ملی مسائل

غیر جانبدارانہ رویہ، رواداری اور مسلمان

مسعود جاوید

شدت پسندی اور غلو اور عدم برداشت کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور  نوجوانوں کے دل و دماغ پر حاوی ہو رہا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اکثریتی فرقہ کے متعصب عناصر اس کے حصار سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔ انہوں نے سیکولرازم کے خلاف اتنا پروپیگنڈہ کیا ہے کہ اب وہ لفظ گالی سمجھا جاتا ہے۔ (عام لوگوں کے ذہن میں سیکولرازم کا مفہوم Muslim appeasement ‘ مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی پالیسی’ راسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے) سیکولر پارٹیوں کے سربراہان بھی اس لفظ سیکولر کا استعمال اور اس لفظ اس کے معنی ، مفہوم اور روح کی وکالت کرنے میں متذبذب نظر آتے ہیں ان کو ایسا لگتا ہے کہ سیکولرازم مسلمان کا ہم معنی اور اقلیت کا مترادف synonym  ہے۔ اسی لئے ان دنوں جس طرح وہ لوگ مسلمانوں اور اقلیتوں کے مسائل پر زبان نہیں کھول کر اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں اور شاید یہ سمجھتے ہیں کہ منہ کهولنے سے اکثریتی فرقہ کے لوگ ناراض ہو جائیں گے اسی طرح سیکولرازم کا دفاع کرنے کے لئے کچھ کہنے سے ڈرتے ہیں۔

مسلم کمیونیٹی میں بهی رواداری ، غیر جانبدارانہ رویہ، باہمی تعلقات اور  مختلف مذاہب اور کلچر والوں کے ساتھ پر امن طریقے سے رہنے کی وکالت کرنے کو ہمارے بعض مسلم  احباب  "بزدلی، منافقت اور کاسہ لیسی ”  سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور اپنے تبصروں اور پوسٹ سے انصاف پسند برادران وطن کو بھی اپنی کمیونٹی سے متنفر کراتے ہیں۔ اگر آپ صلح حدیبیہ کی بات کریں تو وہ اس کی کاٹ دوسرے غزوات کی مثال دے کے کرتے ہیں۔ کیا یہ یاد دہانی کرانے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک جمہوری ملک کے باشندے ہیں جہاں کی اکثریت کا دین اور کلچر ہم سے مختلف ہیں جہاں متعدد مذاہب ، زبان ،  رسم رواج کھانے پینے اور پہننے کی عادات والے لوگ رہتے ہیں۔ ایسے ملک کے لئے بہترین نظام حکومت "جمہوری نظام” تسلیم کیا گیا ہے اور یہاں کے باشندوں کے لئے آئیڈیل ، متعدد ملکوں کے تجربات کی روشنی میں،  ” سیکولرازم” مانا گیا ہے۔ اور سیکولرازم کا مفہوم قطعاً لادینیت نہیں ہے جیسا کہ بعض مفاد پرست لوگ مذہبی تعصب کو ہوا دینے کے لئے تشریح کرتے ہیں۔ سیکولرازم کا مفہوم ہے کہ جس ملک میں یہ نافذ ہے اس ملک اور وہاں کی حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ (ملک)  حکومت کسی مذہب کے حق میں یا کسی مذہب کے خلاف کوئی کام نہیں کرے گی۔  وہاں کے شہریوں کو آزادی ہوگی کہ وہ اپنی پسند کے دین کی اتباع کرے اور جو کسی دین کو نہیں مانتے وہ بھی اپنے ایقان کے لئے آزاد ہیں ۔ سیکولرازم کا تقاضہ ہے کہ ہر شہری اپنے دین پر عمل کرے مگر دوسروں کے دین اور دینی پیشواؤں کے لئے گالی اور نازیبا الفاظ استعمال نہ کرے۔ قرآن کریم میں بھی اللہ نے ہمیں یہی حکم دیا ہے : ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ الہا (قران) یعنی ان لوگوں کو ، جو اللہ کے علاوہ کسی اور کو معبود پکارتے ہیں ، گالی مت دو برا مت کہو۔

اسی طرح قرآن نے ہمیں غیرمسلموں کے ساتھ مصالحت اور پر امن زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا ہے : قل يا ايهاالكافرون ، لا اعبد ما تعبدون ، و لا انتم عابدون ما اعبد۔۔ ۔۔۔لكم دينكم و لي دين ( قرآن ) اے (محمد ص) آپ کہہ دیجئے کہ  اے کافرو جس کی تم پوجا کرتے ہو اس کی عبادت میں نہیں کروں گا۔ اور نہ تم اس کی عبادت کروگے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ ( اس لئے کیوں نہ ہم صلح کر لیں کہ ) تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔

منشاء واضح ہے کہ اب دین کے نام پر تصادم نہ ہو۔ اس لئے اب ہمیں  اسلام کی اشاعت  اپنے اچهے اعمال، معاملات میں دیانتداری اور اخلاق کی پابندی سے کرنی ہے۔

مگر افسوس ہم اپنی اس عظیم ذمہ داری کو انجام دینے کے بجائے مذہبی جوش و جنون کو اپنے دل و دماغ پر مسلط کر لیا ہے اور غیروں کے ساتھ تصادم سے گریز کیا کرتے اپنے ہم مذہب لوگوں سے ہی دست و گریبان ہیں کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں مسلک اور مشرب کے نام پر۔

ہم غیروں کو دشمن بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ مفہوم ہمارے بہت سارے احباب کھوتے جارہے ہیں کہ کسی کی دس اچھائیوں پر اس کی ایک برائی غالب نہیں آتی۔ بات کسی فرد کی ہو  یا تنظیم کی ، ان دنوں سوشل میڈیا پر بعض لوگوں کی یہی صفات سامنے آرہی ہیں۔ جمعیت کے تعلق سے اگر ذکر کریں دہشت گردی میں ناجائز ماخوذ جوانوں کی رہائی کا یا آسام میں لوگوں کی شہریت کے سلسلے میں ان کی خدمات کا یا  الفاظ و معانی کے اعتبار سے ایک سیکولر صحافی اور اقلیتوں کا خیر اندیش کا یا دیگر اعتدال پسند سیاست دانوں کا، تو اس پر ان کے بعض منفی پہلو کا ذکر کر کے ان کی مثبت باتوں کو بیک جنبش قلم مٹا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پرفیکٹ تو کوئی نہیں ہے لیکن جس طرح کی بے باک صحافت کے ذریعے انہوں نے اقلیتوں کے کاز کی حمایت کی ہے وہ بلا شبہ قابل ستائش ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ یا کوئی اور ہمارا مکمل ہم نوا بن جائے۔ متنازع فیہ مسئلوں پر خود بہت سارے مسلمانوں کی رائے وہی ہے جو نائر صاحب کی طرف نسبت کرکے حوالہ پیش کیا گیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ تحقیر آمیز طنز "پنڈت” لکهنا  پوری برہمن برادری کو اپنے سے بیزار کرنے کے مترادف ہے۔اس طرح کی تحریروں سے آپ ملت کی خدمت نہیں کر رہے ہیں نقصان پہنچا رہے ہیں۔ غیر ملکوں میں بیٹھ کر کسی کی ” غیر جانبدارای” پر انگلی اٹھانا آسان ہے لیکن ہندوستان سے باہر جہاں آپ مقیم ہیں وہاں کے بارے میں کیا  ایک لفظ لکھنے کی جرآت کر سکتے ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close