ملی مسائل

مدارس اسلامیہ کا ایک مختصر جائزہ

تعلیم کے فروغ میں اہم کردار نبھا رہے ہیں دینی مدارس

اسلامی مدارس کا علم کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔ خاص طور پر وہ غریب اور مفلس بچے جن کے پاس نہ پیسے ہیں اور نہ ہی ان کے والدین ان کے کھانے پینے کا انتظام کرسکتے ہیں، انھیں علم کی دولت سے مالا مال کرنے میں مدارس نے اہم رول ادا کیا ہے۔اس وقت ملک کے جن جن خطوں میں مسلمان آباد ہیں وہاں وہاں دینی مدرسے بھی پائے جاتے ہیں۔یہ سلسلہ بھارت میں قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ جدید ہندوستان کا پہلا مدرسہ یوپی کے دیوبند میں 1866 میں قائم ہوا لیکن اس سے پہلے ہی لکھنؤ میں فرنگی محل مدرسے کی تنصیب اورنگ زیب کے زمانے میں ہو چکی تھی۔اسی کے نصاب درس نظامیہ کو دارالعلوم نے بھی قبول کیاجو آج بھی وہاں لاگو ہے۔ دیوبند کے بعد 1894 میں لکھنؤ میں ندوہ قائم کیا گیا۔ دیوبند مدرسہ تو بعد میں ایک نظریے میں تبدیل کر دیا گیا اور فی الحال ملک وبیرون ملک میں دیوبندی نظریہ کافی مقبول ہے۔ اسی نظریے کی کوکھ سے تبلیغی جماعت کا جنم بھی ہوا جو تنقیدوں کے نشانے پر رہتے ہوئے اصلاحی کام بھی کرتی رہی اور اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مسلم تنظیم ہے جو دنیا کے دو سو سے زیادہ ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔بیشتر مدرسے حکومت سے ایک پیسے کی بھی مالی مدد نہیں لیتے۔ان میں سے دیوبند کا بجٹ 40۔45 کروڑ اور ندوہ کا قریب 20 کروڑ سالانہ ہے۔ ان دونوں مدرسوں میں اسلامی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم کا بہترین انتظام ہے۔گزشتہ صدی کے اوائل میں بریلی میں مدرسہ منظر اسلام اور مدرسہ مظہراسلام کا قیام بھی عمل میں آیا اور ابتدا میں یہاں سے باصلاحیت علماء کی فراغت بھی ہوئی مگر یہ سلسلہ زیادہ دن نہیں چل پایا۔حالانکہ ان دنوں بریلی میں کئی اہم مدرسے قائم ہوئے ہیں جو نہ صرف اپنے رقبے کے لحاظ سے وسیع وعریض ہیں بلکہ اپنی خدمات کے تعلق سے بھی قابل توجہ ہیں۔ علاوہ ازین شیعہ، بریلوی، اہل حدیث اور جماعت اسلامی نظریات کے مدرسے بھی بڑی تعداد میں ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور، جامعہ سلفیہ بنارس، جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ، جامعۃ الاصلاح سرائے میر، الثقافۃ السنیہ کیرل، ملک کے نامی گرامی مدرسے ہیں، جن کے فارغین دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے مدرسے ہیں جوسرکاری امداد نہیں لیتے ہیں اور کامیابی سے چل رہے ہیں۔ دولتمند مسلمانوں کے چندے اور ہر سال نکلنے والی زکوۃ سے ان مدرسوں کا خرچ چلتا ہے۔مدارس کا کام دین اسلام کی تبلیغ کرنا ہے۔ ان میں مولوی تیار کئے جاتے ہیں جو مساجد میں نماز پڑھاتے ہیں اور قرآن پاک کے احکام کی تبلیغ کرتے ہیں لیکن لکھنؤ کے ایک مدرسے سلطان المدارس سے معروف ترقی پسند شاعرکیفی اعظمی نکلے جو ’’اِپٹا ‘‘میں سرگرم رہے اور کمیونسٹ تحریکوں کے روح رواں رہے۔ نغمہ نگار مجروح سلطانپوری بھی مدرسے کے پڑھے ہوئے تھے۔ملک کے اولین صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کی ابتدائی تعلیم مدرسے میں ہوئی تھی۔سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ابتدائی تعلیم غیر منقسم پنجاب کے ایک مدرسے میں ہوئی تھی۔یوپی کے لیڈر سوامی پرساد موریہ بھی مدرسے کے تعلیم یافتہ ہیں۔
ملک بھر کے مدرسوں کا مختصر جائزہ
بہار میں 3700سے زیادہ مدرسے بہار مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں۔یہاں مدرسوں میں دینی نصاب کے ساتھ ساتھ اسکولوں کا نصاب بھی پڑھایا جاتاہے اور مدرسوں کی سندوں کو سرکاری طور پر تسلیم بھی کیا جاتا ہے۔مدھیہ پردیش میں 7000کے قریب مدرسے ہیں جن میں سے لگ بھگ 1500سرکاری منظوری پاچکے ہیں اور انھیں گرانٹ ملتا ہے۔ ان مدرسوں کے امتحانات کی نگرانی سرکار کی طرف سے کی جاتی ہے۔مغربی بنگال میں غیرسرکاری مدرسوں کی کثرت ہے مگر 600مدرسے سرکاری ہیں۔ ممتابنرجی سرکار اس معاملے میں کچھ سنجیدہ قدم اٹھا رہی ہے۔ اس نے انگلش میڈیم مدرسہ کا تجربہ کیا ہے اور 500کروڑروپئے مدرسہ ایجوکیشن کے لئے بجٹ میں مخصوص کیا ہے۔گجرات میں 150منظور شدہ مدرسے ہیں جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دیتے ہیں۔یہاں بڑی تعداد چھوٹے مدرسوں کی بھی ہے جو سرکاری امداد کے بغیر چلتے ہیں۔کیرل میں مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے مدرسے بھی زیادہ بہتر طریقے سے چلا رہے ہیں۔ یہاں 12,000کے لگ بھگ مدرسے ہیں جو مختلف تنظیموں کے تحت چلتے ہیں اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دیتے ہیں۔یہاں مدرسوں میں سی بی ایس سی بورڈ کا نصاب بھی چلتا ہے، یہان مدرسوں میں پڑھانے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر ہے۔آسام میں 707دینی مدرسے ہیں جو الگ الگ سطح پر سرکاری منظوری رکھتے ہیں۔ یہاں کے مدرسوں کے نصاب میں تمام عصری علوم شامل ہیں ۔علاوہ ازیں سینکڑوں غیرسرکاری مدرسے بھی یہاں چلتے ہیں۔تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں لگ بھگ 6000مدرسے ہیں۔ان میں سے بیشتر مدرسے درس نظامیہ کی تعلیم دیتے ہیں مگر عصری علوم کی تدریس بھی ہوتی ہے۔ان میں 1200مدرسے دینی مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں۔ریاست جموں وکشمیر میں تقریباً 700مدرسے ہیں جو سرکاری ہیں اور ان کے امتحانات کا اہتمام بھی حکومت کی طرف سے کیا جاتا ہے۔
مدرسوں کی ریاست اترپردیش
اترپردیش میں ملک کے تمام بڑے بڑے مدرسے موجود ہیں۔حکومت سے تسلیم شدہ مدرسوں کی تعداد 7000سے تجاوز کر چکی ہے ان میں سے 466 مدرسے سرکاری گرانٹ کی فہرست میں شامل ہیں۔ یعنی ان مدرسوں کے ٹیچروں کی تنخواہ حکومت دیتی ہے۔ تاہم یہاں بعض لوگ جعلی مدرسے بھی کھول کھول بیٹھے ہیں اور بدعنوانی کی خبریں بھی عام ہیں ۔ گزشتہ دنوں تقریبا سو ایسے ہی مدرسوں کی منظوری ختم کرنے کی کارروائی ہوئی۔ یوپی مدرسہ تعلیم بورڈ کی امتحانات میں کھلے عام نقل پر بھی حکومت کارروائی کر چکی ہے ،حالانکہ یہ سب یہاں کے سرکاری اسکولوں میں بھی عام ہے۔یوپی سے ملحقہ قریب 550 کلو میٹر طویل نیپال بارڈر والے یوپی کے علاقوں میں موجود ہزاروں مدرسوں کو لے کر فی الحال حالات پرسکون ہیں، لیکن یوپی کی سیاست کا یہ مستقل محور رہا ہے۔ نوے کی دہائی کے وسط میں لکھنؤ میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دہشت گردوں کی تلاش میں اے ٹی ایس کے چھاپے سے ماحول بہت گرمایا تھا۔ بی جے پی حکومت میں نیپال سے ملحقہ علاقوں کے مدرسوں کی جانچ کے حکم سے بھی بہت ہنگامہ مچا تھا۔ لیکن یوپی کے ایک مدرسے سے نکلے وسیم الرحمٰن آئی اے ایس بن گئے تو عبید قریشی ایم بی بی ایس ڈاکٹر۔ بہت سے مدرسہ کے طالب علم انڈین سول سروسیز میں ہیں تو کئی عدالتی خدمات میں ہیں۔ یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور میڈیا میں بھی مدرسوں کے فارغین نظر آتے ہیں۔
شکوک کے گھیرے میں
بھارت ایک سیکولرملک ہے اور یہاں کے دینی مدرسے بھی امن وامان اور قومی یکجہتی میں یقین رکھتے ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں دہشت گردی کا دور دورہ ہے مگر یہ ہندوستانی مدرسوں کی امن ویکجہتی کی تعلیم کا اثر ہے کہ بھارت میں اس قسم کی سرگرمیوں کو فروغ نہیں مل پایا ہے۔ جن لوگوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا وہ مدرسہ پس منظر کے نہیں تھے،حالانکہ وہ بھی یکے بعد دیگرے باعزت رہائی پارہے ہیں۔ یعنی انھیں جھوٹے مقدموں میں پھنسایا گیا تھا۔مدارس کے خلاف غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جن کا ازالہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ مدرسوں کے دروازے غیرمسلم بھائیوں کے لئے بھی کھلے ر ہیں اور انھیں وقتاً فوقتاً مدعو کیا جاتا رہے۔
مسلمانوں کے لمحہ فکریہ
مدرسون کی جدیدکاری کے سلسلے میں آج خود مسلمانوں کو غور وفکر کی ضرورت ہے۔اگر مدرسے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دیں تو ان کی طرف طلبہ کی رغبت بڑھے گی اور مدرسوں کے فارغین کو روزگار کے بہترمواقع فراہم ہونگے۔ جہاں ہم قرآن وحدیث کی تفہیم کے لئے قدیم عربی پڑھاتے ہیں وہیں ان بچوں کو جدید عربی بھی پڑھائی جائے تو خلیجی ممالک میں انھیں بہتر روزگار مل سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی طرف سے ایسی اسکیمیں لائی جائیں جن کے تحت طلبہ کے لئے اسکل ٹریننگ اور ورکشاپ کا اہتمام ہو اور انھیں مختلف کاموں کی تربیت دی جائے۔ اگر ہم نے عالمی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے مدرسوں کے طلبہ کو تربیت فراہم کی تو یقین جانیں کہ بیرون ملک انھیں اچھے مواقع حاصل ہونگے اور ہمارے ملک کوخوب زرمبادلہ ملے گا جس سے ان کا اپنا گھر تو چلے گا ہی، ملک کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ظاہر ہے کہ دینی مدرسوں نے ہی ، جابر بن حیان،ابوعلی سینا،ابن ہیثم اور ابن رشد جیسے سائنسداں پیدا کئے تھے جوسائنس کی دنیا میں انقلاب کا سبب بنے ،آج بھی اگرہم اسی راستے پر چلے تو علمی دنیا میں انقلاب پیدا کرنا کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

غوث سیوانی

غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close