ملی مسائل

طلاق: خوشگوار ماحول میں انجام دیا جانے والا عمل ہے

طلاق غصے میں انجام دیاجانے والا عمل ہرگز نہیں ہے بلکہ انتہائی نگہداشت اور ہوش وخرد کے ساتھ انجام دیا جانے والا عمل ہے۔ 

ابو فہد

’’ یاد رہے کہ طلاق، جذباتیت، نفرت یا غصے میں انجام دیا جانے والا عمل نہیں ہے بلکہ ہوش وخرد اور حسن تدبیر کے ساتھ انجام دیا جانے والا عمل ہے۔‘‘

جب میں حلالے کے تعلق سے اپنے مضمون کی درج بالا آخری لائن لکھ رہا تھا تو مجھے ایک صاحب کا عجیب وغریب استدلال یاد آیا۔ یہ شاید کوئی پروگرام تھا اور بحث کا موضوع یہ تھا کہ غصے میں دی گئی طلاق معتبر ہوگی یا نہیں۔ اُس وقت ایک صاحب نے یہ عجیب وغریب استدلال کیا تھا کہ طلاق تو غصے میں ہی دی جاتی ہے، خوشی سے طلاق کون دیتاہے۔ یہ الگ موضوع ہے کہ غصے میں دی جانے والی طلاق مؤثر ہے یا نہیں۔ مگر ان کا یا کسی کا بھی یہ ماننا یا کہنا غلط ہے کہ طلاق تو غصے میں ہی دی جاتی ہے، خوشی سے کون طلاق دیتا ہے۔ الا یہ کہ وہ معاشرتی پہلو رکھ رہا ہے کہ معاشرے میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگ غصے میں ہی طلاق دیتے ہیں۔

یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرےمیں زیادہ تر لوگ طلاق کو ایک ایسا منفی عمل سمجھتے ہیں جو اچانک اور نفرت کے ساتھ ہی انجام دیاجاسکتا ہے۔ گویا طلاق کا عمل کسی نظم وضبط کا پابند نہیں۔ بس کن کہہ دیا اور ہوگیا۔ جبکہ قرآن واحادیث کی وضاحتوں سے پتہ چلتا ہے کہ طلاق کا عمل انتہائی نگہداشت والا اورنظم وضبط کا پابند عمل ہے۔ ذرا طلاقِ سنت کے اس پورے سسٹم کو غور سے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ اس سسٹم میں طلاق دینے والے کے سامنے کتنی احتیاطیں ،شرطیں اور اخلاقی حد بندیاں رکھی گئی ہیں۔ طلاق دینے سے قبل طلاق دینے والے کو یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی بیوی پاکی کی حالت میں ہے اور یہ بھی کہ وہ امید سے بھی نہیں ہے۔ اوریہ بھی کہ اس نے پاکی کے وقفے میں اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کیا ہے۔ایک طلاق رجعی دینے کے بعد وہ اب بھی اس کی بیوی ہی ہے کیونکہ طلاق ابھی تک غیر مؤثر ہے عدت گزرنے پر طلاق مؤثر ہوگی، لہذا اس کی بیوی عدت کی پوری مدت میں اسی کے گھر رہے گی اور اسے ماقبل ہی کی طرح اس کے تمام اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔ نیزمرد کے لیے یہ اخلاقی اصول بھی رکھ دیا کہ اس نے جوکچھ بھی اسے دیا ہے وہ واپس نہ لے۔بلکہ الٹا مزید کچھ دے دلا کر رخصت کرے۔

اب بتائیں کہ کیا غصے کی حالت میں کیا جانے والا کوئی بھی عمل چاہے وہ طلاق ہی کیوں نہ ہو ایسی احتیاطوں، شرطوں اور اخلاقی اصولوں کا پابند ہوسکتا ہے۔؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ غصہ آدمی کو اتنی فرصت نہیں دیتا۔اور جب شریعت نے طلاق کے لیے اتنی ساری احتیاطیں، شرطیں اور اخلاقی اصول رکھے ہیں تویہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ طلاق غصے میں انجام دیاجانے والا عمل ہرگز نہیں ہے بلکہ انتہائی نگہداشت اور ہوش وخرد کے ساتھ انجام دیا جانے والا عمل ہے۔

جب قرآن نے کہہ دیا :

1- فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا (بقرۃ: 229)

2- أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ ۚ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ ۖ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَىٰ ﴿الطلاق:٦﴾

تو اس کے بعد جذباتیت، جنون، غصہ ، نفرت اور انفعالیت کی بھلا کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔

مگر ہم لوگوں نے طلاق کو سرتاسر ایک منفی عمل بنا لیا ہے، ہم نے اسے سماجی ضرورت نہیں سمجھا۔ہم نے طلاق کو اپنے لیے ایک سہولت نہ سمجھ کر عورت کے خلاف ایک ہتھیار بنالیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close