ملی مسائل

عدلیہ کا فیصلہ بہر صورت قبول ہے  

وصیل خان

بابری مسجد ؍رام جنم بھومی تنازعے کی سماعت دسمبر میں ہونے والی ہے تمام تاریخی ثبوت و شواہد مسلمانوں کے حق میں ہیں امید ہے کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہی ہوگا۔ بالفرض اگر نہیں بھی ہوا تو مسلم قیادت بار بار یہ اعلان کرچکی ہے کہ عدالت عظمیٰ مثبت یامنفی جو بھی فیصلہ کرے گی اسے قبول ہوگا لیکن جن کے دلوں میں صفائی نہیں ہےوہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ان کا دعویٰ اتنا کمزورہے کہ وہ عدالتی جرح کا ایک جھٹکا بھی برداشت نہیں کرسکتا .یہی وجہ ہے کہ ان کی نیندیں اچاٹ ہوگئی ہیں وہ چاہتے ہیں کہ عدالت سے باہر ہی کوئی تصفیہ ہوجائے اس کیلئے وہ طرح طرح کے حربے آزمارہے ہیں لیکن ہر بار انہیں ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑرہا ہےا بھی حال ہی میں روحانی رہنما شری شری شیکھر بھی اس تعلق سے کافی دوڑ دھوپ کررہے تھے انہیں بھی منہ کی کھانی پڑی، یہاں تک کہ آل انڈیا اکھاڑہ پریشد کے صدرنریندر گری نے بھی یہ کہہ دیا کہ شری شری اپنی دوکان چلائیں اور اس تنازعہ میں نہ پڑیں۔ بات واضح ہے اگر نیت صاف ہے اور انصاف پر نظر ہے تو کہیں بھی بیٹھ کے تصفیہ کیا جاسکتا ہے لیکن شری شری کی اول روز سے یہی کوشش تھی کہ مسلمان اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائیں تاکہ رام مندر کی تعمیر ی روکاوٹ ختم ہوجائے۔ مسلم قیادت خاص طور پر مسلم پرسنل لاءبورڈ اور اس کے دیگر معاونین کا دوٹو ک فیصلہ کہ ہمیں عدالت کا فیصلہ ہر صورت میں منظورہے خواہ وہ مسجد کے حق میں ہو یا مندر کےایک مناسب اور جمہوری فیصلہ ہے، اس کے برعکس دوسرے گروپ کا یہ کہنا کہ فیصلہ مندر کے ہی حق میں قابل قبول ہوگا، جمہوریت اور ملک کے آئین کا کھلا مذاق ہے کیا اس طرح کا مذاق توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا۔ لیکن۔ ۔۔ ’سیاں بھئے کوتوال تو اب ڈر کاہے کا ‘۔

 بابری مسجد تنازعہ نصف صدی سے اوپر کا ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی تصفیہ نہیں ہوپانا انتہائی حیرت و افسوس کا باعث ہے۔ کسی بھی مسئلے یا معاملے کے فیصلے میں اس قدر تاخیر خود بھی ظلم و طغیان کی ایک شکل ہے، آج یہی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ معاملہ انتہائی سنگین ہے کیونکہ اسے عقیدے اور آستھا سے جوڑدیا گیا ہے۔ ۱۹۴۹سے اٹھے اس تنازعے کو ۶۸برس کا عرصہ گزرچکا ہے اس دوران مرکز اور اترپردیش میں کتنی سرکاریں آئیں اورگئیں۔ اس نازک ترین مسئلے کے حل کیلئے آج تک نہ تو حکومتیں سنجیدہ نظرآئیں نہ ہی عدالتوں کے ذریعے کوئی مثبت اور مضبوط عملی اقدام اٹھایا جاسکا، حالانکہ حکومتوں اور عدالتوں کا قیام اسی مقصد کیلئے ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے آئین وقوانین کا تحفظ کیا جائے۔ملک کی موجودہ صورتحال اور اس نازک ترین تنازعے کے تعلق سے لاپروائی اور ٹال مٹول ہی اصلا ً اس معاملے کی سنگینی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ آج بھی حقائق کی بنیاد پر کیا جانے والامنصفانہ عمل ہی لوگوں کو اس تنازعے سے نجات دلا سکتا ہے۔ ، آپسی افہام و تفہیم کیلئے بھی سنجیدگی ضروری ہے اور دائرہ ٔ قانون میں رہ کر ہی کسی منطقی انجام تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ا س تعلق سے تاریخی حقائق سب سے زیادہ راہنما ثابت ہوسکتے ہیں اور اس کی روشنی میں آج بھی یہ مسئلہ بخوبی حل کیا جاسکتا ہے۔ انصاف، وقت اور حالات کی نرمی گرمی کا منتظر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے حکومت اور عدلیہ مل کے ایک پینل متعین کریں جوملک کے ماہرمورخین پر مشتمل ہو اور یہی پینل حقائق کی بنیاد پر اور بالکل غیر جانبدارانہ طریقے سے اس بات کا پتہ لگائے کہ اس متنازعہ جگہ پر مسجد کا قیام کب سے تھا اور دوسرے فریق کے اس الزام کی بھی تحقیق کرے کہ کیا  واقعتا ً ایسا ہوا ہے کہ ماضی میں اس مسجد کی جگہ پر پہلے سے کوئی مندر موجود تھا ؟۔ اس طرح سے وہ تاریخی پینل بے لاگ لپیٹ ایک رپورٹ تیار کرکے حکومت اور عدلیہ کے حوالے کردے اور عدلیہ اسی کی روشنی میں اپنا فیصلہ سنادے۔

لیکن اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس قضیئے کا فریق ثانی اس بات پر مصر ہے کہ کچھ نہیں صاحب یہ تو رام جنم بھومی ہی ہے اور یہ ہمارے عقیدے اور آستھا کا معاملہ ہے یہاں ہم کسی بھی طرح سے مسجد برداشت نہیں کرسکتے اور ہم تو اس جگہ پر ایک عالیشان مندر ہی بنائیں گے اور اگر کوئی روکاوٹ نظر آتی ہے تو ہم جلد ہی اس تعلق سے قانون سازی کرکے مندرکی تعمیر کا جواز حاصل کرلیں گے۔ ظاہر ہے اس طرح کی باتوں کا راست مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ قانون، دستور اور تاریخی حقائق سب ثانوی باتیں ہیں، ہم تو وہی کریں گے جو ہم چاہیں گے، ایسے میں حکومت، پارلیمانی اورعدالتی نظام کی کیا ضرورت۔ اس کیفیت میں عدلیہ کا یہ کہنا کہ فریقین عدالت کے باہر سمجھوتہ کرلیں کتنی عجیب اور مضحکہ خیز بات ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کی جانب سے بار بار یہی کہا جاتا رہا ہے کہ عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ہمیں بہر صورت منظور ہوگا، جبکہ سب جانتے ہیں کہ مقدمے کا دوسرا فریق مسلسل یہی کہتا آرہا ہے کہ مندر سے کم دوسرا کوئی فیصلہ ہمیں  منظور نہیں۔

اب ایسی صورت میں آپسی افہام و تفہیم کی بات ہی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ آج ادتیہ ناتھ یوگی اترپردیش کے وزیراعلیٰ ہیں اور نریندر مودی ملک کے وزیراعظم ہیں جن کی پشت پناہ آر ایس ایس ہے۔ بی جے پی ہے، وشوا ہندوپریشد ہے، بجرنگ دل اور دھرم سنسد ہے اور یہ سبھی رام مندر کی عالیشان تعمیر کے نہ صرف حق میں ہیں بلکہ یہ سب کے سب تحریک کے قوت و باز و بنے ہوئے ہیں۔ اب کوئی بتائے کہ کمزور و ناتواں مسلمان کیا اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ عدالت کے باہر اس تنازعے پر بات چیت کے ذریعے پیش قدمی کرسکیں۔ افہام و تفہیم کا عمل ہمیشہ برابر کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ بے حد کمزور اور انتہائی طاقت ورکے درمیان دباؤ اور سختی کا زور ہوتا  ہے اور اس طرح جو فیصلہ ہوتا ہے اسے آپسی تال میل نہیں کہا جاسکتا بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والامعاملہ ہوتا ہے جہاں جبر ہوتا ہے، ظلم ہوتا ہے اور من مانی ہوتی ہے۔ اس طرح کے فیصلے کم ازکم آج کی مہذب دنیا میں کبھی قابل تسلیم نہیں سمجھے جاتے۔ اس صورتحال میں یہ اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ موجودہ بابری مسجد مسئلے کا فیصلہ خود عدلیہ کرےتاکہ اس ملک میں ہمیشہ کیلئے ایک ایسی نظیر قائم ہوسکے کہ عدلیہ کسی فریق کی طاقت، من مانی یا کمزوری کو نہیں دیکھتی بلکہ اسے حقائق، ثبوت اور قانون کی بالا دستی عزیز ہوتی ہے اور تما م تر فیصلے حق کی بنیاد پرکئے جاتے ہیں اور ماضی سے حال تک عدلیہ ایسی ہی نظیرپیش کرتی آئی ہے۔ ورنہ بصورت دیگر ملک بھر میں بابری مسجد جیسے ہزاروں قضیئے ہیں جن پر دوسرے فریق دعویدار ہیں اور انہیں وہ عقیدے اور آستھا سے جوڑرہے ہیں سب پر بابری مسجد کا منصفانہ فیصلہ نظیر بن جائے گا.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Back to top button
Close