ملی مسائل

طلاق ثلاثہ: حکومت کا رویہ اور ہم

ہلال احمد

طلاق ثلاثہ جیسے عائلی اور خاندانی مسئلہ کو قومی سطح پر جس طرح بدنام کیاگیا انتہائی قابل افسوسناک بات ہے، قرآن واحادیث میں واضح دلائل موجود ہونے کے باوجود محض فقہی رموز کے سبب ایسا ہوا حالانکہ افہام وتفہیم اور صحیح دلائل کی روشنی میں نہ سہی لیکن وقت اورمصلحت کے تقاضے کے مطابق ہی اگر قرآن کی بات کو مان لیاجاتاتوشایداتنی ہزیمت نہ ہوتی۔ مسلم پرسنل لاء بورڈکے اراکین میں اکثریت علماء کرام اورمفتیان عظام کی ہے جنہیں بخوبی اندازہ ہے کہ فقہی اختلاف کے باوجودکبھی کبھی دوسروں کی بات ماننی پڑتی ہے لیکن فقہی جمودکی تہیں اس درجہ دبیزہوچکی ہیں کہ کتاب وسنت کی بات اضطراراً بھی ناقابل قبول ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے تعزیری فیصلہ کوبطور دلیل پیش کیاجارہاہے جبکہ اس سے قبل اللہ کے رسول ﷺ اور بعد کے ادوار میں صحابہ کرام نے ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق کوایک مانتے تھے اوریہی برحق بھی ہے لیکن مسلکی سایہ دراز ہوتاجارہاہے اورلوگوں کی دلوں میں فقہی گتھی کی مفسدات کو بھراجارہاہے۔قرآن وحدیث کے نصوص کے مقابل ائمہ کے اقوال کو ترجیح دیناحالانکہ وہ بھی انسان تھے جن سے نسیان یاخطا کاامکان صدفیصدہے اور ان کااپنا قول بھی ہے کہ اگرمیری بات کتاب وسنت سے ٹکرائے تو رد کردیاجائے تاہم تقلید کاقلادہ ہے کہ مضبوط تر ہوتاجارہاہے۔

 ماقبل طلاقنکاح ایک پاکیزہ رشتہ ہے جو زوجین کوایک لڑی میں پروکر خودرفتگی اور جذباتی محبت پیداکردیتا ہے۔ زوجین کے اس پاکیزہ رشتہ کو تمام مذاہب میں عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے، یہ ایک فطری رشتہ ہے جس سے توالد وتناسل اور ربطِ باہم کاسلسلہ دراز ہوتاہے۔ اسلام نے زوجین کے درمیان شرعی مہراورباہم رضامندی کو پیش نظر رکھتے ہوئے نکاح میں خاتون کی جانب سے سرپرست یعنی ولی کاہوناضروری قرارپایا جو نکاح کے متبرک رشتہ کے گواہ ہوں۔ خوشگوا رزندگی کے لیے ہر کوئی کوشاں رہتا ہے لیکن زندگی ہے کبھی بدمزاجی بھی پیش آسکتی ہے جس میں کئی مراحل ہوتے ہیں، خاوندوبیوی میں کسی سے بھی اس کے صدور کاامکان ہے۔ تاہم اس مرحلے میں دونوں کو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔آدمی جس سماج ومعاشرہ میں بودباش رکھتا ہے وہاں کے لوگوں کے مزاج کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بالکل اسی طرح شوہروبیوی کو ایک دوسرے کے نفسیات کاخاص خیال رکھناچاہیے تاکہ محبت وقربت میں اضافہ ہو۔ بعض دفعہ نفسیات کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے ان بن ہوجاتی ہے اور لڑائی طول پکڑتے ہوئے طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔اسلام آسانی کا مذہب ہے جس نے طلاق کی مذمت کی ہے لہٰذاکوئی کام اگر شرعی نقطہ ٔ نظر سے کیا جائے توغیرکی شمولیت کے دروازے نہیں کھلیں گے۔

  طلاق میں شرعی اعتبارسے کئی مدارج ہیں جس میں پہلے زوجین باہم افہام وتفہیم سے کام لیں، اگر کامیابی نہیں ملتی تو بستر الگ کردیں، وقت ضرورت مارنے کابھی حکم ہے، طرفین سے حکم مقررکیے جائیں گے جو صلح واصلاح کی کوشش کرنے والے ہوں، اگر بات نہیں بنتی تب اس کے بعد طلاق دیا جائے وہ بھی حالت طہر میں۔ اب عورت اپنے شوہر کے گھرمیں عد ت گزارے گی تاکہ شوہر کو اپنی بیوی کی کسی ادا کے پسندآجانے  یا غلطی کے بعد انابت کی بناپر رجوع کرنے کابھرپور موقع ہو،لیکن اگر اسی طرح تینوں طہر بغیر بوس ولمس کے گزرجاتے ہیں توایک طلاق واقع ہوگئی۔ تاہم نکاح ثانی کی گنجائش ابھی باقی ہے۔اگر نکاح ثانی ہوگئی اورخدانخواستہ دوبارہ طلاق کی نوبت آگئی تو پھر مذکورہ مدارج طے کرنے ہوں گے، اسی طرح نکاح ثانی اورپھرطلاق ہونے کے بعد نکاح ثالث کاامکان ہے۔ اب تجدیدنکاح کے بعد سہ بارہ طلاق کی نوبت آتی ہے تو تمام مدارج من وعن گزاریں گے اور اگر تمام مراحل گزرگیے تو پھرنکاح کاامکان باقی نہیں رہ جاتاہے۔ اور یہ طلاق بائن کہلاتی ہے، یہی اصل طلاق ثلاثہ اورشرعی طلاق ہے جس کاقرآن وحدیث میں تذکرہ ہے۔یہ مراحل انسان کی زندگی میں کبھی پیش نہیں ہوسکتے کہ طلاق اتنی بار دی جائے۔ ہاں اگر ایسا ہوجائے تو پھرتین طلاق کے بعد تجدیدنکاح نہیں کرسکتے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے عورت کسی مرد سے غیرمشروط نکاح کرے اوراس کاخاوندفوت ہوجائے یا کسی وجہ سے طلاق دیدے، اب دوبارہ یہ عورت اپنے پہلے خاوندسے نکاح کرسکتی ہے۔ لیکن بعض فقہی مسلکوں میں ایک مجلس کی تین طلاق کو تین مان کر عورت پر ظلم وجبر کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ شوہروبیوی کو اپنی اعتراف جرم کا موقع ہی نہیں ملتا اور پھر حلالہ جیسی حرام وقبیح فعل کے چوردروازے کھولے جاتے ہیں۔

  کہاجاتا ہے مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک خاص مسلک کا ترجمان بن چکا ہے تاہم اسے حالات وظروف کو خیال کرتے ہوئے ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ماننی چاہیے لیکن وہ بھی اپنی بات پر قائم ہے،اسی ہٹ دھرمی اورضد کی وجہ سے کہیں ناکہیں فسطائی طاقتوں کو شرعی قانون میں مداخلت کا موقع مل گیاجس میں نام نہادمسلم خواتین نے حکومت کے تال میں تال اس طرح ملائی کی مسلمانوں کی آواز نقارے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی،اوراصلاح کی کوئی بھی شکل کامیاب نہیں ہوسکی،طلاق کامسئلہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیامیں زیر بحث ہے لیکن ہندوستان میں جس طرح کامنظر فقہی موشگافی اورحکومت کے معاندانہ جذبات کی وجہ سے سامنے آیاشایدایسا کہیں نا ہواہو۔ حکومت نے طلاق ثلاثہ کوقابل تعزیرجرم قراردیتے ہوئے پارلیمنٹ میں قانونی بل پاس بھی کرواچکی ہے۔لیکن راجیہ سبھامیں ناکامی کے بعدآرڈیننس کے ذریعہ اس بل کوپاس کراناچاہتی ہے اگربل پاس ہوا توطلاق ثلاثہ جرم کی فہرست میں شامل ہوجائے گا اور اس کے مرتکب کوتین سال جیل کی سزادی جائے گی۔اس صورت میں عورت کوبھی مشکلات کا سامناکرناپڑسکتاہے کیونکہ جیل میں سزاکاٹنے کے بعدشوہر دوبارہ اس دیکھناگوارہ نہیں کرے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ  کوئی شخص اس مطلقہ عورت سے شادی کے لیے سوچ بھی نہیں سکتاہے، جوبہرحال عورت پر ظلم کی شکل میں سامنے آنے کاخدشہ ہے،اس پر ہم آپ کو غورکرنے کی ضرورت ہے۔

  حکومت کا رویہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پورے ملک میں افراتفری کاعالم ہے لیکن وہ خود اپنی راگ میں مگن ہے، اگر مسلمانوں کے تئیں محبت ظاہرکرناہے تواس کے اور بھی مواقع ہیں انہیں خاطر خواہ ریزرویشن دیاجائے، ملک میں عدم تحمل اور مسلمانوں میں موجود خوف وہراس پر کنٹرول کیاجائے، امن وامان کی ضمانت دی جائے، سرکاری محکموں میں حسب لیاقت مناسب جگہ دی جائے، خواتین کی حفاظت اوران کے حقوق کے سلسلے میں قانون وضع کیے جائیں۔ کیاصرف تین طلاق کے مسئلہ کوحل کردینے سے تمام مسائل کا تصفیہ ہوجائے گا،کیادوسرے مسائل کی جانب سے نظر پھیرلینے سے عورتوں کے حقوق میسرہوجائیں گے؟ تین طلاق کا مسئلہ کوئی بہت بڑا ایشونہیں جس کے حل کے لیے پوری مشنری ایک ہوگئی ہے کیونکہ اس کی شرح بہت کم ہے۔طلاق ایک مذہبی مسئلہ ہے اسے اہل مذہب کے سپردکردیناچاہیے،کیونکہ مسلم علماء ودانشوران کے شمولیت کے بغیر لائے گئے تین طلاق کے حکم امتناعی پر تشفی نہیں ہوسکتی ہے،اس سے کہیں ناکہیں مذہبی معاملات میں دخل اندازی کے دروازے کھلنے کے امکانات پیداہوجاتے ہیں۔ دوسری بات مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بھی تمام مسالک کاخیال کرناچاہیے، اگر اسے شرعی قوانین کے تحفظ کے لیے لڑائی لڑنی ہے تو بین المسالک مکالمے کرنے ہوں گے اور پھر کتاب وسنت کے مطابق جوبات راجح ہو اس کو عوام کے سامنے لانے ہوں گے، بورڈ اپنی نمائندگی درج کرواسکتا ہے لیکن اس صورت میں جب وہ اپنے اوپر لگے خاص مسلک کے مہر کودورکرنے کی کوشش کرے۔ تمام مسالک کے علماء ودانشوران کے اشتراک سے کسی معاملہ کو رفع دفع کرے۔

اتحاد اتحاد چیخنے کے بجائے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ہم پاش پاش رہیں گے ہماری کوئی حکمت عملی کارگرنہیں ہوسکتی،لہٰذا ہمیں سرجوڑ کراس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے،اورمسلم معاشرے میں طلاق کی خباثت وشناعت کو واضح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس پر اپنی جانب سے قدغن لگایاجاسکے۔ اللہ ہمارے حالات کو بہتربنائے اور ملک کو امن امان کاگہوارہ بنائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ہلال احمد

ایڈیٹرماہنامہ الاتحادممبئی

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close