ملی مسائل

طلاق زحمت نہیں رحمت ہے! (قسط دوم)

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

  قرآن کی بتائی ہوئی مذکورہ تمام تدابیر بھی ناکام ہوجائیں اور باہمی مصالحت کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو اب مر د کو یہ اختیار ہے کہ وہ حق طلاق کا استعمال کرے جس کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس طہر کی حالت (یعنی دو حیض کے درمیان کی مدت) میں جس میں مجامعت (صحبت) کی نوبت نہ آئی ہو صرف ایک طلاق دے۔اس صورت میں شریعت نے یہ آسانی رکھی ہے کہ لفظ طلاق کے منہ سے نکلتے ہی نکاح کالعدم نہیں ہوتابلکہ عدت کی مدت تک جو اگلے تین حیض (periods) آنے تک ہے عورت ا سی مرد کے نکاح میں رہتی ہے اور اس مدت میں دونوں جب چاہیں مصالحت کرسکتے ہیں اور مرد شرعی قائدے کے مطابق رجوع کرسکتا ہے، انہیں پھر سے نکاح کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔اسی لئے عورت کو طلاق کی عدت اسی گھر میں گزارنے کا حکم ہے کہ ممکن ہے غصہ فرو ہونے پر باہمی مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے اور اس مدت میں عورت کی تمام تر ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری بھی اسی شوہر کی ہے۔

تاہم اس مدت میں اگرباہمی مصالحت کی کوئی صورت نہ بنی اور مرد نے رجوع نہ کیا تو دونوں کا نکاح ٹوٹ جائے گا اور وہی ایک طلاق میاں بیوی کے رشتہ کو ختم کرنے کے لئے کافی ہوگا، دوسری تیسری طلاق دینے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ۔ لیکن اس کے بعد بھی شریعت نے دونوں کے ملنے کی گنجائش باقی رکھی کہ اگر دونوں چاہیں تو از سر نو نکاح کرکے رشتہ ازدواج میں بندھ سکتے ہیں ۔پھر اگر کبھی دونوں کے درمیان اختلاف ہو تو اسی مذکورہ بالا طریقہ کو اپنائے اور اگرمعاملہ پھر طلاق تک پہنچ جائے توایک ہی طلاق دے (جوگنتی اور ترتیب کے اعتبار سے دوسری طلاق ہوگی)۔اس صورت میں بھی عدت کے اندر بغیر نکاح کے اور عدت پوری ہونے کے بعد از سر نو نکاح کے ساتھ رجوع کا اختیار رہے گا لیکن اس کے بعد اگر تیسری طلاق دی تو اب دونوں کے ملنے کی کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ جوسورۃ البقرہ کی آیت نمبر 230  میں مذکور ہے کہ وہ عورت کسی اور مرد سے نکاح کرلے اور وہ مرد یا تو انتقال کرجائے یا پھر اپنی مرضی سے اسی مذکورہ بالا قرآنی طریقہ کے مطابق طلاق دیدے تو اب یہ دونوں نکاح کے ذریعہ پھر سے رشتہ ازدواج میں بندھ سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ دونوں کو یقین ہو آگے اللہ کی حدوں کو (جو میاں بیوی کے آپسی حقوق کی شکل میں ایک دوسرے پر عائد ہیں ) قائم رکھ سکیں گے۔

اس حکم کی جو ایک نفسیاتی سزا کی شکل میں ہے،کیا حکمتیں ہیں اس پر راقم آگے گفتگو کرے گا لیکن طلاق کے مذکورہ تمام احکامات پر غور کرنے پر کیا یہ نتیجہ اخذ کرنا دشوار ہے کہ طلاق کم از کم دو کی حد تک اصلاحی تدابیر کا ہی حصہ ہے اور شریعت کی منشا یہی معلوم ہوتی ہے کہ اسے اخیر درجہ میں بطور اصلاح ہی استعمال کرنا چاہیے؟نیز یہ سمجھنا بھی دشوار نہیں کہ شریعت میں اخیر درجہ تک اس کا خیال رکھا گیا ہے کہ رشتہ ازدواج ٹوٹنے نہ پائے۔ حیض کی حالت میں اور اس طہر میں جس میں مجامعت کی ہو طلاق دینے سے منع کرنے کے پیچھے بھی جہاں ایک طرف یہ حکمت ہے کہ ان صورتوں میں عدت کی مدت کے طویل ہوجانے کا خدشہ رہتا ہے جس کی تکلیف سے عورت کو بچانا مقصود ہے وہیں اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ ممکن ہے طلاق دینے کی مطلوبہ مدت کے انتظار میں غصہ فرو جائے اور طلاق کی نوبت ہی نہ آئے۔

 قرآن کی مذکورہ ہدایات کو نظر انداز کر کے (یعنی بلا اس بات کا خیال رکھے کہ عورت حیض کی حالت میں یا طہر کی حالت میں یا پھر حمل سے ہے) اگر کوئی شخص اول وہلہ میں اور ایک ہی مجلس میں طلاق کے سلسلہ میں حاصل شدہ اختیارات کا کلی استعمال کر ڈالے یعنی تین یا اس سے زائد طلاقیں دے ڈالے اور اس کے نتیجہ میں خود ہی نہیں بلکہ دو خاندانوں کو پریشانی اور مصیبت میں ڈالے تو کیا اس کے لئے شریعت ذمہ دار ہے یا خود وہ شخص۔ایک تو ہم دین کا علم حاصل نہیں کرتے اور جہاں علم ہوتا بھی ہے وہاں اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کی اطاعت کے بجائے نفس کی اطاعت کو ہی ترجیح دیتے ہیں ،پھر راہ ہدایت کو چھوڑنے کی وجہ سے جب مشکلات میں گھرتے ہیں تو بجائے توبہ کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کے شریعت میں ہی خامیاں نکالتے ہیں اور اس میں اصلاح اور رد و بدل کی کوششیں کرتے ہیں ۔اور بعض نادانتو علماء کو ہی کوستے ہیں ، ایسا لگتا ہے جیسے یہ شریعت اسلامیہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نہیں بلکہ علماء کی دی ہوئی ہو جبکہ علماء حق تو فقط اس کی تشریح اور ترجمانی کرتے ہیں ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  میں بھی جو لوگ صاحب علم و صاحب فتویٰ تھے انہوں نے بھی یہی کیا۔اس طرح کا ایک معاملہ جب عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس پہنچا تو دیکھئے انہوں نے کیا کہا؟ ان کے پاس آکر ایک شخص نے کہا کہ ”اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں ۔راوی کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ خاموش ہوگئے، ہم نے یہ گمان کیا کہ اس کی بیوی کو اس کی طرف واپس کر دیں گے۔پھر فرمانے لگے تم میں سے کوئی شخص ایک بیوقوفی والا کام کرتا ہے، پھر کہتا ہے اے ابن عباس! اے ابن عباس! اللہ رب العزت فرماتے ہیں :(وَمَن یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَل لَّہُ مَخْرَجاً) (سورۃ الطلاق:2) ”جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے“۔

آپ اللہ سے ڈرے نہیں ، میں آپ کے لئے (اس مشکل سے) نکالنے کی راہ نہیں پاتا، آپ نے اللہ کی نافرمانی کی ہے اور آپ کی بیوی آپ سے جدا ہوگئی“۔(سنن الکبریٰ بیہقی،کتاب الخلع و الطلاق،باب الاختیار للزّوج ان لا یطلّق الا واحدۃ، بروایت مجاہدؒ۔نیز دیکھیں سنن ابو داؤد، کتاب تفریع أبواب الطلاق، نسخ المراجعۃ بعد التّطلیقات الثلاث)۔ عبد اللہ بن عباسؓ کا پیغام بالکل واضح ہے کہ دین میں آسانیاں اس کے لئے ہیں جو اللہ رب العزت کے احکام کا پاس و لحاظ رکھے لیکن جو خود ہی ان کی خلاف ورزی کرکے اپنے لئے مشکلات پیدا کرلے اس کے لئے آسانی کی راہ کون نکالے؟ محدثین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور اس سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین واقع ہوجانے کا فتویٰ دینے والوں کی تائید ہوتی ہے جس میں حنفی، شافعی، مالکی، اور حنبلی چاروں ہی فقہی مسالک کے علماء شامل ہیں لیکن غیر مقلد علماء کرام اور فقہ جعفریہ کے علماء نے ان سے اختلاف کیا ہے۔غیر مقلد علماء ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار کرنے کے قائل ہیں اور ان کی دلیل عبداللہ بن عباسؓ کی ہی ایک دوسری روایت ہے اور فقہ جعفریہ کے مطابق ایک مجلس کی تین طلاقیں سرے سے واقع ہی نہیں ہوتیں ۔ یہاں راقم کا مقصد اس فقہی بحث میں پڑنا اور اس مسئلہ کا تصفیہ کرنا نہیں ہے بلکہ صرف اس بات پر زور دینا ہے کہ انسان اگر طلاق کے کتاب و سنت کے بتائے ہوئے طریقہ کو اپنائے تو نہ تو وہ پریشانی اور ذلت میں مبتلا ہوگا اور نہ ہی وہ کسی فقہ کے فتوے کی زد میں آئے گا۔حقیقت میں یہ پورا معاملہ ہی شریعت سے لاعلمی اور انحراف کا ہے۔

اب اس بات کی حکمت بھی سمجھئے کہ اللہ پاک نے طلاق رجعی کی حد دو تک ہی کیوں مقر کردی؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا عام معمول یہ تھا کہ عورت کو طلاق دے دیا کرتے تھے اور عدت کے اندر رجوع کرلیتے اور پھر طلاق دیدیتے پھر رجوع کرلیتے،ا سی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا اور رجوع کر لینے سے وہ عورت اسی شخص کی بیوی سمجھی جاتی خواہ کتنی ہی مرتبہ طلاق دیجائے اور کتنی مرتبہ رجوع کیا جائے۔ اسی طرح عورت کو پریشان کرتے تھے، نہ تو اس کو عزت سے رکھتے اور نہ ہی اسے یہ ہی موقع دیتے کہ وہ کسی اور سے نکاح کرکے عزت کی زندگی گزارے۔ اسلام آیا تو اس نے عورتوں کی عزت کے ساتھ ہونے والے اس کھلواڑ کو بند کیا اور یہ حد قائم کی اس طرح کی (یعنی رجعی) طلاق صرف دو مرتبہ ہی دی جاسکتی ہے۔ تیسری طلاق دینے کے بعد رجوع کرنے کا کوئی حق حاصل نہ ہوگا بجز اس مخصوص صورت کے جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔ اس لئے تیسری طلاق دینے سے پہلے خوب غور و فکر کرلو کیوں کہ وہ عورت اب تمہاری زندگی سے نکلنے والی ہے جس کا لوٹانا تمہارے لئے آسان نہیں ہوگا۔

اسی تحدید کے سلسلہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔(الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَیْتُمُوہُنَّ شَیْئاً إِلاَّ أَن یَخَافَا أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُودَ اللّہِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُودَ اللّہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہِ تِلْکَ حُدُودُ اللّہِ فَلاَ تَعْتَدُوھَا وَمَن یَتَعَدَّ حُدُودَ اللّہِ فَأُوْلَ ءِکَ ھُمُ الظَّالِمُونَ ٭ فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَن یَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن یُقِیْمَا حُدُودَ اللّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ)۔ ترجمہ: ”یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ اور تمہیں حلال نہیں کہ تم نے انہیں جو دے دیا ہے اُس میں سے کچھ بھی لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو، اس لئے اگر تمہیں ڈر ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لئے کچھ دے ڈالے، اس میں دونوں پر گناہ نہیں ، یہ اللہ کی حدود ہیں خبردار ان سے آگے نہ بڑھنا اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز کر جائیں وہ ظالم ہیں ۔ پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کرلینے میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے، یہ اللہ کی حدود ہیں جنہیں وہ جاننے والوں کے لئے بیان فرما رہا ہے“۔ (البقرہ:  229-230)۔

علامہ ابن کثیرؒ ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ”اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ خاوند جتنی چاہے طلاقیں دیتا چلا جائے اور عدت میں رجوع کرتا جائے۔اس سے عورت کی جان شکنجے میں تھی کہ طلاق دی اور عدت گزرنے کے قریب آئی رجوع کرلیاپھر طلاق دیدی،اسی طرح عورتوں کو تنگ کرتے رہتے تھے،پس اسلام نے حد بندی کردی کہ اس طرح کی طلاقیں صرف دو ہی دے سکتے ہیں، تیسری طلاق کے بعد لوٹانے کا کوئی حق نہیں رہے گا“۔(تفسیر ابن کثیرا ردو ترجمہ ا ز مولانا محمد جوناگڈھی، مطبوعہ مکتب اسلامیہ، لاہور، 2009ء ، جلد 1، صفحہ 378-379)۔ اس تفسیر کی تائید حضرت عائشہ ؓ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جسے ترمذی نے اس طرح نقل کیا ہے: ”روایت ہے عائشہؓ سے،کہا انہوں نے کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں ایسے تھے کہ ایک شخص اپنی بیوی کو جتنی بار چاہتا طلاقیں دیتا اور پھر عدت کے دوران رجوع کرلیتاتووہ اس کی بیوی رہتی،اگرچہ اس نے سو بار یا اس سے زیادہ مرتبہ طلاقیں ہی کیوں نہ دی ہوتیں یہاں تک ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں کبھی طلاق نہ دوں گاتاکہ تو مجھ سے جدا نہ ہوجائے لیکن اس کے باجود تم سے کبھی نہیں ملوں گا، اس نے پوچھا وہ کیسے؟اس نے کہا وہ اس طرح کہ میں تجھے طلاق دے دوں گااور پھر جب تمہاری عدت پوری ہونے والی ہوگی تو میں رجوع کرلوں گا،وہ عورت حضرت عائشہؓ کے پاس آئی اور انہیں بتایا تو وہ خاموش رہیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور انہیں یہ واقعہ سنایا گیالیکن نبی کریم ﷺ بھی خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن کی آیت (الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَان) (البقرہ:229) نازل ہوئی یعنی”طلاق دو مرتبہ ہے اور بعد اس کے رکھ لینا عورت کو دستور کے موافق یا رخصت کردینا ہے عمدگی کے ساتھ“ (اس کو تیسری طلاق دے کریا اس طرح کے رجعت نہ کرے یہاں تک کہ عدت ختم ہوجائے)۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد لوگوں نے طلاق کا حساب رکھنا شروع کردیا، جو طلاق دے چکے تھے انہوں نے بھی اور جنہوں نے نہیں دی تھی انہوں نے بھی۔(جامع ترمذی، کتاب الطلاق و اللعان، باب نزول قولہ:الطلاق مرتان)۔

اس حدیث کو امام ابی بکر احمد بن الحسین بیہقیؒ بھی سنن الکبریٰ بیہقی میں ،کتاب الخلع و الطلاق،  باب مَا جَاءَ فِی اِمْضَاءِ الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ وَ اِنْ کُنَّ مَجْمُوعَاتٍ،کے تحت لائے ہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے اسی باب میں اسی مضمون کی ایک روایت عروہ بن زبیرؓ کی بھی نقل کی ہے جسے امام مالکؒ بھی مؤطا میں کتاب الطلاق،  باب جامع الطلاق، کے تحت لائے ہیں ۔یہ تمام روایات مذکورہ آیات کے شان نزول کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں ۔ نیز ان سے بعد والی آیت میں اس بات کو بالکل واضح کردیا گیاہے کہ رجوع ایک مرتبہ ہو یا دو مرتبہ، نیت عورت کو اچھی طرح بسانے کی ہی ہونی چاہیے اسے تکلیف پہنچانے کی نہیں ۔ ارشاد ہے:  (وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النَّسَاء  فَبَلَغْنَأَجَلَہُنَّ فَأَمْسِکُوھُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوھُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلاَ تُمْسِکُوھُنَّ ضِرَاراً لَّتَعْتَدُواْ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ وَلاَ تَتَّخِذُوَاْ آیَاتِ اللّہِ ہُزُواً وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْکُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃِ یَعِظُکُم بِہِ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْمٌ) ترجمہ:  ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اوروہ اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ یا بھلائی کے ساتھ الگ کردو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم و زیادتی کے لئے نہ روکو، جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ اوراللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب و حکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اسے بھی۔ اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیزکو جانتا ہے۔ (البقرہ: 231)۔مذکورہ آیات و روایات کو سمجھنے کے بعد کوئی دانشور ہمیں بتائے کہ اللہ رب العزت نے طلاق رجعی کی حد دو تک مقرر کرکے عورتوں کے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا ہے یا زحمت کا؟ کیا وہ یہ پسندکریں گے کہ عورتوں کے ساتھ زمانہ جاہلیت والا مذاق جاری رہے؟

اگر اس بات پر بھی غور کریں کہ طلاق ہمارے سماج میں اتنا بڑا مسئلہ کیوں لگتا ہے تو اس کے پیچھے بھی ہم سب کی بے دینی اور شریعت سے بیزاری ہی نکلے گی۔ نکاح جسے اللہ اور اس کے رسولؐ نے بالکل آسان بنایاتھا اسے ہم نے تلک، جہیز، بارات اور نہ جانے کتنے خرافات جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ، کا اضافہ کرکے مشکل بنادیا۔نکاح میں لڑکی والوں پرشرعی اصول سے کوئی بھی خرچ لازم نہیں آتا، خرچ تو لڑکے والوں پر ہے کہ مہر انہیں دینا ہے، ولیمہ انہیں کرنا ہے، لڑکی کے لئے سکونت اور نان و نفقہ کا انتظام انہیں کرنا ہے لیکن ہم لوگوں نے ان اصولوں کی دھجیاں اڑادیں اور آج صورتحال اتنی خراب ہے کہ ایک لڑکی کی شادی میں اس کے والدین یا ولی کی کمر ٹوٹ جاتی ہے، لڑکے والے اپنے حصہ کے بھی تمام اخراجات بلکہ لڑکے کی پرورش کی قیمت بھی لڑکی والوں سے وصول کرلینا چاہتے ہیں جس کے نتیجہ میں کئی کئی لاکھ روپیہ کا بوجھ ان پر پڑتا ہے۔ بچی کی پرورش اور اس کی تعلیم و تربیت پر جو اخراجات ہوئے وہ علیحدہ رہے۔ اتنے اخراجات کے بعد اگر کسی کی لڑکی کو طلاق کا سامنا ہو تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانا یقینی ہے۔

ہمارے معاشرے میں مطلقہ اور بیوہ کی شادی کا بھی کوئی رواج نہیں ،الا ماشاء اللہ، جب کہ صحابہ کرام کے دور میں نہ تو اول نکاح ہی کوئی مسئلہ تھا اور نہ ہی بیوہ اور مطلقہ کی دوسری شادی۔اسی لئے طلاق بھی ان کے یہاں کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔اس کے علاوہ تعدد ازدواج یعنی مردوں کی ایک سے زیادہ شادی کی اجازت جو شریعت نے دے رکھی ہے اسے بھی ہم لوگوں نے سرے سے ختم کردیا حالانکہ اس اجازت کی ایک بڑی حکمت یتیم بچیوں ، بیوہ اور مطلقہ عورتوں کو سہارا دینا ہی تھا۔اب تو یہ حالت ہے کہ کتنا ہی دیندار آدمی کیوں نہ ہو اگر اس نے دوسری شادی کرلی تو دوسرے تو کیا اس کے خاندان کے لوگ ہی اس کی ساری دینداری پر جھاڑو پھیر دیتے ہیں اور خاندانی بائیکاٹ تک کی نوبت آجاتی ہے۔یہ باتیں راقم بلامبالغہ اپنے مشاہدہ کی بنیاد پر ہی لکھ رہا ہے اور ایک جگہ کی تو بندہ یہ خبر ملی کہ ایک امام صاحب نے پہلی بیوی کے رہتے ہوئے دوسری شادی کرلی تو لوگوں نے انہیں امامت کے عہدہ سے ہی برطرف کردیا جیسے ان سے کوئی گناہ کبیرہ کا صدور ہوگیاہو۔ اب آپ غور کیجئے کہ ہم لوگوں نے ہندو تہذیب کے اثرات کس حد تک قبول کر لئے ہیں ۔بندہ پورے وثوق سے یہ بات کہہ رہا ہے کہ جب تک نکاح کو آسان نہیں بنایا جائے گا اور تعدد ازدواج اور بیوہ اور مطلقہ کی شادی کو رواج نہیں دیا جائے گا، طلاق کے مسئلہ کا کوئی پائیدار حل نکلناممکن ہی نہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

متعلقہ

Close