ملی مسائل

مسلم سیاسی پارٹی کیوں؟

2014 کے لوک سبھا الیکشن میں بھاجپا کی کامیابی کے وجہ کر مسلم رہنماؤں کا ایک بڑا طبقہ مایوسی کا شکار ہو گیاہے اسکی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جن سیاسی پارٹیوں سے اپنے کو وابسطہ کر رکھا ہے یا جن غیر مسلم رہنماؤں کو اپنا آقا بنا رکھا تھاوہ اس سیاسی اکھاڑے اور جنگ میں بالکل نا کام نظر آئے ہیں جسکے نتیجہ میں انکے حواریوں پر مایوسی کی کیفیت طاری ہونا لازمی بھی ہے اسوقت ان مسلم رہنماؤں پر ایک عجب سی کیفیت طاری ہے کچھ لوگ اس حالت میں نظر آتے ہیں جیسے ابھی ابھی خواب غفلت سے جاگے ہوں الیکشن کے قبل جولوگ آپکی ہمدردی کا دم بھر تے تھے اور جنہیں آپکے ووٹوں کی ضرورت تھی اور آپکے کمزور کندھوں پر بندوق رکھ کر پھرتے نظر آرہے تھے اور آپکے بھروسے پر جلسے جلوس نکالا کر تے تھے لیکن مسلمانوں کی ضروریات اور انکے مسائل سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور وہ سب کے سب مسلمانوں کے مسائل سے بے خبر ہیں اس لئے مسلمانوں کو اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ آنے والے وقت میں اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھے انکے ہاتھ کچھ لگنے والا نہیں ہے ان مسلم رہنماؤں کو اب محسوس ہونے لگاہے کہ وہ جس راستے پر اب تک چلتے رہے ہیں دراصل وہ غیروں کا بنایا ہوا راستہ تھا جس پر چل کر وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں سیکولر سیاست کے نام پر سیاسی پارٹیاں انہیں بیوقوف بناتی رہی ہیں یا اپنے مفاد کیلئے انہیں استعمال کرتی رہی ہیں مسلمان ابتک یعنی سرسٹھ سالوں تک کانگریس کو غیر مشروط اطاعت پر معمور رہے ہیں انہوں نے اپنے سیاسی و غیر سیاسی ایجنڈے کو ترک کردیا تھااور عافیت کی زندگی کی تلاش میں سب کچھ بھلا کر رکھ دیاتھا اوروہ ملی مذہبی بنیادوں پر اپنی صف بندی کو ترک کرتے ہوئے ان پارٹیوں کے تابع ہوگئے اور سیکولرازم کے علمبردار اور مبلغ بن بیٹھے تھے آخر انہیں کیا ملا ذلت ورسوائی کی زندگی ۔مسلمانوں کیلئے کانگریس کے اس طویل دور اقتدار کا ہر دن قیامت انگیز ثابت ہوا ہے اس لئے اب انہیں کچھ ضرور کر نا چاہئے
اسوقت ملک بھرمیں ایک بحث چھڑگئی ہے کہ کیا ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک سیاسی پارٹی بنانی چاہئے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ اس طرح کی کوشش مسلمانوں کو ضرور کرنی چاہئے اور ایک سیکولر پارٹی بنانی چاہئے جسکی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو توکچھ لوگ اسے ایک بیکار کی کوشش مانتے ہیں مگر کچھ مبصرین کی رائے ہے کہ مسلمانوں کو اس ملک میں ایک علحدہ سیاسی پارٹی بنانے کی ضرورت آخر کیوں آ پڑی ہے جبکہ انہیں اس ملک میں سب کچھ مل رہا ہے حکومت کا کون سا عہدہ ہے جو انہیں نہیں مل پارہا ہے مسلمانوں کو اس ملک میں تین تین بار صدار ت کی کرسی ملی انگنت گورنر،وزیراعلی، وزیر ،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اور جسٹس،سفیر،چیف سکریٹری اور سکریٹری کا عہدہ ملا اسکے علاوہ یہاں کی ہر پارٹی اس بات کا پورا پورا خیال رکھتی ہے کہ کم سے کم ایک مسلمان کو کسی بڑے عہدہ پر فائز کیا جائے اور انہیں کسی نہ کسی حلقہ انتخاب سے ٹکٹ ضرور دیا جائے یہاں تک کہ اب تک مرکز میں شاید ہی کوئی ایسی حکومت تشکیل دی گئی ہوجس میں کوئی مسلمان نہ ہویعنی کون سی ایسی جگہ ہے جہاں مسلمانوں کا عمل دخل نہیں ر ہا ہے پھر بھی کچھ لوگ مسلمانوں کی ایک سیاسی پارٹی کے قیام پر زور دیتے رہے ہیں کیاایسا نہیں لگتا ہے کہ مسلمانوں کی اس نئی پارٹی کے ذریعہ انکا مقصد اپنی لیڈر شپ چمکانے کے سیوا کچھ اور نہیں ہے
قابل غور بات یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے بعدجو لوگ مسلم رہنماؤں اور قیادت کی شکل میں حکومت کے مختلف عہدوں پر فا ئز رہے ہیں وہ واقعی کون لوگ ہیں اور وہ کن لوگوں کی گود میں ابتک کھیلتے رہے ہیں کیا انکی ان ساری محنتوں کا مقصد مسلمانو ں کی خبر گیری تھی یا وہ حضرا ت ہر قیمت پر اپنے ان خود ساختہ آقاؤں کی خوشنودی کیلئے کام کر رہے تھے ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جو لوگ سیاست کے میدان میں مسلمانوں کے نمائندے شمار کئے جا تے ہیں وہ آخر کس بنیاد پر مسلم نمائندگی کی بات کرتے ہیں انہیں کس نے مسلم قیادت کرنے کا حق دے دیا اور انکی مسلم نمائندگی کو اعتبار کہاں سے ملی ہوئی ہے
یہ بھی عجب بات ہے کہ ان میں سے بیشتر رہنما مسلمانوں کے اکثریتی حلقہ انتخاب سے ہی منتخب ہوکر آتے ہیں لیکن ان سیاسی پارٹیوں میں انکا دخل اور ان انتخابی حلقوں میں انکی نامزدگی کا معاملہ کلی طور پر انکے آقاؤں کے رحم و کرم پرمنحصر ہوتا ہے یعنی اگر اس شخص نے اپنے دین و ایمان اور قوم کا سودا کرنے میں،مسلم مفادات کو نقصان پہنچانے اور اپنے آقاؤں اور گاڈ فادر کے اشارہ کو عملی جامہ پہنانے میں تھوڑی بہت بھی کوتاہی برتاہے اگر وہ اس دوڑمیں ذرا بھی سستی کرتا ہے تو کوئی دوسرا اس پر سبقت لے جاتا ہے مفاد پرستی اور سبقت پرستی کی اسی دوڑنے اس نظام اور ان آقاؤں کو بڑی آسانی سے وفادار خادموں کی فوج انہیں فراہم کردیتی ہے اور جب وہ شخص مسلمانوں کا نام استعمال کرتا ہے اور اسکی فلاح و بہبود کیلئے کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو وہ ان ا سبا ب کے بنا پرپارٹی میں اپنا اعتبار اور اہمیت کھو دیتا ہے تو پھروہی سیاسی پارٹیاں اسے کسی کوڑے دان میں اس طرح پھینک دیتی ہیں جیسے کبھی اسکا کوئی وجود ہی نہیں رہا ہو۔
یعنی ان میں سے کسی بھی مسلم رہنما کواپنی پارٹی کے اندر مسلم مسائل جیسے مسجد،اوقاف ،قبرستان ،مدرسہ ، فرقہ وارانہ فسادات اور مسلمانوں کی تعلیمی ، سیاسی ، معا شی واقتصادی پسماندگی اور انکے مسائل پر بولنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے اگر ان لوگوں میں سے کسی نے مسلمانوں کے حق میں بولنے کی تھوڑی بہت بھی جرات کی تو انہیں پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے یا انہیں گھوٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے اس ڈر سے وہ وہی کرتے ہیں جو انہیں پارٹی کی جانب سے حکم ملتا ہے در حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے رہنما تو دوروہ اپنی پارٹی کے اندر اور حکومت میں مسلمانوں کے نما ئندے بھی نہیں ہوتے بلکہ وہ مسلمانوں کے درمیان صرف اپنی پارٹی کے نما ئند گی کرتے نظرآتے ہیں اور اپنی پارٹی کی تصویر صاف کرنے اور بنانے میں لگے رہتے ہیں بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ وہ مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کا کام کرتے ہیں تا کہ مسلمان کسی بھی حال میں متحد نہ ہوسکیں اور ان کا ووٹ بکھرکر رہ جائے
آزادی کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے پورے اخلاص اور یکسوئی کے ساتھ ہندو لیڈر شپ کی قیادت والی سیاسی پارٹیوں پر اعتماد کیاتھا بلکہ وہ اسی کے تابع ہو کر رہ گئے تھے جس میں کانگریس کا نام سر فہرست ہے جو آزادی کے بعد بلا شرکت غیر پچاس سالو ں تک اس ملک پر حکو مت کرتی رہی ۔اسکے بعد مرکز اور ریاستوں میں ہندو قیادت والی دوسری اور علاقائی پارٹیوں کا دور شروع ہوتا ہے اسوقت بھی کسی نہ کسی صورت میں ان حکومتوں میں کانگریس کا سکہ چلتا رہا ،لیکن اسکے نتیجے میں مسلمانوں کو اگر کسی چیز کا تحفہ ملا تو صرف پسماندگی ،فرقہ وارانہ فسا دات اور قید وبند کی زندگی ، وہ پسما ندہ سے پسما ندہ ہو تے چلے گئے اور اسکے نتیجے میں جسٹس سچر کمیٹی کے طور پر ایک رپوٹ آگئی جسکے مطابق اس ملک میں مسلمانوں کی حالت زندگی کے ہر شعبے میں دلتوں سے بھی بد تر ہوگئی ہے اسکے تدراک کیلئے اس نے جو سفارشات کی تھیں وہ سب کے سب سرد خانے میں پڑی ہوئی ہیں اور یہ قوم بدستور اپنے مسائل میں گھرتی چلی جا رہی ہیں مسلمانان ہند کے مسائل کے سلسلے میں انکی بے رخی ، بے توجہی اور عدم دلچسپی کے حوالے سے مرکز اور صوبوں کی کانگریسی و غیر کانگریسی یعنی تمام سیکولر پارٹیوں کا رویہ ایک ہی طرح کارہا ہے ان میں کچھ بھی فرق نہیں ہے مسلمانوں کو کمزور کرنے اور انکو دبا کر رکھنے میں ان سب کا اتفاق ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان پارٹیوں کے درمیان ایک خفیہ سمجھوتہ ہے
آزادی کے وقت سے مسلمانوں کی جو حالات ہیں وہ بدستور اسی طرح آج بھی قائم ہیں فوج میں مسلمان ایک فیصد، پولیس میں دو فیصد، اہم عہدوں پر صفر،پارلیامنٹ ہویا ریاستی اسمبلی،پنچایت ہو یا مونسپل کارپوریشن،بلاک ہو یا ضلع پریشد ہر انکی نماٹندگی میں دن بدن کمی آتی جارہی ہے پارلیامنٹ میں انکی نمائندگی زیادہ تر۱۸سے ۳۰تعداد کے اندر، اکثر ریاستوں کی اسمبلی میں انکی نمائندگی صفر یا ایک ،دو گجرات سے پچیس سالوں سے کوئی بھی مسلمان پارلیامنٹ میں نہیں آسکا ہے دس دس ریاستوں سے ملکی پارلیامنٹ میں انکی نمائندگی ندارد ہوتی ہے ،شہر ہو یا دیہات مسلمانوں کی ہر جگہ معاشی حالت انتہائی خستہ حال ہے سرکاری ملازمتوں میں مسلمان برائے نام رہ گئے ہیں اور انکے لئے ریزرویشن اور ترقی کیلئے طرح طرح کے اڑنگے لگائے جاتے ہیں
ہندوستان کو آزادی ملے سرسٹھ(68) سال گزر چکے ہیں لیکن یہاں کا مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں جس قدر پیچھے چلاگیا ہے جسکی مثال کیلئے سچر کمیٹی کی رپورٹ کافی ہے آج بھی وہ ان حکمرانوں اور پارٹیوں کے مکرو فریب اور پروپگنڈے کے درمیان سیاسی اور ذ ہنی غلامی کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور جو لوگ اسی وجہ کر کسی پارٹی یا سرکاری عہدے پر برجمان ہوتے ہیں اور سیکولرزم کے نام پر جانے جا تے ہیں وہ کسی بھی حال میں مسلم نمائندے تسلیم نہیں کئے جاتے ۔ان میں سے زیادہ تر لوگ سیاست کے میدان میں اس وجہ کر داخل ہو ئے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے نام پر اپنی دوکان اور کاروبار چلاتے رہیں لیکن وہ مسلمانوں کی بھلائی اور ترقی کی باتیں بالکل نہیں کرتے بلکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی مسلمانوں کی صف بندی اور انکی بھلائی کیلئے کوئی آواز اٹھنے لگتی ہے تووہ ایسی ہر مہم کے خلاف سینہ سپر ہو جا تے ہیں اتنا ہی پر وہ چپ نہیں رہتے بلکہ یہی مسلم رہنما مسلمانوں کو برا بھلا کہنے میں اور ان پر انتہا پسندی کا الزام لگانے میں اپنے غیر مسلم آقاؤ ں سے بھی کئی گنا آگے نظر آتے ہیں تو پھرسوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کیسے مسلمان ہیں اور کیسے مسلم رہنما اور نمائندے ہیں جودن رات اس جدو جہد میں مشغول ہوتے ہیں کہ کسی طرح بھی انکی پارٹی اور انکے آقاؤں کی آرزوپوری ہوجائے ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر با شعور مسلمان اس بات کی کوشش کرے کہ وہ انکے مکرو فریب کا پردہ چاک کریں اور اس عہد کو پور ی ذمہ داری کے ساتھ ادا کر یں اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کیلئے بھی کوشاں ہوں اور عام مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ مسلمانوں کی وہی لوگ نمائندگی کر سکتے ہیں جو انکی ترقی کے لئے شعوری اور عملی طور پرفکر مند ہوں جو لوگ اس ملک میں مسلم نمائندگی کا دعوی کرتے ہیں اب سوال یہ اٹھنا لازمی ہے کہ کیا مسلمانوں کیلئے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ملک کی موجودہ سیاست میں سیکولر پارٹیوں کے وہ دست و بازونہ بنیں اوراس جدوجہد میں اپنی توانائیاں ضائع نہ کریں
مسلم سیاسی پارٹی کا قیام ہمارا شوق نہیں بلکہ اسکی ضرورت ہے اس کے ذریعہ ہمیں یہ سمجھنا آسان ہوجائیگا کہ ہم بیک وقت دو کشتیوں پر سوار نہیں ہونگے اور کسی غیر مسلم سیاسی آقا کو ہمیں تسلیم کرنا آسان نہیں ہوگا اس طرح سونیا،پوار،ملائم،لالو،نیتش،بسو،ممتا،مایاوتی ،فاروق عبداللہ ، دیوگوڑااور مودی جیسے رہنماؤں سے تعلق رکھنا بھی ناممکن ہوگا پھر انہیں یہ بھی سمجھانا آسان ہوجائیگا کہ ہمارا سیاسی منشور ان سے مختلف ہوگا اور ہم اسی سیاسی منشور کے تحت کام کرنے کیلئے پابند ہونگے اسکے علاوہ جو کوئی کسی غیر کے منشور کو اپنا تسلیم کریگا اور اسکے تحت کام کرنا چاہے گاوہ ہملوگوں میں نہیں ہوگا اور نہ ہی ہم انہیں اپنا نمائندہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی انکے لئے ہمارے مسلم معاشرے میں کوئی جگہ ہوسکتی ہے اگر اس ایجنڈے کے تحت ہم کام کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقیناًہم ہندوستان کے مسلم معاشرے کو ہم کچھ دینے میں کامیاب نظر آئیں گے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد شمشاد

مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

متعلقہ

Close