ملی مسائل

طلبۂ مدارس کی فکری تیاری – چند رہنما نکات

 شاہ اجمل فاروق ندوی

        برصغیر کے اکثر مدارس میں شوال کے مہینے سے نیا تعلیمی سال شروع ہوتا ہے۔ مدارس اسلامیہ کے قیام کا مقصد صرف درس و تدریس نہیں ہے۔ کوئی بھی مدرسہ ہواور کسی بھی مسلک و مشرب سے تعلق رکھتا ہو، صرف پڑھنے پڑھانے کو اپنے قیام کا مقصد نہیں بتاتا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مدارس کا قیام اشاعت دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ہواہے۔ دینی تعلیم کو سیکھنے سکھانے کی روایت مرد و خواتین میں مدارس کے قیام سے پہلے بھی قائم تھی۔ لیکن 1857کے بعد مدارس اسلامیہ کے قیام کاجو سلسلہ شروع ہوا، اُس کا مقصد مسلمانوں کو مایوسی کے گڑھے سے نکال کر شاہراہِ امید پر لاکھڑا کرنا تھا۔ ناکامی کے غار سے کھینچ کر کام یابی کی بلندیوں تک پہنچانا تھا۔ لڑکوں کے مدارس کے آغاز کے کافی عرصے بعد لڑکیوں کے مدارس کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔ لڑکیوں کے بھی تقریباً تمام مدارس کے مقاصد میں دعوت دین، اعلاء کلمۃ اللہ، اصلاح معاشرہ اور اس طرح کی دوسری اصطلاحات شامل ہوتی ہیں ۔ یعنی مقاصد کے لحاظ سے لڑکوں اور لڑکیوں کے مدارس کا معاملہ یکساں ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے مدارس کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ دینی مزاج بن جائے اور انھیں شریعت کا بنیادی علم ہوجائے۔ اس سوچ کے حامل افراد سخت غلطی پر ہیں ۔ صرف دینی مزاج بنانے یا شریعت کا بنیادی علم دینے کے لیے اتنا بڑا نظام چلانے کی قطعاً ضرورت نہیں ۔ یہ مقصدتمام مسالک کے علماء کی چند بنیادی کتابوں کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔   مثال کے طور پر دیوبندی مکتبۂ فکر میں تقویۃ الایمان (شاہ اسمٰعیل شہید) ، بہشتی زیور (مولانا تھانوی) اور تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اللہ) کے ذریعے یہ مقصد بہ آسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اب تک یہی ہوتا آیا ہے۔ ہمارے خاندانوں کی دین دار خواتین اور بڑی بوڑھیاں عالمہ فاضلہ نہیں ہوتی تھیں ۔ ان ہی کتابوں کو پڑھ کر دین سیکھتی تھیں اور اولاد کی دینی تربیت کرتی تھیں ۔ معلوم ہوا کہ لڑکیوں کے دینی مدارس کے قیام کا مقصدبھی لڑکوں کے مدارس کی طرح ان بنیادی مقاصد سے بہت آگے ہے یا ہونا چاہیے۔

        مدارس کے مقاصد کی بلندی واضح ہوتے ہی یہ ضرورت سامنے آتی ہے کہ ہمارے مدارس میں ان بلند مقاصد کے حصول کی تیاری کا بھی معقول نظم ہونا چاہیے۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر مدارس میں اس تیاری کا کوئی معقول نظم نہیں ہے۔ لڑکیوں کے مدارس میں تو نتیجہ بالکل صفر نظر آتا ہے۔ ہمارے علم میں لڑکیوں کے مدارس میں سے کسی ایک مدرسے میں بھی کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے ، جو فکری، علمی اور دعوتی تیاری کے لیے قائم کیا گیا ہو اور پوری طرح سرگرم بھی ہو۔ جب کہ اس سلسلے میں لڑکوں کے مدارس کا اوسط نکالا جائے تو مشکل سے چار یا پانچ کا اوسط نکلے گا۔         جن مدارس میں فکری تربیت کے شعبے قائم ہیں ، وہ یا تو بالکل معطل ہیں یا اُن کا رخ غلط ہے۔ وہ زمانے کے فکری چیلنجوں سے آنکھیں موند کر مسلکی     یا جماعتی دفاع کو ہی دعوتی یا فکری تیاری کا نام دیے بیٹھے ہیں ۔ مدارس اسلامیہ کی ساری کوششیں ، محنتیں اور سرگرمیاں سر آنکھوں پر، لیکن اس خلاء کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا نئے تعلیمی سال کے آغاز پر تمام مدارس اسلامیہ کے ذمے داران سے عاجزانہ اور مخلصانہ گزارش ہے کہ اس جانب فوراً متوجہ ہوں ۔ دنیا کے موجودہ حالات ہمیں اب مزید سوچنے یا انتظار کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس سلسلے میں چند رہنما نکات پیش کیے جارہے ہیں :

        (1)ایک علمی، فکری و دعوتی شعبہ قائم کیا جائے اور اس کا کوئی مناسب نام رکھا جائے۔

        (2)اس شعبے کے لیے ایک لائبریری تیار کی جائے، جس میں علمی و فکری موضوعات پر اہم کتابیں جمع کی جائیں ۔

        (3) فراغت کے بعد ایک سال کا ایک مستقل کورس کرایا جائے۔ لڑکیوں کے مدارس میں آخری درجے کی طالبات کو آخری سال کی تعلیم کے ساتھ بھی اس شعبے سے جوڑا جاسکتا ہے ، یا کم از کم چھ ماہ مستقل اس شعبے کے لیے خاص کیے جائیں ۔

        (4)ایک نصاب تیار کیا جائے، جس میں عصر حاضر کے تمام اسلامی افکار و نظریات اور عالم اسلام کے اہم فکری و سیاسی مسائل کا گہرا مطالعہ شامل ہو۔ ساتھ ہی اسلامی تاریخ کی اہم شخصیات اور ان کے افکار و خدمات کا جائزہ بھی شامل نصاب ہو۔

        (5)نصاب میں تمام غیراسلامی افکار اور اسلام مخالف تحریکات (سوشلزم، کمیونزم، لبرلزم، کیپٹل ازم، نسائیت، ماسونیت، صہیونیت، برہمنیت،مشنریز، استشراق وغیرہ) کا گہرا مطالعہ اور ان کا علمی رد بھی شامل ہو۔

        (6) اس نصاب میں قدیم اسلامی علمی مآخذ یعنی ہر فن کے اہم مراجع سے واقفیت بھی کرائی جائے اور جدید آلات علم( نیٹ پر اہم علمی ویب سائٹس، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، ڈیجیٹل لائبریری،پروجیکٹر، آن لائن ٹیچنگ وغیرہ)کی بنیادی معلومات بھی پیش کی جائے۔

        (7) زمانے سے واقفیت اور اپنی بات دنیا تک پہنچانے کے لیے الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے اہم چینلوں اور مرکزوں  کا تعارف اور ان تینوں میڈیاؤں کے مثبت و تعمیری استعمال کی تربیت بھی دی جائے۔

        (8) اوپر پیش کیے گئے چھٹے اور ساتویں نکتے میں ذکر کی گئی چیزوں کی تربیت صرف زبانی نہ ہو، بلکہ طلبہ کو عملی تربیت دی جائے اور ایک متعینہ نظام کے تحت ان چیزوں کے درمیان کچھ وقت گزارنے کا موقع بھی دیا جائے۔

        (9)اس شعبے کی تعلیم دو طرح سے ہو:

                        (الف) مطالعے اور تحریری و تقریری شکل میں مطالعے کے نتائج پیش کرنا۔

                        (ب) مختلف موضوعات کے ماہرین کے محاضرات یا لکچرز کا انعقاد کرنا۔

        (10)اس شعبے کے لیے ایک مناسب بجٹ مخصوص ہو، جسے محاضرین کی آمدورفت، طلبہ کے تعلیمی وعلمی دوروں ، کتابوں اور دوسری تعلیمی چیزوں کی خرید و فروخت وغیرہ پر خرچ کیا جائے۔

        (11)طلبہ کو تحریری مشق کرائی جائے اور جو علمی و تحقیقی مقالات وہ تیار کریں ، انھیں ملک و بیرون ملک کے اعلیٰ مجلات میں شائع کرایا جائے۔

        (12) طلبہ کے درمیان ہونے والے علمی مذاکرات یا جلسوں کی ویڈیو ریکارڈنگ کرائی جائے اور انھیں ممکنہ ذرائع سے عام کیا جائے۔

        (ان دونوں نکات ۱۰ ؍ اور ۱۱؍ سے دو اہم فائدے ہوں گے۔ طلبہ کی حوصلہ افزائی  اور امت کی علمی و دینی خدمت)

        (13)طلبہ کو وقتاً فوقتاً اہم کتب خانوں ، مختلف میدانوں کی اہم شخصیات، مختلف جماعتوں اور تنظیموں کے سربراہان، میوزیموں ،           اہم جلسوں اور تاریخی مقامات میں لے کر جایا جائے۔

        (14)طلبہ کی علمی و فکری تیاری پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ ان کے سامنے مستقبل کے ممکنہ معاشرتی، خاندانی اور مالی مسائل کو پیش کرکے واضح خاکہ بھی پیش کیاجائے کہ زندگی کے مسائل میں وہ اپنے دعوتی و فکری کاموں کو کس طرح جاری رکھیں ۔

        (15)کورس کی تکمیل پر باقاعدہ امتحانات ہوں اور کام یاب ہونے والے طلبہ کو ایک مستقل سند دی جائے۔

        (16)کورس کی تکمیل کے بعد بھی شعبہ تمام طلبہ سے مسلسل رابطے میں رہے ۔ وقتاً فوقتاً ایک ساتھ جمع ہوکر موجودہ علمی و دعوتی سرگرمیوں پر  تبادلۂ خیال کیا جائے اور مستقبل کے علمی و دعوتی کاموں کا خاکہ تیار کر کے کاموں کو تقسیم کیا جائے۔

        (17) مذکورِ بالا تمام کاموں کے ساتھ ایک چیز ہر حال میں وابستہ رہنی چاہیے۔ وہ یہ کہ کورس کے درمیان لازمی طور پر ایسے طریقے استعمال کیے جاتے رہیں ، جن کے ذریعے طلبہ کے اندر تعلق مع اللہ، اتباع سنت ، سلف و خلف کا احترام، ماضی میں ہونے والی تمام دینی کوششوں کی مکمل قدردانی ، اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے سب کچھ قربان کردینے اور ظاہر وباطن دونوں لحاظ سے صبغۃ اللہ (اللہ کے رنگ) میں رنگ جانے کا ذوق و شوق پیدا ہو۔ اگر اس چیز کا اہتمام نہ کیا جا سکا تو ساری محنت اکارت چلی جائے گی۔

        ہم نے مختصراً چند نکات پیش کردیے ہیں۔ اگر ان خطوط پر مدارس اسلامیہ میں اس طرح کا شعبہ قائم کیا جاتا ہے، تو ان شاء اللہ بہت جلد بہت مثبت نتائج برآمد ہونے لگیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شاہ اجمل فاروق ندوی

انچارج اردو سیکشن انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی، چیف ایڈیٹر ماہنامہ المؤمنات، لکھنؤ و ایڈیٹر ماہنامہ تسنیم، نئی دہلی

متعلقہ

Close