ملی مسائل

مسلم بچیوں کا ارتداد ہماری ناکامی کاسب سے بڑا ثبوت

محمدصدرِعالم قادری مصباحی

زمانہ ہمیں یہ دن بھی دکھائے گا، ایسی راتیں بھی آئیں گی اورایسے حالات کابھی سامناکرناہوگاکہ ہماری بچیاں مسلم معاشرے میں پل بڑھ کرغیرمسلموں کے ساتھ اپنی زندگی اوراپناایمان بربادکرنے کے لئے ضدکریں گی اورہمارے اسلامی ٹھیکیداری کے سارے مراکزتفرقہ بازی کی شراب پی کر بدمست پڑے رہیں گے اورعوم بے چاری شترمرغ کارول اداکرے گی، نہ کہیں سے کوئی آہ سنائی دے گی اورنہ ہی کسی کے کانوں پرجوں تک رینگیں گی۔ آج جس صورتحال کاسامناہے مجھے ایک ہزارفیصدیقین ہوگیاکہ اسلام میں تجدیدکے نام پرچاہے جس فرقے نے بھی جنم لیاہوسب کی کشت زاریہودیت وبرہمنیت ہی ہے۔ میراتفرقہ بازی کے حوالے سے مطالعہ میرے دماغ میں گردش کررہاہے۔

تاریخ میں کئی ایسی کتابیں دکھائیں دے رہی ہیں جن کی وجہ سے اسلام روح مسلمانوں کے جسم سے اپنی جان بچاکربھاگ چلی ہے۔ دیوبندندوی کوبرابھلاکہہ رہے اورندوی دیوبندی کونیچادکھانے کوشش میں اپنی ساری توانائی صرف کئے دے رہے ہیں۔ اہلحدیث تمام مسلمانوں کوکافرومشرک بتارہے ہیں۔ سنی دیوبندیوں کے ساتھ تمام دوسرے مسالک ومذاہب کوکافرگردان رہی ہے۔ خوداہلسنت وجماعت میں سیکڑوں علماء ہیں جوایک دوسرے کوکافر، ضال، مضل اورنہ جانے فتویٰ کی زبان میں کیاکیاکہہ رہے ہیں۔ آج بھی ہرعالم کے پاس وقت ہے، سرمایہ ہے اورمواقع ہیں کہ کسی کی تکفیروتفسیق پراپناسب کچھ مہینوں بلکہ سالوں تک قربان کرے اگرنہیں ہے توبربادہورہے مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ان کوششوں اورفتووں کانچوڑجب میں نے سامنے رکھاتومیرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ یااللہ آج توتیری اس دنیامیں تیرے بندوں میں کوئی مسلمان ہے ہی نہیں اگرہے بھی توکوئی راہ راست پرنہیں ہے۔ سب ایک دوسرے کے فتوے کی زدمیں آکرکافر، مشرک اورکم سے کم فاسق توبن ہی چکے ہیں تومسلم بچیوں کے ارتدادکی فکرکسی کوکیوں کرہو؟؟کوئی بھی مرکزیاخانقاہ کس وجہ سے یہ جھمیلاپالے؟جس کوکافر، مشرک یامرتدبنناہوشوق سے بنے، یہاں توسب کافرہی بستے ہیں، اہل ایمان ہوتوکوئی فکرکرے۔

اب ایک گزارش کرتاہوں اسلامیان ہندکے ٹھیکیداروں سے۔ علماء، مشائخ، ائمہ، مفتیان کفرسازاورمرشدین اہل دول اگرآپ کے اندررائی کے دانے کے برابربھی ایمانی غیرت ہے توکچھ کرنے کے لئے اپنی تعیش پسندانہ مزعومہ عبادات خانوں سے باہرنکلیے۔ اللہ کے واسطے فرقہ فرقہ اورفتویٰ فتویٰ کھیلنابندکیجئے!قوم آپ سے عاجزہوکرغلط راہ پرچل پڑی ہے اگرکچھ نہیں کرسکتے توآگ لگادیجئے خانقاہوں کو، بندکردیجئے مدارس اسلامیہ کو، تباہ کردیجئے جھوٹے تعلیمی مراکزکواورپورے ملک میں مسلمانوں کے بے ایمان اوربچیوں کے ارتدادکی ذمہ داری کے جرم میں اجتماعی خودکشی کااعلان کردیجئے!!۔

آخرہواکیاہے کہ میرے جذبات قابوسے باہرہیں ؟جی!وہ سب ہوچکاہے جوتاریخ میں کبھی نہیں ہواتھااورجس کاکبھی تصوربھی مسلمانوں کے ذہنوں میں نہیں آیاتھا۔ یہ سب دین کے ان جھوٹے ٹھیکیداروں کی ناک کے نیچے ہواہے، یہ سب لڑاکابازدینی ٹھیکیداروں کومعلوم ہے کیاہورہاہے اورکیاہونے والاہے؟؟پھربھی ان لوگوں نے آپسی اختلافات کوتوخوب ہوادیالیکن کبھی ان مرتدہورہی مسلمان بچیوں کی عزت وآبرواورزندگی بچانے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی۔ لگتاہے پوری قوم اورعلماء اورنام نہادبے وقوف روشن خیال مفکرسمیت بے موت مرچکی ہے اورسب بے جنازہ دفن بھی ہوچکے ہیں۔ (2016’17’18)صرف ان تین سالوں میں 5000؍ہزارسے زائدمسلم بچیاں پورے ملک میں برہمنی سازش کاشکارہوئیں ہیں یعنی کم سے کم اتنی مسلم بچیاں غیرمسلم لڑکوں سے شادی کرکے اپنی زندگی بربادکرنے کی راہ پرچل نکلی ہیں۔ میں اسے طرفین کی محبت نہیں مان سکتااورنہ ہی اتنی بڑی تعداداکواتفاق کہہ کراپنی کوتاہی پرپردہ ڈالنے کی کوشش کرونگا۔ کیوں کہ ملک کے ہرحصے میں یہ کیسیزہوئے ہیں اورپورے پلاننگ کے ساتھ ہوئے ہیں اورہورہے ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقے کی بچیاں بھی شکاربنی ہیں، نام نہادعالمہ تک اپنی عزت اس سازش کی قربان گاہ پرقربان کرچکی ہیں تواسے اتفاق کسی بھی طورنہیں کہاجاسکتا۔

مسلم بچیاں کیسے بنتی ہیں آسان شکار

ایک لمبے وقت تک یہوداوربرہمن نے مل کرخوبصورت اورتیزوطرارنوجوانوں کی تربیت کی ہے کہ کیسے مسلم بچیوں کودام فریب میں گرفتارکرکے بربادکرناہے۔ اس ذہنی اورجسمانی تربیت کے بعدپورے ملک کے ہرکالج اوراسکول میں اس طرح کے بچے پہونچائے جاتے ہیں جن کاکام ہی ہوتاہے مسلم لڑکیوں پرڈورے ڈالنا۔ ان لڑکوں کے ساتھ تربیت یافتہ لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جومسلم لڑکیوں سے دوستی کرکے ان کودنیاکی رنگینیوں کادلدادہ بنادیتی ہیں اوراپنی ہرخواہش پوری کرنے کے لئے اسے غلط راہ سمجھاتی ہیں اوراُن لڑکوں سے ملاتی ہیں جوان کی ہرخواہش پوری کرے۔ ان تربیت یافتہ لڑکوں اورلڑکیوں کے پیچھے پوری ٹیم مستعدی سے کام کرتی ہے اورہرلڑکے سے روزانہ ہنسی مذاق کے ماحول میں اس کی کارگزاریاں بھی سنتی ہے کہ کہاں کہاں ہاتھ مارااورکتنی کامیابی حاصل کی۔ قانونی مدد، فنڈ، جگہ، مکان اورگاڑیاں اس ٹیم کی طرف سے فوراًمہیاکرائی جاتی ہے۔ ان تربیت یافتہ لڑکوں میں سے جس کی عمرزیادہ ہوجاتی ہے وہ پرائیویٹ ٹیوشن کی آڑمیں مسلم بچیوں کی آبرولوٹتاہے۔

عمومی طورپرآج کی مسلم بچیاں اسلام سے ناواقف ہوتی ہیں اوربہت حدتک معاشی پریشانیاں بھی ہوتی ہیں، اسی کافائدہ اٹھاکرتربیت یافتہ گھات میں بیٹھااسلام دشمن پہلے ان سے دوستی کرتاہے، آزادانہ فضامیں لے کرگھومتاہے، ٹہلتاہے، باربارجان بوجھ کرملاقات کرتاہے اورکبھی کسی موقع پرمالی مددکی ضرورت ہوتی ہے توبلادریغ مددکرتاہے۔ ایک دفعہ یہ سلسلہ شروع ہوجاتاہے توپھراس بچی اوربچی کے خاندان کی تباہی کے بعدہی رکتاہے۔ راجستھان اورگجرات کے علاقے سے خبریہ ہے کہ مسلم بچیوں کورجھانے کے لئے ایک لاکھ تک کی گفٹ دی جاتی ہے، ان تحفہ تحائف اورقربت کی وجہ سے ناسمجھ لڑکیوں کے دل میں محبت کاپیداہوجانافطری بات ہے۔ پھراسے متعینہ جگہ پرلے جاکرجسمانی استحصال کرکے اس کی غیرت کوشمشان گھاٹ پہونچادیاجاتاہے۔ ایک تجربہ کارمردناسمجھ بچیوں کااس طرح سے استعمال کرتاہے کہ وہ اسے اپناسب سے بڑاہمدرداورمحبوب سمجھ کراپنی سب سے قیمتی دولت اورسرمایہ حیات ایمان ومذہب سے بھی اس کے لئے ہاتھ دھونے کوتیارہوجاتی ہے۔ اس کے بعدکورٹ سے گھروالوں کونوٹس بھیجوائی جاتی ہے کہ آپ کی بیٹی آپ کی بے توجہی کی وجہ سے غیرمسلم لڑکے سے شادی رچانے جارہی ہے اگرآپ روک سکتے ہو توروک لیں۔ نوٹس ملتے ہی باپ کے ہوش ٹھکانے لگ جاتے ہیں اورلڑکی اپنی ضدپراڑجاتی ہے اس لئے کہ وہ اسکول اورکالج کی آزادانہ ماحول میں اس فانی دنیاکی چکاچونددیکھ چکی ہوتی ہے۔ سارے حربے بے کارہوجاتے ہیں اورایک مسلم بچی اپناسب کچھ قربان کرکے اپنے والدین اورسماج کی محبت کوٹھکراکررفوچکرہوجاتی ہے اورکورٹ پہونچ کرشادی کرلیتی ہے۔ شادی کرکے پرسکون زندگی گزارلیتی توصبرکیاجاسکتاتھا۔

ڈرامے کی اصل سین تواب شروع ہوتی ہے۔ شادی کے بعدتربیت یافتہ لڑکاکچھ مہینے تواسے سکون سے رکھتاہے پھراپنے رذیل آقاؤں کے اشارے پریاتواسے چھوڑکرکہیں چلاجاتاہے۔ یاکہیں راستے میں بے یارومددگارچھوڑکرچھپ جاتاہے یاپھراسے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کرہوس کاشیطانی شکاربناتاہے اورلڑکی زیادہ خوبصورت ہوتی ہے تواپنے رذیل آقاؤں کے قدموں میں ڈال دیتاہے جواس بچی کوانٹرنیشنل جسم فروشی کے دھندے میں شامل کرلیتی ہیں۔ اس طرح سے ایک باعزت گھرانے کی خوبصورت بیٹی پورے خاندان کے ساتھ پوری قوم کے لئے ذلت ورسوائی کاانمول خزانہ بن جاتی ہے اوراس قوم کی بے حسی دیکھئے کہ پھربھی کان میں تیل ڈالے مردوں کی طرح پڑی ہے۔ ایک سوال ہوتاہے کہ اس کام سے ان لوگوں کوکیافائدہ حاصل ہوتاہے؟؟کئی فائدے ہوتے ہیں۔ ایک فائدہ تویہی ہے کہ اس طرح مسلمانوں کی غیرت وحمیت سمٹ کرشمسان گھاٹ پہونچ کرخودہی اپنی چتاکوآگ لگالیتی ہے۔ دوسرافائدہ یہ ہے کہ جسم فروشی کے انٹرنیشنل دھندے سے ان رذیلوں کو اچھی خاصی آمدنی ہوجاتی ہے۔

مسلم بچیاں غیرمسلموں کے دام فریب میں گرفتارہورہی ہیں یہ کسی ایک شہرکی بات نہیں ہے بلکہ پورے ملک میں کوئی بھی شہراورکوئی گاؤں ایسانہیں ہے جہاں یہ سازش زورشورسے نہ چل رہی ہواس سازش کاسب سے زیادہ شکارگجرات، راجستھان، مہاراشٹرا، آندھراپردیس اورکرناٹک ہے۔ جے پور، دہلی، آگرہ، کان پور، الٰہ آباد، بنارس، مئو، اعظم گڑھ، پٹنہ، مظفرپور، کشن گنج، کٹیہار، پورنیہ، ارریہ، دربھنگہ، حیدرآباد، بنگلور، میسوراورہبلی جیسے شہرخاص نشانے پرہیں اوربڑی محنت کے ساتھ ان جگہوں پرکام کیاجارہاہے۔ اس کے علاوہ گاؤں دیہات کے ان خاندان کی بچیاں نشانے پرہیں کہ اگریہ سازشیں کامیاب رہیں توپوراخاندان خودکشی کواپنے لئے بہترسمجھے گا۔ 2016-17، اور2018کی جورپورٹ ہمیں حاصل ہوئی ہیں اسے بھی ایک نظردیکھ لیں۔ مہاراشٹراکے شہرپونے میں 200؍سے زائدمسلم بچیاں غیرمسلموں کے ساتھ شادی کرچکی ہیں، بمبئی میں 100؍سے زائد، تھانے میں 20؍سے زائد، ناسک میں 15؍سے زائد، شولاپورمیں 10؍سے زائد، حیدرآبادمیں 100؍کے قریب، بنگلورمیں 100؍سے زائد، اس طرح فہرست کافی طویل ہے۔

اپنی عزت بچانے کے لئے حفاظتی تدابیر

مسلم لڑکیوں کی جان ومال، عزت وآبرواورایمان وزندگی بربادکردینے والے ایسے گھناؤنے منصوبوں کوناکام بناناآج مسلم سماج کی اہم ترین ذمے داریوں میں سے ایک ہے۔ اس کے لئے دیگراقدامات کے ساتھ کچھ حفاظتی تدابیراختیارکرناضروری ہے۔ ٭سب سے پہلے اپنے گھروں میں اسلامی ماحول سازی اوربچیوں کی اسلامی تربیت کی جائے٭ان کے دلوں میں ایمان راسخ کرنے والے تمام طریقے اختیارکیے جائیں، ایمان کی اہمیت وعظمت ان کے دلوں میں اس طرح بیٹھادیاجائے کہ وہ شرک وکفرجیسی چیزسے دائمی قلبی تنفررکھیں ٭اسلام کی بنیادی تعلیم کااہتمام کیاجائے، اسلامی عفت مآب خواتین مثلاًام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجہؓ وسیدہ عائشہؓ، سیدہ فاطمہؓ، سیدہ زینبؓ اورامت کی مشہورخواتین کی سیرت لازمی پڑھائی جائیں، ان کی عظمت وپاک دامنی کوبطورمثال بیان کیاجاتارہے تاکہ ذہن ان کی پیروی کی طرف مائل ہو٭لڑکیوں کوپردہ کاپابندبنایاجائے اورعفت وعصمت کی اہمیت اوراحکام اسلام کی پیروی کی سختی سے تلقین کی جائے٭گھروں میں ٹیوی دیکھنے پرسخت نگاہ رکھی جائے اورعشق ومحبت کے سیریل دیکھنے پرپابندی عائدکی جائے، اس کے بجائے اگردیکھناہی ہوتواسلامی چینلزدیکھیں ٭بلاضرورت اعلیٰ تعلیم کے نام پربچیوں کوآزادانہ گھرسے باہرنہ بھیجاجائے٭لڑکیوں کو’جاب'(job)کے نام پرباہرنہ بھیجاجائے، یہاں سے بھی بگاڑکاماحول بنتاہے٭بچیوں کے سہیلیوں اورٹیوشن سینٹرزپرنگاہ رکھیں، ضرورت نہ ہوتوکوچینگ سینٹرزسے بچیوں کوبچائیں، آج کل کوچینگ سینٹرزذہنی آورگی کا سب سے بڑامرکزہیں ٭موقع بموقع گھروں میں میلادوتبلیغ وغیرہ کی مجالس اورتقریبات کاانعقادکیاجائے تاکہ اسلامی ماحول سے وابستگی ہمیشہ بنی رہے۔

اپنی قوم سے چندباتیں 

یوں توآزادی کے بعدسے ہی مسلمان شرپسندوں کے نشانے پرہیں لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ان شرانگیزیوں کی رفتاکئی گنابڑھ گئی ہے۔ پچھلے چارسالوں میں مسلمانوں کی جان، مال، عزت، آبرو، کھانے، لباس، رہائشی علاقے، تعلیم، مدارس، مساجدوغیرہ پرجم کرحملے کئے گئے ہیں اورآثاربتاتے ہیں کہ جلدیہ سلسلہ تھمنے والانہیں ہے۔ کیاان سارے حملوں کے باوجودہماری قوم نے ان کے سدباب کے لئے کوئی تدبیراختیارکی؟جس آگ کواپنے سے دورسمجھ کرہم تماشادیکھ رہے تھے، اب وہ آگ ہمارے آنگن تک آپہنچی ہے کیااب بھی خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟کل تک اغیاراپنی اکثریتی آبادیوں میں ظلم وستم کاکھیل کھیلتے تھے اب وہ اتنے بے لگام ہوگئے ہیں کہ ہماری آبادیوں میں گھس کرہماری ہی بہن بیٹیوں کی عزتوں کوپامال کررہے ہیں۔ اس لئے اب ہمیں سنجیدگی کے ساتھ کچھ اہم معاملات پرغوروفکراورعملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

قوم کے ارباب حل وعقدکرترجیحی بنیادوں پرعصری اداروں کاقیام کرنالازمی ہے جہاں اسلامی ماحول میں اعلیٰ تعلیم کااہتمام کایاجاسکے۔ ورنہ دوسروں کے اداروں میں حفاظت کی لاکھ تدابیرکے باوجودخطرہ لاحق رہے گا اسکول وکالجزجانے والی بچیوں کی اسلامی تعلیم وتربیت کے لئے جزوقتی اداروں کاقیام و قت کاجبری تقاضہ ہےقانون چارہ جوئی کے لئے دین داروکلاکاہونابھی وقت کی پکارہے۔ اس لئے اس جانب بھی پیش قدمی لازم ہےاغیارکے رسوم ورواج اورمشرکین کی تہذیب وثقافت سے بچیوں کوبچانابھی بے حداہم اورضروری ہے۔ پچھلے کچھ وقت سے مسلم خواتین میں ماتھے پربندی لگانے اورشوہرکے لئے ‘کرواچوتھ’ کابَرَت(روزہ) رکھنے کاچلن بڑھاہے۔

یہ اوراس طرح کی سب رسمیں کہیں نہ کہیں غیروں کے مذہب سے قربت کی وجہ بنتی ہیں محلے کی مساجدومکاتب میں ہی پرائمری تعلیم کاانتظام کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ اس صورت میں پیسے کی بچت بھی ہوگی اوراغیارکی تہذیب سے حفاظت بھی، ساتھ ہی بچیوں کی اسلامی تعلیم کانظم بھی کیاجاسکتاہے۔ باتیں بہت ہیں لیکن مفیدتبھی ہوں گی جب ہم اقدام عمل کریں گے۔ اس لئے اٹھیں اوراپنی بساط کے مطابق ملت کی فلاح وبہودکے کاموں میں لگ جائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close