ملی مسائل

طلاق ثلاثہ بل: خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے!

غلام مصطفی عدیل قاسمی

لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پیش ہوا اور گمان کے مطابق پاس بھی ہو گیا، خوش آئندہ بات یہ ہے کہ اب کی بار تمام اپوزیشن پارٹیاں ہمارے (آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ) منصوبہ کے مطابق بل کی مخالفت ہی نہیں کی بلکہ ہمارے فراہم کردہ مواد و معلومات کے زور پر لوک سبھا میں ہماری پر زور وکالت کرتے نظر آئے، الحمدللہ! گزشتہ ۲۶/دسمبر کو پورا دن بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے یہاں رکنا ہوا، محترم عمر عابدین کے دولت کدہ پر بیٹھ کر چائے نوشی کر رہا تھا کہ اسی درمیان مسلم پرسنل لاء بورڈ کے شعبہ خواتین کی سربراہ محترمہ اسماء زہرہ صاحبہ کی کال آئی جس میں وہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب دامت برکاتہم کو کارگزاری اور تفصیلات سے آگاہ کر رہی تھیں کہ بل کی پیشی کو لیکر بورڈ کے ممبران نے پچھلے دس دنوں میں کن کن لیڈروں سے ملاقات کی اور انہیں بل کی مخالفت کرنے پر کس طرح تیار کیا، چونکہ مولانا خالد صاحب لاؤڈاسپیکر آن کئے ہوئے تھے اس لیے ہم بھی ان حضرات کی دن رات کی دوڑ دھوپ اور قربانیوں کی روداد سن رہے تھے، محترمہ اسماء زہرہ بتا رہی تھیں کہ جب ہم بل کی مخالفت کرنے کی تجویز لیکر رکن پارلیمنٹ محترمہ شسمتا دیو کی آفس پہنچے تو انھوں نے کافی سکون و راحت کی سانس لی اور کہا کہ میں تو بہت کنفیوژ تھی کہ لوک سبھا میں ایک خاص اسلامک سبجیکٹ پر کیا بولوں۔۔! لیکن آپ لوگوں نے ملکی و مذہبی قوانین کی روشنی میں مواد فراہم کر کے میرا تو بوجھ ہلکا اور کام آسان کر دیا ہے۔۔!

اسی طرح کی ملتی جلتی کہانی اور تاثر تقریبا ہر لیڈر نے بورڈ کے وفد کو دی، پھر ایوان میں اسی فراہم کردہ مواد کی روشنی میں ممبران پارلیمنٹ نے زبردست انداز میں ہماری وکالت کی، آنے والی نسلیں جہاں ان حق پرست ممبران پر ناز اور فخر محسوس کریں گی، وہیں بورڈ کی بھی ممنون و مشکور ہونگی کہ انھوں نے ملت کے حقوق کے بچاؤ کی خاطر دن رات ایک کر دی یہاں تک کہ تجویز کو لیکر حکمران جماعت کے لوگوں نے ان پر الزام بھی لگایا اور ایک دو جگہ پر ایف آئی آر بھی درج کروائی کہ بورڈ کے لوگ اور مسلم عورتیں ممبران پارلیمنٹ سے خفیہ ملاقات کر کے انہیں بغاوت پر اکسانے کی کوششیں کر رہے ہیں جو کہ حقیقت سے کوسوں دور الزام تھا، پھر ان ملت اسلامیہ کی ماؤں بہنوں نے کسی طرح کے الزام کی پرواہ کیے بغیر اپنی ملاقاتیں جاری رکھیں؛ اللہ پاک انہیں ہم سب کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے، آمین۔

خیر ابھی لڑائی ختم نہیں ہوئی ہے، مرکزی حکومت اس بل کو قانونی حیثیت دلوانے کے لیے اب راجیہ سبھا میں پیش کرے گی جہاں اس کے ممبران کی تعداد کم ہے، لیکن خطرہ اب بھی برقرار ہے، گرچہ کانگریس و دیگر پارٹیوں نے اس بار لوک سبھا میں ہماری حمایت کی ہے، لیکن آپ کو یاد ہوگا پچھلے سال کئی ممبران اور خود کانگریس نے بھی لوک سبھا میں بل کی موافقت میں ووٹ دیا تھا گرچہ مولانا اسرار الحق قاسمی مرحوم کے اصرار پر کانگریس نے راجیہ سبھا میں یوٹرن لے لیا تھا اور ایوان بالا میں مخالفت کر کے نقصان کی تلافی کی تھی، لیکن یہ جمہوریت ہے یہاں کب کس کی نیت بدل جائے یا کون کس وقت مجبور کر دیا جائے کچھ نہیں کہہ سکتے، اس لیے ہمیں اپنی محنت جاری رکھنی چاہیے اور تمام اپوزیشن لیڈران اور انصاف پسند اراکین سے مکمل رابطہ بنائے رکھنا چاہیے کہ ایوان زیریں کی طرح ایوان بالا میں بھی آپ حق اور سچ کا ساتھ دے کر اس غیر ضروری بل کا مکمل بائیکاٹ کیجئے، ملکی دستور میں تبدیلی کے نام پر ایک خاص طبقہ کے داخلی معاملات میں انٹر فیر کر کے ہندوستان کے پچیس کروڑ لوگوں کی آزادی چھن جانے مت دیجئے۔

اگر ہم پارلیمانی ممبران کو ایک بار پھر قائل کر کے انہیں راجیہ سبھا میں بھی بل کی مخالفت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھتےہیں پھر فیصلہ ہمارے حق میں آتا ہے تب جا کر ہماری محنت اور اور قربانی رنگ لائے گی اور ہم کامیاب ہو سکتے ہیں، تو جہاں بورڈ کے عملہ کو اس پر دھیان دینا ہے وہیں عامۃ المسلمین کو چاہیے کہ دعاء و استغفار کا اہتمام کریں کیونکہ کتب احادیث میں جہاں استغفار کی بے شمار فضیلتیں آئی ہیں وہیں دعاء کو مومن کا ہتھیار کہا گیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close