مسلمانوں کو اپنی سیاسی جماعت اور قیادت کی ضرورت کیوں؟

امام الدین علیگ

ملک کی آزادی کے بعد سے اب تک 67 برسوں کے طویل عرصے کے دورانیے میں مسلمانوں کی پوری سیاسی حکمت عملی صرف اسی ایک نکتے پر منحصر رہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے  فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار میں آنے سے روکا جائے۔ اسی حکمت عملی کے تحت مسلمانوں نے ہر اس پارٹی کا دامن تھاما جس نے فرقہ پرست طاقتوں کی مخالفت کی یا مخالفت کرتی ہوئی نظر آئیں۔ ان پارٹیوں میں کانگریس سرفہرست رہی ہے ۔ اس کے بعد کئی علاقائی پارٹیوں نے بھی مسلمانوں کا ووٹ پانے کے لیے یہی سیاسی حربہ استعمال کیا اور مسلم ووٹوں کے سہارے نہایت آسانی سے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان پارٹیوں میں سماج وادی پارٹی ، بہوجن سماج پارٹی ، ترنمول کانگریس ، بائیں بازو کے علاوہ اور بھی کئی پارٹیوں کا نام شامل ہےجن کو ملک کے مسلمان فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لئے ووٹ دیتے اور ان کی جیت پر جشن مناتے چلے آرہے ہیں۔ مسلمانوں کی اس سیاسی حکمت عملی کے غلط یا صحیح ہونے کی بحث سے صرف نظر جب ہم اس حکمت عملی کے نتیجے پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ 67 برسوں کے بعد آج فرقہ  پرست طاقتیں کمزور ہونے کے بجائے ملک کی سب سے مضبوط طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں اور مسلمان مضبوط ہونے کے برعکس سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر سب سے نچلے پائیدان پر پہنچ چکا  ہے۔ جن سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے فرقہ وارانہ طاقتوں کو ختم کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا تھا، انھیں پارٹیوں نے گزشتہ 67 برسوں کے دوران الٹا فرقہ پرست طاقتوں اور فسادیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انھیں پالنے پوسنے کا کام کیا جب کہ مسلمانوں کو ہر طرف سے گھیرتے ہوئے ، ان سہولیات سے محروم کرتے ہوئےانھیں  برباد کرکے دلتوں سے بھی نیچے پہنچا دیا۔ یعنی 67 برسوں سے مسلمانوں نے فرقہ وارانہ طاقتوں (بی جے پی اور دیگر) کو روکنے کی جو حکمت عملی اپنا رکھی تھی، وہ پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی اسی حکمت عملی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج قومی سیاست میں نہ تو مسلمانوں کا کوئی کردار ہے اور نہ انھیں اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی دے رہا ہے۔ دوسری طرف آر ایس ایس پھل پھول کر اتنی بڑی طاقت بن گئی ہے کہ وہ سینہ ٹھوک کر خود کو دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن ہونے کا دعوی کر رہا ہے۔ دراصل ظاہری طور پر ہی محض کسی کو روکنے کی حکمت عملی اپنےآپ میں ہی منفی اور ناقص حکمت عملی نظر آتی ہے۔  یہ حکمت عملی دفاعی پوزیشن میں ہونے کے ساتھ مسلمانوں کو آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں دکھاتی ۔ اس حکمت عملی کی اتنی بڑی ناکامی کے بعد بھی نہ جانے کیوں آج کا مسلمان فرقہ پرست طاقتوں کے خوف سے غیروں کی قیادت والی پارٹیوں کو ووٹ دے رہا ہے ۔

موجودہ حالات کو سامنے رکھا جائے تو بظاہر جو صورتحال نظرآتی ہے وہ یہ کہ اب بی جے پی، آر ایس ایس اور ان جیسی دیگر پارٹیوں اور تنظیموں سے ڈرنے اور ڈرانے کا اس وقت کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ اس لیے کہ مبینہ سیکولر پارٹیوں کی آر ایس ایس کے سامنے اس وقت کیا حیثیت رہ گئی ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ ان میں سے کوئی بھی پارٹی آر ایس ایس کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور ان میں فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے پہنچانے کا نہ تو حوصلہ ہے اور نہ ہی عزم ۔ مسلمانوں کا جہاں تک معاملہ ہے تو ان پر فرقہ وارانہ طاقتوں کا خوف اس قدر طاری ہے کہ جب بھی کوئی مسلم قیادت والی پارٹی سر اٹھانے کی کوشش کرتی ہے تو نام نہاد سیکولر پارٹیاں یہ افواہ اڑا دیتی ہیں کہ وہ پارٹی یا مسلم قیادت بی جے پی کی ایجنٹ ہے اور یہ واویلہ مچا دیا جاتا ہے کہ مسلم قیادت والی پارٹی کو ووٹ دینے سے بی جے پی جیت جائے گی۔ مسلمانوں کی سادہ لوحی یا سیاسی بصیرت کا یہ عالم ہے کہ محض اتنی سی بات پر مسلمان اپنی قیادت سے بدظن ہوجاتے ہیں اور ان سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں ۔ بی جے پی کے جیتنے اور هارنے سے مسلمانوں کے حالات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ وہ تو مسلمانوں کو صرف اتنا ہی نقصان پہنچاتے اور ڈراتے رہیں گے کہ وہ کبھی متحد نہ ہو سکیں یا پھر انہیں سکون سے بیٹھ کر اپنے مستقبل کے بارے میں غور و فکر کرنے کی فرصت نہ مل سکے۔ لہٰذا آر ایس ایس سے ڈرنے اور ڈرانے کے کھیل کا حصہ بننے کے بجائے مسلمانوں کو اس ذلت سے باہر نکلنے اور اپنے عروج کے لیے غور و فکر کرنا چاہئے۔ سیاسی بحران سے ملک کے مسلمانوں کو نکالنے کے لیے اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا کہ مسلمان اپنی قیادت قائم کرنے اور اسے مضبوط کرنے میں لگ جائیں۔ اگر مسلمانوں نے ہار اور جیت کے انجام سے بے پروا ہو کر 20-25 برسوں تک مستقل مزاجی سے اپنی قیادت کا ساتھ دے کر دکھا دیا تو یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آنے والے وقت میں مسلمانوں کے پاس بھی اپنا ایک ’پریشر گروپ ‘ہوگا اور ملک کی نام نہاد سیکولر پارٹیاں مسلمانوں سے ان کی شرائط پر اتحاد کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اسی ایک طریقے سے ہی مسلمانوں کو سیاست میں ان کا حصہ مل سکتا ہے۔

اپنی قیادت کھڑی کرنے کے سوال پر کچھ مسلمانوں اور مبینہ سیکولر دانشوروں کو اکثر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر مسلمان اپنی سیاسی پارٹی بناتا ہے یا کسی مسلم قیادت والی سیاسی پارٹی کا متحد ہوکر حمایت کرتا ہے تو اس سے ملک میں فرقہ واریت میں اضافہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے! اگر اس خدشے کو صحیح مان بھی لیا تو بھی کچھ ایسے سوالات اٹھتے ہیں جو اس خدشے کو بے بنیاد ثابت کرتے ہیں ، وہ یہ کہ کیا مسلمانوں کو ایسے کسی خدشے کے پیش نظر اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگانا صحیح ہوگا؟ ملک میں تقریباً ہر بڑی کمیونٹی ، مذہب اور مختلف ذاتوں کی اپنی اپنی نمائندہ سیاسی جماعتیں ہیں کیا اس سے فرقہ وارایت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے؟ اگر ہوتا ہے تو کیا اسے روکنے کی ذمہ داری صرف مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے؟ اور کیا مسلمانوں کو اپنی بربادی کی قیمت پر فرقہ ورایت کو روکنا مناسب ہوگا؟ دراصل مسلمانوں کو اپنی سیاسی قیادت قائم کرنے کے سوال پر اعتراض کرنے والوں کو سیکولرازم اور فرقہ پرستی کا حقیقی مفہوم ہی نہیں پتہ ہوتا ہے۔ فرقہ پرستوں نے ان کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ اگر ملک کا مسلمان اپنی قیادت کے علاوہ کسی اور مذہب یا فرقہ کی قیادت والی پارٹی کے پیچھے چلتا ہے تو وہ سیکولر ہے لیکن اگر مسلمان اپنی قیادت قائم کرنے یا اس کی حمایت کرنے کی کوشش کرے تو وہ فرقہ پرست ہے! اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ ملک کا مسلمان غیروں کی قیادت کو اپنا سکتا ہے اور ان کے پیچھے چل سکتا ہے لیکن برادران وطن مسلم قیادت کو نہ تو اپنا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پیچھے چل سکتے ہیں۔  اس وقت ملک میں رائج سیکولرازم کا مجموعی طور پر یہی مفہوم نکلتا ہے۔ دوسری جانب فرقہ پرستی کا حقیقی مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اپنی کمیونٹی کے مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر کے مفادات کی مخالفت کی جائے ۔ اس کے برخلاف ملک کا مسلمان صرف اپنے ہی نہیں ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی قیادت کھڑا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کسی دوسرے کے جائز مفادات کی مخالفت نہیں کرتا ہے۔

ملک میں رائج سیکولرازم کی مقبول و معروف تشریح کے مطابق تو ملک کی ہر سیاسی پارٹی فرقہ پرست کہی جانی چاہئے کیونکہ ہر پارٹی کی قیادت کسی نہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتی ہی ہے۔ اسی کے ساتھ ہر پارٹی کی یہ جمہوری مجبوری بھی ہے کہ پارٹی کو قائم کرنے کے لئے ابتدا ء میں بنیادی ووٹ بینک بنانے کے لئے اسے اپنی کی کمیونٹی کے مسائل پر سیاست کرنی ہی پڑتی ہے اور ملک کی ہر پارٹی نے اپنے ابتدائی ایام میں یہی کیا ہے۔ جب پارٹی قیادت اپنے بنیادی ووٹ بینک یعنی اپنی کمیونٹی کی طرف سے مطمئن ہو جاتی ہے تب ہی وہ دیگر کمیونٹیز کے مسائل پر بات کرتی ہے۔ اب تک مسلمانوں کا حال یہ رہا ہے کہ انھوں نے اپنے بیچ سے اٹھنے والی کسی بھی قیادت کا متحد ہو کر اور استقلال کے ساتھ کبھی ساتھ ہی نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیڈرشپ ابھی تک اپنی ہی کمیونٹی کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کوشاں نظر آتی ہے۔ قومی سیاست میں جگہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم لیڈرشپ صرف مسلمانوں کے جذباتی مسائل پر سیاست نہ کرے بلکہ دیگر کمیونٹیز کے مفادات کو بھی سامنے رکھے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں لیکن یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب مسلمان بھی بحیثیت  مجموعی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے دلتوں کی طرح اپنی قیادت کا ساتھ دیں اور مسلم لیڈرشپ اپنی کمیونٹی کی جانب سے پوری طرح مطمئن ہو۔

ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے وہ یہ کہ عملی میدان میں لفظ ’’”سیاست” ‘‘اور ’’ "قیادت” ‘‘ میں بہت بڑا فرق ہے! بھلے ہی لغوی طور پر لفظِ سیاست کے معنی قیادت کرنا ہو لیکن عملی طور پر سیاست کے معنیٰ کچھ اور ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ بیوقوف بنانے کا ایک فن ہے۔ ملک کی بیشتر سیاسی پارٹیاں قیادت صرف اپنی کمیونٹی کی ہی کرتی ہیں جو کہ ان کا بنیادی ووٹ بینک ہوتے ہیں جب کہ وہ دوسروں کے ساتھ یا دوسروں کے مسائل پر صرف سیاست کا کھیل کھیلتی ہیں ۔ اس گندی اور استحصال پر مبنی کی سیاست میں تمام پارٹیاں شامل ہیں۔ بی ایس پی دلتوں کی ، ایس پی یادو کی، بی جے پی اور کانگریس اعلیٰ ہندو ذاتوں کی قیادت کرتی ہیں لیکن یہ سب کی سب ساتھ میں مسلمانوں کے ساتھ اور ان کے مسائل پر صرف اور صرف سیاست کرتی ہیں۔ اگر مسلم لیڈرشپ کو اصل دھارے اور قومی سیاست میں آگے آنے کا موقع دیا گیا تو سیکولر ازم کی آڑ میں استحصال کی یہ روایت ٹوٹ سکتی ہے ورنہ مسلمانوں کے سیاسی حالات میں دور دور تک کسی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آتا ہے ۔ اگر مسلمانوں نے دور اندیشی سے کام لے کر اپنی سیاسی قیادت کا ساتھ دے کرانھیں مضبوط نہیں کیا تو یہی مجبوری ان کا مقدر بنی رہے گی کہ وہ نام نہاد سیاسی پارٹیوں کو بدل بدل کر آزماتے رہیں اور مناتے رہیں غیروں کی جیت کا جشن ۔ کہاوت ہے کہ ’’”بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ!‘‘



⋆ امام الدین علیگ

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

نئے صدر جمہوریہ کے انتخاب و خطاب پر تنازع

آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے رام ناتھ کووند نے ملک کے 14ویں صدر جمہوریہ کے طورپر حلف لے لیا ہے۔ حلف برداری کے بعد نو منتخب صدر جمہوریہ نے اپنے پہلے خطاب میں کثرت میں وحدت، ملک کے کثیر ثقافتی معاشرے ، مساوات اور بھائی چارہ جیسے گرانقدر اور اطمینان بخش لفظوں کا استعمال کیا۔ اگر بات صرف لفظوں کی کی جائے تو یہ کچھ لوگوں کے لیے وقتی طور پر تسلی بخش ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اگر ملک کو درپیش نازک حالات اور مستقبل کے خطرات کو نظر میں رکھا جائے تو الفاظ اپنے معانی کھودیتے ہیں اور اگر کوئی اہمیت رہ جاتی ہے تو صرف عمل اور اقدام کی۔