ملی مسائل

شرعی عدالتوں کی نہیں، تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے! 

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

ہندوستان پوری دنیا میں تنوع اور تعدد کے لئے جا نا جا تا ہے ملک کا سماجی ڈھانچہ تکثیری معاشرہ پر مبنی ہے، مختلف افکارو نظریات کو برداشت کرنا ہمارے ملک کی پہچان ہے – جب ہندوستان جیسے عظیم ترین ملک میں مذکورہ قدیم تہذیب و شناخت کو داغدار کیاجانے لگے تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے وطن عزیز ہندوستان میں فرقہ پرستی اور تشدد کی تیز و تند آندھیاں چل رہی ہیں، اوراس مسموم فضا کا مستقل عروج پانا  ٹھیک نہیں ہے، اگر یہ کہاجائے تو قطعی غلط نہ ہو گا کہ ملک کی رہنمائی صالح خطوط پر نہیں کیجارہی ہے، اس لئے ملک کے ماہر سیاسیات، سماجیات، اقتصادیات مفکرین قوم و ملت اور مذہبی رہنماؤں کو سوچنا ہوگا کہ جو رویہ ملک میں گزشتہ برسوں میں حکمراں جماعت کا نکل کر سامنے آیا ہے  وہ   ملک کو روشن و تابناکی کی سمت لیجانے میں کامیاب ہوگا؟

ایسالگتا ہے کہ اب ہندوستانی سماج کو نام نہاد سیاسی قائدین مذہب کے نام پر تقسیم کررہے ہیں حیرت اس بات کی ہے کہ یہ مٹھی بھر عناصر ملک کی اکثریت پر غالب آتے دکھائی دیرہے ہیں، غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ معاشرہ کو مذہب اور ملت کی افیون پلا کر ملک کی ساجھی روایت کو توڑنے کی کاوش جاری ہے، اگر  ہندوستان کے موجودہ حالات کا جائزہ وطن کے نام نہاد رکھوالےانصاف کی عینک لگا کر  کریں تو معلوم ہوتا ہے پست ذہنیت، غیر انسانی رویوں  اور اوچھی حرکتوں سے ملک بین الاقوامی سطح پر شرمشار ہواہے، جو یقینا ہندوستانی سماج کے تئیں انتہائی افسوسناک ہے، اس وقت ہندوستانی معاشرہ کو کئی طرح کے چیلنجیز کا سامنا ہے، ادھر ملک سے رواداری، بھائی چارگی اور باہم تحمل و برداشت کا خاتمہ کرنے کی دھن میں فرقہ پرست طاقتیں لگی ہوئی ہیں، وہیں عام آدمی کی خوشگوار زندگی مفلوج ہوچکی ہے کیونکہ بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری نے ہندوستانی سماج کو بے حد متائثر کر ڈالا ہے، اگر ملک کو خوشحال بنانا ہے تو ضروری ہے کہ اقتصادی ترقی کی جڑیں مضبوط کرنی ہونگی، تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی قومیں معاشی عدم استحکام کا شکار ہوئیں ہیں تو ان کا روشن مستقبل اندھیرے میں چلا گیا ہے۔

اس لئے آج ہمارے ملک کی سب سے بنیادی ضرورت ہے کہ روزگار اور اقتصادی بڑھوتری کی طرف توجہ مبذول کیجائے، ملک میں اس وقت حکمراں جماعت کو چاہئے کہ وہ بے روزگاری کے خاتمہ کی طرف مضبوط قدم اٹھائے، کیونکہ ملک کا بیشتر نوجوان طبقہ اس مصیبت میں بری طرح پھنسا ہوا ہے، متذکرہ تمہیدی سطروں کے بعد عرض کرنا چاہونگا کہ  ہندوستان جیسے عظیم ترین جمہوری  ملک میں مسلم اقلیت کی نمائندگی تمام قابل اور فعال شعبوں میں بہت کم ہے، خصوصا تعلیم کے میدان میں تو ملک کے دیگر تمام طبقات سے پسماندہ ہے، آزادی کے بعد سے ابھی تک مسلم اقلیت کی تعلیمی پوزیشن میں کوئی بھی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ہے نہ ہی سیاسی جماعتوں نے اس کی ضرورت محسوس کی ہے اور نہ خود مسلم رہنماؤں نے اس جانب کوئی بھی مؤثر کام کیا ہے، مگر ملت کی رہنما ئی کرنے کا شوق ہر ایک کو رہتا ہے، اسی وجہ سے ملت اسلامیہ ہند تذبذب کا شکار ہے کہ کس کس کی سرپرستی اور قیادت تسلیم کیجائے، اگر یہ کہوں تو بیجا نہ ہوگا کہ ملک کے ہر گاؤں، شہر، قصبہ اور ضلع میں سیکڑوں ملت کی قیادت کا دعوی کرتے نظر آجائینگے اور اپنے ایک اعلان سے لاکھوں کی بھیڑ بھی جمع کرلیتے ہیں مگر افسوس اس بات کا ہیکہ مسلم اقلیت کی حالت سدھارنے کی فکر ان افراد میں سے کتنوں کو ہے؟

 کتنے مخلصین ہیں جو ملت کی زبوں حالی کے لئے کام کررہے ہیں، کہنا کا مقصد یہ ہیکہ آج مسلم اقلیت کو انسانیت کے خادموں کی ضروت ہے تاکہ صحیح معنوں میں مسلم اقلیت کی رہنمائی کا ذمہ نبھایا جا سکے، یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ گزشتہ دنوں مسلم پرسنل لا بورڈ نے پریس کانفرینس کرکے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ملک کے ہر ضلع میں شرعی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا، یہ سچائی ہیکہ مسلمانوں کے معاملات کو حل کرنے کے لئے عدالت نے دارالقضاء کو ثالثی کی حیثیت دی ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاں بھی دارالقضاء پہلے سے قائم ہیں ان میں کتنے معاملات مسلمانوں کے جاتے ہیں، کوئی دن ایسا جاتا ہوگا کہ جس دن باہم مسلمانوں کا نزاع نہ ہوتا ہو مگر دارالقضاء کا رجوع کتنے مسلمان کرتے ہیں اس پر سوچنے کی ضرورت ہے، بلکہ حقیقت یہ ہیکہ دارالقضاء کا قیام ہندوستان کے لئے کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہیکہ ہمارے بنیادی مسائل خاص طور پر ازدواجی اور عائلی مسائل  کے حل کے لئے ہم کہاں کا رجوع کرتے ہیں؟

کتنے تناقضات ہمارے شرعی عدالتوں میں حل کئے جاتے ہیں، ہاں یہ صد فیصد درست ہیکہ اگر ہم اپنے تناقضات و فسادات دارالقضاء میں  لیکر جائیں تو مسائل بہتر طور پر حل کئے جا سکتے ہیں،  مگر ملت کے افراد ایسا کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں- جس  کا خمیازہ بھگتنا پڑھتا ہے، صاحبو یہ بتانا انتہائی ضروری ہیکہ آج کے دور میں مسلم پرسنل لا اور اس کے ذمہ داروں کو اس بات پر دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ جو ادارے ملت کے مسائل سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کے بارے عوام کی واقفیت کس حد تک ہے، اس لئے دارالقضاء کے قیام سے قبل ملت میں ملکی سطح پر بیداری لانے کی ضرورت ہے، حتی کہ ملک کا سروے کیا جائے تو پتہ چلےگا کہ خود مسلم پرسنل لا بورڈ  اور اس کے مقاصد جلیلہ اور کارکردگی سے عوام میں کتنی جانکاری ہے، اس وقت اس بات کی سخت ضرورت ہیکہ ملت کو مسلم پرسنل لا جیسے ادارہ سے واقف کرانے کی تحریک چلائی جا ئے، تاکہ بورڈ کا کوئی بھی منصوبہ کامیاب ہو سکے اگر ہمارے مقصد سے عوام با شعور نہیں ہوگی تو یقینا کوئی بھی اس طرح کا کام کرنے کا فائدہ نہیں ہوگا، اور مقصد اصلی فوت ہوجائیگا-  دوسری اہم بات یہ بھی ہیکہ موجودہ حالات میں ایک طبقہ مسلسل نفرت کے بیج بورہا ہے اور اس نے اپنا پورا سیاسی کاروبار نفرت، بدامنی اور بد عنوانی جیسی مکروہ چیزوں کو بنا رکھا ہے ایسے پر آشوب دور میں پریس کانفرینس کرکے شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے، دانشوروں کا ایک طبقہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کررہا ہے کہ اس سے حکمراں جماعت 2019 کے لوکسبھا انتخابات میں فائدہ اٹھا سکتی ہے، بر سر اقتدار جماعت کا دوبارہ اقتدار پانا ملک کے سیکولر نظام کے لئے بہتر نہیں ہے، اگر حکمراں جماعت کی گزشتہ چار سالوں  کی کار کردگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو تا ہے کہ مسلمانوں کا خوف دکھا کر ملک کی اکثریت ہندؤں کا ووٹ حاصل کیا گیا ہے اور لگاتارحکمراں جماعت اس خوف کو باقی رکھنا چاہتی ہے تاکہ دوبارہ حکومت سازی کا موقع میسر آسکے، اس تناظر میں شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان  حکمراں جماعت کو سیاسی فائدہ پہنچانے کا کام کر سکتا ہے۔

اس مختصر مضمون میں یہ بھی بتادوں کہ اگر مسلم پرسنل لا شرعی عدالتوں کے قیام کے بجائے تعلیمی اداروں کے قیام کا اعلان کرتا تو زیادہ بہتر تھا، یہ سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال انتھائی تشویشناک ہے، لہذا اس وقت مسلمانوں کو  شرعی عدالتوں کی نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کی  ضرورت ہے،جب مسلم سماج تعلیم جیسے مقدس زیور سے آراستہ ہوگا تو شرعی عدالتوں کی اہمیت و افادیت کو بھی بخوبی سمجھے گا اور شرعی احکام کی بجا آوری بھی پابندی سے کریگا،  اکابر ملت کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہندوستان جیسے کثیر المذاہب ملک میں مسلم اقلیت کی اعلی تعلیم کا بندوبست کتنا ھروسے مند ہے،  پورے ملک میں نظر دوڑانے کے بعد صرف ہماری نظریں علیگڑہ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ پر جا کر ٹکتی ہیں مگر ان کو بھی حاسدیں نگاہ بد سے دیکھتے رہتے ہیں، اور ان عظیم اداروں  نقصان پہنچانے کی فر میں گے رہتے ہیں،  ماہرین کا کہنا ہیکہ جو قوم بھی تعلیم میں پیچھے ہو وہ کبھی بھی ترقی اور عروج کی منازل طے نہیں کر سکتی ہے، اسی وجہ سے تعیلم کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے سر سید احمد خاں نے کہا تھا کہ ہر مسجد اور مدرسہ میں تعیلم کا نظام ایسے خطوط پر استوار کیا جائے کہ دینی علوم و عرفان سے واقفیت کے ساتھ ساتھ عصری علوم پر بھی دستگاہ ہو، ظاہر ہے سر سید کا یہ قول معمولی اہمیت کا حامل نہیں ہے –

کیا یہ سچ نہیں ہیکہ جہالت اور نادانی کی بنیاد پر ہی باہم مسلمانوں میں تنازعات جنم لیتے ہیں، بلکہ سچائی یہ بھی ہیکہ طلاق، خلع اور ازدواجی مسائل کے جھگڑے زیادہ تر جہلاء میں پائے جاتے ہیں، ذرا یہ بھی سمجھتے چلئے کہ مسلمانوں میں عدم شعور آگہی کی وجہ سے کتنے مسلم اپنی بیٹیوں کو میراث میں شریک نہیں سمھجتے اور نہ ہی انہیں کوئی حصہ دیا جاتا ہے جبکہ قرآن و احادیث میں بیٹی کی حیثیت کو ذکور اولاد کے ساتھ ساتھ رکھا گیا ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ  انہیں بھی وراثت میں حصہ ملنا چاہئے مگر کچھ نادانی کی بنیاد پر اور بعض جان بوجھ کر نہیں دیتے ہیں- چنانچہ مسلمانوں کی تعلیم پر ماہرین و قائدین اور ملی وسماجی اداروں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مسائل کی طرف اکابر امت کب توجہ دلائینگے یہ آج کا بہت ہی بنیادی ایشو ہے،  ملک کے اندر ایسے خاندان اور نسلیں کتنی ہیں جو بنیادی دینی باتوں سے واقف نہیں ہیں، اگر ان کی تعلیم و تربیت پر شروع سے توجہ کیجائے تو یقینا کوئی غیر اخلاقی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا ہے –

آج مسلم سماج میں جو بھی برائیاں جنم لے رہی ہیں ان کو ختم کرنے کے لئے ہمارے پاس کیا کوئی مؤثر حکمت عملی ہے؟یہی وجہ ہیکہ مسلم پرسنل لا کے اس اعلان سے امت میں بحث و مباحثہ شروع ہوگیا ہے-اسی کے ساتھ یہ ضروری ہیکہ ملت کی اصلاح و تربیت کی طرف  بھی توجہ دیجائے اور اس کے لئے باضابطہ ایسے مراکز کا قیام مسلم پرسنل لا کی جانب سے کیا جا ناچاہئے کہ جن میں مردو خواتین کی اصلاح کا عمل بھی کیا جا سکے، ظاہر ہے  تعلیم یافتہ طلباء صرف اپنے خاندان، والدین، اور اپنی ملت کے لئے ہی  سر خ روئی کا سامان نہیں بنتے ہیں بلکہ وہ پورے ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں، اس پس منظر میں بھی ہمارے قائدین کو تفکر و تدبر کرنے کی ضرورت ہے۔

    آخر میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہندوستان میں  سیکولر اقدار کا تحفظ کرنا ہر انسان کی قومی وملی ذمہداری ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہیکہ کسی بھی طرح کا جذباتی بیان نہ دیا جائے، کیونکہ ا س سے ہندوستان کے امتیاز و تشخص پر آنچ آنے کا خطرہ ہے  اور اس کا نقصان ملک کے ہر شہری کو ہوگا، فرقہ پرست عناصر اس بات کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں کہ ملک مین زیادتی، تخریبکاری اور ظلم و عدوان کی واردات کو کس موقع سے انجام دیا جائے، بناء بریں اگر شر پسند عناصر کی نازیبا حرکتوں سے ملک کو بچانا ہے تو پھر  اشتعال انگیزی سے بچکر مسلم مسائل پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہےا ور  ذاتی مفادات کی بھی قربانی دینی ہوگی تبھی جاکر ہمارے ملک میں تمام قومیں سکون سے رہ پائینگی-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

متعلقہ

Close