ملی مسائل

"شاید یہ ہو تو کچھ بات بنے”

مھدی حسن عینی رائے بریلی

        ہمارے جمہوری ملک ہندوستان میں ان دنوں ڈکٹیٹرشپ اور ہٹلر شاہی  کاجس طریقہ سے رواج چل پڑا ہےوہ ناصرف ملک عزیز کی سالمیت،جمہوری اقدار کےاستحکام اور وطن عزیز کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے ناسور ہے. زعفرانی طاقتوں، متشدد جانچ ایجینسیوں، اور یرقانی میڈیا نے دہشت گردی اور مسلمان کو ایک سکہ کے دوپہلو بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑاہے۔ آنکھ موند کردآڑھی ٹوپی والے پرجانچ ایجینسیاں، پولیس اور میڈیائی اہلکار آتنک واد کالیبل لگادیتے ہیں اورہم دہوں سے گلاپھاڑ پھاڑ کر یہ اعلان کرتے ہوئے آئے ہیں  کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا، کروڑوں روپئے اس نظریہ کی تشہیرکے لئےسیمیناروں اور کانفرنسوں پرلٹادئیے،پر نتیجہ صفر  ہی  رہا،حالات بجائے بننے کے اور بگڑتے کیوں جارہے ہیں،ملک کی سلامتی کوآگ لگائی جارہی ہے۔ آئین و دستور، قانون وانصاف کوطاق میں رکھ کر انصاف کے علمبردار و پاسدار ہر دہشت گرد  کومسلمان بنانے پر تلے ہوئےکل تک لشکرطیبہ، جیش محمد، القاعدہ، طالبان، داعش، حزب المجاھدین، سیمی اور ناجانے کن کن ناموں سےمنسوب کرکے ایک سیدھے سادھے صلاحیت مند، ٹیلینٹیڈ مسلمان کو آتنک واد، دیش دروہی، ملک غدار، ملک مخالف، قرار دیکر غیر انسانی سلوک کیاجاتا تھا، تشدد اور ظلم کےپہاڑ توڑے جاتے تھے۔ شعائر اسلام کےساتھ سنگھ نواز افسران بھونڈا مذاق کرتے تھے،اور برسوں کےلئے جیلوں کاباشندہ بناکر بلاکسی تحقیق و تفتیش میڈیا کی زبانی خطرناک دہشت گرد کالیبل لگواناایک عام بات تھی،لیکن اب جب اس سے بھی تسکین ناملی اور اسلام و مسلمان کا دامن اس لعنت سے پاک رہا، تمام کمیشنوں، عدالتوں اور سماجی حقوق کے کارندوں نے یہ بات تسلیم کی دہشت گردی کے معاملہ میں ہندوستانی پولیس و تفتیشی ایجینسیاں  دوہرا رویہ برتتی ہیں اور بلاکسی جرم کے حقوق انسانی کوبھی پامال کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کےساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتی ہیں،تو اب باری آئی اسلامی رہنماؤوں،مبلغین اور داعیان دین کی، پہلے مولانا عبدالقوی کو پابند سلاسل کیا گیا، قوم خاموش رہی، مسلکی اختلافات اور باہمی انتشار میں پڑی رہی، ایجینسیوں کو موقع مل گیا، پھر کیا علماء ملت، قائدین امت پر ظلم کا باڑھ لگادیاگیا، مولانا مصباحی، پھر انظرشاہ بنگلوری، عبدالسمیع قاسمی اور نا جانے کتنے علماء و اسلام کے نام لیواؤں کو پس زنداں ڈالاگیا اور ہم کیاکرتے رہے،مذھب پر مسلک کو ترجیح دی، مجرمانہ خاموشی اورملی ترجیحات کوذاتی مفادات پر قربان کرنے کے ہوس نے ایک اور موقع دےدیا اور معروف اسلامی اسکالر ذاکر نائک صاحب راڈار پر آگئے، بقیہ کیا ہوا سب کو معلوم ہے،کیا ہوگا اس کا بھی احساس سبھی کو ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مزاج حکومت  سے لےکر عوام تک کاکیوں بنتاجارہا ہے؟ کیا وجہ ھیکہ بیسیوں سال سے ہم اپنا دامن صاف بچانے کےلئےخوب چلارہے ہیں اور ہمارا دامن توکیا بچتا ہم خود ہی داغدار ہوتے جارہے ہیں؟اس کی بنیادی وجوہات کیاہیں؟

اور اس نظریہ کاخاتمہ کیسے کیاجائے؟ تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کامحرک اول ہمارا کمزور دفاعی لائحہ عمل ہے، ہم پتوں کے سہارے طوفان کاسامنا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم واقعہ یاحادثہ ہو جانے کےبعد تک بندی کرتے ہیں۔ آواز اٹھاتے ہیں،رونا روتے ہیں،دلاسا اور تسلی کاسلسلہ چلتاہے لیکن ہم پیش بندی اور پیش قدمی کرنے سے کتراتے ہیں،بلکہ عاجز و قاصر رہتے ہیں،ہم قبل از وقت پروپیگنڈوں سے ہوشیار نہیں ہوتے، میڈیا ہمارا جذباتی استحصال کرتا ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں،اور پھر ہمیں تن مردہ سمجھ کر تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔

یہی وہ بنیادی کمزوری ہے جس سے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی تفتیشی ایجنیساں و حفاظتی دستے بخوبی  واقف ہو چکی ہیں،اور اسی کمزوری کاناجائز فائدہ منووادی آقا پس پردہ بیٹھ کر اٹھاتے ہیں اور پولیس و ایجینسیوں میں ہم خیال افراد کو داخل کرواکر قانونی طور پرمسلم دہشت گرد کے نظریہ کی تکمیل کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی لئے یہ کہنے پرحق بجانب ہوں کہ جب تک ہم اپنی اس کمزوری کا علاج نہیں کریں گے۔ اس طرح کے واقعات ہم میں کسی ناکسی کے ساتھ پیش آتے رہیں گے۔ اس کے لیے ذہنی طور پرتیار رہنا چاہیے؛ تفتیشی اہلکار اشارہ غیب سے اپنے فرائض انجام دے رہتہیں، وہ تو مجبور محض ہے اور انہیں اپنی نوکری کی پڑی ہے،پرکس کے اشارے پر” ڈرامۂ خوں نوش“کر رہی ہے وہ بھی اب کسی سے مخفی نہیں، ویسے موجودہ حکومت سے امید ہی کیا کی جاسکتی ہے، وہ تو اصل مجرم کو کیفرکردار تک پہنچانے کی بجائے ” پروانۂ آزادی “ کا تمغہ نوازنے کا پورا من بنا چکی ہے، شاید کچھ ہی دنوں کے بعد یہ خبر بھی سننے کو مل جائے گی کہ پرگیہ رہا ہو گئی ہے اور ہیمنت کرکرے پربعد ازوفات ملک غداری کاالزام لگادیاجائے، مودی حکومت بے قصور مسلمانوں کو مفروضہ ہتھکنڈہ ”دہشت گردی“ کے الزام میں گرفتار کر کے ہراساں و پریشاں کرنے پر برسرِ پیکار ہے۔ ابھرتے ہوئے وہ مسلم راہ نما ونوجوان جن کی عوام میں مقبولیت و شہرت اور اچھی پکڑ ہوتی ہے، ان کو تباہ کرنے کےلئے مرکزی حکومت سے لےکر ناگپور تک کےفرقہ پرست ایک ہوجاتے ہیں اور مختلف ہتھکنڈوں سے منصوبہ بند طریقہ سے ہندوستانی مسلمانوں کےساتھ آتنک کا مونوگرام چسپاں کردیتے ہیں۔ حکومت کی بسکوتِ لبی حمایت سے پولیس اپنا شہرت یافتہ ہتھکنڈہ کا بخوبی استعمال اس لئے کرتی ہے تاکہ بین الاقوامی دہشت گردوں کی صفوں میں ہندی مسلمانوں کو بھی زبردستی کھڑا کیا جا سکے اور اپنے مغربی آقاؤں کو یہ باورکراسکےکہ آپ کے ملک کی طرح میرا ملک بھی دہشت گرد کی زد میں ہے، ہندوستانی دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے آپ کی حمایت و اجازت درکار ہے، اسی مفروضہ جواز کے حصول کے خاطر ایک مرتبہ پھر ذاکر نائک جیسے عالمی شہرت یافتہ اسلامی مبلغ  کے ساتھ منصوبہ بند طریقے سے ہوا ہے، پراتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اب تک دوعدد بڑی جماعتوں کے سواکسی بھی  مسلم تنظیم کی طرف سے نہ کوئی مذمت نامہ آیا ہے اور نہ ہی کسی بھی طرح کا کوئی واضح بیان۔ شاید اس انتظار میں کہ کسی غیر مسلم رہنما کا ہمیشہ کی طرح یہ بیان آجائے کہ میڈیا نے غلط کیا ہے، اس پر کارروائی کی جانی چاہئے اور ہم مسلمان ! اسی بیان کو اپنی فتح سمجھ کر تخلیہ میں جانے کی ضرورت محسوس کریں گے، اور امن وآشتی کے پیغام کی تھپکیاں دے کر مزید دوسرے مسلمانوں کو دہشت گرد بنانے موقع دیتے رہیں گے،کچھ دنوں کسی اور مسلک کے علماء و رہنماء  دہشت گرد کے الزام میں گرفتار ہونگے، اور ہمارے قائد،ملی رہنما اور ہم مسلمان اسلام  امن وآشتی کا مذہب ہے کا راگ الاپتے ہی رہیں گے،  بیس سالوں سے ہم سب یہ کہتے آرہے ہیں کہ  اسلام  امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے، دہشت گرد کی تعلیم نہیں دیتا، دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے، مگر اب تک کسی نے نہیں مانا،نہ یقین کیا، دجالی ہاتھوں کا شکنجہ ہمارے سروں پر آپہونچا پھر بھی ہمیں اب تک ذرہ برابر احساس نہیں،: آخر کب تک پہلو تہی کریں گے؟  ہم خود سوئے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھ کچھ بیدار بھائیوں  کو بھی سلانے کی کوشش کررہےہیں،

شاید  علامہ اقبال اسی وقت کے پس منظر میں یہ شعر کہا ہو :

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستان والو

تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

حد تو یہ ہے کہ جب کچھ بیداری کے آثار نمودار ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ آواز بلند کرتے ہیں تو ہمارے اپنے ہی صفوں کے کچھ ضمیر فروش مفاد پرست دوسروں کی گود میں جابیٹھتے ہیں،اور خود ہی دوسروں کو  کارروائی کے جواز کےمواقع فراہم کرتے ہیں، ایسے حالات میں اطلاعاتی حسرت اور ابلاغی غربت کا علاج وقت کی ضرورت ہے، دوسروں پر تکیہ نا کرکے پروپیگنڈوں کا قلع قمع کرنے کےلئے کم از کم ایک میڈیا چینل، ہمہ لسان قومی سطح کا اخبار اور ایک مضبوط  لیگل سیل درکار ہے.

شاید ہمارے مرکزی رہنماؤوں کو اب ان ضروریات کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرلینا چاہئے،ورنہ جن میرجعفر و میرصادق پر تکیہ کرکے ملت کو تھپکی دینے کا کھیل چل رہا ہے یہ کسی دن خود ان کے اپنے آستانوں کو داغدار کردےگا اور پھر کیا ہوگا ہم اور آپ بخوبی جانتے ہیں۔ رہی بات اتحاد کی تو زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدام ہو تو شاید بات بنے.

ورنہ تو…..

"تو چل، میں آیا” کے لئے تیار رہنا چاہئے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close