مسلمانوں کی تعلیمی پستی اور درماندگی

197

کلکتہ کے اردو اسکولوں کا حالِ زار

عبدالعزیز

            2011ء کی مردم شماری کی جو رپورٹ اخبارات میں شائع ہوئی ہے اسے پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ ناخواندگی میں سب سے پیچھے مسلمان ہیں۔ 42.7 فیصد اب بھی مسلمانوں میں ان پڑھ اور جاہل ہیں۔ جس مذہب یا دین میں تعلیم سیکھنے اور سکھانے کو فرض قرار دیا گیا ہو اور تعلیم کی اہمی اور افادیت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہو اس مذہب اور ملت کے بچے دوسری قوموں اور ملتوں کے مقابلے میں سب سے پیچھے ہوں، کس قدر تعجب اور حیرت کی بات ہے۔

            یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ لوگوں نے ملت کے بچوں کے سرپرستوں اور ماں باپ کو تعلیم کی طرف توجہ نہیں دلائی ہے۔ سرسید احمد سے پہلے اور ان کے بعد بھی اور آج تک یہ کام کسی نہ کسی سطح اور پیمانے پر جاری ہے مگر نیند اتنی گہری ہے کہ بیدار ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ غفلت اور لاپرواہی کی ایسی بیماری نے پکڑ لی ہے جو علاج کے باوجود ناسور بنی ہوئی ہے۔

            تعلیم قسمت کی بات ہے: جو لوگ یا گارجین یہ کہتے ہیں کہ تعلیم قسمت کی بات ہے وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی دھوکے میں رکھتے ہیں اور اسے آنکھ والا بنانے کے بجائے اندھا بنائے رکھنے پر مطمئن ہوتے ہیں۔ قسمت کے بارے میں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے ہر فرد اور ہر شخص کے ہاتھ میں صرف کوشش اور دوڑ دھوپ ہے۔ ترقی اور کامیابی کی منزلوں پر اللہ تعالیٰ پہنچانے والا ہے مگر جو محنت سے جی چرائے گا، کاہلی، سستی اور آرام طلبی کا مظاہرہ کرے گا تو قدرت کی مشیت یا سنت یہ نہیں ہے کہ محنت کرنے والا پیچھے رہے گا اور جو محنت نہیں کرتا ہے وہ آگے ہوجائے گا۔ قسمت یقینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ قسمت کے بارے میں علامہ اقبالؒ نے سچ کہا ہے  ؎

اک آن میں سو بار بدل جاتی ہے تقدیر … ہے اس کا مقلد کبھی خورسند کبھی ناخوش

            تقدیر کو بہانہ بناکر اپنے آپ کو دھوکہ دینا اور اپنے بچون کو جاہل مطلق رکھنا ایسا جرم اور گناہ ہے جو قابل سزا ہے جسے اللہ تعالیٰ ہر گز معاف نہیں کرے گا۔ معاشی پسماندگی کا رونا: جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ معاشی طور پر بدحال ہیں اور پست ہیں وہ پڑھائی لکھائی کا خرچ برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ میرے خیال سے وہ بھی اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں ایسی مثالیں بے شمار ہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں میں جو معمولی درجے کا کام کرتے ہیں۔ قلی تھے، رکشا چلاتے تھے یا فٹ پاتھ پر یا کوئی اور چیز بیچتے تھے مگر وہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کا عزم رکھتے تھے وہ کامیاب ہوئے ان کی محنت مسلسل اور کوشش پیہم نے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں کامیاب ہوئی اور جس سے پسماندہ خاندان کا چہرہ بالکل بدل گیا۔ ایسے بھی بے شمار لوگ ہیں جو پیسے والے ہیں جن کی تجوری میں پیسے بھرے ہیں مگر وہ اپنے بچوں کو اپنی یا اپنے بچے کی نالائقی کی وجہ سے پڑھا لکھا نہ سکے اور بچوں کے ان پڑھ اور جاہل ہونے کی وجہ سے ان کے مرتے ہی خاندان پسماندگی کا شکار ہوگیا۔ آج کل مسلمانوں کے بہت سے ایسے ادارے ہیں جو طالب علموں کو ہر طرح سے مالی امداد دینے کیلئے تیار ہیں۔ ہر شہر اور قریہ میں یہ چیز دیکھنے میں آرہی ہے۔ اگر کوئی حرکت ہی نہیں کرے گا تو اس کی کوئی مدد کون کرسکتا ہے؟  ؎

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی … نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

            تعلیم گاہوں اور اساتذہ کی لاپرواہی: اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے جو تعلیمی ادارے ہیں ان کا معیار پست ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اساتذہ بالکل لاپرواہ ہوتے ہیں۔ ٹھیک سے اپنے فرائض ادا نہیں کرتے اور دوسری بات یہ ہے کہ گارجین کی بھی لاپرواہی ہوتی ہے۔ وہ اسکول کی انتظامیہ اور ٹیچروں سے مل کر اسکول کو بہتر اور معیاری بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ بہت سے لوگ اصلاح اور آگاہی کا کام شروع کرتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ جماعت یا ملت بے سدھ پڑی ہے، کروٹ نہیں لیتی تو مایوس ہوکر کنارہ کش ہوجاتے ہیں اور عافیت اس میں دیکھتے ہیں کہ زندگی کے جو دن ہاتھ میں ہیں انھیں گھر پر سر چھپاکر اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت میں صرف کردیں۔ وہ شاید بھول گئے ہیں کہ خدا کی مخلوق کی خدمت بھی عبادت سے کم نہیں۔ انھیں حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے۔ انھیں حوصلہ اور اور کوشش کا صلہ ضرور ملے گا۔ علامہ اقبال نے کوشش ہی کو زندگی کہا ہے  ؎

راز حیات پوچھ لے خضر خستہ گام سے … زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش ناتمام سے

            ڈراپ آؤٹ: ملت کے بچوں میں ڈراپ آؤٹ دوسری قوموں اور ملتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی خاص وجہ ہے گارجین کی لاپرواہی اور آرام طلبی ہے، وہ بچوں پر نظر نہیں رکھتے۔

            اسکول کی انتظامیہ، سرمایہ کی فراہمی، اسکول کی عدم کارکردگی، اساتذہ کی عدم دلچسپی، اسکول کا غیر تعلیمی ماحول، تعلیم گاہوں میں بنیادی ضرورتوں کی عدم فراہمی، کلاسوں میں طلبہ کا ہجوم یا بچوں کی لاپرواہی اور والدین کی عدم دلچسپی پست معیار تعلیم کی وجوہات ہیں۔ یہ سب عوامل دور ہوسکتے ہیں۔ اگر ماں باپ یا گارجین بیدار ہوجائیں، اپنے بچوں سے لاپرواہ نہ ہوں۔ ان کی ہر روز نگرانی کریں وہ کیا پڑھ رہے ہیں کیا نہیں پڑھ رہے ہیں ؟ اپنی توجہ مرکوز کرلیں تھوڑا سا وقت بچوں کیلئے صرف کریں تو بچوں کی کایا پلٹ سکتی ہے اور بچے پڑھنے لکھنے میں توجہ دے سکتے ہیں، دلچسپی سے پڑھ سکتے ہیں۔ ان میں مقابلہ اور مسابقت کا جذبہ پیدا ہوسکتا ہے۔

            کلکتہ کے اردو اسکول: کلکتہ کے اسکولوں کا جو حال زار ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر کئی مضامین کئی کتابیں لکھی جائیں۔ مضامین اور کتابیں لکھی بھی جاچکی ہیں مگر حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

            اردو اسکولوں میں جو میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے اس میں تعلیم کی پست معیاری کا سبب اساتذہ کی لاپرواہی زیادہ ہے۔ وہ پڑھانے لکھانے سے اچھی طرح دلچسپی نہیں لیتے۔ اپنی ڈیوٹی کا حق ادا نہیں کرتے۔ ان کے اندر نہ ملی جذبہ ہوتا ہے اور نہ مشنری جذبہ، ان صفات سے اکثر اساتذہ خالی ہوتے ہیں اور وہ اپنے نگراں اور انتظامیہ سے بھی نڈر ہوتے ہیں۔ ایسے بھی ٹیچر ہیں جو یہ کہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ صرف مہینہ کی پہلی تاریخ کو آئیں۔ ایسے بھی ٹیچر ہیں کہ وہ نا اہل ہیں ان کو پڑھانے لکھانے کی اہلیت نہیں ہوتی مگر وہ بھی اسکول ٹیچر ہوگئے ہیں۔ وہ ڈگری یافتہ ہوتے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ قاعدہ اور قانون بھی سرکار کی طرف سے کچھ ایسے ہوگئے ہیں کہ ان کو اسکول سے نکالا بھی نہیں جاسکتا، جس کو نکالا جائے گا عدالت اسے پھر سے حکم صادر کر دے گی کہ ان کو ملازمت سے الگ نہ کیا جائے۔

            اس طرح کے بہت سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے اردو اسکولوں کا حال بہت ہی خراب اور خستہ ہے۔ کلکتہ کے اردو اسکولوں کیلئے ضروری ہے کہ ایک ایسی تعلیمی کمیٹی بنے جس کی پشت پر عوام ہوں تاکہ ان سے انتظامیہ اور اساتذہ دونوں چوکنا اور چوکس رہیں۔ غفلت اور لاپرواہی سے کام نہ لے سکیں۔

            ایک تعلیمی رسالہ کی ضرورت: ایک تعلیمی رسالہ کی ضرورت ہے۔ جو سہ ماہی یا دو ماہی ہو۔ اسکولوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور خاص طور سے طلبہ، گارجین اور اساتذہ میں بیداری کا کام کرے اس کی سرگرمیوں کو اجاگر کرے۔ ان کی خامیوں اور کمیوں کو طشت از بام کرے تاکہ ان کو ہر وقت احساس ہو کہ ان کے کاموں کی کچھ لوگ نگرانی کر رہے ہیں۔ اگر وہ کام ٹھیک سے نہیں کریں گے تو ان کا کچھ بگڑ سکتا ہے۔

            مہینہ دو مہینہ میں شہر کلکتہ میں تعلیم کے حوالے سے سیمینار، مذاکرہ و مباحثہ ہو جس میں تعلیمی سرگرمیوں کو موضوع بحث بنایا جائے۔ ایسی انڈور اور آؤٹ ڈور مشاورتی میٹنگیں ہوں جن میں صلاح و مشورہ سے مسلمانوں کی پسماندگی اور درماندگی دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے۔ اس طرح کے بہت سے کام ہیں جنھیں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے