ملی مسائل

رویت ھلال: چند قابل غور پہلو

جو لوگ چاند دیکھ کرروزہ رکھنے اور افطار کرنے کو حجت مانتے ہیں وہی لوگ ہزاروں میل دور مقیم کسی نوشہ کی ایجاب وقبول کو تسلیم کرتے ہیں

قمر فلاحی

قرآن مجید کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے اللہ تعالی نے چاند اور سورج دونوں کی رفتار باندھ رکھی ہے، اور آج سائنسدانوں نے اس کی رفتار کو ماپ لیا ہے لہذا سائنسدانوں کی تحقیق کو مان لینا جو کہ غیر مختلف ہے قرآن کی باتوں کو ماننا ہی ہے۔ کیونکہ سائنسدان اپنی ریاضی سے بتادیتے ہیں کہ آج سے کتنے سالوں کے بعد چاند گرہن و سورج گرہن ہوگا اور یہ درست ہوتا ہے۔

کھجور کے گابھا لگانے والے مسئلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انصار مدینہ کی بات کو درست مانا کیونکہ اھل مکہ اس فن سےناواقف تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے تعلق رکھتے تھے۔ لہذا علماء کو سائنسدانوں کی تحقیق مان لینی چاہیے جس کا واضح حکم قرآن مجید میں ہے۔

روزہ رکھنے میں ایک ماہ کے روزہ رکھنے کا حکم ہے نہ کہ تیس دن کا کیونکہ مہینہ 29 دن کا بھی ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے اگر اھل مکہ کی رویت کو مان لیا جائے تو کبھی بھی روزہ میں کمی نہیں ہوگی ہر حال میں ایک ماہ کا روزہ ہوجائیگا۔

اھل مکہ کی رویت کا اعتبار اس لیے ہوگا کیوں کہ وہ پوری دنیا کے قلب میں واقع ہے۔

مدینہ کے تعلق سے یہ حدیث ہے کہ اسلام سے وہ کبھی خالی نہ ہوگا ایسا حکم کسی اور بلد کے تعلق سے نہیں ہے اس لیے مکہ و مدینہ والوں کی رویت کا اعتبار کیا جائیگا۔

مکہ مدینہ اور شام ایک ہی طول البلد پہ واقع ہے اور ایک طول البلد پہ چاند ایک ہی وقت میں نمودار ہوتا ہے اس کے باوجود کریب رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے شام کی رویت کا اعتبار نہیں کیا یہ ان کا ذاتی اجتھاد تھا۔

مدینہ سے شام کی مسافت ۱۰۵۷ کلومیٹر ہے ۔ کشمیر سے کنیا کماری کی مسافت ۲۸۵۶ ہے اس اعتبار سے کشمیر کے لوگوں کی رویت کنیا کماری کے لوگوں کے لیے قابل حجت نہیں ہوگی کیوں کہ یہ مسافت مدینہ سے شام کی مسافت کے مقابلہ تقریبا تین گنی ہے۔ اوریہ دنوں طول البلد میں واقع ہے۔

ہندوستان کے عرض کی لمبائی مسافت ۲۹۳۰ کلومیٹر ہے اور عرض میں چاند کے آگے پیچھے غروب ہونا طے ہے۔ اس اعتبار سے ایک ہی ملک کی رویت اس ملک کے دوسرے علاقہ  کیلئے کافی نہیں ہوگی مگر لوگ اس پہ عمل نہیں کرتے۔

جو لوگ چاند دیکھ کرروزہ رکھنے اور افطار کرنے کو حجت مانتے ہیں وہی لوگ ہزاروں میل دور مقیم کسی نوشہ کی ایجاب وقبول کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایجاب وقبول آمنے سامنے ہوا کرتا تھا۔

یہی لوگ گھڑی دیکھ کر سحری اور افطار کرتے ہیں جبکہ سحری کیلئے خیط الابیض کا خیط الاسود سے الگ ہونا ضروری ہے اور اسے دیکھنا بھی ضروری ہے مگر کوئِ نہیں دیکھتا۔

ظہر و عصر کی نماز کیلئے سایہ دیکھنے کو کہا گیا ہے جو کہ ایک مثل یا دو مثل ہونا چاہیے مگر کوئی سایہ دیکھ کر ظہر و عصر کی نماز ادا نہیں کرتا۔

آپ غور کریں کہ جو لوگ ایسی جگہ پہ رہتے ہیں جہاں چھ مہینے کا دن ہوتا  ہے وہ روزہ کا اہتمام کیسے کریں گے ؟ظاہر ہے انہیں مکہ کے وقت کا پابند بنایا جائیگا کہ ان کے اعتبار سے روزہ افطار کر لیا کریں۔

اسی طرح جو لوگ چاند پہ ہیں ان کے چاند دیکھنے کا کیا مطلب ہے سوائے اس کے کہ وہ اندازہ لگالیں کہ رمضان کا مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ اوراندازہ لگا نے کیلئے مدار قمر اور منازل قمر کے کے علم کو جاننا ضروری ہے اور یہ علم سائنسدانوں کے پاس ہے۔

اگر کریب رضی اللہ عنہ کی روایت کا ظاہری معنی لیکر دلیل پکڑی جائے تو اس کا مخاطب ہر مسلمان ہے جس کو چاند دیکھنا لازم ہے روزہ رکھنے اور افطار کیلئے۔ کیوں کہ کسی حدیث میں مطلع اور فاصلہ کا ذکر نہیں ملتا۔ مگرحقیقتا ایسا نہیں ہے ایک مومن کی رویت کافی ہے۔

جو لوگ روایت کریب رضی اللہ عنہ کو دلیل بناتے ہیں وہ جان لیں کہ مدینہ اور شام میں  پندرہ بیس منٹ کا فاصلہ ہے۔ اب وہ فیصلہ کریں کہ کیا وہ اس فرق پہ اختلاف مطلع کو ماننے کو تیا رہیں ؟

حضرت ابو عمیر کی روایت میں جو کہ حدیث ہے یہ امر مخفی ہے کہ خبر دینے والے کتنے فاصلہ سے آئے تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رویت کا اعتبار کیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے کہ کتنے فاصلہ سے کوئی شہادت دے تو اس کی رویت کااعتبار کیا جائے گا۔ عبد اللہ بن عباس کا عمل ان کا ذاتی اجتہاد ہے جو انہوں نے اپنے مبلغ علم کی وجہ سے سمجھا ان کے ذاتی اجتہاد کو اصل دین ماننا درست نہیں ہے۔

ایک ہی جگہ پہ ایک شخص جو اونچائ پہ ہوگا اس کے افطار کا وقت اور جو شخص نچلے حصہ میں ہوگا ان کے افطار کے وقت میں فرق ہوگا۔

آخر یہ جھمیلہ کیوں ہے اس کا جواب اس کے علاوہ اور کوئِ نہیں کہ مسلک اس معاملہ میں بڑی دیوار ہے۔ آج مسلک کو چھوڑ دیا جائے سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔

دلائل حسب ذیل ہیں:

 الہس تعالی نے چاند اور سورج دونوں کو حساب کیلئے بنایا ہے تاکہ اس دنوں اور سالوں کا حساب لگایا جائے۔ یہ اللہ تعالی اندازہ ٹھہرانا ہے۔[اللہ تعالی کے اندازہ میں کوئ فرق نہیں آتا]

فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (الانعام ۹۶)

سورج چاند اور تارے  سبھی اس کے حکم کے پابند ہیں۔

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الاعراف ۵۴)

اللہ تعالی نے سورج اور چاند کو باندھ کر رکھ دیا ہے ان میں سے ہر ایک متعینہ مدت کے مطابق چلتے ہیں۔

اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ (الرعد ۲)

وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (النحل ۱۲)

اللہ تعالی نے رات اور دن سورج اور چاند کو پیدا کیا ان میں سے ہر ایک فلک میں تیرتے ہیں۔

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الانبیاء ۳۳)

اور چاند کی منزل ہم نے طے کر دی ہے یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے، سورج کے بس میں نہیں ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے، اور نہ رات کے بس میں ہے کہ وہ دن سے آگے نکل جائے۔

وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (یسین ۳۹،۴۰)

سورج اور چاند حساب کیلئے ہیں۔

الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ (الرحمن ۵)

سورج اور اس کے دھوپ کی قسم اور چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے آئے۔

وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا(الشمس ۱۔۲)

وہی اللہ ہے جس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور بنایا اور اس کے پڑائو طے کیے تاکہ تم سالوں کی گنتیاں اور حساب کو جان سکو۔اللہ تعالی نے انہیں حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، وہ آیات کی تفصیل بیان کرتا ہے تاکہ لو گ جان لیں۔

هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (یونس ۵)

جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جارہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کیا۔

وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ (ابراہیم ۳۳)

عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: ” لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ، أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ فَقَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

 [مسلم، کتاب الصیام، باب بیان أن لکل بلد رؤیتہم، رقم الحدیث : ۲۸۔وأبوداؤد، کتاب الصوم، باب إذا رئی الھلال فی بلد قبل الأخرین۔ والترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء لکل أھل بلد رؤیتھم۔ والنسائی، کتاب الصیام، باب اختلاف أھل الآفاق فی الرؤیۃ]

حضرت کریب سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ملک شام بھیجا میں شام میں پہنچا تو میں نے حضرت ام الفضل کا کام پورا کیا اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہوگیا اور میں نے شام میں ہی جمعہ کی رات چاند دیکھا پھر میں مہینہ کے آخر میں مدینہ آیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا ہے پھر فرمایا تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں ! اور لوگوں نے بھی دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی روزہ رکھا حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نہیں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے۔

یہ اجتہادی قول ہے، اصل دلیل حدیث نبویﷺ، صوموا لرویتہ وافطرولرویتہ، صحیح بخاری ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا العِدَّةَ ثَلاَثِينَ .

[البخاری، کتاب الصوم، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا رأیتم الھلال فصوموا۔ ومسلم، کتاب الصیام، باب وجوب صوم رمضان لرؤیۃ الھلال، رقم الحدیث : ۱۷۔۱۸۔۱۹، والنسائی، کتاب الصیام، باب إکمال شعبان ثلاثین إذا کان غیم وابن ماجہ، کتاب الصوم، باب ما جاء فی صوموا لرؤیتہ وأفطروا لرؤیتہ ]

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار نہ کرو۔ اور اگر ابر چھایا ہوا ہو تو تیس دن پورے کرو۔

یہ خطاب عام ہے کوئی مسلم کہیں چاند دیکھے چاند ہوگیا، عیدالفطر وغیرہ کیلئے دوشخص کی رویت لازمی ہے اورروزہ رمضان رکھنے کے لئے ایک شخص کی شہادت بھی کافی ہے جس کی تفصیل سنن وغیرہ میں یہ بھی ہے کہ آخر رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ لوگ اونٹوں پرسوار دوردراز سے ایسے وقت میں آئے۔

عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمُومَتِي، مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: أُغْمِيَ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ، فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، فَشَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، ” فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ .

 [ أبوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب إذا لم یخرج الإمام للعید من یومہ یخرج من الغد۔ والنسائی، کتاب العیدین، باب الخروج إلی العیدین من الغد۔ وابن ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی الشہادۃ علی رؤیۃ الھلال۔ والمنتقی لابن الجارود، ص:۱۰۲ وصحیح ابن حبان ۵/۱۹۰۔ومسند أحمد ۵/۵۷۔۵۸، والسنن الکبری للبیہقی ۴/۲۴۹۔ومصنف عبد الرزاق، رقم الحدیث : ۷۳۳۹ ومصنف ابن ابی شیبۃ ۳/۶۷ وسنن الدارقطنی ۲/۱۴۹، رقم الحدیث : ۲۱۸۳۔۲۱۸۴ ]

حضرت ابوعمیر بن انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میرے چچاؤں نے جو انصاری صجابی تھے یہ حدیث بیان کی کہ ایک بار (ابر کی وجہ سے) ہمیں شوال کا چاند دیکھائی نہ دیا تو صبح ہم نے روزہ رکھا پھر اخیر دن میں چند سوار آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ شہادت دی کہ کل انہوں نے چاند دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کر ڈالیں اور کل صبح عید کے لئے آجائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close