ملی مسائل

شہید بابری مسجد کے مسلک کا مسئلہ؟

حفیظ نعمانی

برسوں سے اودھ نامہ میں لکھتے رہنے کے بعد آج یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ میرے کسی دوست نے میرے مضمون میں شیعہ سُنی مسئلہ پر میرے قلم سے کوئی مضمون شاید نہ دیکھا ہوگا۔ ہوسکتا ہے برسبیل تذکرہ کوئی جملہ قلم سے نکل گیا ہو۔ بابری مسجد جس کا اب صرف نام ہے وجود بھی نہیں ہے اس کے شیعہ یا سُنی ہونے پر مقدمہ بازی یا فریق مقدمہ بننا پڑھ کر اس لئے جھٹکا لگا کہ جن صاحب کے نام سے یہ خبر چھپی ہے میں ان کی جرأت راست گوئی اور اوقاف میں بددیانتی پر مستقل حملہ آور رہنے کی وجہ سے بہت متاثر ہوں ۔ اگر 1946 ء میں سُنی اور شیعہ وقف بورڈ کے درمیان حق بازی میں کوئی جان بوجھ کر بھی ہار گیا تھا تو اب 2017 ء میں تلوار نکال کر میدان کارزار گرم کرنا تو ایک سوئے ہوئے فتنہ کو جگانا ہے۔

میری زندگی کے 72  سال لکھنؤ میں گذرے ہیں میں نے اسی لکھنؤ میں 1969 ء میں لکھنؤ کے وسطی حلقہ سے امتیاز حسین ادیب کو بابو ترلوکی سنگھ اور ان کے سب سے بڑے دوست ڈاکٹر فریدی اور حمایتی حاجی زین العابدین اور حاجی غلام حسنین اور مقبول احمد لاری صاحب جیسے صاحبان اقتدار شہرت و دولت اور عزت کے مقابلہ میں صرف اور صرف اپنے دم پر اس حال میں الیکشن لڑاکر جتایا تھا کہ امتیاز صاحب نے کہا تھا کہ میرے پاس ایک روپیہ بھی نہیں ہے میں 1967 ء میں آزاد الیکشن لڑکر دیوالیہ ہوچکا ہوں ۔ اور میں خود ایک مولانا کا نااہل لڑکا اور ایک چھوٹے سے تنویر پریس کا مالک تھا۔ اور چودھری چرن سنگھ کی پارٹی سے لڑانا چاہتا تھا جن کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ٹکٹ دیتے تھے پیسے نہیں دیتے تھے نہ پوسٹر نہ جھنڈے اور نہ جیپیں ۔ اور لکھنؤ کے ہر بزرگ سے اس کی تصدیق کرائی جاسکتی ہے کہ وہ الیکشن صرف ایک ذات حفیظ کے بل پر لڑا گیا اور امتیاز صاحب ایم ایل اے بنے۔ اب یہ میری بدقسمتی تھی کہ وہ تین سال کے بعد چپکے سے کملا پتی ترپاٹھی کے پاس گئے اور شیعہ وقف بورڈ کے کنٹرولر بننے کا سودا کرکے کانگریسی بن گئے۔ اور بعد میں اپنے بل پر دوبار آزاد لڑنے اور دو دو ہزار ووٹ لے کر اپنی اوقات دکھادی۔

اس بات کی شہادت وقار رضوی مہدی صاحب دیں گے کہ میرے اپنے قریب ترین عزیزوں کے علاوہ کیسے کیسے حضرات نے کہا کہ کیا ضروری ہے کہ اودھ نامہ میں لکھو؟ اس کی تفصیل سے کیا فائدہ اور میں آج بھی جب کہ وہ ضخامت میں آدھا رہ گیا ہے اور زیادہ سنجیدگی اور پابندی سے لکھ رہا ہوں ۔

ان تمہیدوں کے بعد عرض کروں گا کہ اگر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ بھی کردیا کہ جہاں بابری مسجد تھی اس سے پہلے نہ کوئی مندر تھا نہ بت خانہ تب بھی کیا ہندوستان کے 20  کروڑ مسلمان سُنی اور شیعہ مل کر بھی یوگی اور مودی حکومت میں اجودھیا میں جاکر مسجد کے نام پر ایک اینٹ بھی رکھ پائیں گے؟ یہ بات ان ہی کالموں میں میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اب وہ اجودھیا کے بجائے رام نگری بن چکی ہے جس کی حیثیت ہندوئوں نے وہ بنائی ہے جو مکہ مدینہ کی ہے کہ غیرمسلم کا داخلہ بندہے ایسے ہی اب رام نگری میں مسلمان کا داخلہ بند ہے بعض دوستوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ ہم ہندو بن کر اندر تک دیکھ آئے کہ کہاں کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ خطرہ نہیں موت کو دعوت دینا ہے اگر ہندو بھی یہ حسرت پوری کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا بھی کوئی مذہبی شہر ایسا ہو تو اس سے ہمیں کیا لینا دینا۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلمانوں کے دبائو میں بابری مسجد کا مقدمہ اپنے ذمہ میں لیا اور ایک کمیٹی بنادی۔ ہم کیسے کہیں کہ جس بابری مسجد کو ضد میں سو کروڑ ہندوئوں نے غلامی کی نشانی بنا لیا اور پنڈت نہرو کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے آزادی کے فوراً بعد اس میں مورتیاں رکھ دی گئیں اور پھر بابری مسجد کی گاڑی ہر دن مندر کی طرف بڑھتی رہی اور 6  دسمبر 1992 ء کو وہ آخرکار شہید کردی گئی اور اس کی شہادت میں اٹل بہاری باجپئی تماش بین اور اڈوانی، جوشی بھی شریک رہے اس کے دوبارہ تعمیر صرف اس وقت ممکن تھی جب ہندوستان میں مسلمانوں کی نہیں اسلامی حکومت بن جاتی جس کا امکان ہی نہیں تھا۔

بیشک سپریم کورٹ انصاف کا مندر ابھی تک تو ہے۔ لیکن وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتا کہ کہہ دے اس زمین پر مندر نہ بنایا جائے وہ مسلمانوں کو دے دی جائے یہ تو حکم دینے سے رہا کہ حکومت ایسی ہی مسجد بنواکر دے؟ اس حکم کے بعد بھی اگر یہ کہہ کر کہ جگہ چھوڑ دی ہے اور اس کے بڑے حصہ کو مندر میں شامل کرلیا جائے تو کون ہے جو مندر گراکر پھر وہ جگہ خالی کرادے گا؟ ممبئی میں جنم اشٹمی کے موقع پر دہی کی ہانڈی پھوڑنے کا ایک مقابلہ ہوتا ہے جس میں لڑکوں کے اوپر لڑکے کھڑے ہوکر ایک مینار بناتے ہیں اور وہ بار بار گرتے ہیں کسی کی گردن کی اور کسی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹتی ہے جو عمر بھر کے لئے بیکار ہوجاتے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے واضح حکم دیا کہ کوئی ہانڈی 20  فٹ سے زیادہ اونچی نہ باندھی جائے۔ اور نابالغ لڑکوں کو اس مقابلہ میں شامل نہ کیا جائے۔ آپ نے بھی سنا ہوگا کہ اس خطرناک کھیل کے منتظم چلا ّ چلا ّکر کہہ رہے تھے کہ کون ہوتا ہے سپریم کورٹ ہمارے مذہبی معاملے میں دخل دینے والا؟ یہ معاملہ ہمارا اور سرکار کا ہے۔ سارے مہاراشٹر سے ان مقابلوں کو دیکھنے کے لئے لاکھوں لوگ آتے ہیں پوری فلم نگری آتی ہے انعام کی بارش ہوتی ہے ہم 40  فٹ پر ہی ہانڈی لٹکاتے تھے اور اتنی اوپر ہی لٹکائیں گے۔ مہاراشٹر حکومت نے دکھانے کے لئے دور چار کی جگہ بدل دی شاید کسی کو بند کرادیا مگر 20  فٹ کی ہانڈی باندھنے کا جو حکم دیا تھا وہ نہیں مانا کہ اسے کون دیکھنے آئے گا؟

ایسے نہ جانے کتنے احکامات ہیں ۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مقدمہ کا فیصلہ حق میں ہو یا خلاف بابری مسجد کا خیال بھی دل میں لانا شاید نادانی ہے۔ میں نے بار بار عرض کیا ہے کہ میں کم علم آدمی ہوں اور مفتی بھی نہیں ہوں ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے دل کی بات لکھ دیتا ہوں اگر غلط ہوتی ہے تو معافی مانگ کر توبہ کرلیتا ہوں ۔ اس وقت تو محترم وسیم صاحب سے بس ایک نیازمند کی حیثیت سے یہ عرض کروں گا کہ شاید میری لکھنؤ کی 72  سالہ زندگی میں آج سے پہلے کبھی ہر مسلمان کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر زنجیر بنانے کی اس سے زیادہ ضرورت نہ پڑی ہو۔ مالی اعتبار سے آزاد ہندوستان میں مسلمان پہلے دن سے کمزور تھے سرکاری نوکری کے دروازے بند کردیئے گئے تھے حیثیت والے مسلمان پاکستان چلے گئے تھے۔ ہم جیسے چھوٹے روز کھودو اور روز پیو والے تھے جنہوں نے چھوٹے موٹے کاروبار کرلئے اور اللہ نے رزق کا انتظام کردیا۔ پہلے تھوڑی سی پونجی پر نوٹ بندی کی مار پڑی۔ خدا خدا کرکے سنبھل رہے تھے کہ جی ایس ٹی کا رولر چلا دیا۔

ہم میں سے کتنے ہیں جو کمپیوٹر آپریٹر رکھ کر ہر دس دن کے بعد اعمال نامہ داخل کریں؟ دل چاہتا ہے کہ جو مسلمان ان نزاکتوں سے واقف ہیں اور حکومت کی پابندی کی تفصیل سمجھتے ہیں وہ اعلان کردیں کہ واجبی معاوضہ پر کمزور مسلمان دُکاندار جو جی ایس ٹی کے دائرے میں آتے ہیں وہ ان سے رابطہ کریں ۔ میں خود 11  برس سے اپنی ٹانگ کی وجہ سے گھر پر ہوں اس کی تفصیل میں کیا بتائوں میں نے صرف اس لئے عرض کیا کہ یہ پڑھا تھا کہ تم زمین پر رہنے والوں کی مدد کرو آسمان والا تمہاری مدد کرے گا۔ خدا کرے سمجھنے والے میری بات سمجھ جائیں اور چھوٹے چھوٹے دُکاندار دُکان بند کرکے بھیک مانگنے سے بچ جائیں جو اُن کا مقصد ہے جنہوں نے یہ نافذ کیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close