ملی مسائل

مساجد میں خواتین کو نماز اداکرنے سے روکنا؟

سید منصورآغا

سپریم کورٹ میں پونا (پنے) کی ایک پابند نمازخاتون محترمہ یاسمین اوران کے شوہر زبیراحمد نظیراحمد پیرزادہ (عمر48سال)نے بعض مساجد میں خواتین کو نماز سے روکنے کے خلاف ایک عرضی دائر کی ہے جس کو سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔مرکزی حکومت، وقف بورڈ، وزارت اقلیتی امور اورمسلم پرسنل لاء بورڈ کو جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب کہ الیکشن کی گہما گہمی ہے اندیشہ ہے کہ تین طلاق کی طرح اس کو بھی ایک اشو بنانے کی کوشش ہوگی۔ ہرچند کہ مدعی پیرزادہ نے کہا ہے کہ ان پر کسی کا سیاسی دباؤ نہیں تھا، لیکن ان کو اتنی سمجھ تو ہوگی کہ ایسی شکایت لے کر سپریم کورٹ جانے کا یہ موقع نہیں اوروہ بھی کسی مسلم وکیل کے بجائے وکیل (پنڈت) آشوتوش دوبے کے ذریعہ جو بہرحال شرعی احکاموں اورمسجددں میں خواتین کے لیے نظام کے عملی اوراصولی پہلوؤ ں سے براہ راست ہرگزواقف نہیں ہونگے۔ گمان کیاجاسکتاہے تین طلاق معاملہ میں مودی جی کی طرح ان کی دلچسپی کا سبب بھی دیگرہوسکتا ہے۔

شکایت کا سبب:

اس پہلو پر گفتگوکرنے سے پہلے ذرا یہ دیکھ لیتے ہیں کہ عرضی گزاروں کے ساتھ کیا گزری اوروہ کیوں عدالت میں گئے؟ یہ واقعہ ہے پنے کی ایک کالونی اوندھ گاؤں کا جو ہنجے واڈی اور کورے گاؤں کے بیچ ہے۔ ایک روز یاسمین اپنے شوہر کے ساتھ شاپنگ کرنے نکلیں۔ مارکیٹ میں ہی نمازکا وقت ہوگیا۔ چنانچہ انہوں نے مسجد کا رخ کیا۔ زبیراحمد تومسجد کے اندرچلے گیے لیکن انکی اہلیہ کو دروازے پر ہی روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نماز پڑھنی ہے اوردلیل دی کہ اسلام عورت مرد سب کے لیے ہے اورنمازسب پر وقت پر فرض ہے توان کوحقارت سے ڈانٹ ڈپٹ کا مسجد میں جانے سے گویا وقت پرنمازاداکرنے سے روک دیا گیا اورکہہ دیا گیا کہ تم کو معلوم نہیں مسجد میں عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔یاسمین اور ان کے شوہر کا جو فوٹو اخبارات میں شائع ہوا ہے اس سے ظاہرہورہا ہے کہ وہ ایک بردبارمعمرخاتون ہیں اورنقاب کے ساتھ برقعہ پہنتی ہیں۔

یاسمین کہتی ہیں کہ نماز سے روکے جانے مسجد کے دروازے پر اس سخت رویہ سے ان کو سخت صدمہ ہوا اور سوچنا شروع کیا کہ ایک خاتون مسجد کے اندرنمازادا کیوں نہیں کر سکتی؟‘ظاہر ہے وہ الگ گوشہ میں نماز پڑھ لیتیں۔انکا کہنا ہے کہ میں حیران تھی کہ کیوں منع کیا گیا؟ کیا ہمارے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔‘ چنانچہ مطالعہ شروع کیا اور اس نتیجہ پر پہنچیں قرآن اورسنت میں کہیں کچھ ایسا نہیں کہ عورت کو مسجد میں نماز سے روکا جاسکے۔ آخرخواتین حج اورعمرہ کے لیے جاتی ہیں اوراسلام کی سب سے زیادہ مقدس مساجد مسجدالحرا م، (خانہ کعبہ)اورمسجد نبوی ؐ میں نمازاداکرتی ہیں۔ جب وہاں نہیں روکا جاتا توپونا کی مسجد میں کیسے روکا جاسکتا ہے؟

اس کے بعد انہوں نے اپنے قریب کی ’بوپوڈی جامع مسجد‘کی انتظامیہ کو تحریردی کہ یہ روک ہٹے ۔ لیکن ان کو بتایا گیا کہ ان کی تحریر دومدارس کو بھیجی گئی تھی اور دونوں نے عورتوں کو نماز کے لیے مسجد میں داخلہ کی اجازت دینے سے انکار کردیا ۔‘اس غیر منصفانہ حکم سے ان کی خلش کم نہیں ہوئی۔ مزید مطالعہ کیا۔ مسلم ممالک کے بارے میں معلوم کیا اورکئی لوگوں سے پوچھا ۔جب یہ بات دل ودماغ میں بیٹھ گئی کہ اس روکے جانے کا کوئی شرعی بنیاد نہیں تب انہوں نے عدالت جانے کا ارادہ کیا۔

یہ فیملی اصلا کرناٹک کے رہنے والے ہے۔ اب پونا بوپودی علاقہ میں محلہ پٹھان چال میں رہتی ہے ۔غریبی کے دن دیکھے ہیں ۔ان کا درد سمجھتے ہیں۔ فی الحال بلڈنگ مٹریل کا کام ہے ۔ جذبہ خیرکے تحت ایک خیراتی ادارہ چلاتے ہیں جو بہت سے ناداروں کو کھانا فراہم کرتا ہے۔اس لیے سماج میں اورخاص طور پر غریبوں کی بستیوں میں ان کی قدر ہے۔

عدالت نہ جاتے :

اچھا ہوتا کہ عدالت جانے سے پہلے وہ پونے کے باہر کے چند بڑے مدارس اوردارالافتاء سے رابطہ کرتے۔ خیرسے جولوگ یاسمین صاحبہ اورزبیرصاحب کی طرح دیندار ہیں، اسلامی عقائد اورعبادات کے پابند ہیں ،ان کو ایسے معاملے میں عدالت جانے سے پہلے یہ بھی غورکرلیناچاہیے کہ ہماری عدالت جو فیصلہ صادرکرے گی اس میں وہ قانون شریعت کی پابند نہیں ہوگی ۔ اس لیے لازم نہیں کہ مسجدمیں نماز کے شرعی حق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا شرعی تقاضوں کو پورا کرنے کا راستہ کھولے۔کوئی نیا فتنہ بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔ اس کا عذاب کس کس کے سر جائیگا؟ سوچ لیں۔

اگرچہ پٹیشن میں یہ نشاندہی کی گئی ہے مسجدالحرام، مسجد نبوی اورہندستان میں جماعت اسلامی اوربعض دیگرتنظیموں کے زیرانتظام مساجد میں خواتین کو نماز کی سہولت حاصل ہے، لیکن سنی (بریلوی) مسجدوں میں روکا جاتا ہے۔یہ بھی کہا ہے کہ قرآن نے اس طرح کی کوئی روک نہیں لگائی۔اوررسول اللہ ﷺ کے دورمیں خواتین مسجد میں نماز اداکرتی تھیں۔ لیکن وکیل (پنڈت)آشوتوش دوبے نے ان نظیروں اوراسلام میں اس نظام کے تحت نہیں بلکہ آئین کی دفعہ 14(حق مساوات، برابری)، 15 (بھید بھاؤ نہ کرنا)، دفعہ 21(زندگی اورخودمختاری) ،25 (مذہبی آزادی)، 29(اقلیتوں کے لیے تحفظ) کے تحت، اور’مسلم خواتین کو باوقار زندگی کا حق‘‘ کے نام پر راحت طلب کی اورساتھ ہی حوالہ سبریمالا مندر، ممبئی کی حاجی علی درگاہ کا بھی دیا ۔ عدالت نے وکیل کو ٹوکا کہ حاجی درگاہ مسجدنہیں ہے۔ اورکیرالہ ہائی کورٹ ایک ایسی عرضی کو خارج کرچکا ہے۔ دوسرے دفعہ 14کے تحت حقوق کاتعلق ریاست سے ہے تو وکیل نے دلیل دی کہ مسجد کو وقف بورڈ کے توسط سے سرکاری امداد ملتی ہے۔ گویا مسجد سرکاری ادارہ ہے۔

خیال رہے کہ ایسی ہی عرضی کیرالہ ہائی کورٹ میں ایک غیرمسلم نے ڈالی تھی۔ وہ تو اس لیے خارج ہوگئی کہ عدالت نے کہا تمہارا کیا تعلق۔ اب وہی معاملہ مسلم جوڑے کو مدعی بناکرلایا گیا ہے۔

عدالت نے پہلے ہی مرحلہ میں وکیل سے پوچھا آپ کو مسجد میں داخل ہونے سے کس نے روکا، کیا اس نے کسی قانون کا یا حکم نامہ کا حوالہ دیا؟‘ توجوا ب ندارد۔ غورکیجئے اس کیس میں وکیل نے مرکزی حکومت، وزارت اقلیتی امور، سنٹرل وقف کونسل، مہاراشٹراریاستی وقف بورڈ اور آ ل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو توفریق بنایا ہے لیکن نہ تو اس مسجد کی انتظامیہ کو فریق بنایا جہاں روکا گیا، نہ بوپوڈی کی جامع مسجد کو اورنہ ہی ان دو مدارس کو جنہوں نے اجازت کی گزارش کو مسترد کیا ۔اس سے ظاہر ہے وکیل نے اس معاملہ کوبڑھا چڑھا کر پیش کیا تاکہ شہرت حاصل ہو۔کیس سپریم کورٹ میں دائرہوا جب کہ مسٹردوبے کا رجسٹریشن ہائی کورٹ میں ہے۔ پٹیشن میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ملک کی بہت سے مساجد میں خواتین کے لیے نماز کا اہتمام ہے توروکے جانے ایک مقامی مسئلہ ہے۔ لیکن اس کو ایک قومی مسئلہ بناکرپیش کرنا وکیل کے ارادے اور نیت کو ظاہر کررہا ہے۔

وکیل کا ارادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کو مردوں کے ساتھ جماعت میں نماز کے حق کی بات اٹھائی جائے۔ اسی سے مساوات اوربرابری قائم ہوگی۔ان کو پیچھے کی صفوں میں جگہ دئے جانے کو وہ بھید بھاؤ بتائے گا۔ کیا مدعیان محترمہ یاسمین اوران کے شوہر نظیراحمد کوایسی صورت پسند ہوگی؟ ہرگز نہیں۔ لیکن سادہ لوح لوگ ان عیاریوں کو کیا سمجھیں؟ عدالت نے مسٹردوبے کوفوراً ٹوکا، مسجدالحرام اورمسجد نبوی میں خواتین مردوں کے ساتھ خلط ملط ہوکر نمازادا نہیں کرتیں بلکہ ان کے لیے الگ جگہ مقرر ہوتی ہے۔
قرآ ن کا حکم: ہم نے یہی صورت سعودی عرب، لیبیا اوربعض یورپی ممالک میں دیکھی۔ خواتین کے لیے الگ جگہ ہوتی ہے۔ ان کا وضوخانہ اوراستنجے کا نظم الگ ہوتاہے۔ اندرون ملک بھی مساجد میں الگ گوشے میں یا متصل احاطے میں نماز کی سہولت ہوتی ہے جہاں خواتین خاص موقعوں پرآتی ہیں اور مردامام کے پیچھے نماز اداکرتی ہیں۔ یہ خواتین کا کا بنیادی مسئلہ نہیں۔ خصوصاً اس لیے کہ بعض مصلحتوں کی وجہ سے جس میں حیا کے پہلو بھی شامل ہیں،عورتوں کے لیے افضل گھر میں نماز پڑھ لینا ہے۔ لیکن راہ چلتے اگرنماز کا وقت ہوجائے تو مسجد میں ان کو روکنے کا مطلب ہے فرض کو اداکرنے سے روکنا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ’اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کے ذکرکئے جانے کوروکے‘ (سورہ بقرہ آیت 114)۔

ہم غلامان رسول کا طریقہ وہی ہونا چاہئے جو خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نماز پڑھاتے تھے اور بچے والی عورتیں نماز میں شریک ہوتی تھیں، جوان اوربوڑھی سب۔ ہماری مسجد ہماری دین کی درسگاہ ہوتی ہے ۔ امام وعظ ونصیحت فرماتے ہیں۔ خواتین کو ان سے فائدہ اٹھانے کا موقع حضورصلعم نے دیا تو ہم کون ہوتے ہیں روکنے والے؟ خیال رہے کہ قرآن کے احکام اوررسول اللہ صلعم کا طریقہ رہتی دنیا تک ہے۔ ’زمانہ خراب ہے‘ کہہ کران کی پامالی کااختیار کسی کو نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close