ملی مسائل

مسلمان اب متحد نہیں ہوں گے تو کب ہوں گے؟

ایک اردو اخبارکی دی گئی خبر کے ذریعہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ممبئی کے چیتا کیمپ علاقے میں عید کی ایک ہی جماعت ہوتی ہے اور سارے مسلک کے مسلمان ایک ہی امام کے پیچھے نماز عید ادا کرتے ہیں ۔منتظمین کے مطابق سال بھر ایک دوسرے پر تنقید کرنے اور شدید اختلافات رکھنے والے مسلمان کم از کم عید کے دن ایک ساتھ مل کر بیٹھیں اور ایک ہی صف میں نماز ادا کرکے ’’ملت واحد ‘‘کا ثبوت پیش کریں ۔اس لئے یہ تحریک شروع کی گئی ہے ۔ایسی مبارک تحریک کو ہم سلام کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دوسرے علاقے کے سمجھدار مسلمان بھی اپنی سطح پر اتحاد کی کوشش ضرور کریں گے۔آج مسلکی اختلافات نے مسلمانوں کو برباد کرکے بے وقعت بنا کر رکھ دیا ہے ۔کچھ تنظیموں ،علماء اور مولانا کی شکل میں موجود کالی بھیڑوں اور آر ایس ایس کے ایجنٹوں نے اپنے مفاد کی خاطر شدید مسلکی زہر پھیلایا ہے کہ ایک اللہ ،ایک رسولﷺ،ایک قرآن کو ماننے والے ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والے اور آخرت پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں میں سے ہی کچھ لوگ اپنے دینی بھائی سے اتنا بغض رکھتے اور نفرت کرتے ہیں جتنی غیر مسلم سے نہیں کرتے۔حتیٰ کہ دوسرے مسلک کے مسلمان کی تکلیف پر مخالف مسلک کا مسلمان خوشیاں مناتا ہے ۔حالانکہ عام مسلمانوں کی اکثریت اتحاد چاہتی ہے تفرقے بازی ہر گز نہیں چاہتی مگر یہ مسلکی ٹھیکیدار اتحاد اس لئے نہیں چاہتے کہ مسلمان متحد ہوگئے تو قوم و ملت کا ضرور فائدہ ہوگا مگر ان کی دوکان بند ہو جائے گی !پھر انہیں کون پوچھے گا؟ان لوگوں نے تو اسٹیج بازی سے بھی آگے بڑھ کر مسجدوں ،قربانی ،شہادت اور حج تک کو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔
یہ مسلک بازی کسی کے حق میں نہیں ہے بلکہ اسلام کی تبلیغ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔آج سوشل میڈیا کا دور ہے غیر مسلم بھی مسلمانوں کے حالات و اختلافات پر برابر نظر رکھتے ہیں ۔کوئی بھی چیز اب کسی سے چھپی نہیں رہ گئی ہے ۔ایک مسلم دین دار شخص نے جب اپنے غیر مسلم دوست سے اسلامی تعلیمات و مساوات کی خوبیاں بیان کیں تو اس نے بجائے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہونے کے الٹا سوال کیا کہ مسلمان خود کیوں آپس میں لڑرہے ہیں ؟اور مسلمانوں نے الگ الگ مسجدیں کیوں بنا رکھی ہیں ؟کئی مسجدوں میں دوسرے مسلک کے مسلمانوں کو داخل نہ ہونے کے بورڈ کیوں لگے ہوئے ہیں ؟حتیٰ کہ کچھ مسلمان تو مسجد حرام میں امام کعبہ کے اور مسجد نبوی ﷺ میں امام کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھنا جائز نہیں سمجھتے ۔ایسی حالت میں آپ غیر مسلموں کو کیوں نصیحت کرتے ہیں؟اس سوال پر اس مسلم شخص کی بولتی بند ہو گئی ۔کیا یہ افسوس اور شرم کی بات نہیں ہے کہ جنت میں داخل کرنے اور جہنم میں ڈالنے کا جو فیصلہ اللہ تعالیٰ کل قیامت میں کریں گے ۔مسلک باز علماء وہ فیصلہ خود ہی کررہے ہیں کہ کون جنت میں جائے گا اور کون جہنم میں ۔اپنے کو جنت کا حق دار بتاتے ہوئے دوسرے مسلک کے مسلمانوں سے جہنم کو بھر رہے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو مسلمان ہونا بہت آسان ہے۔سچے دل سے کلمہ شہادت پڑھنے والا،فرشتوں ،آسمانی کتابوں ،رسولوں ،قیامت کے دن ،اچھی بری تقدیر من جانب اللہ ہونے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے پر جو ایمان لے آئے وہ مسلمان مان لیا جائے گا ۔مگر مسلک باز علماء کی شرائط بہت سخت ہیں ۔ان کی شرائط پر پورا اترنے والا ہی ان کی نظر میں مسلمان ہے۔قرآن و حدیث پر عمل کی بجائے جو کچھ ان کے نظر یات ہیں ،قرآن و حدیث کی تفسیر کو توڑ مروڑ کر اسے ثابت کرنے پر زور لگا کر بھولے بھالے مسلمانوں کو اختلافات میں ڈالنے کا کام کیا جاتاہے۔
پورا ملک اس وقت فرقہ پرستوں کے قبضے میں ہے ۔ایسے سنگین و مسلم کش حالات میں بھی یہ مسلک باز علماء اور تنظیمیں اپنی کالی کرتوتوں سے باز نہیں آرہے ۔مسلمانوں کو بہت ہی سوجھ بوجھ کے ساتھ اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کا دین و ایمان کیسے سلامت رہے اس کی حکمت عملی بنانی چاہئے ۔دنیا اور آخرت کی بھلائی اور ہدایت کے لئے قرآن اور سیرت رسولﷺکی روشنی میں اپنے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں ۔مسلکی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔اتحاد کی ہر کوشش کی حمایت اور تفرقہ بازی کی مخالفت کریں ۔اگر ایسے سنگین حالات میں بھی ہم متحد نہ ہوئے تو کب ہوں گے؟
یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close