانونی طور پر ان کے مشن کو روکے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور چونکہ پچھلے دوسالوں سے ملک میں عام قاعدہ دیکھا جارہاہے کہ جس بات کو قانونی طور پر روکنا ممکن نہ ہو، اس کے لیے سرکاریحمایت یافتہ میڈیاکو غیر ذمہ دارانہطریقے سے استعمال کرکے ماحول سازی کی جاتی ہے اور اس طرح ایک صحیح کو غلط بناکر ملک کے سواد اعظم کے سامنے پیش کردیاجاتاہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ چاہے گﺅ کشی کا مسئلہ ہو، یا وندے ماترم کا مسئلہ ہو،لوجہاد ہویا تبدیلی مذہب کا معاملہ۔ ہر بار میڈیا کے سہارے ان دستوری چیزوں کو غیر دستوریبناکر پیش کیاگیاہے۔ دہشت گردی کے معاملے میں بھی بہت پرانے معاملات جو تقریبا حل ہوچکے ہیں،ان کو پھر سے کھڑا کرکے ایک دوسری تصویر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ میڈیاکے سامنے آکر بیانات دینے والے سابق افسران اور تجزیہ نگار وغیرہ اپنی شکایت لے کر تھانے اور عدالت میں جانے کے بجائے اب سیدھے ہی کسی چینل کے اسٹوڈیوکا رخ کرتے ہیں اور ہفتہ دس دن پرشور مباحثے کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہوجاتاہے۔  نہ کوئی بات ثابت ہوتی ہے اور نہ کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔  بالکل اسی طرح ذاکرنائک صاحب کے معاملے میں بناکسی تحقیق، بناکسی ثبوت، بناکسی دلیل۔  محض گلے پھاڑ کر چلاچلاکے ٹی وی اینکر انھیں مجرم ثابت کرنے پر تلے ہیں،جب کہ حکومت نے اس سلسلے میں کوئی خاص سرگرمی بھی نہیں دکھائی۔  وزیر داخلہ نے محض اتنا کہاکہ معاملہ سامنے آگیاہے اور اس کی قرار واقعی تحقیق کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔ مہاراشٹر کی سرکار بھی اس تحقیق کا حکم دے چکی ہے اور اس کی ابتدائی رپورٹ میں یہ اعتراف بھی کرلیاگیاہے کہ ذاکرنائک ملک کی کسی بھی غیر قانونی سرگرمیوں ملوث نہیں ہے،نہ ہی ان کی تقریروں میں کسی قسم کی نفرت انگیزی جھلکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی میڈیا خاموش ہونے کا نام نہیں لے رہاہے۔  ادھر ملک کے معروف وکیل اور سبق سالسٹر جنرل سولی سوراب جی بھی کہہ چکے ہیں کہ ذاکر نائک پر کوئی قانونی معاملہ نہیں بنتا۔  چناننچہ یہ سوال اٹھنا ہے کہ اس غیر معمولی سرگرمیوں کا کیا مقصد ہے۔ ایک بات جو سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ ذاکر نائک کا تعلق چونکہ وہابیت سے ہے اور ملک کے غیر وہابی مسالک اسے پسند نہیں کرتے تو اس پروپیگنڈہ کے ذریعے اسلام کے مختلف مسالک میں شگاف پیداکیاجاسکتاہے۔ امت پہلے ہی سے مسلکی تفریق کا شکار ہے۔ ذاکر نائک کا فرضی ہیولیٰ کھڑا کرکے اس تفریق کو مزید گہرا کیاجاسکتاہے اور یہی ہوا بھی۔ دیگر بہت سے مسالک کے کچھ راہنماو¿ں نے میڈیا کی ہاں میں ہاں بھی ملائی، ان کا پاسپورٹ ضبط کرنے، ان کی شہریت ختم کرنے، ان کے اداروں پر پابندی لگانے اور ان کے چینل کو بند کرنے تک کا مطالبہ کرڈالا۔ حد یہ ہے کہ خود کو انتہائی متوازن اور اتحاد بین المسالک کا علمبردار کہنے والے کچھ دانشور اور صحافی تک اس رومیں بہہ گئے۔  کچھ دن کے لیے ایسا لگا کہ امت واقعی منتشر ہوگئی لیکن بہت جلد ہی مسالک کے بڑے رہنمامعاملے کو سمجھ گئے اور ذاکرنائک سے اظہار یکجہتی بھی کیا۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ملک میں جو پارٹی اب حکومت میں ہے، وہ ایک لمبے عرصے سے دستور میں دیے گئے کچھبنیادی حقوق کی مخالفت کرتی رہی ہے۔  مثلا دستور کی دفعہ 25 میں دی گئی مذہبی آزادی اور حق تبلیغ پرہمیشہ ہی اعتراض کیاجاتارہاہے تین مرتبہ پارلیمنٹ میں پرائیوٹ ممبربل کے ذریعے کانگریس کے دور حکومت میں اس پر بحث ہو چکی ہے اس سلسلے میں تیاگی بل بہت مشہور ہے۔  لیکن یہ بل پاس نہیں ہو سکے۔  اور چونکہ یہ بنیادی حق ہے، اس لیے موجود سرکار بھی مکمل اقتدار میں ہونے کے باوجود اسے ختم کرنے سے عاجز ہے،اس لیے ذاکرنائک کے نام پر ملک میں ایک رائے عامہ بیدارکرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس حق کو منسوخ کرنے کیلئے راے عامہ ہموار کی جا سکے۔  دوسرا قانون تبدیلی مذاہب کا ہے۔ یہ بھی ایک بنیادی حق ہے،کوئی بھی شخص اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق اپنا مذہب کبھی بھی تبدیل کرسکتاہے،اور چونکہ ذاکر نائک کی تبلیغ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ اپنا مذہب تبدیل کررہے ہیں،جسے ملک کا حکمراں طبقہ پسند نہیں کرتا اور اس کے خلاف بھی ملک میں ایک رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دہشت گردی کی تبلیغ محض ایک بہانہ ہے،یہ حقیقت سبھی جانتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے اصل مرکز اب کہاں واقع ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پوری بحث میں نفرت انگیز پروپیگنڈہ کرنے والوں کو بالکل ہی نظر انداز کردیاگیا۔  ملک کے بہت سے مشہور دہشت گردانہ واقعات میں ملوث افراد نے بار بار یہ اعلان کیاہے کہ وہ آرایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔ اس کے لیڈروں سے بھی ان کی وابستگی رہی ہے۔ اعلانیہ طور پر یہ کہاگیاہے کہ مکہ مسجد اور مالیگاوں بلاسٹ کے مجرمین آرایس ایس سے وابستہ تھے اور اس کے سرسنچالک موہن بھاگوت سے متاثر تھے، اس کے باوجود میڈیا نے کبھی بھی نہ تو موہن بھاگوت کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا اور نہ ہی آرایس ایس پر پانبدی لگانے کا کوئی مطالبہ کیاگیا۔ کانگریس کے لیڈر پر تو یہ الزام لگایاگیاکہ انھوںنے ذاکرنائک کے ساتھ کھڑے ہوکر انھیں امن کا پیغامبر کہا لیکن جموں وکشمیر ے سابق گورنر ایس کے سنہا نے انھیں کشمیر بلاکر امن ایوارڈ سے سرفراز کیا،اس کا ذکر کہیں نہیں کیاگیا،کیوں کہ سنہا صاحب کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ بحث دہشت گردی کی نہیں ہے بلکہ ملک کے دستور سے عدم اتفاق کا نتیجہ ہے۔  آرایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں نے دستور ہند کی ہمیشہ ہی نفی کی ہے اور اس کے مقابلے میں ہیڈگوار اور گوالکر کے دستور کو اہمیت دی ہے۔ اب چونکہ سرکار خود دستور میں تبدیلی کرنے سے عاجز ہے اس لیے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ملک کی رائے عاملہ کو تقسیم کرکے عوامی دباوبنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ بات ہر سیاسی جماعت اور حکومت کے ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر دہشت گردی کے خلاف ہم واقعی کوئی جنگ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اس کے اصل محرکین اور مرتکبین کو بلالحاظ مذہب وملت سامنے لاناہوگا۔ اگر ہم ایسانہیں کرتے اور اس کے برعکس مفروضہ دہشت گردوں اور مفروضہ دہشت گردی کے اداروں کو سامنے کھڑا کرکے ان پر بحث کرتے رہیں گے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگاکہ ہم اصل دہشت گردوں کی پشت پناہی کرکے انھیں بچانا چاہتے ہیں اور ایک خاص طبقہ پر دہشت گردی کے الزامات چسپاں کرکے اس لعنت کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ذاکر نائک کے ذریعے یہی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملت کے لیے یہ کڑی آزمائش کا وقت ہے اور بہت سمجھداری اور سوج بوجھ کے ساتھ اقدام کیے جانے کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ کسی مسلک یا مسلک سے وابستہ افراد پر حملے کا نہیں ہے بلکہ مسلک کے نام پر اسلام اور مسلمانوں پر حملہ کیاجارہاہے۔ اس سے ان کے دستوری حقوق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسلام کی تبلیغ کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے اور عالمی سطح پر جاری اسلام سے خوف زدہ کیے جانے کی تحریک کا ایک حصہ ہے۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ دنیا بھر میں جمہوری طریقوں سے اسلام مستقل سربلند ہورہاہے۔  دنیاکے بہت سے مسلم ممالک میں وہاں کے عوام نے اسلام پسندوں کو سرکار میں منتخب کیا ہے۔ مخالفین اسلام اصل میں مسلمانوں کے اسی طرز عمل سے خوف زدہ ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر مسلم ممالک میں اسلام پسندوں کو سیاسی غلبہ حاصل ہوتارہاتو بہت جلد اسلام پھر دنیا بھر میں اقتدار کے مرکز میں آجائے گا۔ اسی روش سے خوفزدہ ہوکر اسے جہادی تحریک کا نام سے بھی منسوب کیاجارہاہے تاکہ غیر مسلمین اسلام سے متنفر ہوکر اصل اسلام کا چہرہ نہ دیکھ سکیں۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ دنیا بھر میں جسے اب دہشت گردی کہاجارہاہے، وہ دہشت گردی نہیں بلکہ اس نام پر اسلام کے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے