ملی مسائل

مسلمان دَر دَر کا محتاج

محمدصابر حسین ندوی

مسلمانوں کا امتیازی شان یہ ہے؛کہ وہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے، وہ مدد مانگنے میں نہیں؛ بلکہ مدد کرنے میں یقین رکھتا ہے، اور وہ جانتا ہے کہ "اليد العليا خير من اليد السفلى”(بخاری:۱۴۲۷، مسلم:۱۰۳۴)، دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے، اس کا اعتماد خالق ورازق رب پر ہوتا ہے، جس کے سامنے پوری کائنات سر نگو ہے”لہ ما فی السماوات والارض”(بقرة:۱۱۶)، وہ اپنے آپ کو اس کا خلیفہ اور اس کے حکموں کو نافذ کرنے میں جاں نشین تصور کرتا ہے، اور اسی طاقت وقوت اور سرفروشی کے ساتھ "لا یخافون لومة لائم”(مائدة:۱۴) کی مثال ہوتا ہے، اس سلسلہ میں اسے کسی کی ناراضگی وخوشی کی پرواہ نہیں، وہ نہیں جانتا؛کہ باطل کیا ہے؟ مد مقابل کی طاقتیں کیا ہے؟، بلکہ وہ تین سو تیرہ اور دو تلواروں، آٹھ گھوڑوں میں ہزاروں کو شکست فاش دینے کی قوت رکھتا ہے، وہ شکستگی وہ غمخواری میں بھی روم پر چڑھائی کرنے کا مادہ رکھتا ہے، وہ منافقین کی جماعتوں کے ساتھ ملکر میدان جنگ کو لالہ زار کرسکتا ہے، خود کی پراگندگی میں بھی مانعین زکات یا مرتدین کو کچل سکتا ہے، کیونکہ وہ ایک آفاقی اور عالمگیر پیغام کا حامل اور توکل علی اللہ کا پیکر یوتا ہے، اور دنیا وماسوا سے اس کا دل یکسر خالی ہوتا ہے، اس کے سینہ پر اللہ کی فوقیت وبرتری ایسے غالب ہوتی ہے؛کہ کوئی دوسری قوم وتمدن یا مذہب اس کا ہمسر نہیں ہوسکتا۔

یہی وہ جذبہ اور ایمان لاوزوال تھا ؛جو انہیں گھمسان جنگ میں بھی ثابت قدم رکھتا تھا، جب کہ تلواریں ستاروں کے مانند ٹوٹ رہی ہوں اور افق انسانی کا مطلع گرد آلود ہوگیا ہو، تب بھی وہ ثبات و پائیداری کا دامن نہیں چھوڑتے تھے، وہ للہ فی اللہ اپنی جانوں کو جان آفریں کے سپرد کردینے پر حریص ہوتے، تاریخ شاہد ہے کہ کسی بھی جنگ میں (عمومی طور پر) مسلمانوں نے اپنی شکستگی و پراگندگی کا ثبوت نہیں دیا، باطل کے سامنے سر کیا ؟ دست رحمت بھی دراز نہ کیا، مہر بانی و شفقت کا کوئی سوال بھی ان کے ذہن ودماغ کےکسی گوشہ میں دور دور تک پیدا نہ ہوتا تھا، صلیبی جنگوں کی تین سو سالہ تاریخ اور ان میں آٹھ خوں چکا اور خوں آشام جنگوں میں کسی پل بھی مسلمانوں نے تزلزل کا ثبوت نہ دیا، دیکھنے والے انہیں ورطہ حیرت سے دیکھتے، انہیں مافوق الانسان مخلوق تصور کرتے، ان کے قیام باللیل اور فرسان بالنھار کو ماتھا پیٹتے اور بادل ناخواستہ ان کے سامنے اپنی شکست و ریخت کو قبول کرتے اور ان کے سامنے جان کی امان چاہتے، وہ ناک رگڑنے اور تلوے چاٹنے پر مجبور ہوجاتےتھے، اور کسی صحرا و بیابان کی راہ لینےمیں ہی عافیت سمجھتے تھے۔

خدا جانے موجودہ دور میں اسی پیغام اور رسالت کے پیکر؛ کیوں کر دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرنے لگے، وہ کیونکراپنی جان ومال کی امان کیلئے کاسئہ گدائی لیکر پھرنے لگے، اپنے اوپر ہونے والے ظلم وستم کا رونا کسی بیوہ جایل خاتون کی طرح واویلا مچا کر کرنے لگے، زمانے کو دہائیاں دیتے نہیں تھکتے، کوئی امریکی ایوانوں کو یاد کر کر کے اس پر لعنت کرتا ہے، تو کوئی فرانس کے حملہ پر انسانیت کے علمبرداروں کو پکارتا ہے، کسی کو اقوام متحدہ سے شکایت ہے، تو کسی کو عالم عرب سے ایسے گلے ؛کہ جیسے دین کی حفاظت اور مسلمانوں کے تحفظ پر ان کی جاگیری ہو، اور انہوں نے اس کی حفاظت و سالمیت کا ٹھیکہ لے رکھا ہو، قبلہ و کعبہ ان کی آبائی ملکیت اور دین ترکہ ہو، اگر ایساہے؟ تو کیا بات ہے کہ تقریبا پانچ سو سال تک ترک خلافت نے اسلامی کمان سمبھالی، انہوں نے اپنی جانوں کا صدقہ پیش کیا، جن دنوں میں پورا عرب اپنی خواب غفلت میں گہری نیند لے رہا تھا، اپنے نرم ونازک آرام گاہ پر چاند کی چاندنی سے لطف اندوز ہورہا تھا، ایسے میں صرف عثمانی ترک نے ہی کیوں اپنی تلواریں فضاوں میں لہرائیں ؟ کیوں اپنی جانوں کو نیزوں پر اچھالا؟ کیوں اپنے نونہالوں کے خون کو ہدر کردیا؟ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ اگر ترک قوم نہ ہوتی تو اس امت کی بے بضاعتی کا سامان کب کا ہوچکا ہوتا، مغربی درندوں کے تہذیبی دیو کے آگے لقمہ تر بن چکاہوتا۔

آج سوشل میڈیا پر تحریروں کی بہتات ہے، دعاوں اور قنوت نازلہ کی کثرت اتنی ہوچلی ہے؛ کہ کبھی کبھی ائمہ احناف کے اجتہاد پر اشکال ہونے لگتا ہے، اور خیال آتا ہے گویا قنوت نازلہ کوئی پانچویں کے بعد چھٹی نماز ہے، شاید احناف کو اندازہ نہ رہا ہوگا؛کہ ایک زمانے میں یہ قوم اس دوراہےپر کھڑی ہوگی ؛کہ اس کے معصوموں کو ذبح کردیا جائے گا، اس کی محرمات کو بیچ بازار لایا جائےگا، دین کو طرفہ و تماشہ بنا دیا جائے اور اس کے علماء کو تہہ تیغ کیا جائے گا؛لیکن وہ اقدام تو کجاحرف ’’اف‘‘ بھی کہنے کو جرم گردانیں گے، ان کی سانسیں کاٹ لی جائیں گی، ان کی آوازوں پر بندش لگ جائے گی؛ بلکہ "الکفر ملة واحدۃ‘‘(دیکھئے:شر ح بلوغ المرام لعطیہ سالم:۲۲۸/۹)کی تعلیم سینے میں دبائے ہونے کے باوجود دیائیاں دینے اور واویلہ کرنے پر ہی کام چلا ئیں گے، اور وہ قوم جو ان کے قدموں میں بھی جگہ پانے کی اوقات نہ رکھتی تھی، در در بھٹکنا اس مقدر ہوگیا تھا، وہ عدالت عظمی کی رہین منت بن جائے گی، وہ کمیٹیوں کے رپورٹس کی زینت ہوجائے گی، ہر حکومت اسے تختہ مشق بنا لےگی، اور اس طرح ہر کوئی اکیسویں صدی کے مسلمانوں کی زندگی کا فیصلہ کرے گا، ان کے کہنے پر وہ کھائیں گے، ان کے کہنے پر وہ پہنیں گے، گویا قرآن کے احکام اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی حیثیت مصلحتوں کے ترازوں میں تو لے جائیں گے، کوئی کمیٹی اور مجلس اس کا تعیین کرے گی ؛کہ کس حکم کی تعمیل کی جائے اور کس کی نہ کی جائے اور اگر تعمیل ہو بھی توکسی صنامانان ہند کی توقیر نہ ہوجائے، کوئی مادی خدا ناراض نہ ہو جائے، کوئی بزرگ عالی کی شان میں گستاخی نہ ہوجائے!

اسلام کے ماننے والوں کو قرآن کریم میں بہت پہلے یہ حکم دے دیا گیا تھا:کہ "واعدوا لھم مااستطعتم من قوة”(انفال:۶۰) اپنی حفاظت اور اسلامی غیرت وحمیت کا تقاضہ یہ ہے ؛کہ مسلمان زمانے کے ہتھیاروں سے لیث ہوں، ان کی اتنی تیاری (خواہ وہ فوجی وعسکری ہو یا فکری وعلمی) ہو ؛کہ کوئی ان کا ہم پلہ نہ ہو پائے، یقین جانئے (اگر مبالغہ نہ ہو) یہ ایسے ہی فرض ہے؛جیسا کہ نماز وروزہ اور زکات حج وغیرہ، اس سے غفلت کرنا کن ہی صورت میں جائز نہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ آج واعظین اور مصلحین کی ساری کاوشوں کا محور سوائے اس کے کچھ نہیں؛ کہ چند عبادات اور اوراد وظائف کی تکمیل کرلی جائے، خاص خاص مواقع پر محفلوں کا بند وبست ہو اور خواجگان کی نششتیں سجا کر الہی، الہی کرپکار اپنے دروازے بند کر لئے جائیں، وہ معاملات اور سیاسیات کو شجرہ ممنوعہ سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک حکومت و خلافت اور بلندی اسلام کی باتیں لایعنی لگتی ہیں، اگر یہ تعبیر صحیح نہ ہو تو اسے اگر یوں کہاجائے تو صد فیصد درست ہونا چاہے؛کہ ایسی باتیں بلکہ ایسا سوچنا بھی مصلحت و حکمت کے بحر بیکراں کے مغائر ہوتی ہیں، ایسوں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، ملک وملت کیلئے ننگ و عار سمجھا جاتا ہے، اسے امن و سلامتی کیلئے خطرہ بتلا کر پس زنداں کردیا جاتا ہے، یہ سب کچھ کسی غیر کے ہاتھوں نہیں؛ بلکہ خود مذہب کے پیرو و اجارہ دار کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

یاد کیجئے!ہجرت کے بعدمسلمانوں میں منافقین کی صف کا داخل ہوجانااور ان کی وجہ سے غزوہ احدکی خوفناکیاں اور احزاب میں ان کی تہ بتہ سازشیں ؛جس نے کفار مکہ کو بھی مات دے دی تھی، اور مسلمانوں کی حالت ایسی ہوگئی تھی ؛کہ ہر پل بیرونی حملوں کے ساتھ خانگی جنگ کا خطرہ درپیش رہتا ؛ لیکن فتح مکہ کی ایک گونا کامیابی نے انہیں پر عزم اور پر اعتماد کردیا تھا، وہ قیصر و کسری سے مڈبھیڑ کرنے اور ہر کسی دشمن اسلام کے سامنے خم ڈھونک کر میدان جنگ کی دعوت دینے پر قادر تھے؛ایسے میں صلح حدیبیہ کے موقع پر جب آئندہ سال عمرہ کرنے کی اجازت دی جارہی تھی، تو اہل مکہ نے یہ شرط بھی لگانی چاہی؛ کہ مسلمان ہتھیار لے کر نہ آئیں گے؛ لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شرائط کو جنہیں قبول کرنا ناممکن سمجھا جاتا تھا، تب بھی قبول کر لیا؛ بلکہ اس سلسلہ میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناگواری بھی براداشت کی، خصوصا حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کی حالت یہ تھی کہ فرط جوش میں آجاتےاور اپنے حق پر ہونے کے باوجود باطل کے سامنے بازیہچہ بننے کو دل پر پتھر رکھنے کے مترادف سمجھ رہے تھے؛لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کو قطعا قبول نہ فرمایا، اور کم سے کم ایک تلوار رکھنے کی بات پر اتفاق کیا گیا تھا، (دیکھئے:سیرۃ ابن ہشام:صلح حدیبیہ)۔

 دراصل یہ وہ مادہ سرفروشی اور جذبہ جہاد کے ساتھ شجاعت وبلندی اور پیغام دائمی کے جوش اور ولولہ کا نتیجہ تھا؛اور یہ درس دینا مقصود تھا ؛کہ مسلمانوں کا مستقبل تلواروں اور توپوں کے سایوں میں ہے، اسے ڈرون حملون کے بیچ پلنا اور بڑھنا ہے، اسے جنگ و قتال کا دودھ پی کر پروان چڑھنا ہے، اس پر دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرنا حرام ہو اور کسی لحظہ بھی انسانی اقدار اور دینی و ملی تشخص سے دست بردار نہ ہو! اور یہ بھی واضح کردینا تھاکہ تلوار کی نوک پر اسے زمانے کو سیدھا کر نا ہے، اس کے سامنے فرعونیت اور نمرودیت کو سجدہ ریز ہوجانا ہے، اس کے خوف و دہشت اور طاقت و قوت(خواہ ایمانی ہو یا عملی) کے سامنے سیکولرزم، کمیونزم، سوشلزم جیسے ہر بت کو خدا خدا کرکے زمین بوس ہوجانا ہے، اور زمانے کو یہ باور کروادینا تھا”واعلموا أن الجنة تحت ظلال السيوف”(بخاری:۲۶۶۴)؛کہ مسلمانوں کو جنت کی تلاش تلواروں کے سایہ میں کرنی ہے، بزدلی و کم ہمتی سے اس کا کوئی واسطہ نہ ہوگا، وہ زمانے کی کشتی کا پتوار سمبھالے گا، اور اسے صحیح رخ پرکھیتے ہوئے کامیابی و کامرانی کے ساحل سے ہمکنار کرے گا؛لیکن ہائے افسوس! ہم دہائیاں دینے والے بن گئے، ہائے افسوس! ظلم برداشت کرنے والے بن گئے، اور شاید ہم ان شعار کے مصداق بن گئے۔

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی

تو صاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی

کافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ فقیری

مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلماں

مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الہی

میں نے تو کیا پردۂ اسرار کو بھی چاک

دیرینہ ہے تیرا مرض کور نگاہی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close