علی گڑھ! یہ تجھے کس کی نظر لگی۔۔۔۔۔؟

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا مشہور مصرع ہے———
’ترا علاج نظر کے سوا کچھ نہیں!‘
مگر افسوس کچھ لوگوں نے اس نظر کو بد نظری سے تعبیر کرلیا اور اسے انسانوں سے بھرے پرے مقامات،مناظر،اداروں ،تعلیم گاہوں،تربیت گاہوں و انسٹی ٹیوشن پر گرانے لگے اور وہاں کا امن و امان غارت کرنے لگےیہ لوگ سمجھنے لگے کہ اس نظر سے مقصودیہ ہے کہ ہم کسی کو چین و سکون سے نہ رہنے دیں یہاں تک کہ اپنا بھی خرمن بچے یا نہ بچے ،اس سے کوئی غرض نہیں مگر کسی اور کا نشیمن ضرور خاکستر کر دینا چاہیے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزشتہ ہفتہ شوٹ اینڈ شوٹ کا جو دردناک واقعہ پیش آیا ،اس کے نتیجے میں دو ہنستے کھیلتے، چہچاتے اور اپنے ماں باپ کی آنکھوں کے روشن ستارے دیکھتے ہی دیکھتے ہی خاک و خون میں تڑپنے لگے ،بالآخر جاں سے ہی گزرگئے اس قیامت خیز حادثے نے پورا نظام ہی درہم برہم کر کے رکھ دیا۔ان ماں باپ کی کاینات ہی تباہ ہو گئی جن کے یہ شاہ کار تھے اور جنھوں نے ان کی آنکھوں سے اپنے لیے بے شمار خواب دیکھے تھے اور لا تعداد حکمتیں و منصوبے بنائے تھے مگر ظالموں نے ان کی امنگوں و آرزوﺅں کا تاج محل ایک آن میں ہی مسمار کر کے رکھ دیااب رویے اور کوسیے کیا ہو سکتا ہےافسوس اور غم و غصے کے اظہار افسوس کے سوا اب اور کیا ہو سکتا ہے۔
علی گڑھ سے موصولہ و تجزیاتی اطلاعات کے مطابق معمولی کہاسنی کے نتیجے میں آفتاب ہال کے طلبا کے دوگروپ جن میں غازی پور گینگ کے طلبا اہم ہیں ،نے شرافت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے دوسرے گروپ کے طلبا کو گالی گلوچ دے ڈالیں جس کے نتیجے میں وہ پراکٹر آفس شکایت کرنے گئے تو حاوی گروپ نے ان کا راستہ روکا اور پھر اس سے پہلے کہ صورت حال کو سمجھا جاتا تڑاتڑچلنے والی گولیا ں دومعصوموں کو نگل گئیں اور جو بقیہ تھے وہ جان بچا کر بھاگ کھڑے ہو ئے ۔گولی زدگان میں سے ایک نے تو جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میںہی دم توڑ دیا اور ایک کی موت دہلی کے سرگنگارام ہاسپٹل میں لکھی تھی اس کا زخمی جسم وہاں تک آیا اور پھر لاش بن کر ہی واپس گیااس کے بعد سے علی گڑھ کے حالات کشیدہ ہیں اور پولیس چپے چپے پر چھائی ہو ئی ہے خبر !
اس خبر اور اطلاع کے رو شنی میں علی گڑ ھ میں پیش آمدہ اس افسوس ناک واقعے سے زیادہ افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ آخر علی گڑھ میں اس قسم کے واقعات رونما ہی کیوں ہوتے ہیں اور کیوں وہاں کے طلبا اس قدر غنڈہ گردی پر اترے ہوئے ہوتے ہیں کہ عدم برادشت کی خوبی سے بالکل عاری، ذرا سی کشیدگی اور صورت بگڑنے کا حل مذاکرات،آپسی سمجھ بوجھ اور معافی تلافی سے حل کر نے کے بجائے بندوق،کٹہ،گولی اور تشدد میں تلاش کرتے ہیں ۔کیوں ان کی تر بیت اس طرح نہیں کی جاتی کہ انھیں انسانیت کا احترام سمجھ میں آئے اور آدم کی غلطیو ںکو معاف کر نے سلیقہ وہ جانیں اس سے بھی بڑی بات یہ کہ علی گڑھ کے ارباب و حل و عقد کیوں اس طرح کے واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے یا ان میں وہ قابلیت کیوں نہیں ہے۔نفس الامر میں اگر دیکھا جائے تو یہ سوالات محض سوالات ہی بن کر رہ جائیں گے چو ںکہ علی گڑھ کے ارباب حل و عقد کی نیتیں درست نہیں ہیں ،وہا ںکے انتظامی امور کے ذمے دار مخلص نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے سینوں میں سرسید احمد خاں کا درد موجود رہا ہے ،حالاں کہ سر سید احمد خاں کی تربت اسی علی گڑھ کے احاطے میں موجود ہے پھر بھی یہ لوگ اپنی ناکارکردگیوں سے مظاہروں سے شرماتے نہیں اور نہ انھیں اس بات احساس ہوتا ہے کہ ہم چمنستان علی گڑھ کو تباہ کر رہے ہیں ،ایسی صورت میں سرسید احمد خاں کی روح پر کیا گزررہی ہوگی۔مگر اصل بات تو یہ ہے کہ
’کھویا گیا ہے تیرا جذبے قلند رانہ———!‘
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو جب بین الاقوامی دانش گاہ کے بجائے گھرسمجھ لیا گیا اور جب اس کی آئینی حیثیت و مقام آنکھوں سے اترگیا تو اب کچھ بھی کہتے، کرتے اور سمجھاتے رہیے ، ان پر کچھ اثر پڑنے والا نہیں ہے۔سب نے اپنے اپنے مفاد اس مادر علمی سے جوڑ لیے اور سرسید کی روح سے خراج مانگنے لگے
بھائی!علی گڑھ میں گینگ اور علاقیت کازور ،کمیونٹی یا زونل کمیٹیاں بنانے کی کیا ضرورت ہے۔کیا یہ لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ علی گڑھ ان کے ہی باپ کی جاگیر ہے اور کسی کا اس پر حق نہیں ہے ،ہاں! جہاں تک پڑھائی کی بات ہے تو بس پڑھیں اور ہم غازی پور والوں کے دبا ﺅمیں رہیں یا ہماری مرضیوں کے مطابق زندگی گزاریں نیز ہمارے آگے اف تک نہ کر یں ۔
یہی سچائی ہے اور یہی حقیقت بھی اس صورت حال کے بعد میں ہی کیا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ سوچ و فکر کا آدمی بھی یہ کہے گا کہ علی گڑھ میں پیش آمدہ ان واقعات کا ذمے دار بہت حد تک خود علی گڑھ ہے ،اس لیے کہ اس نے خود ہی ایسے عناصر کو پنپنے اور شرپسندی پھیلانے کے مواقع فراہم کیے ہیں جو اس کی جڑیں خود ہی کھوکھلی کررہے ہیں اور دنیا بھر میں اس کا وقار مجروح کر رہے ہیں ۔چنانچہ اگر یہی صورت حال باقی رہی ،جس کے بدلنے کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں ،تو وہ دن اب دور نہیں جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو دانش گاہ کے بجائے قتل گاہ کہا جائے گا اور علی گڑھ کی دو صدی سے زاید کی ساکھ ایک آن میں زمیں پر آگرے گی اس سے جہاں ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ ہو گا اس سے زیادہ سرسید احمد خاں مرحوم کی روح کو بے چینی و بے قراری ہوگی ان کے ارمان دکھیں گے او ران کے ان خوابوں کا جہان تباہ ہوجائے گا جو انھوں نے پہلی جنگ آزادی 1857کے بعد دیکھے تھے اور ان کے دل میں ہندوستان کے مسلمانوں کی عظیم تباہی بر بادی کے گہرے گہرے زخم تھے ۔علی گڑ ھ ان کی نشانی اور عنوان ہے ۔جسے آج کے ناخلف اساتذہ،طلبا،انتظامی عملہ اور دیگر ارباب حل و عقد دن دہاڑے مٹانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ان کے سامنے طلبا ایک دوسرے کی عزت اچھالتے رہتے ہیں اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ان کی آنکھوں کے سامنے مخصوص گروپ کے طلبا من مانیاں کرتے ہوئے گزرجاتے ہیں مگر ان کے چہروں پر ناگواری کی ایک لکیر تک نہیں کھنچتی چنانچہ اسی بد تربیتی کا نتیجہ ہے کہ علی گڑ ھ میں اس طرح کے دردناک حادثات پیش آرہے ہیں اور انہتائی محنت و مشقت اور لگن سے بنائے گئے اس نشیمن کو خاکستر کیا جارہا ہے
’یہ رنگ آسماں دیکھا نہ جائے———!‘
علی گڑھ والوں کو اس بات کا ذرا سا بھی احساس نہیں ہے کہ ان کی اس طرح کی حر کات سے ہمارے دشمن خوش ہورہے ہیں اور ان سکون مل رہا ہے۔اچھا ہے مسلمان خود ہی ایک دوسرے کی ٹوپی اچھال رہے ہیں اور ایک دوسرے کا خون پی رہے ہیں ۔اس سے بھی زیادہ رسول اعظم وآخر صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات کا مذاق اڑرہا ہے ،جو بعثت رسالت و نبوت کے اہم اورخاص مقاصد میں شامل ہے ۔انسانیت کا مذاق سرعام اُڑرہا ہے،جس کی کسی کو بھی قطعاً اجازت نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ ناحق زمین پرخون کی ہولی کھیلتا رہے۔ اگر یہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں تو ضرور اس بات سے آگاہ ہوں گے اور اگر خدانخواستہ ان کی زندگیوں میں قرآن نہیں ہے توپھر انھیں کوئی نہیں سدھار سکتا ۔
٭٭٭



⋆ عمران عاکف خان

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

سابر متی کے دیس میں: ایک دن

یہاں آدمی ہی آدمی نظر آتے ہیں مگر کسی کو کسی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔بھری پوری سڑک پر کوئی گر جائے،اٹھانے ،سنبھالنے اور سہارا دینے والا کوئی نہیں مگر پھربھی نہ جانے ایساکیا ہے اس دہلی میں کہ لوگ اس کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں ۔یہی رازجاننے کے لیے نہ جانے یہاں کتنے لوگ آئے اور اسی کے پیٹ میں سما گئے۔