ملی مسائل

مسجد اللہ کا گھر اور مذ ہب اسلام کا اٹوٹ حصہ ہے

مسجدیں نمازوں کی ادائے گی کے لیے ضروری۔

حا فظ محمد ہاشم قادری مصباحی

دنیاکے تمام مذاہب میں عبادت کا تصور پایا جاتا ہے اور عبادت کر نے کے لیے مخصوص جگہ مسجد، مندر، گرجا گھر، گرودوراوغیرہ وغیرہ کی تعمیر کی جاتی ہے اور ان عبادت گاہوں میں اس کے ماننے والے اپنے عقا ئد و نظریہ پر عمل کرتے ہوئے خوش دلی سے عبادت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے، آنے والی صبح قیامت تک چلتا رہے گا، ہمارا ملک ہندوستان ایک کثیر ا لمذاہب ملک ہے بہت سے مذاہب کے ماننے والے یہاں زمانہ قدیم سے آباد ہیں، گنگا جمنی(ہندو اور مسلمان کی ملی جلی تہذیب۔ ) والے اس ملک میں لوگ اپنے اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے خوش تھے۔ (بد قسمتی سے اب خوش نہیں ہیں )، حکو متوں، عدالتوں کا کام ہے لوگوں کی جان، مال، عزت، آبرو کی حفاظت کرنا اور رعایہ(عوام) کو خوش رکھنا۔ اگر کسی پر ظلم وجبر ہو رہا ہو تو اس کو انصاف دلانے کی ذمہ داری عدلیہ کی ہے۔ ظالم کے پنجوں سے آزادی دلاکر انصاف کر کے عوام کو اس کا حق دے اوردلائے جو بحیثیت انسان اس کا بنیادی حق ہے۔ بد قسمتی سے اس کام کے بجائے موجودہ حکومت اپنی مرضی اور اپنا نظریہ مسلط (تھوپ) کر رہی ہے۔ لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ اور نتہا ئی فکر اور شرم کی بات ہے اب یہ کام عد لیہ سے بھی کرا رہی ہے۔ (سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا) اللہ خیر فر مائے۔ پے در پے کئی فیصلے ایسے آئے ہیں کہ مسلما نوں کی تہذیب و ثقافت، مذہب پر آنچ آرہی ہے اب تو حد ہی ہو گئی طلاق کا مسئلہ اب خانہ خدا ’’مسجد ‘‘کو اسلام کا ابھن انگ(اٹوٹ حصہ) نہ ماننا یہ سرا سر مذہب اسلام اور اس کے ماننے والوں پر ظلم عظیم ہے۔

 27 ستمبر2018 کو سپریم کورٹ نے دو فیصلے دیئے جنہیں تا ریخی، تو نہیں کہا جا سکتا۔ بابری مسجد مالکانہ حقوق سے متعلق1994 سے الہٰ آ باد ہا ئی کورٹ میں 24 سالہ چل رہے پرانے مقدمہ میں کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ’’ مسجد‘‘ میں نماز کی ادائے گی اسلام کا لاز می جز نہیں ہے۔ مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن مجید اور احادیث طیبہ کے کسی ایک بھی سند کے بغیر یہ فیصلہ سنا یا گیا تھا، جسکو کمال فاروقی صاحب نے سپریم کورٹ میں چیلنج(challenge,) کیا تھا کہ اسلام کی غلط تشریح ہوئی تھی اس لئے اسے وسیع تربینچ(Larger Banch) کو بھیج دیا جائے جسے چیف جسٹس د یپک مشرا نے مسترد کر دیا اور یہ فیصلہ سنایا کہ ’’مسجد اسلام کا ابھن انگ نہیں ہے‘‘ نعوذ با للہ!استغفر اللہ!اللہ خیر فر مائے۔

آج ہمارا جنت نشاں ملک کہاں کھڑا ہے دنیا خوب دیکھ رہی ہے۔ دوسرا فیصلہ بھی انتہا ئی افسوس ناک اور تاریک ہے عدا لت عظمیٰ (Honorable Supreme Court)نے کہا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی جا ئداد نہیں ہے! اور یہ کہ شادی شدہ مرد اور عورت دونوں ہی اپنی مرضی سے اگر شادی سے باہر جنسی تعلقات بناتے ہیں تو اسے جرم نہیں مانا جائے گا قانو ناً صحیح ہے!۔ نعوذ با للہ، عجیب فیصلہ ہے۔ 158 سالہ پرانا قا نون دفعہ497 کو ہی پانچ ججوں کی بنچ نے ختم کر دیا۔ یہ فیصلہ بد کاری اور زنا کو عام کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں، ہندوستانی تہذیب کا تیا پانچا ہو جائے گا، شرم وحیا کا بیڑہ غرق ہو جائے گا۔ جبکہ اس سے پہلے اسی ماہ6ستمبر2018 کو 155سالہ پرانی دفعہ 377 کو بھی ختم کرکے ہم جنس پرستی کو بھی آزادی کے نام پر قا نو ناً جائز قرار دیکر اس ملک کی تہذیب کا جنازہ ہی نکال دیا ہے اللہ توبہ! اللہ توبہ!

مذہب اسلام میں مسجد کی حیثیت:

 مسجد اللہ کا گھر ہے اور وہ مقدس جگہ ہے جہاں خدا ئے وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی جاتی ہے، زمین کا جو سب سے مبارک حصہ ہے وہ مسجد کا حصہ ہے، سب سے مبارک، سب سے قیمتی حصہ وہ ہے جو مسجدوں کے نام سے جانے جاتے ہیں، مسجد کی اہمیت وحیثیت حدیث پاک میں اس طرح بیان کی گئی ہے:’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایاکہ شہروں میں اللہ کے نز دیک سب سے پسندیدہ جگہ وہاں کی مسجدیں ہیں اور شہروں میں سب سے نا پسندیدہ جگہ وہاں کے بازار ہیں (رواہ مسلم) اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں ہے:خَیْرُ الْاَمَا کِن مَسَا جِدُ ہا وَشَرُّ ا لْاَمَاکِنِ اَسْوَا قُھَا۔ تر جمہ : ’’زمین کی بہترین جگہوں میں مسجدیں اور بری جگہوں میں بازار ہیں۔ ‘‘ ان احا دیث مبار کہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمین میں سب سے مقدس جگہ مسجد ہے، ۔ اللہ رب ا لعزت نے بندوں کو عبادت کے لیے پیدا فر مایا، اور عبادت کے لیے سب سے پہلے کعبہ کو بنا یا۔ اِنَّ اَوّّلَ بَیْتٍ وُّ ضِعَ لِلنَّا سِ لَلَّّذِیْ بِبَکَّّۃَمُبٰرَ کًا وَّھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ (القر آن، سورہ اٰل عمران3، آیت96) تر جمہ:بے شک سب میں پہلا گھر جو لو گوں کی عبا دت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے بر کت والا اور سارے جہان کا راہنما۔ [کنزالایمان]

مسجدیں نمازوں کی ادائے گی کے لیے ضروری۔ مسجدیں اسلامی شعار، علامت، (symbols, )ہیں، مسلمانوں سے مسجدوں میں نماز پڑھنے کا حق کو ئی نہیں چھین سکتا۔ عدا لتیں لاکھ اس سوال پر غور کرتی رہیں کہ کیا مسلما نوں کے لیے یہ ضروری ہے، نمازوں کی ادائیگی مسجدوں میں ہی کریں، مسلمان نماز مسجدوں میں ہی ادا کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ان کا شر عی حق بھی ہے اور آئینی حق بھی، سپریم کورٹ نے بھلے ہی مسجدوں میں نماز کا حق بڑی بنچ کو نہ سونپا ہو پر اسے مسلمانوں کی طرف سے یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ مسجدوں میں نماز کا حق قر آن و احادیث کی جانب سے ہے سینکڑوں دلا ئل ہیں جو پیش کئے جاسکتے ہیں، مسجدوں سے اصلاح معاشرہ کا پیغام دیا جاتا ہے جب مسلمان دن میں پانچ بار آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے کے مسا ئل سے واقفیت ہو تی ہے۔ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں، جمعہ وعیدین کے مو قع پر بہت بڑی تعداد میں لو گوں سے ملا قات ہو تی ہے با ہمیں ربط بڑ ھتا ہے ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت ہوتی ہے بندوں کے حقوق ادا کر نے کا احساس پیداہو تا ہے ان سارے معاملات میں مسجدوں کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے یہاں دینی ودنیوی تر بیت ہو تی ہے، مسجدوں سے ہمارا تعلق جڑا ہونے سے اللہ تعالیٰ سے قر بت حاصل ہوتی ہے اور کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے(رحمت کے) سا یہ میں جگہ ملے گی۔ لہٰذا مسلما نوں کو چا ہیے کہ ہم اپنا تعلق مسجدوں سے جوڑیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ مسجدیں آباد ہوں۔

مساجد سے دوری مسلمانوں کے بگاڑ کی وجہ:

 مسلما نوں اللہ کے گھر مسجدوں سے اپنا تعلق مضبوط کرو، کیو نکہ مساجد نہ صرف عبادت گا ہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کی تر بیت گاہیں ہیں، مذہب اسلام میں مسجد کے مقام اور اس کی اہمیت کو قر آن واحادیث میں بتا یا گیا ہے زمین کے تمام حصوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب مساجد ہیں، یہ آسمان والوں کے لیے ایسے ہی چمکتی ہیں جیسا کہ زمین والوں کے لیے آسمان کے ستارے چمکتے ہیں۔ مساجد کو نمازوں، ذکر و تلاوت، تعلیم و تر بیت، دعوت و تبلیغ اور دیگر عبادتوں سے آباد رکھنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔

مساجد مسلم معاشرہ کی نشاندہی کرتی ہیں:

 دنیا میں سب سے پہلی عبادت گاہ، بیت اللہ جو مسجد حرام کے بیچ میں واقع ہے جس کی طرف ہم رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں ایمان کے بعد سب سے اہم رکن یعنی نماز کی ادائے گی کرتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ مدینہ شریف پہنچنے سے پہلے قبا بستی میں ’’مسجد قبا ء ‘‘ کی تعمیر فر مائی، تاریخ اسلام کی یہ پہلی مسجد جو مدینہ منورہ سے تین کلو میٹر دور بستی قباء میں واقع ہے آپ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے 8ربیع ا لا ول بروز دوشنبہ بمطابق 23 ستمبر622ء کو اس بستی میں پہنچے اور 14دن یہاں قیام فر مایا اور اسی در میان ’’مسجدقباء‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اور پھر مدینہ شریف پہنچنے کے بعد سب سے پہلے جس چیز کی بنیاد رکھی وہی آج تک’’ مسجد قباء‘‘ اور’’ مسجد نبوی ‘‘کے نام سے جانی جاتی ہے، ’’مسجد نبوی ‘‘سعو دی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں قائم اسلام کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے جبکہ’’ مسجداقصیٰ‘‘ اسلام کا تیسرا مقدس مقام ہے اور اول ’’مسجد الحرام خانہ کعبہ‘‘ ان کا ذکر قر آن کریم میں اورا حا دیث طیبہ میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان بیت ا للہ، مسجد نبوی، مسجد قباء س جڑے ہیں، ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنا تعلق مسجد وں سے جوڑیں اور مسجدوں کو آباد کر کے اپنے تعلق کو مضبوط کریں اللہ کی رحمت حاصل کریں، تاکہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت میں جگہ پائیں اگر ہما را رشتہ مسجدوں سے مضبوط ہو گا تو دشمنان اسلام کی کوششیں بھی بے کار جائیں گی۔ آج مسجد سے دوری، نماز سے دوری یہ بد اعمالیاں بھی ہمیں ذلیل و رسوا کر رہی ہیں اور حکو مت کا تعصب توجوبن پھاڑے نت نئے طریقے سے مسلمانوں کو اسلام کو مسجدوں کو نقصان پہنچانے میں لگے ہیں۔ اللہ خیر فر مائے، کئی واقعات قابل ذکر ہیں بالکل تازہ افسوس ناک واقعہ ہر یانہ کے شہر گرو گرام(گڑ گاؤں ) کی شیتلا کا لونی میں واقع مدینہ مسجد کو پو لیس نے یہ کہہ کر12 ستمبر2018 کو بند کر دیا کہ اس کا لونی کی آبادی غیر قا نونی ہے، حالا نکہ اس کالونی میں مندر، اور چرچ بھی موجود ہیں جن پر کوئی کار روائی نہیں کی گئی حکومت کے تعصب کو شاعر نے اس طرح سے کہا ہے۔

؂ پہنچ نا چاند پر انسان کا ہے مسرور کن لیکن

منور پہلے اپنے دل کی تاریکی تو کی ہوتی

نہ یہ ظلم وستم ہو تا نہ یہ بے چا رگی ہو تی

حکو مت کر نے والوں کی نیت نہ گر بری ہو تی

مسجد جانے سے روکنے والا ظالم :

مسجد اللہ کے ذکر کے لیے ہے اس میں رکاوٹ ڈالنے والا بہت بڑا ظالم ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَمَنْ اَظْلَمُ ممَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَاللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَا بِھَا اُولٰٓءِکَ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ وَ سَعٰ فِیْ خَرَا بِھَا اُ آٰءِکَ مَا کَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْ خُلُوْہَآ اِلَّاخَآءِفِیْنَ لَھُمْ فِی الدُّنْیَاخِزْیٌوَّلَھُم فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌعَظَیْمٌ۔ (القرآن، سورہ البقرہ2، آیت114) تر جمہ: اور اس شخص سے بڑھکر کون ظالم ہو گا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش کرے! انھیں ایسا کر نا مناسب نہ تھا کہ مسجدوں میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لیے دنیا میں ( بھی) ذلت ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے۔ مسجد میں اللہ کا ذکر نے سے روکنے والے کو اللہ سب سے بڑا ظالم بتا رہا ہے، ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ذلیل و رسوا فر مائے گا اور آخرت میں سخت عذاب دے گا، اور قر آن کریم میں فر مارہا ہے ایسے ظالم پر ہم اس سے بڑا ظالم مسلط کر دیں گے(القرآن، سورہ البقر2، آیت129) تر جمہ:اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کودوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کئے کا۔ اللہ قدرت والا ہے ضرور پکڑ فر مائے گا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مسجدوں کو آباد کریں مسجد کی آبادی صرف ظاہری زیب وزینت رنگ وروغن سے نہیں ہوتی بلکہ اسمیں ذکر اللہ کر نا، نمازیں پڑھنا، شریعت کے احکام کو قائم رکھنا، انھیں شرک وظاہری میل وکچیل سے پاک رکھنا یہ ان کی حقیقی آبادی ہے۔ مسجد میں نماز پڑھنے کی بے شمار فضیلتیں احادیث طیبہ میں ہیں، خود بھی مطالعہ فر مائیں ایک حدیث ملاحظہ فر مائیں رسو ل اللہ ﷺ نے فر مایا: تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے، اور اچھی طرح وضو کر تا ہے، پھر ’’مسجد‘‘ آتا ہے اور اس کے گھر کے نکلنے کا سبب صرف نماز ہوتی ہے، تو اس کے ہر قدم کے بد لے اللہ تعالیٰ اس کا ایک در جہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹا تا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث، 281 راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ، باب وضو طہارت کا ثواب)

 مسجد اللہ کا گھر ہے، اس کے بے شمار فضا ئل ہیں، مسجد میں عبادت کرنے پر بڑے ثواب کی خوش خبری سنائی گئی ہے، احادیث طیبہ میں مسجد کی اہمیت وفضلت کا بڑا ذخیرہ موجود ہے – حدیث پاک میں ہے :”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صللاہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص صبح کو مسجد جائے یا شام کو جا ئے تو اللہ اس کی مہما نی تیار رکھے گا خواہ وہ جب بھی جا ئے، صبح کو یا شام کو” – (متفق علیہ) ایک حدیث میں اسطرح سے ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صللاہ علیہ و سلم نے فرمایا :کہ آدمی نے اپنے گھر میں جو نماز پڑھی وہ بس ایک نماز ہے، اور اس نے جو نماز محلہ کی مسجد میں پڑھی وہ 25 نمازوں کے برابر ہے، اور اس نے جا مع مسجد میں جو نماز پڑھی وہ پانچ سو 500 کے برابر ہے، اور اس نے مسجد دے اقصٰی (بیت المقدس) میں جو نماز پڑھی وہ پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے، اور اس نے میری مسجد (مسجد نبوی) میں جو نماز پڑھی وہ بھی پچا س ہزار نماز وں کے برابر ہے، اور اس نے مسجد حرام (مکۃالمکر مہ) میں جو نماز پڑھی وہ لا کھ نمازوں کے برابر ہے (ابن ماجہ) اللہ ہم سب کو مسجد کی عزت بچانے و مسجد آباد کر نے کی توفیق دے آمین ثم آمین۔

؂ نظر آجا تا ہے مسجد میں بھی تو عید کے دن

اثر وعظ سے ہوئی طبیعت بھی گداز

واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی

 برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی

 فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی

’’مسجدیں ‘‘ مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

 یعنی وہ اوصاف حجازی نہ رہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close