ملی مسائل

طلاق آرڈیننس ناقابل برداشت ہے!

احساس نایاب

طلاق کو لیکر مودی حکومت نے جو حرکت کی ہے  وہ اس ملک میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہےاور سچی بات یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کا ملک کے آئین پر بھروسہ ہے اور وہ ملک کو بحیثیت ایک ملک ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے ان تمام محب وطن کے لئے یہ قانون ملک کے آئین و دستور کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے، ایک طرف تو یہ عورتوں سے ہمدردی کا دعوٰی کرتے ہیں، حقوق نسواں کی دہائی دیتے ہیں اور دوسری طرف لاکھوں مسلم خواتین کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے ان کے اہم مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے ان پہ بہت بڑا ظلم کررہے ہیں، اس سے یہ بات صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ عورتوں کو لیکر مودی سرکار نے جو بھی دعوے کئے سبھی کھوکھلے تھے لیکن انہیں اس بات کا احساس ہوجا نا چاہئیے کہ صرف جملے بازیوں سے  کچھ نہیں ہوتا۔

اگر انہیں سچ میں مسلم خواتین سے ہمدردی ہوتی تو آج اسطرح انکی مانگوں کو فراموش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی چوری چھپے آرڈیننس پاس کروایا جاتا، جبکہ ہندوستان بھر میں اسکے خلاف باپردہ خواتین نے پرامن احتجاج کیا تھا، اسکے باوجود مودی سرکار نے چند خریدی گئی مٹھی بھر لالچی عورتوں کو بکی ہوئی میڈیا کے آگے پیش کرتے ہوئے  انکے کاندھے پہ بندوق رکھ کر مستقل شریعت کو نشانہ بنانے کا گھناؤنا کام کیا جو بہرحال ناقابل قبول ہے، کیونکہ ہندوستان کے آئین نے تمام شہریوں کو برابری کے حقوق دئے ہیں چاہے وہ مذہبی ہوں یا ذاتی۔  جسکی جیتی جاگتی مثال چند دنوں قبل ہم جنس پرستی جیسے قبیح فعل کو جائز قرار دینا ہے، جس کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی کہ موجودہ سرکار حقوق نسواں کے نام پہ صرف اور صرف سیاست کر رہی ہے اور خواتین کو انصاف دلانے کو لیکر جو بڑی بڑی باتیں کی جارہی ہیں خاص کر طلاق، خلع، حلالہ کو لیکر وہ سب ڈھکوسلے بازی ہے، اسلۓ  ان لوگوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم مسلم خواتین کے لۓ ہمارا اسلام کافی ہے جس میں ایک عورت کو وہ تمام حقوق دۓ گئے ہیں جس کی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ملتی ہے۔

زیادہ دور کیوں جائیں، دن رات ایک ساتھ زندگی گذار نے والے برادران وطن ہندو سماج پر ہی ایک سرسری نظر ڈال لیں، تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس سماج میں ہمیشہ سے عورتوں کو پیر کی جوتی بنا کر رکھا گیا ہے اور سچ کہیں تو وہ  عورتیں پسماندہ طبقے سے بھی نچلے حصے میں ہیں اور یہ بات ثابت ہوتی ہے انکی بیواؤں کو دیکھ کر جنہیں خاوند کے مرنے کے بعد منحوس کہہ کر دنیاداری سے جڑی تمام رسم و رواج سے دور کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ ان خواتین کے سرکے بال بھی مونڈ دئیے جاتے ہیں، جبکہ اسلام نے خاوند کے گذر جانے کے بعد بھی عورت کو دوبارہ اپنی زندگی کی شروعات کرنے کی اجازت دی ہے اور یہی معاملہ طلاق شدہ عورت کا بھی ہے کہ وہ چاہے تو ایک ظالم جاہل مرد سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر سکتی ہے، اسلام کی ان بے مثال تعلیمات کے نمونوں سے دنیا کے دیگر تمام مذاہب خالی ہیں، ویسے تو پردھان  منتری مودی ہمیشہ رام راجیہ کی بات کرتے ہیں، وہی رام راجیہ جس میں رام نے ایک حاملہ عورت کو بن باس بھیج دیا جیسے آج مودی نے جشودہ بہن کو چھوڑا ہے اسلئے آج اگر ہندوستان میں بیوی چھوڑنے کے جرم میں کسی مرد کو سزا ملنی چاہئیے تو وہ ہیں پردھان منتری مودی کو اور کسی کے حقوق دلوانے ہیں تو وہ ہیں انکی بیوی کو، کیونکہ جس ملک کے حکمراں کی بیوی انصاف سے محروم ہے تو اُس ملک کی کسی اور خاتون کو کیا خاک انصاف ملے گا اور یہ وہ بدبخت لوگ ہیں جو کہ عقل سے پیدل ہیں کیونکہ انکے اپنے گھروں میں کئی چھید ہیں اسکے باوجود یہ دوسروں کے گھروں میں تاک جھانک کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں، ان کے لئے بہتر ہوگا کہ یہ پہلے اپنے حالات دیکھیں جہاں پہ عورتوں کو ستی جیسی پرتھا کے چلتے زندہ جلایا جاتا تھا جو آج بھی کئی علاقوں میں کسی اور شکل میں انجام دیا جارہا ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ ان کی اندھ بھگتی کے چلتے عورتوں کو لباس پہننے کی بھی اجازت نہیں تھی،  دیوداسیوں کا نام دیکر انکے ساتھ جنسی استحصال کیا جاتا رہا ہے اور بیچاری دلت عورتیں تو آج بھی انکی بربریت کا شکار ہورہی ہیں، اسلئے اسلام کے بارے میں کہنے یا ہماری شریعت پہ انگلی اٹھانے سے پہلے ایک بار اپنے وید پرانوں کو کھول کر دیکھیں گے تو مہابھارت میں دروپدی کا کردار بھی دکھائی دیگا، جہاں آج طلاق ثلاثہ پہ ہنگامہ کیا جارہا ہے، مسلم مردوں کی چار شادیوں کو لیکر اعتراض جتایا جارہا ہے لیکن انکی مہابھارت میں ایک عورت پہ اتنا بڑا ظلم کیا گیا ہے کہ اسکی شادی 5 مردوں سے کردی گئی، اسلئے مسلم خواتین کی زیادہ فکر نہ کریں نہ ہی انصاف دلانے کا ڈھونگ کریں اور ملک کے جو اہم مسائل ہیں ان پہ توجہ دیں تاکہ ہمارا محبوب وطن ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

رہی بات مسلم خواتین کی تو الحمدللہ ہمارے اکابرین علماء موجود ہیں جنکی رہنمائی پاکر ہم تا قیامت اپنی شرعی احکامات پہ عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کرینگے، اور اللہ نہ کرے کبھی کوئی مسئلہ پیش آیا  تو ہمیں اپنے اکابر علماء پہ پورا یقین ہے کہ وہ ہمارے شرعی مسائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل نکالیں گے، رہی بات چند ناعاقبت اندیش خواتین کا تویہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں ایسے کچھ مسلمان مردو عورت گذرے ہیں جنہوں نے اپنے تھوڑے سے ذاتی مفادات کی خاطر اپنے ضمیر کو بیچا ہے اور مذہب سے غداری کی ہے، اسی لیے ایسی خواتین اور مرد سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ لوگ دونوں جہاں میں ذلیل و خوار ہوں گے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک دیندار تعلیم یافتہ شریعت سے باخبر  مسلمان عورت اچھی طرح جانتی ہے کہ  عورت کو سپریم پاور تو پہلے سے ہی اسلام نے دے رکھا ہے اور اس بات سے بھی وہ بخوبی واقف ہیں کہ  غیروں کے درمیان جاکر بےعزتی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا اور جو جان بوجھ کر حماقت کررہی ہیں بیشک انکی عزتین پامال ہورہی ہیں اور یہ بیحد افسوس کی بات ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اسکی سب سے بڑی وجہ انکی لاعلمی اور جہالت ہے کہ یہ دین سے دور ہیں اسلام کے احکامات سے بےخبر اور شریعت سے پوری طرح لاعلم ہیں جسکی وجہ سے انکو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اصل ناری شکتی اسلام میں ہے۔

اور ان کی دین سے دوری کی وجہ یہ بھی ہے کہ مردوں کو کم ازکم اتنا موقعہ ملتا ہے کہ انہیں ہر جمعہ اسلامی تعلیمات سے واقف کروایا جاتا ہے جبکہ خواتین کو ایسے موقعے فراہم نہیں کئے جاتے اگر انہیں دین سیکھنا ہے تو یا تو انہیں مدرسوں کو جانا پڑیگا یا گھروں میں ہی تلاوت کرنی پڑیگی لیکن بغیر رہنمائی کے یہ کارآمد نہیں ہے کیونکہ ہم لاکھ مطالعہ کرلیں مگر جب تک ہماری صحیح رہنمائی اور اصلاح نہیں ہوگی تب تک ہمارا مطالعہ بھی بیکار ہوگا یا یہ کہیں کہ رٹا مارنے کے برابر ہوگا۔

 اسلۓ ان حالات کو بہتر طریقے سے نپٹنے کے لۓ چاہئیے کہ ڈگری کالجس جو مسلمانوں کے ماتحت ہیں ان کالجس کی لڑکیوں کو مارل ایجوکیشن کے نام سے اپنی زندگی کے نشیب و فراز سے آگاہ کروانا ہوگا اور انہیں ازدواجی زندگی کے حقوق شوہر کے حقوق بیوی ہونے کے حقوق اور ان جیسی تمام چیزوں سے ذہنی تربیت دینی ہوگی اگر یہ سب کرینگے تو انشاءاللہ مستقل میں بہت اچھے نتائج سامنے آئینگے اور اسطرح سے نوجوان لڑکیاں ازدواجی زندگی میں آنے والے تمام امتحانات کے لئے ذہنی طور پر تیار رہینگی اور اسطرح کے کسی بھی دنیاوی قوانین و  فیصلوں کا ہم پہ کوئی اثر نہیں پڑیگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Close