ملی مسائل

قضیہ بابری مسجد اور مولانا سلمان ندوی صاحب سے چند گذارشیں

 اکرام الہی

بابری مسجد کی منتقلی کے تعلق سے کچھ لوگ پہلے بھی اپنی رائے پیش کرکے اسے قابل عمل اور معقول حل بتانے کوشش کرتے رہے مثلاً وحید الدین خان اور وسیم رضوی وغیرہ ماضی میں اس طرح کی رائے پیش کرچکے ہیں لیکن ان لوگوں نے منتقلی کے مسئلہ کو شرعی رخ نہیں دیا تھا بلکہ اس مسئلہ کو سیاسی اور مصلحتی اقدام مانتے اور منواتے رہے مثلا وسیم رضوی آستھا اور ضرورت کے بنیاد پر منتقلی کی بات کرتے رہے جبکہ وحید الدین خان مصلحت اور حالات کے تقاضے کو بنیاد بنا کر اس کے حل کے لیے کوشاں رہیں ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک میں رفاہی مقاصد کے لیے مسجد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل (ان کے الفاظ میں ریکولیٹ) کیا جاتا ہے اس لیے اس کو بنیاد مان کر بابری مسجد کی منتقلی اور اس سے دستبردار ہونے کے نظریہ کو تشہیر اور رواج دیتے رہے لیکن انہوں نے بھی مسئلہ کو خالص شرعی رخ نہیں دیا جبکہ آج (ناقص معلومات کے مطابق) پہلی بار کسی نامور عالم دین نے مسجد کی منتقلی کو شرعی رخ دیکر اس کی پرزور تشہیر و تلقین کی مولانا کا کہنا ہے کہ فقہ حنبلی میں اس کی گنجائش ہے نیز یہ کہ فقہ حنبلی بھی شریعت اسلامی ہی کا ایک جز ہے لہذا مسلمانوں کو اس پر عمل کرنا چاہیے بلکہ اسی پر عمل ہونا چاہیے اس مسئلہ کی فقہی تفصیل و شرائط کیا ہیں اور یہ کب اور کن صورتوں میں قابل عمل ہے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے عرض ہے کہ مولانا نے اپنی رائے کے ذریعہ سے ہزاروں مسجدوں کی بنیادوں میں دراڑ ڈال دی ہے ان کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔

ہندوستان میں ایسی ہزاروں مسجدیں ہیں جو انتہائی نازک اور حساس مقامات پر واقع ہیں کتنی ہی مسجدیں ہیں جو شاہراہ کے بیچوں بیچ واقع ہیں جس کے تعلق سے انتظامیہ نے بارہا اسے منتقل کرنے کی کوشش کی مگر مقامی لوگوں کی ثابت قدمی اور عزم و استقلال کے نتیجے میں آج تک وہ اپنی جگہ قائم ہیں مگر اب ان پر خطرات کے بادل منڈلاتے دکھ رہے ہیں مثلا دہلی میں درمیان شاہراہ واقع کناٹ پلیس کی مسجد مظفر  پور بہار میں پٹری کے بالکل بیچوں بیچ واقع جناتی مسجد اور ایسے ہی نہ جانے کتنی مسجدیں ہیں جس کی انہدام و منتقلی کی انتظامیہ نے بھرپور کوشش کی مگر اس یقین کی وجہ سے جو مسلم معاشرہ میں مسجد کے تعلق سے تھا ان کے منصوبے کو ناکام بناگیا مگر اب ان کی حیثیت شک کے دائرے میں ہے کیونکہ جب مسجد کی منتقلی ایک شرعی اور قابل قبول حل ہے تو آخر مسلمانوں کو ان مساجد کی منتقلی پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے اور شرعی حل کے ہوتے ہوئے اعتراض کا کیا حق ہے کیا انتظامیہ جناب کے اس فتوی یا منطق کو ڈھال بناکر ان مساجد کی منتقلی پر بضد نہیں ہوگی؟ کیا انتظامیہ مسلمانوں کو ایک شرعی متبادل کو منوانے پر مجبور نہیں کرے گی کیا اس وقت سمجھوتہ کا حیلہ نہیں اپنایا جائے گا؟

جناب ملک میں بہت سی ایسی مسجدیں ہیں جو مندر سے متصل منسلک یا مقابل ہیں جن میں وقتا فوقتاً شر وفساد کی نوبت آتی رہتی ہے کیا معمولی واقعات کو بنیاد بنا کر انتظامیہ جناب کے فتوی کو ڈھال بنا کر منتقلی کے لئے زور نہیں لگائے گی کیا دوسرے فرقے کے بااثر لوگ اس کا فائدہ نہیں اٹھائیں گے آخر اس وقت مسلمانوں کو ایک شرعی اور امن محافظ تجویز کے خلاف عمل کرنے کا کیا حق ہوگا کیا لوگ مسلمانوں کو شریعت چھوڑ کر ضد اور ہٹ دھرمی کی پیروی کرنے والا نہیں کہیں گے یا شدت پسندی سے جیسا کہ آپ سمجھتے ہیں مطعون نہیں کریں گے؟

محترم آپ نے اپنی تجویز میں فرمایا کہ مصالحت اس شرط پر ہوگی کہ آج کے بعد جتنے بھی متنازعہ مقام ہیں ان میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کیا جائے گا قطع نظر اس سے کہ ایسا ہوگا یا نہیں؟

گذارش ہے کہ آپ نے بابری مسجد کی منتقلی کو شرعی رنگ دے کر اس کے لیے بذات خود راہ آسان کردی ہے کیا آئندہ اگر کوئی یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا منتقلی کا حکم صرف بابری مسجد کے ساتھ خاص ہیں اور دوسرے مساجد اس سے مستثنٰی ہیں اور کس کتاب میں لکھا ہے کہ صرف بابری مسجد کو شرعی طور سے منتقل کرنا جائز ہے باقی مسجدوں کو منتقل کرنا درست نہیں ہے؟ آخر اس منطق کا کوئی حل ہے؟ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کل کلاں کو حکومت اور انتظامیہ مسلمانوں کو آپ کے مزعومہ شرعی حل کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کرے گی؟

یقین جانیے آپ کے اس مزعومہ شرعی حل نے لوگوں کے یقین ہی نہیں بلکہ ہزاروں مسجدوں کی بنیادیں متزلزل کردی ہیں امید ہے کہ آپ ایمانی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رائے پر نظر ثانی فرماکر رجوع فرمائیں گے اور ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دیں گے جو آپ کے خلوص پر سوال اٹھا رہے ہیں ہے۔

حضرت آپ کے فتوے سے ان لوگوں کی کوشش ہمت اور حوصلوں کو دھچکا لگا ہے جو کہ ویران مساجد کی باز آبادکاری کا کام کررہے ہیں (الگ بات ہے کہ آپ اپنے تئیں یہ خیال کرتے ہیں کہ مسجدوں کے باز آبادکاری کی کوششیں نہیں کی گئیں جب کہ واقعہ یہ ہے کہ سینکڑوں مسجدوں کی بازآبادکاری ہو چکی ہیں)۔

جناب آپ نے این ڈی ٹی وی کے ڈبیٹ میں بابری مسجد کے تعلق سے جو گل افشانی کی وہ ہو بہو اور لفظ بہ لفظ درج ذیل ہے۔

"مسلمانوں کا جہاں تک تعلق ہے ان کی مسجد تو باقی نہیں رہ گئی وہ 1949 میں مورتی کی جگہ بن گئی 1986 میں شیلا نیاس ہوگیا اور اس کے بعد اس کے ساتھ ساتھ 1992 میں توڑ دی گئی اس وقت سے مسجد کا ڈھانچہ ہے ہی نہیں اور مسجد نہیں ہے جب شریعت یہ کہتی ہے کہ اس کو نارمل حالات میں بھی مسجد کو شفٹ کیا جا سکتا ہے۔ "

تو اب سوال یہ ہے کہ کیا مورتی رکھ دینے سے مسجد کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے مسجد کا ڈھانچہ باقی نہ رہے تو مسجد کی حیثیت جاتی رہتی ہے کیا مسجد صرف ڈھانچہ کا نام ہے؟ خانہ کعبہ میں بت تھے تو اس کی حقیقت ختم ہو گئی تھی مسجد اقصٰی عیسائیوں کے زیر تسلط تھا تو کیا اس کی حیثیت ختم ہوگئی تھی۔

جناب اگر یہی فلسفہ ہے تو معاف کیجیے یہ کہنے کے لیے کہ آپ نے فرقہ پرستوں کو مسجدیں نابود کرنے کا ہتھیار فراہم کردیا ہے کل کہیں بھی یہ مورتی رکھ دیں گے اور مسجد منہدم کرکے یہ دعوٰی کریں گے اور اس پر بضد اور مصر رہیں گے کہ اس کی مسجدی حیثیت ختم ہوگئی ہے اس لیے دست بردار ہوجانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

خدارا ان سنگینی کو محسوس کیجیے اور مسجدوں کو خطرات کی زد سے نکالنے کی ضرورت کو محسوس کیجیے۔

جناب ہندوستان اپنی بے شمار خصوصیتوں کی بنا پر تمام عالم کی توجہ کا مرکز رہا ہے اس کے معمولی معمولی واقعات پر ساری دنیا کی نگاہیں لگی رہتی ہیں قابل ذکر ہے کہ بابری مسجد کے شہادت کی کوریج جہاں ہندوستانی میڈیا نے کی وہیں عالمی میڈیا بھی شانہ بشانہ اس کی کوریج میں شامل رہا نیز بابری مسجد کا مسئلہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے عوام کی نگاہیں جذبات اور انتظار بابری مسجد کے فیصلے کے ساتھ وابستہ ہیں مولانا علی میاں نے اسی وجہ سے کئی بار سعودی کے سفر سے گریز کیا مولانا فرماتے ہیں ۔

"میں آپ سے بتکلف کہتا ہوں کہ 9 جنوری 1993 کو میری ملک کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ جی سے دہلی میں ملاقات ہوئی انہیں تاریخوں میں مجھے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی نمائندہ اور معزز تنظیم رابطہ عالم اسلامی واقع مکہ معظمہ کی طرف سے جس کا میں فاؤنڈر ممبر ہوں دعوت نامہ وصول ہوا تھا اور سفر کے سب انتظامات تھے میں نے جانے سے اس لیے معذرت کردی کہ اگر 6 دسمبر کے واقعات اور اس کے بعد کے فسادات کا ذکر آیا اور مجھ سے سوال کیا گیا تو میں کیا جواب دوں گا جھوٹ بول نہیں سکتا سچ کہہ نہیں سکتا اس لیے میں نے نہ جانے کو ترجیح دی اور ایسا ایک دو بار پیش آیا”۔

معلوم ہوا ہندوستان میں وقوع پذیر ہونے والے معمولی معمولی مسئلوں سے دیگر ملکوں کا ایک غیر محسوس تعلق ہے ۔

اب غور کیجیے کہ بابری مسجد اور مسجد اقصی بہت چیزوں میں مماثل ہے دونوں کا تنازعہ قریب قریب ایک ہی وقت میں شروع ہوا بابری مسجد کا کیس بھی عدالت میں پیش کیا گیا اور اقصی کا مقدمہ بھی عالمی عدالت کے زیر غور آیا جس طرح بابری مسجد میں دو فریق ہیں اور دونوں اپنی دعویداری پر ثابت ہیں ویسا ہی اقصی کا معاملہ ہے دونوں کے لیے جدوجہد ہوتی رہی ہے اب سوال یہ ہے کہ اگر بابری مسجد سمجھوتہ کے ذریعے شرعا منتقل ہوسکتی ہے تو تو کیا عالمی عدالت بابری مسجد کو نظیر بناکر مسجد اقصٰی کے کیس کو کمزور نہیں کریں گی؟ کیا اس بات کی کہیں صراحت ہے کہ یہ قاعدہ کلی نہیں ہے بلکہ صرف بابری مسجد کے ساتھ خاص ہے؟

اس لیے مسئلہ کی نزاکت اور حساسیت کا ادراک کیا جائے اور ایمانی بصیرت اور دینی جرات وحمیت کا تقاضا پورا کرتے ہوئے مسئلہ کے تئیں از سر نو غور فکر کیا جائے ۔

ویسے اعتراضیہ عرض ہے کہ وحید الدین خان مسلمانوں کو دونوں جگہ سے دستبردار ہونے کا نظریہ رکھتے ہیں ۔

اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولاالضالین (آمین) ۔

باقی آپ نے جو اندیشہ بیان کیا ہے وہ مایوس کن اور حوصلہ شکن ہے اس کی بنیاد برادران وطن سے بے اطمینانی اور بد اعتمادی پر ہے اور فرقہ پرستوں کی یہی کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کو خوف زدہ اور ہراساں کرکے اپنے مطالبات اور مزعومہ منصوبے مسلمانوں پر تھوپ دیے جائیں۔

خدارا ہندوستانی مسلمان کے شرعی مسائل کو ہندوستانی علماء کے فہم اور جمہور کے مسلمات و یقینیات کے تناظر میں دیکھا جائے دیگر ممالک کی مثالیں دینے سے گریز کریں ورنہ پھر اس طرح کے مسائل آپ کا تعاقب کریں گے کہ عرب ممالک میں ہوگا سے پریشانی نہیں ہے آپ کو کیوں ہے اسلامی ممالک میں تین طلاق بین ہے یہاں کیوں نہیں ہے مسلم ممالک میں داڑھی رکھنا لازم نہیں ہے اس لیے فوج میں داڑھی رکھنے پر پابندی لگنی چاہیے بہت سے مسلم ممالک میں پردہ لازم نہیں ہے اس لیے برقعہ پر پابندی لگنی چاہیے عرب ائمہ کے خطبات حکومت کے زیر نگرانی اور منظوری سے ہوتے لہٰذا ہندوستان میں جائزہ کے لیے پیش کرنا ضروری ہے… وغیرہ وغیرہ۔

نیز یہ کہ تمام ٹی وی چائنلوں اور اخبارات میں یہ ہیڈنگ اور سرخی گردش کررہی ہے کہ رام مندر کی حمایت میں رائے رکھنے پر مولانا کو برخواست کردیا گیا جس کی بنا پر بورڈ اور مسلم طبقہ کے تعلق سے عدم رواداری شدت پسندی اور غیر جمہوری رویہ کا تاثر عام ہورہا ہے لوگ مسلمانوں کی نمائندہ شخصیات کو شدت پسند اور مخالف رائے کو برداشت نہ کرنے والا سمجھنے لگے ہیں لوگ اکابر علماء کو تنگ نظر تصور کر رہے رہیں جن میں کشادہ ظرفی حلم و بردباری کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

جبکہ یہ بات واضح ہے کہ مولانا کی برخاستگی اس وجہ کر نہیں ہوئی ہے بلکہ ادارہ کے تئیں رازداری نہ برتنے ادارہ پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے ادارہ کی حیثیت مجروح کرنے اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بنا پر برخاست کیا گیا ہے وہ بھی آنا فانا نہیں بلکہ مقررہ کمیٹی کی تحقیق کے بعد جس میں کہ اکابر علماء اور سنجیدہ شخصیات شامل تھیں اس کے بعد انہیں برخواست کیا گیا ہے۔

اگر صرف مخالف رائے رکھنے کی بنیاد پر برخاست کیا گیا ہوتا تو بیان آنے کے فوراً بعد برخاست کردیا گیا ہوتا واضح ہو کہ مولانا کی پہلی مصالحتی میٹنگ 19 جنوری کو ہوئی پھر 3 فروری کو پھر 8 فروری کو ہوئی جو کہ میڈیا میں بھی آگیا ان کی ساری ملاقات بورڈ کے علم میں تھی پھر بھی بورڈ نے ان پر کارروائی نہیں کی معلوم ہوا کہ رام مندر کی بنا پر ان کی برخاستگی عمل میں نہیں آئی بلکہ بورڈ کے اندرونی ماحول کو برسر عام لانے اس پر نازیبا اور دل آزار تبصرہ کرنے وغیرہ کی وجہ سے برخواست کیا امید ہے کہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی ان کی بر خواستگی شدت پسندی عدم رواداری یا مخالف آراء کو نہ سننے کے رویہ کے باعث ہوئی۔

امید ہے کہ احباب ان باتوں کی سنگینی پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور فرمائیں گے اور اس کے تعلق سے سنجیدہ اور پرخلوص کوشش فرمائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close