ملی مسائل

شیعہ وسنی: اتحادکی راہیں

آصف علی

حمد ہے, خدائے حکیم کےلیے! جس نےہرقسم کی بھوک کےلیےرزق پیداکیا,اورہرطرح کےذوق کی تسکین کےلیےسامان کیے,اس نے منزلوں  کو پانے کے لیے راستوں کاشعورعطاکیا،اس نےاپنےوہ حکم جوقوانین کی صورت میں ہواؤں کودیےتھےانسان کے لیے مسخر کیے تاکہ وہ بلندیوں کاادراک کرسکے_

پاکی ہےاس بزرگ اکبرکےلیے!جس نےاصل اورنقل کی تمیزکےلیےقوانین عطاکیےجس نےحق اورباطل کےدرمیان ایسےامتیازقائم کیےکہ وہ کبھی مل ہی نہیں سکتے_

صاحبان ہوش!اس بات کاکسی درجہ میں بھی امکان نہیں کہ وہ خداجواس عارضی دنیاکےحصول کےلیےانسان کوایسےمحکم قوانین عطا کرے اس کےہرذوق کی تسکین کاسامان کرے,پھرکیوں کرممکن ہےکہ وہ اپنی مشیت اپنی رضاجوکہ لامتناہی خزانوں کی کلید ہے, جو واحد ایسی دولت ہےجس کوپالینےکےبعدانسان کادرون یعنی دل جوکبھی نہیں بھرتا,بھرجاتاہے..پھرآخرکیوں کرممکن ہےکہ وہ ایسی دولت کےحصول کےلیےناپختہ ذرائع رکھے..نہیں نہیں..ہرگزنہیں_وہ ہرخطاسےپاک ہےوہ اپنےاحکام کی حدوں کوواضح کیے بنا انسانوں کوان کی حفاظت پرمامورنہیں کرتا,ہم جس طرح اس کےاحکام سےبھراساراقران پڑھ جاتےہیں,مگرکہیں تضاداورٹکراؤنہیں دیکھتے ہم اس کی معین کی ہوئی حدوں پرچلتی ہوئی ساری کائنات دیکھتےہیں,مگرکہیں تضادیاٹکراؤنہیں دیکھتےباالکل اسی طرح ہم میں سےکوئی دواس کی مشیت پرچلتےہوئےآپس میں  ٹکرانہیں سکتےکیوں کی اس کی رضاپرچلتےہوئےکسی دوکاآپس میں ٹکرانا گویااس کی مشیت کااپنےآپ میں ٹکراناہوگا,جوکسی طورممکن نہیں.یقیناوہ اپنی ذات,صفات اورمشیت میں ہرہرطرح کی دوئی سےپاک ہے.

میرے شیعہ اورسنی بھائیو !

ہم مدتوں سےباہم دست گریباں ہیں اورہم میں سے ہرایک اس بات کاداعی ہےکہ وہ دین خدایعنی اس کی رضاکےلیےسربکف ہے,توجب یہ طےہواکہ اس کی مشیت اپنےآپ میں نہیں ٹکراتی تواب یہ بات لازمی نتیجےکےطورپرطےہےکہ اس ٹکراؤ میں کہیں نہ کہیں ہماری مشیت کی ملاوٹ شامل ہے,اب رہی یہ بات کہ کہاں کہاں,کس کس طرح سےکس نےملاوٹ کی ہے؟کیایہ بات طے کرنے کے لیے خدا نے کوئی پیمانہ مقررنہیں کیا؟

یقیناً جوخدا دو ٹکے کی چیزکی اصلیت جاننے کے لیے انسان کوشعورعطاکرتاہے (کیوں کہ اسےانسانوں کاتھوڑاسانقصان بھی گوارانہیں) توہدایت جیسی سب سےاعلی’دولت کےلیےاس نےبدرجہ اولی’بندوبست کررکھاہوگا_

یہاں ایک بات قابل توجہ ہےکہ وہ جن چیزوں کومجموعی وبنیادی حیثیت سےمنواناچاہتاہے,ان کےلیےپیمانےبھی مجموعی اوربنیادی سطح کےفراہم کرتاہےجوکہ عدل کاتقاضابھی ہے_یہ بات باالکل ماننےکےلائق نہیں کہ ایک بات کوخدابنیادی قراردےاوراس کامانناسب مسلمانوں پرلازم کرےاورنہ ماننےپرعذاب کامستحق قراردےلیکن وہ بات ہمیں کسی مجموعی اوربنیادی حیثیت سےنہ ملےبلکہ اس کے برعکس وہ کسی ایک گروہ مثلاًشیعہ حضرات کی چندمعتمدکتابوں میں ہوبالکل اسی طرح وہ بات جوکسی مجموعی اوربنیادی حیثیت سے نہ ملے کیوں ایک شیعہ کےلیےلازم ہوسکتی ہےکہ وہ اہل سنت کی کتب میں ہے.یقیناًکسی مخالف کےیہاں کسی بات کا ہونا دوسرے کے لیے قابل حجت نہیں ہوتا,اس بات کےطےہوجانےکےبعداب یہ طےکرناباقی ہےکہ وہ کون سی چیزیں ہیں جوہمارےدرمیان باالاتفاق اصولی اورحتمی قرارپاسکتی ہیں اورہمارےتنازعات کےحل کاباعث ہوسکتی ہیں؟

یہاں یہ نقطہ بےپناہ حیرانی کی تاثیرلیےواردہوتاہےکہ وہ چیزیں جوہمارےدرمیان اصولی اورحتمی حیثیت کی حامل تھیں اورجنھیں تنازعات کے حل کاباعث ہوناتھا,ہمارےیہاں تمام تنازعات پیداہی ان کےباعث ہوتےہیں.یعنی: قران وحدیث.

یہ وہ ترازوتھےجوپروردگارنےتمام انسانوں کی فلاح کےلیےاوربطورخاص مسلمانوں کےتنازعات کےحل کاباعث قراردیتےتھے,لیکن ستم یہ کہ لوگ انھیں کواستعمال کرکےتباہی کاسامان بیچ رہےہیں توآخریہ کیوں کرممکن ہواکہ وہ پیمانےجوخدانے,چیزوں کی اصلیت کوواضح کرنےکےلیےمقررکیےوہی الجھنوں کاباعث ہوگیے.کیاخدانخواستہ ان پیمانوں میں کوئی کجی ہے؟ نہیں نہیں.خداکی پناہ__ایساہرگزنہیں__

توصاحبان آئیے! اس شےکی طرف توجہ کریں جس کےچھوٹ جانےسےتمام حتمی واصولی پیمانےبےوقعت اوربےمعنی ہوجاتےہیں, جس کے چھوٹ جانےسےکسی بھی بھلائی وبرائی کاامتیازممکن نہیں  رہتا,جس کوبروئےکارلائےبناہماراکوئی بھی تنازعہ حل نہیں پاسکتا.

ہاں صاحبان عقل! وہ عقل ہی توہےجس کی وجہ سےہم قابل عزت ہوئےیہ شعورہی تووہ شرف ہےجس کی وجہ سےہم اشرف کہلائے, یہی تو ہےجس کی بناپرخدانےہمیں قران میں مخاطب کیا,یہی توہےجس کی بناپرانبیانےہمیں دعوت دی,یہی توہےجس کی بنیاد پر پروردگار عالم نےہم پراپنی لامتناہی معرفت کےخزانےکھولنےکافیصلہ کیا,یہی تووہ خداکی طرف سےعطاکردہ تلوارتھی جوفتنوں اورجہالت کی جڑکاٹ سکتی تھی_

مگرمذہب کےتاجروں نےبڑی چالاکی سےہمیں اس سےبےتعلق کردیا,مذہب کےتاجرجانتےتھےکہ یہ جب تک اسےتھامےرہیں گےان کو دھوکے کا سامان بیچنا ممکن نہ ہوگا,کیوں کہ یہ ان  کی اصلیت ظاہرکردےگی,اس لیےانھوں نےسب سےپہلاحملہ اسی پرکیا_

ہاں صاحبان قدر!

ہم نےقران پڑھااورسنا,مگرجس چیز کےساتھ پڑھنےاورسننےکاحکم تھااسےساتھ نہیں رکھااوراگررکھابھی تواس کےتقاضوں کو دباتے رہے. اپنےشعورکےاٹھائےگیےسوالوں کو ان سنا کرتےرہے___قران نےکہا:

اےصاحبان عقل__تم عقل سےکام کیوں نہیں لیتے؟

مگرقران پڑھانے والوں نےکہاکہ عقل فتنہ ہے, دیکھواس عقل کواس میں دخل نہیں, بس سنواوراطاعت کرو_

انھوں نے قران وحدیث کےحصوں کوان کی تفصیل سےکاٹ کران کےپس منظرسےجداکرکےہم پرپیش کیا.انھوں نے اپنے مقاصد کے لیے حدیثیں اورواقعات گھڑھےاورہمیں حدیث وتفسیربطوردین خدابناکردیےاورہم نےانہیں منشاالہی سمجھ کرقبول کیا,اورکیوں نہ کرتے, وہ چیزجوہمیں ان کی ملاوٹوں کی خبردیتی,ان کےارادوں سےآگاہ کرتی,سارےامتیازقائم رکھتی اس چیز کوتوانھوں نےپہلےہی اس مقام کے لیے بے کارقراردے کر ہم سےعلیحدہ رکھوادیاتھا_

صاحبان! اگرایک انسان سےشعورکونکال کراس کی آنکھوں کےسامنےترازولگابھی دیاجاےتووہ کسی شےکےکم یاپوراہونےکافیصلہ اسی صورت میں کرسکےگاجب اس میں فیصلہ کرنےوالاآلہ موجودہواوروہ بھی درست حالت میں اوروہ اسےبروےکاربھی لائےورنہ ترازوکاہونانہ ہونابےسودہے,بےمعنی ہے.

صاحبان قدر!

ہم اسی صورت میں تنازعات کوحل کرسکیں گےجب ہم حق کوپانےکےلیےصاف اورپختہ نیت سےاپنےشعورکےتمام تقاضےوہ چاہےعقلی وعلمی ہوں,منطقی واسلوبی,ادبی یااصولی,لغوی یانحوی ہوں,ان کوپورانہیں کرتےتب تک ہماراحق پر ہونے کا دعوے دار ہونا خطا کےامکان سےخالی نہ ہوگا.

حق ہی منشاےالہی ہے,دین خداہے,اس تک پہنچنےکےلیےہمیں اپنی اپنی استطاعت کےمطابق ہرتقاضےپرکان دھرناہوگااس کو پورا کرنے کی کوشش کرنی ہوگی,یہی ہماراپہلےدرجےکاجہادہے.اوراگرہم اپنی استطاعت کےمطابق کوشش کریں گےتووہ یقیناًہماری استطاعت میں اضافہ کرےگا,کیوں کہ یہی اس کاطےشدہ امرہےکہ توفیق مکافات عمل ہےاوروہ کریم مالک انسان پراس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا,یعنی جوچیزیں ہم اپنی مقدوربھرکوششوں کےباوجودبھی طےنہ کرپائیں ان کی حفاظت کرنابھی اس کی طرف سے ہماراذمہ نہیں ہوسکتا.

توبھائیو!

ہمیں لوٹناہوگااس شےکےحصول کےلیےجوآگےبڑھنےکےلیےضروری ہیں,وہ جس کےبناہم کبھی ایک دوسرےکےلیےگنجائش نہ پیدا کرپائیں گےوہ جس کےباعث ہم پرقران کی صداقت ظاہرہوئی,وہ جس کےباعث ہم نبی رحمت پرایمان لائے,وہ جس کےباعث ہم نے تخلیق سےخالق تک کاسفرطےکیااوراس کی خوبیوں کوپہچان کرہم اس کی تعریف اورکبریائی بیان کرتےہیں وہی چیزاب بھی ہم پر صداقتوں کوظاہرکرےگی,وہی شےاب بھی ہمارےدرمیان خالق کاپیغام امن بنےگی,وہی شےاب بھی ہمیں تمام اصول اعتدال سکھاے گی. وہی شے کل بھی ہمارےلیےباعث عزت بنی تھی,وہی شےآج بھی ہمیں معززکرےگی,اس کےبناہم کبھی اس دنیامیں اورنہ ہی خالق کے دربارمیں کبھی سرخروہوسکیں گے.کیوں کہ یہ اصول بھی خالق کی طرف سےطےہےکہ عزت صرف نصیحت پکڑنےوالوں کے لیے ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close