ملی مسائل

مدرسہ ڈسکورس: چند وضاحتیں

محمد عرفان ندیم

جب سے’مدرسہ ڈسکورس‘ کے نئے داخلوں کا اعلان ہوا ہے تب سے اس ڈسکورس کے بارے میں بحث و مباحثہ اور گفت و شنید جاری ہے۔ پاکستان میں ڈسکورس کے منتظم عمار خان ناصر صاحب نئے داخلو ں کے اعلان کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں کے بارے میں فوقتا فوقتا سوشل میڈیا پر اپنی آراء کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف ڈسکورس کو شک کی نگا ہ سے دیکھنے و الے احباب بھی اپنے تحفظات و خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بعض قلمکاروں نے اخباری صفحات پر کالم لکھ کر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ان میں سر فہرست محترمہ عامرہ احسان صاحبہ ہیں، محترمہ روزنامہ اسلام اور روزنام نئی بات کی کالم نگار اور پڑھی لکھی خاتون ہیں، حیاتیات کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور امریکہ کی مشہور کولمبیا یونیورسٹی میں طالب علمی کر چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے کالمز میں جس طرح کے خیالات کا اظہار کیا اس سے ان کی فکری پختگی، توکل علی اللہ، مغربی تہذیب کی برائیوں کی چشم دید گواہی، جہاد کی اہمیت اور خود ڈسکورس میں ڈسکس کی جانے والی مباحث کے بارے میں ایمان وعقل کی بنیاد پر تردید واضح تھی۔ مجھے ان کے کالمز پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ہم ڈسکورس میں چھیڑی جانے والی جن مباحث کے سمندر میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں وہ علی وجہ البصیرہ ایمان وعقل کی بنیاد پر اس سمندر کو عبور کر چکی ہیں اور ہم ڈسکورس میں جن مسائل پر گفت و شنید کی دعوت دے رہے ہیں ان کے نزدیک وہ اتنے اہم نہیں کہ مدارس کے ذہین ترین طلباء اور کریم کو ان مباحث میں الجھا دیا جائے۔ بہر حال ان کی ایک رائے تھی جس کا اظہار انہوں نے مناسب سمجھا اوراپنے کالمز کی صورت میں سامنے رکھ دیا۔

بات دور نکل گئی، میں عرض کر رہا تھا کہ ڈسکورس کے منتظمین اور اس کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والے احباب وقتا فوقتا سوشل میڈیا پر اپنی آراء کا اظہار کرتے رہے۔ میں خود اس ڈسکورس کا حصہ ہوں اور اس میں ہونے والی مباحث اور ورکشاپس میں شریک رہاہوں، جو احباب اس کے بارے میں شکو ک و شبہات اور تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں میں ان کی بات کی تردید ہر گز نہیں کرتا لیکن میں اتنا ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ فنڈنگ کرنے والی ایجنسیز کے مقاصد جو بھی ہوں لیکن جو لوگ اس کورس اور پروجیکٹ کو لیڈ کر رہے ہیں ان کی نیت میں شک کم از کم میں نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا سے لے کر محترم عمار خان ناصر اور انڈیا میں ڈاکٹر وارث مظہری صاحب تک، جتنا میں نے ان حضرات کو قریب سے دیکھا اور ان سے استفادہ کیا ہے میں ان کی نیت پر شک نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی متضاد رائے رکھنے والے احباب کی اس بات کو بھی ہرگز نظرا نداز نہیں کیا جا سکتا کہ فنڈنگ کرنے والی ایجنسیز کے کیا عزائم، مقاصد اور توقعات ہیں اور وہ کیوں اتنا سرمایہ اس پروجیکٹ پر صرف کر رہے ہیں۔ ایک عرصے سے اہل مغرب کی اسلام دشمنی اور جدید اور ماڈریٹ اسلا م کے لیے ان کی کوششیں ایک کھلی حقیقت ہیں اس لیے جو احباب اس پروجیکٹ کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں انہیں بھی تھوڑی بہت سپیس ملنی چاہئے اور ان کی آراء کو بھی وزن دینا چاہئے۔ ڈسکورس کی ابتدائی کلاسز میں یہ سوال اٹھایا گیاتھا کہ مغرب کو کیا پڑی کہ ہمارے لیے سات سمندر پار اس طرح کے پروجیکٹ شروع کر ے تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ اہل مغرب کے ہاں یہ صرف ایک علمی سرگرمی ہے اور مغرب میں ایسے علمی پروجیکٹس پر فنڈنگ ایک معمول کی بات ہے۔ اگر چہ یہ بات ایسی نہیں تھی کہ اتنی آسانی سے ہضم ہو جاتی مگر پھر بھی بہر حال اسے ماننا پڑا۔ بعد میں کورس کا حصہ بننے اور کورس کے منتظمین سے  سوال وجواب کے بعد ان کی نیت پر کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نظر نہیں آئی۔ ذیادہ سے ذیادہ الفاظ میں، میں اسے یوں کہہ سکتا ہوں کہ بادی النظر میں منتظمین کی نیت ٹھیک ہے مگراس پیچھے فنڈنگ کرنے والوں کے کیا مقاصد اور عزائم ہیں اس میں کلام ہو سکتا ہے۔مزید یہ کہ اس پروجیکٹ کے اصل محرک ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ نے ٹیمپلٹن فاؤنڈیشن کو یہ منصوبہ اس بنیاد پر پیش کیا تھا کہ وہ خود مدارس کے فیض یافتہ ہیں اور انہوں نے اب تک اسلامی روایت اورجدید مغربی علوم سے جو استفادہ کیا ہے اس سفر میں وہ مدارس کے فضلاء کو شریک کرنا چاہتے ہیں۔

اب آتے ہیں نئے داخلوں کی طرف، جب اشتہار ڈیزائن ہو رہا تھا اور کورس کے شرکاء سے اس کے بارے میں رائے مانگی گئی تھی تو میں نے عرض کیا تھا کہ داخلے کی شرائط سخت رکھی جائیں ورنہ بہت بڑی تعداد میں درخواتیں موصول ہونے کی وجہ سے دا خلے کا پروسس لمبا ا وراہل افراد کی جانکاری مشکل ہو جائے گی، اس وقت اس رائے کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی مگر اب وہ خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں۔ بقول مولانا عمار خان ناصر صاحب طلباء کی ایک بڑی تعدادنے داخلوں کے لیے رجوع کیا ہے، ظاہر ہے کہ سب کو داخلہ نہیں دیا جا سکتا اس لیے وہ سینکڑوں طلباء جنہیں داخلہ نہیں ملے گا میں ان سے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں، داخلے کے اہل اور ڈسکورس کا حصہ بننے والے طلباء بھی ان  پر غور کر سکتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مدرسہ ڈسکورس جدید علم الکلام اور مذہب و سائنس کے تناظر میں پیدا ہونے والی نئی مباحث کو ایڈریس کرنے کی ایک علمی کاوش ہے، ان مباحث کو ٹھیک سے سمجھنے اورانہیں رسپانڈ کرنے کے لیے ماضی میں ہماری کلاسیکی علمی روایت کے نمائندہ افراد اور منتخب کتب کا مطالعہ اس غرض سے کروایا جاتا ہے کہ شرکاء کو معلوم ہوسکے کہ ماضی میں اس طرح کے حالات میں ہماری علمی روایت کا رویہ اور حکمت عملی کیا تھی۔ اس ضمن میں بھی ذیادہ تر انہی افراد اور کتب کا مطالعہ کروایا جاتا ہے جن کا تعلق اسلامی علمی روایت کی عقلی و کلامی شاخ سے ہے۔اسی طرح برصغیر اور عصر حاضر کی ان نمائندہ شخصیات اور کتب کونصاب کا حصہ بنایا گیا ہے جنہوں نے جدید فکری و کلامی مسائل کو موضوع بحث بنایا ہے۔ گویا مدرسہ ڈسکورس اسلامی علمی روایت کے ایک خاص  پہلو کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے، اس لیے اس کورس کے لئے صرف وہ لوگ دلچسپی کا مظاہرہ کریں جنہیں فکری و کلامی مباحث سے لگا ؤ اور اس میں مہارت ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ مدارس کے طلباء کی بہت بڑی تعداد نے داخلوں کے لیے رجوع کیا، اگر حسن ظن سے کام لیا جائے تویقینااس کی بنیادی وجہ سیکھنے کی خواہش کا اظہار ہے لیکن ایک صاحب بصیرت اس کے دیگر پہلووں کو قطعا نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ممکن ہے کہ میرے بعض کرم فرمااور ڈسکورس کے ساتھیوں کو یہ بات ناگوار گزرے کہ اسلامی علمی روایت میں داخلی سطح پر علم الکلام کا آغاز مشہور فرقے معتزلہ سے ہوا تھا اور آج تک معتزلہ اسی پہچان سے جانے جاتے ہیں۔ مدرسہ ڈسکورس کے بارے میں بھی یہ فضا بن گئی ہے یا بنا دی گئی ہے کہ یہ لوگ بھی روایت سے ہٹے ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں بھی معتزلہ جیسا تصور ڈویلپ ہو گیا ہے اس لیے جو احباب اس لیبل کو بآسانی ہضم کر سکیں او ر اس گروہ کا حصہ بننے کو تیار ہوں صرف وہی اس میں شریک ہونے کا فیصلہ کریں۔ دوسری اہم بات یہ کہ اسلامی علمی روایت محض فکری و کلامی مسائل تک محدود نہیں کہ مدارس کی سار ی کریم اسی مشن پرلگ جائے اور سینکڑوں طلباء ایک ہی ڈسکورس میں داخلے کی خواہش دل میں پا ل لیں۔ اسلامی علمی روایت ایک خوبصورت گلدستے کا نام ہے جس میں تفسیر، حدیث، فقہ غرض علوم و فنون کا ایک طویل سلسلہ ہے جن میں آج کام کرنے اور زندگیاں کھپانے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ایسے طلباء  ان شعبوں کی طرف بھی توجہ دیں اور اپنی ذمہ دار ی کا احساس کریں۔ مدرسہ ڈسکور س اہم سہی مگر اتنا بھی اہم نہیں کہ سارے طلباء علم الکلام اورمذہب و جدید سائنس کے پیدا کردہ مسائل میں الجھ کر رہ جائیں۔ تیسر ی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ فی زمانہ ایک عالم کی شان اور ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مخلوق کا تعلق اللہ سے جوڑنے کے لیے اپنی زندگیا ں وقف کر دیں، بے دینی اور فحاشی و عریانی کا سیلاب جس تیزی سے سوسائٹی کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اگر اس کے آگے بند نہ باندھا گیا تو نئی نسل ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گی۔ باقی کام تو سب کر لیں گے لیکن یہ کام صرف علماء کی ذمہ داری ہے اور اگر علماء بھی اپنے اصل میدان کو چھوڑ کر غیر ضروری باتوں میں الجھ گئے تو انہیں اللہ کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا۔میری ذاتی رائے ہے کہ مدرسہ ڈسکورس جیسی کلامی و فکری مباحث کی ضرورت سو میں سے صرف دس بیس فیصد ہے، اسی فیصد ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء اور دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلباء اپنا وقت اور صلاحیتیں مخلوق کا تعلق اللہ سے جوڑنے پر صرف کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close