مسلم پرسنل لاء اور الجھنیں

محمد شاہ نواز عالم ندوی

کئی دہائیوں سے امت مسلمہ ہندیہ کلفتوں اور الجھنوں کی شکار ہے۔ کلفتیں اور الجھنیں ہیں کہ مسلمانوں کا پیچھا چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ لیکن شاید مسلمان ان الجھنوں کے عادی ہوتے جارہے ہیں اور راہ کی پرخاری دیکھ کر شاید مزہ آرہاہے۔

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں   

    جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

کیوں کہ آبلہ پائی اور الجھنیں ہماری مقدر بنتی جارہی ہیں۔ ماضی کے آئینہ میں جھانک کر دیکھیں تو سچ یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے حالات کا رخ آزادی کے بعد سے ہی مسلمانوں خلاف ہے۔ سکیولر، سکیولر کی دہائی دینے والے لوگوں اور جماعتوں نے ہر محاذ پر مسلمانوں کو صرف ایک مہرہ کے طور پر دیکھا ہے اور اس کے استحصال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ حالیہ دنوں بابری مسجد کے مقدمہ کی سماعت ہونے والی ہے اور عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ جلد از جلد اس مقدمہ کی سماعت کرکے فیصلہ سنادیا جائے گا۔ مذکورہ مسئلہ میں ایک طرف مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف ہے جو بالکل واضح ہے اور دوسری طرف برسراقتدار پارٹی (بی جے پی) اور آر ایس ایس اور ہندوسماج ہے۔ برسراقتدار پارٹی نے ماضی میں بھی جب اقتدار حاصل کیاتھا تو اس کا اصل مدعا یہی تھا اور اسی کو پیش کرکے ووٹ بٹورے تھے اور 2014ء میں بھی اس نے اسی حربہ کو دوبارہ استعمال کیا اور مندر ومسجد کے مسئلہ کو گرم کرکے مرکزمیں حکمرانی قائم کی۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکمران جماعت نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ یہ مسئلہ حل ہو اور مندر یا مسجد جس کے حق میں فیصلہ ہوجائے اور معاملہ ختم ہوجائے۔ کیوں کہ اگر یہ معاملہ فیصل ہوگیا تو پھر انتخابات کے لئے اس کے پاس کوئی ایشو نہیں رہے گا جس کی بنیاد پر وہ ہندوو?ں کو بھڑکا سکے گی اور اپنے حق میں ووٹ بٹورسکے گی۔ حکمران جماعت کے تین سال مکمل ہوچکے ہیں اور ملکی اور قومی مسائل جوں کے توں ہیں انتخابی منشور میں جو وعدے کئے تھے اس میں سے کسی ایک پورا کرنا تو درکنار کسی ایک کا ایک حصہ بھی پورا نہیں ہوا۔ گویا حکومت ہرمحاذ پر ناکام ونامراد ہوچکی ہے۔2019ء میں عوام سے ووٹ ما نگنے کے لئے حکومت کے بٹوے میں کچھ نہیں ہے۔ خیر جو ہورہاہے اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ وزارت عظمیٰ کی بحالی کے لئے مذکورہ جماعت کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مثبت افکار اور اقدام سے کنارہ کش ہوجائے اور منفیات کو بڑھاوا دے جس کے لئے اس نے ابھی سے تیاری شروع کردی ہے۔ پارلیمان میں طلاق ثلاثہ بل پیش کرکے مسلم خواتین کی فکر نہیں کی گئی ہے بلکہ پس پردہ مسلمانوں کے اجتماعی وجود ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی ایک کوشش تھی جس کی تفصیلات سے ہر عام وخاص واقف ہے۔ ہم اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

مسلم پرسنل لاء کا اجلاس:

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جس کے کندھے پر مسلمانوں کی جانب سے شریعت کے تحفظ کی ذمہ ہے اور بابری مسجد معاملہ میں اس کی حیثیت بہت اہم ہے۔ طلاق ثلاثہ بل کے خلاف بھی اس کو لڑنا ہے تو بابری مسجد کی اراضی کو بھی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسی سلسلہ میں گزشتہ دنوں حیدرآباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کئی معاملات ایسے ہوئے جس نے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ الجھنوں کی فہرست میں مزید کئی الجھنیں شامل ہوگئیں۔ اجلاس اپنے وقت پر نہیں ہوسکا، متعینہ ایجنڈوں پر خاطر خواہ بحث نہیں ہوسکی، اکابرعلماء کرام، بورڈ کے اہم اراکین اور مفکرین ودانشوروں کی ٹیم سرجوڑے بیٹھے تھے کہ طلاق ثلاثہ بل پر کس طرح کا اقدام کرنا ہے اور بابری مسجد مقدمہ کی سماعت میں کس طرح کی پہل کی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی عوامی کانفرنس یا اجلاس عام نہیں تھا بلکہ سنجیدہ لوگوں کی سنجیدہ مشاورتی نشست تھی جس میں ملک وملت کے چنندہ افراد اور امت مسلمہ ہندیہ کے محبوب ترین لوگ جمع تھے۔ نورانی محفل میں شریک ہر ایک درنایاب تھا ہر ایک کا اپنا علمی وقار تھا۔ (وہ الگ الگ ہے کہ نظام قدرت نے بعض کو بعض پر فوقیت دے رکھی ہے) اس مجلس عرفانی میں ہر شمع کو اپنے اپنے ڈھنگ سے جلنے اور روشن کی آزادی حاصل تھی۔ تو یقینی امر ہے کہ ہرایک اپنا مشورہ دے گا اور اپنی رائے سے مجلس کو روشناس کرائے گا اور یہ بھی یقینی ہے کہ آنے والے مشورے متفق بھی ہوسکتے ہیں اور مختلف بھی۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ کسی کو تو اس مجلس میں بولنے کی خوب آزادی دی گئی اور کسی کو لب سی لینے پر مجبور کیا گیا اور بزبان حال کہہ دیا گیا کہ تیرے خیالات کی ہمیں ضرورت نہیں ہے تواپنے خیالات کے سمندر خود غوطے لگاؤ۔ (بہت معذرت کے ساتھ) کہ اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ علماء ربانیین کی اس چنندہ محفل میں ’’لباس خضر میں سینکڑوں رہزن‘‘ بھی چھپتے ہیں، جنہوں نے محفل ربانی میں بازاری ہنگامہ آرائی کی اور خوب ہلڑ مچایاجس سے بورڈ کا وقار مجروح ہواہے۔

علماء ربانیین کا استہزا :

وہاں جو سوہوا ہم یہ واضح کردیں کہ ہمیں اجتماعیت اور اکابرین کے فیصلہ پر پورا اعتماد وبھروسہ ہے اور ہم ان کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ لیکن ایک ایسا شخص جس نے خون اور پسینہ سے بورڈ کو سینچا ہو، بابری مسجد کی شہادت کے وقت ملک کے بگڑے ہوئے ماحول میں اپنی جان خطروں میں ڈال کر ملک بھر کا دورہ کیا ہو اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی ہو، بورڈ کے صدر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر ہر موڑ اور ہر نائبہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح، ایک مردمجاہد اور مرد میدان کی طرح ڈٹا رہا ہو، ان سے بولنے کا بھی حق چھین لیاجائے اور وہ جب بولنے کے لئے کھڑا ہو تو بازیبا حرکتیں کی جائیں اور ہلڑمچایا جائے۔ کیا یہ اس بات کا اشارہ نہیں ہے کہ کچھ لوگوں نے بورڈ میں اس لئے شمولیت اختیار کی ہے کہ وہ اپنے مفادات کی حفاظت کرسکیں اور سیاسی فائدہ اٹھاسکیں۔ سیاسی لوگوں اور اپنے مفادات کی حفاظت کرنے والوں کی بورڈ میں کیا ضرورت ہے؟ کیوں ان کو برداشت کیا جارہاہے؟ یہ معاملہ یہیں ختم ہوجاتا تو تب بھی یہ بہت دکھ اور رنج وملال کا موقع تھا۔ لیکن اس خصوصی نشست کے بعد عوامی اجلاس اس منعقد کیا گیا کہ عوام کو اصلاح معاشرہ کا پیغام دینا ہے۔ نکاح، طلاق، وراثت اور عائلی مسائل کے نکات سمجھانے ہیں، معاشرہ میں جینے اور غیروں کے ساتھ رکھ رکھاؤاور سلوک وبرتاؤکے گْڑ سکھانے ہیں۔ لیکن ہائے رنج وملال! ہمارے اکابرین، محبوب وجگرگوشۂ ملت کی موجودگی میں ایک میدان سیاست کا ایک کھلاڑی، جس کی زبان پر اگر شریعت کا لفظ ہے تو یہ بھی انہیں علماء  کا دین ہے، جس کو سیاسی جماعتوں نے ماضی میں بھی اور حالیہ دنوں بھی متہم قرار دیا ہے اور فسطائیت کے علمبردار پارٹی سے ساز باز کرنے کا الزام لگایا ہے (اگرچہ کہ یہ الزامات غلط ہی کیوں نہ ہوں ) اس نے خانوادۂ حسینؓ سے نسبی تعلق رکھنے والے علم وروع، زہدوتقویٰ، اخلاق وکردار، فکرودانش، حسن عمل واخلاص وللّٰہیت کے علمبردار عالم ربانی پر زبان درازی کی، معتبر ذرائع کے مطابق کوئی20؍ منٹ تک لعن وطعن کرتا رہا۔ امت سے ان کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتا رہا۔ معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں اور بیماریوں میں ایک بڑی بیماری علماء سے امت کی دوری ہے اور زول پذیر امت کی زوال کا راز بھی یہی علماء بیزاری، علماء سے دوری ہے۔ اس کو ہوا دیتا رہا۔ اس فرد کی شناخت یہ ہے کہ وہ پارلیمان میں چیخ کر بات کرتاہے، اس کی باتوں سے منافرت کی بو آتی ہے، طلاق ثلاثہ بل پر اس نے خوب لن ترانی کی تھی، جس کی وجہ سے مولانا اسرارالحق، مولانا بدرالدین اجمل کو امت نے لعن وطعن کیا تھا۔ لیکن اس لن ترانی کی کیا تھی یہ کسی نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ اس کو اپنا سیاسی کیریئر بنانا تھا جو اس نے بنالیا۔ کیا ایسے شخص کو جو کھلم کھلا کسی عالم ربانی کا مذاق اڑائے، عالم کے استہزا کے جرم مرتکب کو کیا ایسی تنظیم اور تحریک اور نشست ومجلس میں رہنے کی گنجائش ہے جس کو سنجیدہ، باوقار، امت کے محبوب ترین افراد واشخاص، مسلمانوں کے دل کی دھڑکنیں آباد کرتی ہوں ؟

کیا ہے راز:

عالم ربانی پر ہرزہ سرائی کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ ایک شخص سیاسی بساط پر اپنی اہمیت بنانے کے لئے  کسی عالم ربانی کو لعن طعن کا نشانہ کیوں بنارہاہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ماضی قریب میں اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے جس کے نتائج سے سب واقف ہیں اس انتخاب میں مذکورہ سیاسی قائد نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے اور یہ امید لگارکھی تھی کہ جس پر وہ اب طعن کررہے ہیں انتخابات میں اس کا ساتھ دیں گے اور عوام میں ہماری شناخت کی کوشش کریں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا تھا شاید یہ اسی کا بدلہ ہو۔

الجھنوں کا خاتمہ:

اللہ ہی خیر کا معاملہ کرے۔ امت مسلمہ ہندیہ کو چاہئے کہ وہ علماء  کے استہزا اور مذاق سے بچنے کی کوشش کریں اور اپنے اجتماعی وجود کو برقرار رکھنے کی کوششکریں۔ تبھی یہ الجھنیں ختم ہوں گی۔ اس ضمن میں علماء کا رول سب سے اہم ہے وہ اور بطور خاص مساجد میں خدمات انجام دے علماء وحفاظ کو چاہئے کہ فضا کو پرامن بنانے میں علماء، اکابرین کا ساتھ دیں اور موجودہ صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچانے کی کوشش کریں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ 2019ء کے انتخابات کے موقع پر فسطائیت زرخریدوں کا سہارا لے کر ہم پر مسلط نہ ہوجائے۔ اللہ ہم کو توفیق سے نوازے۔ آمین



⋆ محمد شاہ نواز عالم ندوی

مدیر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بزمِ رہبر کے زیر اہتمام آل بہار مشاعرہ کا انعقاد

صوبہ بہار کے دربھنگہ ضلع کے نوجوان شاعر وصحافی ڈاکٹر منصور خوشتر کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بزمِ رہبر نے ’’مولانا ظہور رحمانی ایوارڈ‘‘ سے نوازا۔ اس موقع پر بزمِ رہبر نے آل بہار مشاعرہ کا انعقاد کیا جس کی صدارت عالمی شہریت یافتہ شاعر ڈاکٹر عبدالمنان طرزی اور نیاز احمد (سابق اے ڈی ایم) نے مشترکہ طورپر کی اور نظامت کے فرائض مشہور ومعروف شاعر جمیل اختر شفیق نے بحسن وخوبی انجام دئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے