ملی مسائل

مدارس اسلامیہ کی سسکتی آہ وفغاں

محمدصابرحسین ندوی

ہندوستان پر مسلم حکمرانوں کے استیصال اور برطانوی حکومت کی یلغار کے ذریعہ نہ صرف مسلم حکومت بلکہ اسلامی تعلیمات، تہذیب و ثقافت اور اتحاد و اتفاق بلکہ کہا جائے کہ انسانی عروج کی شاہ کلید اور انابت الی اللہ کے علمبردار اور انسانی حقوق کے سنتری کی پامالی کی گئی، علم دوست، محبت شناس اور عقل شناس کی بے حرمتی کے ساتھ للہیت و تقوی اور شب بیداری کے حاملین کو رسوا کیا گیا، ایسالگتا تھا کہ اب اسلام اور مسلمانوں کا وجود قصہ پارینہ ہونے کو بیتا ب ہے۔ ایسے میں حصار خاص کی فکر اور نسل نو کی اسلامی تربیت وپرداخت کیلئے مدارس اسلامیہ کا حصن حصین قائم کیا گیا؛جہاں سے نہ صرف اسلامی اقدار واخلاق، فکری علو برتری اور تعمیر انسانیت کے ساتھ بریطانوی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے پر محاذ آرائی کی گئی بلکہ وقت کے صوفیاء، بزرگان دین اور اولیاء کرام کی نفس کشی و نفس کوسی اور ان سے پیدا ہونے والے مصنفین ومولفین کی جدید طرز فکر وانقلاب کی بنیاد ڈالی، حضرت نانوتوی، حضرت گنگوہی اور حاجی امداداللہ مکی جیسے مجاہدین کی سپہ سالاری اور حضرت شیخ الہند کی امارت سے لیکر حضرت تھانوی، مفتی شفیع صاحب رحمہم اللہ کی بیدار مغزی و حمکت آرائی تو وہیں ندوۃالعلماء کی فکری و اصلاحی تحریک کی بنا پر علامہ شبلی، سید سلیمان ندوی، عبدالباری ندوی اور عہد ساز شخصیت سیدی علی میاں ندوی رحمہم اللہ انہی کی یادگار ہیں ،

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی صلاحیت و صلابت اور فکری پختگی کا اظہار دور فتن اور پرآشوب حالات میں کیا جاتاہے، لوہا بھی بھٹی اور آگ کی تپش میں پگھل کر، ہتھوڑے کی کاری ضرب کے بعد ہی قابل استعمال ہوتا ہے، چنانچہ ان سر فروشوں ، بادیہ نشینوں نےاپنے زمانے میں اسلام کی افادیت وحقانیت ثبت کردی؛لیکن آزادی ہند اور جمہوریت کے نام پر مسلمانوں کو بے حس کرنے اور بے وقعت کرکے آبائی میراث و مراکز اور علوم اسلامیہ سے دست کش کرنے پر آمادہ ہے، زر و جاہ کے حریص، شہرت و خود پسندی اور خود بینی میں مغرور کو حکومتی مدد و نصرت کے ذریعہ اور مدارس اسلامیہ کو مدرسہ بورڈ کی لعنت کے ذریعہ انہیں غارت کرنے کے در پہ ہے، اہل نظر بخوبی واقف ہیں کہ کلکتہ، بہار اور یوپی کی عظیم الشان درسگاہیں اسی حرص کی بلی چڑھ گئیں ۔

 دراصل اگر کوئی قوم پژمردنی، بےحسی اور نفع ونقصان کی تمیز بے پرواہ اور چلتی مشین کا پرزہ یا کسی اسٹیج پر نقلچی ہو جائیں ؛ان میں تحریک و انقلاب کا جذبہ مفقود اور کچھ کرگزرنے کی صلاحیت اور امت مسلمہ بلکہ انسانیت کیلئے خیر کا داعیہ نڈھال ہوجائے تو وہ ذخیرہ اسلاف تو کیااپنی اساس و بنیاد تک کو باقی رکھنے سے قاصر ہوجاتی ہے، آج مدارس اسلامیہ کی درو دیواریں انہی مخلصین اور نابغہ روزگا ر کی راہوں پر پلکیں بچھائے ہوئی ہیں وہ پھر کسی عہد ساز شخصیت اور جواں مرد، قلندرانہ اوصاف کے حاملین کی مطلوب ہیں ، نگہ بلند اور سخن دلنواز کے ساتھ مجدد و مصلح کی راہیں تکتی ہیں ، اور ان فقیر بے نوا کو دم گرفتہ صدائیں لگاتی ہیں جنہوں نے پورے کے پورے ملک کو قلبی حرارت اور ایمانی نور سے منور کردیا تھا، اور نظام فکر وتعلیم پر اور مغلیہ حکومت کے زوال پر پھیلی ہوئی عام مایوسی وپسپائی کو علوم شریعت اور ایمانی جہد وجہاد کے ذریہ زندگی کی نئی روح پھونک دی تھی، اوروہ زمانہ’’ نگاہ مرد مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں ‘‘کا آئینہ دار ہوگیا تھا۔

 یہ عہد تکنیکی اور تحقیقی عروج و اقبال اور نئے علمی شعبوں اور صیغوں کا ہے، اوراختصاص وافکار کی بلندیوں اور منفعت کو زمانے میں ثابت کردینے بلکہ مسلط کردینے کا زمانہ ہے، لیکن زہے افسوس! ایسے دور میں مدارس اسلامیہ کا جمود، ماضی کے علوم پر قناعت، دقیق النظری اور علمی وسعت سے دوری بلکہ ذمہ داریوں کا احساس اور شعور تجدید علم(نصین کے علاوہ) کی کمی نے قومی خیانت کا مرتکب بنادیا ہے، ذمہ داروں ، عہدے داروں کی انانیت، شہرت، خود غرضی، اور خود پسندی، شخصی برتری یا خاندانی برتری نے پیر جمالئے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ گویا الف لیلی اور اغانی کی تاریخ ادبی میں جی رہے ہوں ، جو دوسروں کا پیٹ کاٹ کر اپنا پیٹ بھرنے، اور دوسروں کی محنتوں اور عرق ریزی کا ثمرہ کھانے کے عادی ہوگئے ہوں ، اور اپنے اردگرد خسیس النفس، دنی الطبع، بے دماغ اور ضمیر فروشوں کی ایک ٹولی کو پسند کرتے ہوں ، جنہوں نےچاپلوسی، خوشامد اور بے گناہوں کے خلاف سازش کے علاوہ کوئی فن نہ سیکھا ہو اور جن کی آنکھوں کا پانی مرچکا ہواور ان کا شعور و احساس فنا ہوگیا ہو۔

 وہ مدارس اسلامیہ جس کی حقیقت وافادیت سیدی حضرت مولانا علی میاں ؒ نے یوں بیان کی ہو’’’’میں مدرسہ کو ہر ادارہ سے بڑہ کر مستحکم، طاقت ور، زندگی کی صلاحیت رکھنے والا، اور حرکت و نمو سے لبریز سمجھتا ہوں ، اس کا ایک سرا نبوت محمدی سے ملا ہوا ہے، تو دوسرا اس زندگی سے، وہ نبوت محمدی کے چشمہ حیواں سے پانی لیتا ہے، اور زندگی کی ان کشت زاروں میں ڈالتا ہے، وہ اپنا کام چھوڑ دیں تو زندگی کے کھیت سوکھ ساجائیں اور انسانیت مرجھانے لگے، نہ نبوت محمدی کا دریا پایاب ہونے والا ہے، نہ انسا نیت کی پیاس بجھنے والی ہے، نہ نبوت محمدی کے چشمہ فیض سے بخل اور انکار ہے، نہ انسانیت کا کاسئہ گدائی کی طرف سے استغناکا اظہار، ادھر سے ’’انما انا قاسم واللہ یعطی‘‘کی صدائے مکرر ہے، تو ادھر سے ’’ھل من مزید، ھل من مزید‘‘کی فغان مسلسل‘‘۔ مزید لکھتے ہیں :’’مدرسہ سے بڑھ کر دنیامیں کونسا زندہ متحرک اور مصروف ادارہ ہو سکتا ہے، زندگی کے مسائل بے شمار، زندگی کے تغیرات بے شمار، زندگی کی ضرورتیں بے شمار، زندگی کے رہزن بے شمار، زندگی کی تمنائیں بے شمار، زندگی کے حوصلہ بے شمار، مدرسہ نے جب زندگی کی رہنمائی کی اور دست گیری کا ذمہ لیا تو اسے اب فرصت کہاں ؟۔ دنیا میں ہر ادارہ، ہر مرکز، ہر فرد کو راحت اور فراغت کا حق ہے، اس کو اپنے کام سے چھٹی مل سکتی ہے، لیکن مدرسہ کو چھٹی نہیں ، دنیا میں ہر مسافر کیلئے آرام ہے، لیکن اس مسافر کیلئے راحت حرام ہے‘‘۔ (پاجاسراغ زندگی:۱۲)، اورعلامہ اقبالؒ نے ایک شاکی مدارس مرد ناداں کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہو ئے کہا ہو:’’میاں ! میں بھی کبھی مدارس کا شاکی ہوا کرتا تھا، لیکن جب سے اسپین کا دورہ کیا اور وہاں پر آٹھ سو سالہ حکومت کے باوجود اسلا می تہذیب و تمدن کو سمندر کی عمیق گہرائی میں غوطہ لگا تے دیکھا تو یقین ہو چلا کہ؛ہندوستان کو اسپین نہ بننے دینے کی گر کوئی تر کیب ہو سکتی ہے تو وہ مدارس کا قیام ہے‘‘۔

 لیکن عصر حاضر میں مدارس اسلامی کی زبوں حالی وافسردگی اورآج اس غیر طبعی حالت اور سسکتی و کراہتی آہ و فغاں کو لکھتے ہوئے مستقبل کا مؤرخ حیران وششدرہوجائےگااور اس کے قلم وقلب پر رعشہ طاری ہوجائے گا ؛وہ کیونکر لکھے گا کہ ایک طرف امریکی، یوروپی اور دیگر عالمی یونیورسٹیوں کے طلباء جہاں آرائی و جہاں بینی کے تار بن رہے تھےاور ستاروں پر کمندے ڈالنے اور بحر وبر کو تسخیر کرنے کامنصوبہ بناسرہے تھے، تو وہیں خیر امت کے حاملین قرآن و سنت کے فیض یافتہ دقیق عبارتوں کی ریشہ دوانیوں اور اختلافات کی کی پیوبندکاریوں بلکہ کٹ حجتی کے ساتھ مسلک و مشرب کے ثبات پر صلاحیتوں کو صرف کئے جارہے تھے بلکہ ان میں بڑی تعداد محض مسجدوں کی امامتوں میں امت کی قیادت اور یومیہ ٹیوشنوں میں دعوت کا اعلی معیار تلاش کر رہی تھی، اور یہ بھی کہ ان مدارس میں لگا یاہوا دس سالہ تخم اس قابل بھی نہ ہوسکتا تھا کہ دینی فہم و ادراک کی صلاحیت تو کجا خود ذاتی صلاحیت اور ارکان دینیہ سے بھی گہری واقفیت حاصل کرسکیں ، رہی بات عصری تقاضوں کو سمجھنے، نئے فتنوں سے آگاہی، ماہرین فن اور اہل نقد ونظر کی نگرانی ورہنمائی میں ناقدانہ نظر ومحققانہ مطالعہ کرنےاورسیاسی شعورواحساس بیدار کرنے اور زخم خوردہ انسانیت پر پھایہ رکھنے کی بات تو بھلا کیوں کر ممکن ہو!

 راقم الحروف مدرسہ اسلامیہ ہی کا ایک طالب علم اور اسی منبع و مشرب کا خادم اور خوشہ چیں ہے، <مذکورہ سطور سے خدارا! مدارس اسلامیہ کی بے توقیری یا احسان فراموشی نہیں بلکہ احسان شناسی کے جذبے اور ’’المرأ أعلم بدارھا‘‘کے تحت خوبیوں کی تحسین اور نقائص کو دور کرنے بلکہ درد دل کی نمائندگی میں لکھی گئی ہیں ، راقم کا اب بھی ایمان ویقین ہے کہ امت اسلامیہ بلکہ انسانیت کی ڈوبتی کشتی کو کنارہ لگانے کا ہنر، مشکات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی اور سرچشمہ ہدایت وکامیابی کا عنصر انہیں پراگندہ حال وپراگندہ بال کے پاس ہے، اور خود غرضی ونفس پرستی او علوم اسلامیہ کے ساتھ سودےبازی وسنگ دلی اور بےدردوں کا سا سلوک کرنے والوں کا چراغ؛چراغ سحری کی طرف مائل ہے، جس کا تیل ختم ہوچکا ہے، اس کا فتیلہ جل کر خاک پوگیا ہے اور وہ بجھ جائے گا خواہ ہوا کا جھونکا آئے یا نہ آئے، بس ضررت ہےکہ:

شراب کہن پھر پلا ساقیا

وہی جام گردش میں لا ساقیا

ہری شاخ ملت تر نم ے ہے

نفس اس بدن میں ترے دم سے ہے

تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے

دل مرتضی، سوز صدیق دے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close