ملی مسائل

مسلمانوں کے لئے ریزویشن کیوں نہیں؟

سراج الدین فلاحی

پسماندہ مسلمانوں کو 1936 سے ریزرویشن کی مراعات دیگر اقوام کے ساتھ حاصل تھیں. 1950 میں ایک سرکاری حکم نامہ سے یہ مراعات ختم ہو گئیں اور دستور کی دفعہ 341 کو جس کے تحت یہ مراعات حاصل تھیں, ھندوءں کے لئے مختص کر دیا گیا . بعد میں سکھ دلتوں اور بودھ دلتوں کو تو ان مراعات میں شامل کیا گیا عیسائی و مسلم دلت پھر بھی محروم رہے اور ان کو ریزرویشن نہ دینے کی دلیل یہ دی گئی تھی کہ اسلام میں ذات پات کا نظام نہیں ہے بلکہ مساوات و برابری ہے حالانکہ اس بات کا اطلاق سکھ اور بودھ مذہب پر بھی ہوتا ہے لیکن ان کو یہ مراعات حاصل رہیں.
ایک بات جو سب سے زیادہ قابل غور ہے کہ ہمارے دستور میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی نفی کی گئی ہے لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اگر کوئی ہندو دلت مسلمان یا عیسائی مذہب اختیار کر لیتا ہے تو اس کی ریزرویشن کی مراعات ختم کر دی جاتی ہے اور اگر وہ دوبارہ ہندو مذہب میں لوٹ آئے تو پھر ان مراعات کا مستحق بن جاتا ہے. یہ یک طرفہ تماشا دستور کی روح کے ساتھ مذاق ہے.
ہم سبھی واقف ہیں کہ کانگریس حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں کی، کمیٹی نے مقررہ وقت کے اندر بہت ہی زیادہ چونکا دینے والی رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق 90 فیصد مسلمانان ہند خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، مسلم گریجویٹ کی تعداد 4 فیصد سے بھی کم ہے، شہری علاقوں میں 60 فیصد مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے آج تک اسکول کا منھ نہیں دیکھا وغیرہ وغیرہ کلی طور پر تعلیمی، سماجی، سیاسی و اقتصادی طور پر دلتوں سے بھی پسماندہ ہیں. کمیٹی نے صرف اتنا کہ کر اپنے آپ کو ریزرویشن سے دور کر لیا کہ انتہائی پسماندہ مسلم طبقات کو دلت قرار دیتے ہوئے شیڈول کاسٹ میں شامل کر لیا جائے اور اس کے علاوہ بھی کمیٹی نے کچھ سفارشات کیں.
ان سفارشات کے سلسلے میں حکومت ہند کا موقف اور اس کی حکمت عملی ابھی تک کلیر نہیں ہوئی ہے البتہ حکومت کے طریقہ کار سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ہند جھجک آمیز اور ٹال مٹول والی حکمت عملی پر عمل کررہی ہے.

میرے خیال میں سچر کمیٹی کی تمام سفارشات حکومت کو ایمانداری کے ساتھ نافذ کرنی چاہیے بلکہ سب سے مناسب قدم یہ ہو گا کہ اس کی ابتدا ریزرویشن سے ہی کر دینی چاہیے یعنی پسماندہ مسلمانوں کو فوراً شیڈول کاسٹ کی لسٹ میں شامل کیا جانا چاہیے. یھی سفارش رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ میں بھی ھے.
ایک نکتہ جس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دستور میں پچاس فیصد ریزرویشن سے زیادہ کی نفی کی گئی ہے تو مسلمانوں کو ریزرویشن کس طرح دیا جائے گا جبکہ یہ پہلے سے ہی تقریباً پچاس فیصد موجود ہے.
اس کا حل یہ ہے کہ منڈل کمیشن کے ذریعے دیے گئے 27 فیصد ریزرویشن میں مسلمانوں کیلئے الگ سے ایک سب کوٹہ مقرر کیا جانا چاہیے تاکہ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی کو ان مراعات کا فائدہ مل سکے اور ریزرویشن کی انتہائی حد جو 50 فیصدی ہے اسے بڑھانے کی ضرورت بھی پیش نہ آئے، منڈل کمیشن میں مسلمانوں کا ایک الگ سے کوٹہ مقرر کرنے میں بی جے پی اور فرقہ پرست جماعتوں کے ہنگامے سے بھی نجات مل جائے گی اور یہ پورا معاملہ پسماندگی کے زمرے میں آ جائے گا جس سے فرقہ پرستوں کو الگ رنگ دینے کا موقع بھی نہیں ملے گا.
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے اپنے نفع و نقصان کو الیکشن کے ترازو میں تولنے کی کوشش کر رہی ہے ظاہر ہے حکومت چاہتی ہے کہ اس کے ہر اقدام پر اتفاق رائے قائم ہو جائے. ایسی چیز حکومت کی قوت ارادی پر سوالیہ نشان لگاتی ہے تو اس سلسلے میں میں ارباب سیاست سے چند سوالات کرنے کی جرات کر رہا ہوں
کیا مسلمان اس ملک کا برابر کا شہری نہیں؟؟؟
کیا 18 فیصد مسلمانوں کو پسماندہ رکھ کر ملک کو ترقی یافتہ بنانا ممکن ہے؟؟؟
کیا جنگ آزادی میں مسلمانوں کی جانی اور مالی قربانیاں کسی دوسرے سے کم تھیں؟؟؟
مسلمان فرقہ پرستوں کے نشانے پر کیوں رہتے ہیں؟؟؟
مسلمانوں کی منھ بھرائی کا الزام کیوں لگایا جاتا ہے؟؟؟
اگر کسی قوم کے 90 فیصد سے زیادہ افراد خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں تو مذہب کی بنیاد پر ان کو ریزرویشن کیوں نہیں دیا جا سکتا؟؟؟
اگر ہندو دلت اور بچھڑا طبقہ اپنا مذہب تبدیل کر کے مسلمان یا عیسائی ہو جائے تو اس کی مراعات ختم کیوں کر دی جاتی ہیں؟ کیا یہ مذہبی بنیاد پر تفریق نہیں ہوئی؟؟؟ اور
سپریم کورٹ میں دفعہ 341 میں مذھبی قید ہٹانے سے متعلق جو رٹ داخل ھے اس کے بارے میں سرکار اپنا جواب کیوں داخل نھیں کر رھی ھے؟ جس کی وجہ سے برسوں سے کیس معرض التواء میں پڑا ھوا ھے.
خلاصہ کلام یہ ھے کہ دو کام آسانی سے ھو سکتے ھیں، ایک یہ کہ دفعہ 341 سے مذھبی قید ھٹا کر تمام شیڈول کاشٹ کے لوگوں کو استفادہ کا موقع دینا. اس کیلئے صرف ایک صدارتی آرڈیننس کی ضرورت ھے. اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی 14 برادریوں کو فائدہ پہونچے گا اور اسمبلیوں، پارلیمنٹ میں جانے اور ملازمتوں و تعلیمی اداروں میں داخلے کا راستہ ھموار ھو جائے گا.
دوسرا کام جو آسانی سے ھو سکتا ھے، یہ ھے کہ او بی سی کیلئے جو 27 فیصد ریزرویشن ھے اس میں آبادی کے لحاظ سے مسلم برادریوں کا سب کوٹہ الگ کر دیا جائے، یہ کام ریاستی سرکاریں کر سکتی ھیں اور بعض نے کیا بھی ھے.
مسلمانوں کو اس سلسلے میں دوٹوک اعلان کر دینا چاھئے کہ جو پارٹی ھمارے ساتھ یہ انصاف کرنے کیلئے تیار ھوگی اور صاف صاف اپنے منشور میں لکھے گی اور پریس کانفرس میں اعلان کرے گی، ھمارا ووٹ اسی کو ملے گا.
انصاف نھیں تو ووٹ نھیں. …
آج سیاسی پارٹیاں ووٹ ھی کی سیاست کرتی ھیں، ان پر دباؤ اسی طرح ڈالا جا سکتا ھے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سراج الدین فلاحی

سراج الدین فلاحی مضامین ڈاٹ کام کے خصوصی کالم نگار اور معاشی امور کے ماہر ہیں۔

متعلقہ

Close