ملی مسائل

طلاق کیا ہے؟ (دوسری قسط)

عبدالعزیز

     ’’تین طلاق‘‘ کے مسئلہ پر جس طرح سرکاری وکیل یعنی اٹرنی جنرل موکل روہتگی اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ زعفرانی حکومت کی بھرپور ترجمانی کررہے ہیں اور دستور ہند میں مختلف مذاہب کو لوگوں کے دیئے گئے بنیادی حقوق کو ختم کرنے کے حق میں ہیں خاص طور سے مسلمانوں سے جو بیر اور نفرت ہے اس کا بھی بھرپور مظاہرہ کررہے ہیں ۔ عام طور پر چھوٹی بڑی عدالتیں حکومت کے رویہ اور خواہش کے مطابق ہی فیصلہ دیتی ہیں اب تک نوے فیصد مقدمات میں عدالتوں نے یہی رویہ اپنا یا ہے جس کی حکومت ہو اس کا خیال رکھا جائے ۔ سپریم کورٹ نے تین طلاق کے تعلق کا جو اب تک رویہ اپنایا ہے مثلاًپانچ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ججوں پر پنج رکنی بنچ کی تشکیل اور بحث کے دوران دفعہ 25 کے مطابق ہر عقیدہ کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی بات قابل ستائش ہے مگر بحث اور دیگر چیزیں جسقدر بھی اچھی اور قابلِ قدر ہوں اصل فیصلہ ہوتا ہے اگر ججوں کی اکثریت نے حکومت کا رُخ یا منہ دیکھ کر فیصلہ کیا تو دستور ہند میں درج بنیادی حقوق پر زبردست حملہ ہوگا اور ایسی مداخلت شروع ہوجائے گی کہ بنیادی حقوق آہستہ آہستہ ختم ہوجائیگا ۔

جہاں تک مسلمانوں کا مسئلہ ہے وہ کسی قیمت پر قرآن و سنت کی تعلیمات کو چھوڑ نہیں سکتے کیوں کہ اسے چھوڑنے کا مطلب ہی کفر و شرک ہے ظاہر ہے جو شخص کفرو شرک کو اختیار کریگا وہ مسلمان ہی نہیں رہ سکتا ۔ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ عدالت ہی میں نافذ العمل ہوگا۔ عدالت سے باہر مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ ہندوئوں کیلئے 1954ء میں ہندو میرج کوڈ ایکٹ قانون کی شکل میں بنا مگر ہندستان کے مختلف علاقہ میں ہندو اپنی اپنی ریتوں اور رواجوں کے مطابق شادی بیاہ اور طلاق پر عمل کررہے ہیں ۔ حیدر آبادمیں اب بھی ماما اپنی سگی بھانجیوں سے شادی کرتے ہیں ایسی تقریبات میں وزراء ، وکلاء اور جج صاحبان شامل ہوتے ہیں اور وہ بھی اپنے اپنے علاقوں میں ہندوکوڈ ایکٹ سے ہٹ کر اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی بیاہ کی تقریبات منعقد کرتے ہیں ۔ نسلر یونیورسٹی کے وائس چانسلر فیضان احمد نے این ڈی ٹی وی کے انکر روش کمار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد میں ایسی تین تقریبات میں شامل ہوا جس میں ماما نے اپنی سگی بھانجیوں سے شادی کی ۔

مشہور سماجی کارکن اور میرے آشنا اور ملاقاتی مسٹر اوپی شاہ نے راقم کو کلکتہ میں بتایا کہ مشہور سماجی کارکن سوامی اگنی دیس کی اپنی بھانجی نے اپنے سگے ماما سے شادی کی ۔ اس لئے جو لوگ قانون بنانے پر تلے ہوئے ہیں وہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکر دیکھیں کہ ان کے قوانین کا کیا حال ہے؟ دنیا بھر میں جس قانون کا کوئی اخلاق نہیں ہوتا ہے اسے کوئی نہیں مانتا اسے لاٹھی ٹنڈے کے زور ہی پر منوایا جاسکتا ہے۔ اسلامی شریعت اللہ کا تیار کردہ قانون ہے جو ناقابل ترمیم اور تنسیخ ہے ۔  جو لوگ شریعت کے نام پر غلط کام کررہے ہیں یقینا جرم اور گناہ کررہے ہیں وہ قابلِ سرزنش اور قابلِ سزا ہیں لیکن شریعت اسلامی ہر عیب سے پاک ہے اس میں چھیڑ چھاڑ انتہائی مشکلات اور خطرات کا سبب بنے گا جسے سنبھالنا مشکل ترین بلکہ ناممکن عمل ہوگا۔ حکومتوں اور عدالتوں کو اس مصلحت کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے علامہ یوسف القرضاوی کی طلاق پر تبصرہ قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش خدمت ہے یہ تبصرہ کی دوسری قسط ہے۔ ملاحظہ فرمائیں :

اسی طرح طلاق مرد کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ عورت کا مہر ہڑپ کر جائے اور نہ ہی طلاق سے قبل دی ہوئی چیزوں کو واپس لینا اس کیلئے جائز ہوگا ارشاد ربانی ہیَ

 ــــ’’ اور تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو ، اس میں سے کچھ واپس لے لو۔‘‘(البقرہ ،229)

 اور طلاق شدہ عورت کایہ حق ہے کہ اسے کچھ سازو سامان کے ساتھ رخصت کیا جائے ۔ اس کا تعین عرفِ عام کے ذریعے ہوگا۔ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے ۔

 ’’جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، انہیں بھی مناسب طریقے سے کچھ دے دلا کر یہ حکم عام ہے ، ہر مطلقہ کیلئے تاکہ اس کی خاطر داری ہوجائے اور اس کی دل شکنی کا اسے کچھ عوض (بدلہ ) بھی مل جائے ۔ (البقرہ : 24)

  یہ حکم عام ہے ، ہر مطلقہ کیلئے تاکہ اس کی خاطر داری ہوجائے اور اس کی دل شکنی کا اسے کچھ عوض (بدلہ ) بھی مل جائے ۔ اور مطلِّق کیلئے اپنی بیوی سے علاحدگی کے بعد یہ قطعی جائز نہیں ہے کہ اس پر زبان طعن دراز کرے ، اس کی رسوائی کے درپے ہو یا اس کو اور اس کے اہل خاندان کو نفسیاتی طور پر صدمہ پہنچانے کی کوشش کرے۔ ارشادِ ربانی ہے :

’’ پھر یا تو بھلے طریقے سے اسے روک لیا جائے یا عمدگی کے ساتھ رخصت کردیا جائے۔‘‘  (لبقرہ،229)

 اور دوسری جگہ ہے:

 ’’ اور آپس میں (معاملہ کرتے وقت) احسان کو نہ بھولو۔‘‘      (البقرہ: 237)

یہ وہ طلاق ہے جسے اسلام نے جائز اور مشروع قرار دیا ہے ۔ ازدواجی زندگی میں رونما ہونے والے فساد و بگاڑ کا یہی مناسب علاج ہے ، جس کا استعمال مناسب وقت میں مناسب مقدار میں ہوگا ۔ اس کا استعمال مناسب اسلوب میں مناسب مقصد کیلئے ہوگا۔

 مسیحیت نے طلاق کو قطعی حرام قرار دیا ہے ۔ کیتھولک فرقے کے لوگ اسی کے قائل ہیں ۔ البتہ آرتھوڈکس فرقہ زنا کی صورت میں طلاق کو قطعی حرام قرار دیا ہے ۔مسیحیوں کی دلیل یہ ہے کہ جس جوڑے کو اللہ نے ملا دیا ، اسے انسان الگ نہیں کرسکتا ہے ۔ اور مسلمانوں کا ماننا یہ ہے کہ اللہ ہی نے ایک مرد و عورت کے درمیان رشتہ جوڑا تھا اور اسی نے اپنی شریعت کے احکام کے ذریعے علاحدگی کروادی ۔ وہ ذاتِ اقدس اپنے بندوں کیلئے وہی قانو ن بناتی ہے جو ان کے مناسب حال ہو۔ وہ ان کے احوال سے پوری طرح باخبر ہے ۔ چونکہ مسیحیت میں طلاق حرام تھی ، اس لئے اس کے بہت سے پیروکاروں نے اس تحریم کے خلاف بغاوت کردی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے مسیحی ملکوں کو حالات سے مجبور ہوکر اس کے لئے باقاعدہ قانون بنانا پڑا ۔ اور کسی شرط و ضابطے کے بغیر ان کے لئے طلاق کو جائز قرار دے دیا گیا ۔ اس میں تعجب کی بات نہیں کہ وہ انتہائی معمولی وجوہات کی بنا پر اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگے اور نتیجے کے طور پر ان کی ازدواجی زندگی کو چولیں ہل گئیں ۔ اور وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔

طلاق کا حق مرد کو کیوں دیا گیا ہے ؟

 لوگوں کا کہنا ہے :

 طلاق کو صرف مرد کے ساتھ میں کیوں رکھا گیا ہے؟

ہم کہتے ہیں : مرد خاندان کا مالک ہے ۔ وہی اس کی دیکھ بھال کرتا ہے ۔ وہ خاندان کا مسئولِ اول ہے ۔ وہی مہر ادا کرتا ہے ، اسی کے ذمے عدت کی مدت کا نان ونفقہ  (خرچ) ہے۔ خاندان کی تعمیر کا گراں بار کام اسی کے کاندھوں پر ہوتا ہے ۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ جو مرد یہ سب کچھ کرتا ہے وہ آسانی سے خاندان کی عمارت کو چکنا چور کرنے کیلئے تیار ہوگا؟ ہاں ، البتہ کچھ ناگزیر اسباب اور انتہائی مجبوریوں کے تحت وہ اتنی بڑی قربانی دے گا اور انہیں کے باعث یہ خسارۂ عظیم برداشت کرے گا۔

 پھر مرد کی نظر عواقب و انجام پر زیادہ ہوتی ہے ، اس کے مزاج میں ٹھہرائو ہوتا ہے ۔ وہ عورت کے مقابلے میں کم جذباتی ہوتا ہے۔ اس لئے طلاق کی گتھی مرد کے ساتھ رہنا زیادہ بہتر اورمناسب ہے ۔ رہی عورت تو وہ اتنہائی گرم مزاج اور جذباتی ہوتی ہے ، اگر اس کے ہاتھ میں طلاق کا معاملہ ہوتا تو انتہائی معمولی اسباب کی بنا پر طلاق دینے میں جلدی کرتی ۔ اور جب کبھی کوئی چھوٹے سے چھوٹا اختلاف رونما ہوتا  وہ طلاق کے ذریعے اس کو حل کرتی ۔

  اسی طرح مصلحت کا تقاضا ہے کہ طلاق کا معاملہ عدالت کے حوالے نہ کیا جائے۔ کیوں کہ طلاق کے سارے ہی اسباب ایسے نہیں ہوتے کے عدالتوں میں جن کا چرچا کیا جانا جائز ہو اور وکلا اور صحافی اس کو نقل کرتے پھر یں ۔ یہاں تک کہ وہ ہر منہ کا نوالہ ہوجائے۔

اہل مغرب نے عدالتوں کے ذریعے طلاق کا قانون بنایا تو ان کے یہاں طلاق کی رفتار کم نہیں ہوتی اور نہ عدالتوں نے ہی طلاق کی رغبت رکھنے والے مردو زن کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کی ۔

شوہر کو ناپسند کرنے والی بیوی اس سے چھٹکارا کیسے حاصل کرے گی ؟

 اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شریعت نے طلاق کا حق مرد کو دیا ہے اور اس کے اسباب و دلائل سے بھی ہم واقف ہوگئے ۔ لیکن کیا شریعت نے عورت کو بھی اس سلسلے میں کوئی حق دیا ہے ؟ اگر وہ شوہر کی درشت مزاجی اور بداخلاقی ، اس کے حقوق کی عدم ادائیگی ، جسمانی نقص، مالی کمزوری یا دیگر اسباب کے باعث اس کے ساتھ زندگی گزارنے پر راضی نہیں ہے تو کیا اس سے چھٹکارا پانے کی کوئی سبیل اس کے لئے ہے؟

   اس کا جواب یہ ہے کہ شارع حکیم نے اس کے لئے اپنی تباہ حال زندگی سے چھٹکارا پانے کیلئے متعدد راستے نکالے ہیں ۔ وہ جس راستے سے چاہے چھٹکارا حاصل کرلے۔

  1۔ عقدِ نکاح کے وقت وہ شرط رکھے کہ طلاق اس کے ہاتھ میں ہوگی اور مرد اس شرط پر اس سے نکاح کرلے۔( اس نکاح کو فقہ کی اصطلاح میں طلاق تفویضی کہا جاتا ہے، جس میں مرد اپنا حقِ طلاق عورت کے حوالے کردیتا ہے ۔) یہ ابوحنیفہ اور احمد رحمہا اللہ کے یہاں جائز ہے۔ حدیث میں ہے : ’’ سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ تم نے جس عہد کے ذریعے عورت کو حلال کیا ہے اس کو پورا کرو۔‘‘  (بخاری و مسلم)

2۔   خلع : اپنے شوہر کو ناپسند کرنے والی عورت کو یہ حق ہے کہ وہ مہر اور اس طرح کی دوسری چیزوں کو شوہر کو واپس کرکے اس سے اپنی گلو خلاصی کرالے ۔ ویسے یہ بات قرینِ انصاف نہیں ہے کہ عورت خود سے جدائی کی خواہش کرے اور کا شانۂ زوجیت کو ڈھا دینے پر آمادہ ہوجائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام صرف مرد کے ذمے ہونا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اللہ کی حدود کا پاس نہ کرسکیں گے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا کہ عورت کچھ دے ڈالے رہائی پانے کیلئے۔‘‘    (لبقرہ ،225)

 حدیث میں ہے کہ ثابت ابن قیس کی عورت نے نبی(ﷺ) سے کہا: میں اپنے شوہرکو سخت ناپسند کرتی ہوں ۔ آپ (ﷺ) نے اس سے کہا: کیا تم اس کا باغ اس کو لوٹا دوگی؟ ‘‘ یہ باغ اسے مہر میں ملا تھا ۔ اس نے کہا: ہاں ۔ پھر آپ(ﷺ) نے حضرت ثابت کو حکم دیا کہ اس سے اپنا باغ لے لیں ۔ آپ(ﷺ) نے مزید کچھ اور انہیں دلوایا۔ (بخاری)

3۔   اختلاف کی صورت میں دونوں فریق کے حکم کو اختیار ہے کہ ان میں تفریق کرادیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 ’’ اگر تم لوگوں کو میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے راشتہ داروں میں سے مقررہ کرو ، اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا۔‘‘     (النساء ،35)

 قرآن نے اس عائلی مجلس کا نام ’’الحکمین‘‘ رکھا ہے ۔ ان دونوں حکم کو فیصلے کا پورا اختیار حاصل ہے ۔ بعض صحابہؓ نے کسی پیش آمدہ مسئلے میں حکمین سے کہا : اگر تم دونوں ان کے (میاں بیوی کے ) درمیان میل ملاپ کرانا چاہو تو میل ملاپ کر ادو ، اگر دونوں میں جدائی کرانا چاہتے تو جدائی کرادو۔

4۔   جنسی نقص کی بنا پر تفریق : اگر مرد کے اندرکوئی جنسی عیب یا کمی ہو تو عورت کو حق ہے کہ اپنا مقدمہ عدالت کے روبرو لے جائے تو عدالت ان کے درمیان تفریق (جدائی) کا فیصلہ کردے گی تاکہ عورت تکلیف میں مبتلا نہ رہے۔ کیوں کہ اسلام کا ایک مسلمہ اصول ہے : نہ تکلیف اٹھانا اور نہ کسی کو تکلیف پہنچانا۔

5 ۔   شوہر کی ضرر رسانی کے باعث طلاق کا مطالبہ : جب شوہر مسلسل بیوی کو تکلیف دے رہا ہو۔ اور ظلم و ستم کے باعث اس کا ناطقہ بند کررکھا ہو، اسے نان و نفقہ نہ دیتا ہو تو ایسی صورت میں عورت کو یہ حق ہوگا کہ قاضی (جج) سے مطالبہ کرے کہ اس کے شوہر سے اس کو طلاق دلوادے ۔ اس صورتِ حال میں قاضی اس کو اس کے شوہر سے یہ جبر طلاق دلوائے گا تاکہ ضرر اور ظلم سے عورت کو بچایا جاسکے ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے :

’’ محض ستانے کی خاطر انہیں روکے نہ رکھنا کہ یہ زیادتی ہوگی ۔‘‘(البقرہ :231)

 اور ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

 ’’ پھر یا تو بھلے طریقے سے عورت کو روک لیا جائے یا عمدگی کے ساتھ اسے رخصت کردیا جائے۔‘‘ البقرہ۔:229)

 عورت کو ناحق مارنا بھی اس کو بلاوجہ تکلیف پہنچانا ہے ۔ مارنے سے عورت کو جسمانی اور روحانی دونوں طرح کا ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

بعض ائمہ نے عورت اور اس کے تنگ حال شوہر کے درمیان تفریق کو جائز قرار دیا ہے بالخصوص ایسی صورت حال میں جبکہ وہ اسے نان و نفقہ دینے سے عاجز ہو اور عورت اس سے چھٹکار ا حاصل کرنا چاہتی ہو۔ اس لئے کہ شریعت نے اسے فقیر شوہر کے ساتھ گزر بسر کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے۔ البتہ وہ خود وفاداری اور خوش خلقی کے باعث اس کے ساتھ نباہ کرنے کیلئے تیار ہوجائے تو یہ بہتر ہے۔

 اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے عورت کیلئے مرد کی زیادتیوں اور اس ستم رانیوں سے آزادی حاصل کرنے کے متعدد دروازے کھول رکھے ہیں ۔

  انسانوں کے وضع کردہ قوانین سے بعید نہیں کہ وہ عورت کے حقوق کو پامال کریں ، لیکن عورت اور مرد کے خالق اور ان کے رب کے قانون میں کسی پر ظلم و جور کا ادنیٰ شائبہ نہ ہوگا ، کیوں کہ الٰہی قوانین سراسر عدل پر مبنی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 ’’ اللہ پر یقین رکھنے والوں کیلئے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون سکتا ہے ؟‘‘    (المائدہ : 50)

 طلاق کا برے طریقے سے استعمال

 آخر میں ہم یہ کہیں گے کہ بہت سے مسلمانوں نے طلاق کا غلط استعمال کیا ہے اور آج بھی کررہے ہیں ۔ انہوں نے اس کو بے جا اور غیر مناسب حیثیت دے رکھی ہے اس طرح کے مردوں نے طلاق کو تلوار کی طرح بیویوں کی گردن پر تان رکھا ہے  اور وہ چھوٹے بڑے ہر معاملے میں طلاق کو قسم کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ اسی طرح بہت سے فقہا نے طلاق واقع ہونے کے معاملے میں انتہائی توسیع سے کام لیا ہے ۔ یہاں تک کہ حالتِ نشہ اور غصے میں دی گئی بلکہ زور زبردستی سے لی گئی طلاق کو وہ لوگ واقع (پڑگئی ) مانتے ہیں ۔ جب کہ حدیث کہتی ہے: ’’غصہ اور جبر میں دی گئی طلاق واقع نہ ہوگی۔‘‘(ابو دائود و ابن ماجہ )

 حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کہتے ہیں : طلاق تو بامقصد ہونی چاہئے ۔‘‘ یہ فقہاغصے میں دی گئی ایک سانس کی تین طلاقوں کو واقع مانتے ہیں ، جب کہ گھریلو جھگڑوں میں اس کو ایک طرح کی دھمکی مانا جاتا ہے اور یہ ایسی حالت میں ہوتا کہ میاں بیوی خوش و خرمی اور باہمی میل جول کے ساتھ زندگی گزا ررہے ہوتے ہیں ۔

 حالانکہ کتاب و سنت اور خاندانی نظام کی تعمیر و تحفظ کے شرعی مقاصد سے معلوم ہوتا ہے کہ حتی الامکان طلاق کے دائرے کو محدود کرنا چاہئے۔ اس لئے طلاق متعین لفظ ، متعین وقت اور متعین نیت سے واقع ہوگی ۔ امام بخاریؒ اور بعض سلف صالحین کا یہی موقف ہے ۔ علامہ ابنِ تیمیہ ؒ اور ابنِ قیمؒ نے اسی موقف کی تائید کی ہے ۔ یہی موقف دراصل اسلام کی روح سے ہم آہنگ ہے۔  جہاں تک اسلامی احکام کے تعلق سے غلط فہمی اور ان کے غلط طریقے سے نفاذ کا مسئلہ ہے ، یہ مسلمانوں کی ذمے داری ہے، اسلام کے ذمے داری یہ ہرگز نہیں ہے۔(آج اگر مسلمان قرآن وسنت کے مطابق عمل کرتے ہوتے تو شریعت کی بدنامی سربازار نہ ہوتی اور نہ اغیار کو مداخلت کی جرأت و ہمت ہوتی ۔ع۔ع)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close