ملی مسائل

طلاق ثلاثہ بل کا پس منظر، قانونی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاں

مولانا سید آصف ملی ندوی

اس وقت مسلمانانِ بھارت جس طوفانِ حوادث کا شکار ہیں ، جن مسائل سے دوچار ہیں ، اور جس ذہنی کرب میں مبتلا ہیں اس سے ملت اسلامیہ ہندیہ بخوبی واقف ہیں ۔ جب سے وطن عزیز میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، اسی وقت سے مسلمانوں کے دل و دماغ میں سالوں سے پنپ رہے خدشات اور اندیشے ہر نئے دن حقیقت میں تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں ، بی جے پی اور اس کے نظریہ سازوں نے حکومت کے دونوں پالیسی ساز اداروں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پہنچتے ہی جس طرح اسلامی شعارات پر قدغن لگانے یا روک لگانے کے لئے نئے نئے قوانین پاس کئے ہیں ، کبھی گؤ ونش کے ذبیحے پر پابندی لگاکر، تو کبھی نصابی کتابوں سے سیکولر و جمہوری اقدار کو بڑہاوا دینے والے مواد کو حذف کرکے اس کی جگہ دیومالائی تہذیب اور نفرت کو ہوا دینے والی فرضی و مسخ شدہ تاریخ کو شامل نصاب کرکے،خواتین کے بلا محرم سفر حج پر جانے سے متعلق قانون بناکر، تو کبھی سوریہ نمسکار و وندے ماترم کو ضروری قرار دینے کی ناکام کوشش کرکے۔ اور پھر ستم بالائے ستم یہ کہ شدت پسندبرادران وطن کا ان قوانین کے نام پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا، بھیڑ کی شکل میں جمع ہوکر سینکڑوں افراد کا کسی ایک یا چند نہتے و مجبور افراد کو وحشیانہ طریقے پر بے دردی سے قتل کردینا، اور ان وحشی درندوں کی اس لاقانونیت و انارکی اور جرات جاہلانہ پر حکومت وقت کی مجرمانہ خاموشی و بے حسی بلکہ چشم پوشی، یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت واضح طور پر آر ایس ایس کے ایجنڈے کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے۔

ادہر گذشتہ تقریباً ایک سال سے ہمارے وہ ارباب اقتدار جو حکومت میں آنے سے قبل نہ معلوم کتنی ہزار معصوم خواتین کے دریائے خونِ ناحق میں گنگا نہا آئے ہیں ، وہ لوگ جو جنہوں نے گجرات میں سینکڑوں بے قصور و معصوم مسلم خواتین کی عصمتوں کو تار تار کیا ہیں ، دسیوں مسلم حاملہ خواتین کے پیٹوں کو چاک کرکے ان کے جنین کو نیزوں کی نوک پر رکھا، وہ لوگ جو احسان جعفری کے قاتل ہیں اور جو اب تک بھی مرحوم جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کوانصاف نہ دے سکیں ، وہ لوگ جنہوں نے عشرت جہاں کو فرضی انکاؤنٹر میں مارڈالا اور اب تک اس کے والدین کو انصاف نہ دے سکیں ، وہ لوگ جن کے سخت دل نجیب کی ماں کی دلخراش چیخوں کو سن کر بھی نہ پسیج سکے۔ حیرت ہے کہ وہی لوگ آج مسلم عورتوں کی مظلومیت کا رونا رو رہے ہیں ، اور یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہندوستان میں طلاق ثلاثہ کے ذریعے عورتوں پر بہت بڑا ظلم ہورہا ہے، چنانچہ ہم ایک ایسا قانون بنارہے ہیں جو شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کو تحفظ فراہم کریگا، چنانچہ وہ (The Muslim Women (Protection of Rights on Marriage) Bill 2017)شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام سے ایک بل بنا لائے۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہندوستان میں مسلم خواتین اپنے شوہروں کے ظلم وستم اور بے جا دست درازیوں کا شکار ہیں ؟ یا اس ہمدردی کے پیچھے کوئی راز ہے؟

پردۂ لطف میں یہ ظلم وستم کیا کہئے
ہائے ظالم تیرا انداز کرم کیا کہئے

اس سوال اور اس کے جواب کو سمجھنے کے لئے ہمیں ماضی کے کچھ اوراق کو پلٹ کر دیکھنا ہوگا کہ حقیقت کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے اس ملک پر تقریباً نوسو سال تک انتہائی عادلانہ ومنصفانہ حکومت کی ہے، لیکن بدقسمتی سے انگریز اس دیش میں اپنی فطری مکاریوں ، عیاریوں اور شاطرانہ چالوں سے قدم جمانے میں کامیاب ہوگئے، اور ہمارے ہی اپنے چند ضمیر فروش اور زرخرید ابن الوقتوں کی غداری کے نتیجے میں وہ یہاں کے سیاہ وسپید کے مالک بن بیٹھے، چونکہ ان غاصب انگریزوں نے حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے چھینی تھی اس لئے فطری طور پر ان انگریزوں کے خلاف جہاد کا بگل بھی مسلمانوں ہی نے بجایا، ملت اسلامیہ ہندیہ کے تمام ہی مکاتب فکر کے بڑوں نے، معمولی معمولی چٹائیوں پر بیٹھ کر قال اللہ و قال الرسول کی صدائے دلنواز بلند کرنے والے بُردہ نشین علماء کرام نے، اور اللہ ھو و الااللہ کی خاراشگاف ضربیں لگانے والے گوشہ نشین و خانقاہ نشین مشائخ عظام و صوفیاء کرام نے اپنے اپنے مدارس و مکاتب کو چھوڑ کر اور اپنی خانقاہوں اور گوشہ ہائے تنہائی کو خیرباد کہ کر اپنا سب سے مقدم فریضہ انگریزوں کے غاصبانہ تسلط سے ملک کو آزادی دلانا قرار دیا۔ چنانچہ علماء کرام نے اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کی بازیاں لگادیں ، سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں علماء کرام کو تختۂ دار پر چڑھایاگیا، سولیوں پر لٹکایا گیا، کالا پانی کی سزائیں دی گئی۔ لیکن علماء کرام نے برادران وطن کے ساتھ مل کر ملک کی آزادی کی اس جدوجہد کو جاری رکھا، تا آنکہ وہ اس میں کامیاب ہوئے، مختلف کوششوں کے نتیجے میں انگریز اس ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ملک آزاد ہوا۔ اور چونکہ ہمارے اس دیش بھارت میں صرف ہندو ہی نہیں بستے ہیں یا صرف مسلمان ہی نہیں رہتے ہیں بلکہ ہمارا یہ پیارا دیش مختلف مذاہب و تہذیبوں کا ایک نہایت ہی حسین و خوبصورت گلدستہ ہے۔ بقول شاعر :

سرزمینِ ہند پر اقوام عالم کے فراق قافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا

لہذا ملک کی آزادی کے بعد اس وقت کے تمام ہی مذاہب کے ماننے والے ہمارے مجاہدین آزادی نے اور علماء کرام اور دیگر سیاسی تنظیموں کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس ملک کا دستور اور منشور ایسا ہونا چاہئے جس میں یہاں رہنے اور بسنے والے تمام ہی مذاہب اور تہذیبوں کے پیروکاروں کو اپنے اپنے مذہب اور تہذیب کے اعتبار سے عمل کرنے کی پوری پوری آزادی حاصل ہو، چنانچہ ۱۹۵۰ میں ہمارے اس ملک کا دستور بناجس کی رو سے اعلان کیا گیا کہ بھارت ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہوگا، یعنی جس ملک کی حکومت کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا بلکہ حکومت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ یہاں کے تمام شہریوں کو اپنے اپنے مذاہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی فراہم کرے۔ لیکن بدقسمتی سے ملک کی آزادی کے پہلے ہی دن سے چند اسلام و مسلمان دشمن عناصر اور شدت پسند ہندو تنظیمیں اور ان کے سربراہان اس بات کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ بھارت کے مسلمانوں کو یہاں کی دیومالائی تہذیب و ثقافت میں ضم کردیا جائے، اور اس کے لئے وہ فسادات، قتل و غارت گری اور وحشیانہ خوں ریزیوں کے ذریعے مسلمانوں کو ڈر کی نفسیات میں مبتلا کرکے ان کو اپنے مذہب اور اسلامی اقدار و تہذیب سے بیگانہ کرنے کی متعدد کوششیں کرتے رہیں ہیں ، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے، اس لئے انہوں نے قانونی طور پر اس ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ کیا، لیکن چونکہ اس ملک میں اس قدر متعدد تہذیبوں کے ماننے والے رہتے ہیں کہ ان تمام تہذیبوں کے ماننے والوں کو اپنے عائلی امور کی انجام دہی کے لئے کسی ایک قانون کا پابند کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لئے ان اسلام دشمن عناصر نے ایوان اقتدار میں پہنچ کر پالیسی سازی اور قانون سازی کے ذریعے مسلمانوں کی شریعت میں مداخلت کرنے اور انہیں اپنے دین ومذہب اور تہذیب و اقدار سے بیگانہ کرنے کا عزم کیا۔ اس کے لئے انہوں نے ہماری ہی چند ضمیر فروش مسلم عورتوں کا استعمال کیا، اور ان کے ذریعے طلاق ثلاثہ کے خلاف سپریم کورٹ میں پیٹیشن داخل کروائی، اور پھر اس کو موضوع بناکر زبردست طریقے سے واویلا برپا کرنا شروع کردیا کہ ہندوستانی مسلم عورتیں طلاق ثلاثہ کے حوالے سے کافی ظلم وزیادتی کا شکار ہیں ، میڈیا نے بھی اس میں اپنا مکروہ کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، چنانچہ اس پیٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ پر چھ ما ہ کے لئے عبوری روک لگادی اور ساتھ ہی حکومت کو یہ حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں کوئی قانون بنائے۔ اورپھر حکومت نے طلاق ثلاثہ کے خلاف جو قانون اور بل بناکر پارلمنٹ میں پیش کیا اس کو پڑھ کر نہ صرف ایک ماہر قانون بلکہ ایک عام آدمی بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ کس قدر احمقانہ بل ہے، اس بل کے نفاذ کی صورت میں عورتوں کے حقوق کا تحفظ تو بہت دور کی بات ہے بلکہ اس کے برعکس یہ بل عورتوں کے تحفظ و حقوق اور ان کی عزت نفس کے بھی منافی ہے۔

یہ بل صرف ڈھائی صفحات پر مشتمل انتہائی مختصر بل ہے جس میں محض سات دفعات درج ہیں ۔

۱۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ بل یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے گا تو وہ طلاق واقع ہی نہیں ہوگی، نہ ایک نہ تین، بلکہ وہ طلاق بے اثر ہوجائے گی، باطل ہوجائے گی۔

۲۔ دوسری بات یہ کہ تین طلاق کا استعمال کرنے والے شخص کو تین سال کی سزا ہوگی۔

۳۔ تیسری بات یہ کہ اس تین سالہ عرصۂ قید وبند میں بھی اس شخص کو اپنی بیوی اور بچوں کے نان و نفقے کا نظم کرنا ہوگا۔
غور کریں کہ یہ لوگ کس قدر احمقانہ بل لائے ہیں کہ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ تین طلاق دینے پر طلاق واقع ہی نہیں ہوگی، اور دوسری طرف یہ کہ رہے ہیں کہ تین طلاق دینے والے شخص کو تین سال کی سزائے قید ہوگی، گویا بل کی رو سے جو جرم واقع ہی نہیں ہوا، اس ناکردہ جرم کی پاداش میں کسی شخص کو جیل بھیجا جائیگا، اور پھر طرفہ تماشا یہ کہ جیل میں پہنچ کر جو شخص خود حکومت کی فراہم کردہ روٹیاں کھا رہا ہوگا وہ کیسے اپنے بیوی بچوں کا نان و نفقہ برداشت کر سکے گا۔ گویا حکومت اس شخص کو جیل نہیں بلکہ کسی اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز کر رہی ہے جہاں سے وہ اپنی پرکشش تنخواہ ہرماہ اپنے گھر بھیجتا رہے گا۔

۴۔ چوتھی بات غور کرنے کی یہ ہے کہ قرآن اور شریعت اسلامیہ تو یہ کہتی ہے کہ تین طلاق دینے پر میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات بالکلیہ ختم ہوجاتے ہیں ، اب اس کے بعد مزید ایک ساتھ زندگی بسر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس کے بعد بھی اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ زنا اور حرام کاری کا ارتکاب کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بل طلاق ثلاثہ کے بعد قانونی طور پر ایک اجنبی مرد وعورت کو زنا اور حرام کاری پر مجبور کرے گا۔

۵۔ پانچویں بات یہ کہ یہ بل تین طلاق کو غیرضمانتی جرم قرار دیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پولس نے کسی شخص کو طلاق ثلاثہ کے جرم میں پکڑ لیا تو پھر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولس بھی اس شخص کو ضمانت نہیں دے سکتی بلکہ اب شخص کو لامحالہ عدالت میں پیش ہوکر مجسٹریٹ ہی سے ضمانت لینی ہوگی۔

۶۔ چھٹی بات یہ کہ یہ بل تین طلاق کو (Cognizable Offence)انتہائی حساس و سنجیدہ جرم قرار دیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جرم کے واقع ہونے پر، بلکہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ جرم واقع ہی ہوا ہو، کوئی بھی شخص کسی بھی شخص کے خلاف اگر پولس کے پاس جاکر یہ کہدے کہ فلاں شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہے، تو پولس کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ فوراً اس شخص کو گرفتار کرکے جیل پہنچادے، بیوی ہی کا FIR درج کرانا ضروری نہیں ہے، پولس اپنے طور پر بھی ایف آئی آر درج کرسکتی ہے، اور کوئی غیر متعلق شخص بھی شکایت کرکے ایف آئی آر درج کراسکتا ہے۔

۷۔ ساتویں بات یہ کہ ہمارے اس مہان اور وشال دیش بھارت میں ۲۲ لاکھ غیر مسلم خواتین ایسی ہیں جن کے شوہروں نے نہ تو انہیں طلاق دی ہے اور نہ ہی وہ انہیں اپنے ساتھ رکھتے ہیں ، چونکہ ان کے ہاں طلاق کا کوئی سسٹم نہیں ہے اس لئے وہ انہیں ایسے ہی معلق چھوڑدیتے ہیں ، یا انہیں جان سے مار ڈالتے ہیں یا جلا ڈالتے ہیں ۔ اب اگر یہ بل نافذ ہوجاتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ ایک مسلمان شخص بھی جس کی ازدواجی زندگی خوشگوار نہ گذر رہی ہو اور وہ چاہے کہ بیوی کو صحیح اسلامی طریقے پر طلاق دے کر آزاد کردے تاکہ وہ بھی عدت کے بعد کسی بہتر رفیق کے ساتھ نکاح کرکے خوشگوار زادگی گذارے اور شوہر بھی راحت کی سانس لے۔ لیکن اس بل کے نفاذ کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ جیل اور جرمانے سے بچنے کے لئے مسلمان مرد بھی اپنی عورتوں کو یوں ہی معلق چھوڑ دیا کریں ۔

۸۔ آٹھویں بات یہ کہ بہت ممکن ہے کہ ہمارے ملک میں رائج اور دستور میں موجود جہیز وہونڈے اور گھریلو تشدد (Dowry and Domestic Violence) کے قانون کے استحصال اور غلط استعمال ہی کی طرح اس بل کابھی ناجائز فائدہ اٹھاکر بہت سارے عاقبت نا اندیش لوگ غلط ایف آئی آر درج کراکر مرد اور اس کے اہل خانہ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچادیں۔

یہ چند باتیں میں نے اپنی ناقص فہم کے مطابق حکومت کے پیش کردہ طلاق ثلاثہ بل کے پس منظر اور اس کی قانونی حیثیت کے متعلق تحریر کی ہے اوریہ وہ ساری باتیں ہیں جس کو حکومت کررہی ہے یا کرنا چاہتی ہے، لیکن اسوقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے ؟ الحمد للہ! اس وقت روئے زمین پر تنہا ملت اسلامیہ وہ قوم ہے جس کے پاس اس کائنات کے خالق و مالک رب دوجہاں کی طرف سے نازل کردہ دستورِحیات، منشورِحیات اور ابدی قانون کتابِ مقدس قرآن مجید، اور قرآنِ ناطق ﷺ کی عملی زندگی کی شکل میں پوری طرح محفوظ ہے، اور اس دستور کے بنانے والے خالق ومالک نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۹ میں صاف لفظوں میں کہدیا ہے کہ إن الدین عنداللہ الاسلام کہ یقیناً دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ اور اسی سورہ آل عمران میں اللہ تعالے فرماتے ہیں ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ وہو فی الآخرۃ من الخاسرین اور جو کوئی اسلام کے سواء کسی اور دین کو تلاش کریگا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا اور وہ شخص آخرت میں تباہ کاروں میں ہوگا۔ نیز سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ میں اللہ تعالے فرماتے ہیں کہ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فأولئک ہم الکافرون کہ اور جوکوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو یہی لوگ تو کافر ہے۔

تقدیر کے پابند نباتات وجمادات، مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند

قرآن مقدس کی ان آیات مبارکہ سے صاف واضح ہوتا ہے کہ مسلمان اللہ کے قانون کے علاوہ کسی اور قانون کو قبول کر ہی نہیں سکتا، خدانخواستہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ ایک کامل مومن ہو نہیں سکتا، میں یہاں عہد نبوی کا ایک واقعہ درج کرتا ہوں جس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ دین اسلام میں خدا اور اس کے رسول کی بنائی ہوئی شریعت اور اس کے قوانین پر عمل کرنا ایک مسلمان کے لئے کتنا اہم ہے، عہد نبوی میں ایک منافق اور یہودی کے درمیان زمین کے ٹکڑے کو لے کر جھگڑا ہوا، منافق کہتا تھا کہ یہ زمین میری ہے اور یہودی کہتا ہے کہ اس زمین کا مالک میں ہوں ، اختلاف جب بہت بڑھ گیا تو یہودی کہتا ہے کہ ہم اس معاملے کو آپ کے نبی کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ، وہ جو بھی فیصلہ کرینگے ہم قبول کرلیتے ہیں ، چنانچہ دونوں ہی دربار نبوی میں پہنچ کر اپنا قضیہ پیش کرتے ہیں ، اللہ کے رسول ﷺ شواہد وثبوتوں کی بناء پر فیصلہ یہودی کے حق میں فرمادیتے ہیں ، لیکن منافق جب باہر نکلا تو کہنے لگا کہ مجھے یہ فیصلہ منظور نہیں ، ہم اس مسئلے کو عمر فاروق کے پاس لے چلتے ہیں ، وہ جوبھی فیصلہ کرینگے مجھے بھی منظور ہوگا، چنانچہ دونوں حضرت عمر کے پاس آتے ہیں ، اور اپنا مسئلہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ، ساتھ ہی یہودی یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ ہم اس معاملے کو آپ کے نبی کے پاس بھی لے کر گئے تھے، اور انہوں نے اس کا فیصلہ میرے حق میں کیا ہے، حضرت عمر کو یہ بات جان کر سخت حیرت ہوئی کہ وہ شخص جو ایمان کامدعی ہے وہ کیونکر اللہ کے رسول کو فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہا ہے، آپ نے اسی وقت اس منافق کا کام تمام کردیا، مدینہ میں ایک کہرام بپا ہوگیا کہ عمر نے ایک مسلمان کو قتل کردیا، یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچا، مقتول کے وارثین خون بہاں کا مطالبہ کرنے لگے، اسی دوران اللہ تعالی نے آیات نازل فرمائی جس میں کہا گیا کہ جو اللہ کے نازل کردہ قوانین پر راضی نہیں ہوگا وہ مسلمان ہو نہیں سکتا۔

اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان کے لئے شریعت اسلامیہ کے قوانین پر عمل کرنا کس قدر اہم اور ضروری ہے، شریعت کے قوانین کو چھوڑ کر مسلمان کا غیروں کے قوانین کو تسلیم کرنا اپنے ایمان سے دست برداری کے مترادف ہے۔ اگر حکومت طلاق ثلاثہ کا یہ بل نافذ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو لا محالہ مسلمانانِ بھارت کو طلاق کے سلسلے میں شریعت مطہرہ کے عطا کردہ قانون کے بجائے حکومت کے اس احمقانہ وجاہلانہ قانون کو تسلیم کرنا پڑیگا۔ ابھی یہ بل راجیہ سبھا میں معلق ہے، وہاں سے پاس ہوجانا نا ممکن نہیں ہے، اس لئے مسلمانان بھارت کے متحدہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور اس کے ذمہ داروں نے مسلمانوں کو یہ آواز دی ہے کہ اب وقت نہیں ہے کہ ہم خاموش تماشائی بنے رہیں ، بلکہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی معزز ومحترم ماؤں اور بہنوں کے ذریعے حکومت کو یہ بتلادیں کہ ہم شریعت اسلامیہ میں پوری طرح محفوظ ہیں ، ہمیں شریعت اسلامیہ کے قوانین نہ صرف منظور ہے بلکہ دل وجان سے زیادہ محبوب ہے، آپ ہماری ہمدردی کا جھوٹا دم نہ بھرے، اور اس مگر مچھ کے آنسو اور جھوٹی ہمدردی کے بہانے ہماری شریعت میں مداخلت نہ کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مولانا سید آصف ندوی

امام و خطیب مسجد قدسیہ ناندیڑ ، صدر جمعیت علماء، شہر ناندیڑ.

متعلقہ

Back to top button
Close