ملی مسائل

مدارس میں سائنسی تعلیم کا اجراء خوش آئند تو ہے مگر

ڈاکٹر خالد اختر علیگ

خبر ہے کہ اتر پردیش کی یوگی حکومت منظور شدہ اور امداد یافتہ مدارس میں سائنس، ریاضی اور سماجی علوم کی تعلیم کے لئے این سی آر ٹی کی کتابیں نصاب میں شامل کرنے کا ارادہ کر رہی ہے۔ اترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ دنیش شرما نے ٹوئٹ کر کے بتایا ہے کہ ۲۰۰۰؍ سرکاری مدارس میں این سی ای آرٹی کی کتابوں سے تعلیم دی جائے گی، مدرسہ بورڈ اس کے لئے تیاری کر رہا ہے۔ ان کے بقول مدرسوں میں جدید موضوعات کے ساتھ ساتھ طلبہ کو سائنس اور ریاضی کا مطالعہ کرنا لازمی ہوگا۔ انہوں بتایا کہ حکومت نے مدرسوں میں کورس کو بہتر بنانے کے لئے ایک ۴۰؍رکنی کمیٹی بنائی تھی، کمیٹی نے حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت مدارس میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے اردو، انگریزی، ریاضی، سائنس اور سوشل سائنس کو لازمی کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندی اور انگریزی کے علاوہ، مدارس میں دیگر مضامین کی تمام کتابیں اردو میں ہوں گی، جن میں ریاضی اور سائنس بھی شامل ہیں۔

ریاستی حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے تقریباً ۱۷۰۰؍کروڑ روپے مختص کیے ہیں، منظورشدہ مدارس اور پرائمری اسکولوں میں جدید تعلیم فراہم کرنے کے لئے حکومت نے۳۹۴؍ کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ اتر پردیش میں کل ۱۹۱۴۳؍سرکاری طور پر مدارس ہیں جن میں سے ۵۶۰؍کو امدا د بھی ملتی ہے۔ مدرسہ بورڈ کے مطابق ان مدرسوں میں ابھی عالیہ میں ۳۷۷۲۹۵؍تحتانیہ(درجہ اول تا پنجم) میں ۸۳۳۴۰۰؍اور فوقانیہ(درجہ ششم تا ہشتم) میں ۵۸۷۱۰۰؍طلبہ و طالبات ہیں۔ ۸۵۲۱؍مدرسے تجدید کاری اسکیم کے تحت امداد پارہے ہیں جس کے تحت سائنس، کمپیوٹر جیسے مضامین کی تعلیم ہورہی ہے، نیز ۱۴۰؍مدارس منی آئی ٹی آئی اسکیم تحت کاروباری اور صنعتی حرفت کی تعلیم دے رہے ہیں۔

 مدارس میں این سی آر ٹی کی بارہویں جماعت تک سائنس وریاضی کی کتابوں کے نصاب میں داخلہ کے اعلان نے ملی رہنماؤں بالخصوص مدارس کے منیجران کو حیران کر دیا ہے، علماء کرام کا وہ طبقہ جو مدارس میں عصری تعلیم کا مخالف ہے وہ اسے مدار س کے خلاف سازش قرار دینے پر آمادہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مدارس علوم دینیہ کی تحصیل کے لئے قائم کئے جاتے ہیں نہ کہ روزگا ر کے حصول کے لئے۔ لیکن علماء کرام کا ایک طبقہ جو مدارس میں جدید تعلیم کا حامی ہے اور اس کی ضرورت بھی محسوس کرتا ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے افراد نہ صرف ایک عالم بنیں بلکہ وہ دنیاوی علوم میں بھی کامل ہو کر مخلوق خدا کی خدمت انجام دیں۔ بھا جپا کی اقلیت دشمنی نے اس فیصلہ کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے، کیونکہ عمومی تاثر یہی ہے کہ مدارس میں جدید نصاب کا داخلہ مدارس کی روح کو ختم کردے گا اور اس کا اصل مقصدجو کہ قال اللہ اور قال الرسول ہے فوت ہوجائے گا۔ بلاشبہ مدارس اسلامیہ ہندوستان میں مسلم ملت کا قلعہ ہیں جہاں سے دین کی حفاظت کا کام کیا جاتا ہے، مدارس نے اس کے لئے بہت قربانیاں بھی دی ہیں، یہ خوف بلا وجہ نہیں ہے کہ اس قدم سے مدارس اپنے اصل مقاصد سے کافی دور ہوجائیں گے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ مدارس کے بیشتر فارغین تلاش معاش کے لئے کافی پریشان رہتے ہیں جس کی وجہ سے دین کی تبلیغ و اشاعت کا کا م جو ان مدارس کے قیام کا متمع نظر ہے متاثرہوتا ہے۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ مسلمانوں کی حالت زار کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے اس الزام کی قلعی کھول کر رکھ دی کہ مسلمان بنیاد پرست ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کو صرف مذہبی تعلیم دیتے ہیں، رپورٹ کے مطابق صرف چار فیصد مسلم بچے ہی مدارس میں داخلہ لیتے ہیں، بقیہ۶۶؍ فیصد سرکاری اسکولوں میں جب کہ۳۰؍فیصد پرائیویٹ اسکولوں میں ہیں، سچر رپورٹ کے حوالہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسکولوں، کالجوں اوریونیورسیٹیوں میں بھی مسلمانوں کی تعداد انگلیوں پر گنے جانے کے لائق ہے۔ رپورٹ میں بحیثیت مجموعی مسلمان اس ملک میں انتہائی پسماندہ ہیں، نہ تومعاشی طورپرمضبوط ہیں، اورنہ ہی سماجی طورپردیگرقوموں کے مقابلہ میں اچھی پوزیشن میں ہیں۔ اس لئے یہ بات سمجھ سے پرے ہے کہ یوگی حکومت کو مدارس کے طلبہ کے لئے اتنی ہمدردی کیوں پیدا ہوگئی کہ وہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی  پسماندگی دور کرنے کے کسی فارمولے کو پیش کرنے کے بجائے ان مدارس کو ہی سدھارنے میں مصروف ہے۔

 جہاں تک بات یہ ہے کہ مدارس میں سائنس و ریاضی جیسے مضامین کی تعلیم اردو زبان میں دی جائے گی تو اس مسئلہ پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اردو زبان میں ان موضوعات کو پڑھانے کے لئے اساتذہ کہاں سے آئیں گے، اتر پردیش جہاں اردو ذریعہ تعلیم کا شاید ہی کوئی اسکول ہوگا، اساتذہ کا ملنا نا ممکن ہے، ملک کے دستور نے ہر شہری کو ابتدائی تعلیم اپنی مادری زبان میں حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن ملک کی سرکاروں نے آئین کی طرف سے عطا کی گئی اس نعمت کو چھین لیا ہے۔ ملک کے زیادہ تر مسلمان اردو کو اپنی مادری زبان تصور کرتے ہیں، لیکن چونکہ سرکاروں نے ان کی ابتدائی تعلیم کا انتظام اردو میں نہیں کیا ہے، اس لیے وہ دوسری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے ان تمام علاقوں سے دھیرے دھیرے اردو ختم ہوتی جا رہی ہے، جہاں پر کسی زمانے میں اردو زبان نے انقلاب برپا کیا تھا۔ اتر پردیش میں تو اردو ذریعہ تعلیم ملک کی آزادی کے بعد ہی ختم کردیا گیا تھا، پچھلی سماجوادی حکومت نے بھی مسلمانوں سے مسلم اکثریتی علاقوں میں اردو میڈیم اسکول قائم کرنے کا وعدہ کیا تھالیکن اس وعدہ کا اثر پورے پانچ سال تک نظر نہیں آیا۔

سچر کمیٹی نے بھی سابقہ یوپی اے سرکار سے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر پورے ملک میں اردو بولنے والی آبادی کا پتہ لگائے اور پھر ان جگہوں پر اردو میں پرائمری ایجوکیشن کا انتظام کرے، لیکن افسوس کہ کانگریس کی سرکاروں نے پورے ملک سے اردو کو ختم کرنے میں ایک بڑا رول ادا کیا اور حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جہاں جہاں اردو میڈیم سرکاری اسکول ہیں، وہ سرکاروں کی اندیکھی کی وجہ سے ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ مدارس کے اساتذہ جنہوں نے کبھی سائنس جیسے موضوعات نہیں پڑھے ہیں کیا وہ اس کی تدریس کر پائیں گے۔

اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی حالت ویسے بھی ناگفتہ بہ ہے، جہاں سے ہر سال ایسے ہزاروں طلبہ عربی و فارسی کے کورسز کے امتحانات پاس کرتے ہیں جو نہ صرف ان زبانوں سے نا واقف ہوتے ہیں، بلکہ وہ اپنے متعلقہ کورس کا نام بھی صحیح تلفظ سے ادا کرنے میں قاصر ہوتے ہیں۔ بورڈ سے ملحق اور امداد یافتہ مدارس میں تعلیمی نظام مفقود ہے وہ صرف اس لئے کہ بیشتر مدارس کے منیجران نے اپنے نااہل قریبی رشتے داروں کو اساتذہ کے طور پر ملازمت دے رکھی ہے۔ اور پھر مدارس کا نصاب جو درس نظامی پر مشتمل ہے کافی زخیم ہے، ان نصاب کے ساتھ نئے مضامین کی تدریس طلبہ کے لئے بار گراں سے کم نہیں ہوگی، کس طرح سے اس نصاب کی تکمیل ہوپائے گی، ایک پریشان کن سوال ہے، اس صورتحال میں یوگی حکومت کا فیصلہ سراب کی مانند لگتا ہے جو کہ دور سے دیکھنے سے  امید کی کرن تو جگا تا ہے مگر قریب پہنچنے پر مایوسی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں لگتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

خالد اختر علیگ

ڈاکٹر خالد اختر علیگ معالج اور آزاد کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close