ملی مسائل

مسلم پرسنل لاء بورڈ اور ہندوستانی عدالتوں میں ٹکراؤ کی صورت حال کیوں؟

غوث سیوانی، نئی دہلی

مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پچھلے دنوں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت سے باز آئے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ عدالتوں کے ذریعے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی جا رہی ہے اور وہ مرکزی سرکار سے اپیل کرتا ہے کہ شریعت کے قانون کا وجود برقرار رکھنے کے لئے پچھلی حکومتوں کے رخ پر قائم رہا جائے۔ بورڈ کے رکن ظفریاب جیلانی نے بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی تقریبا چار گھنٹے تک جاری رہی مٹینگ کے بعد منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ عدالتوں کے ذریعے پرسنل لاء میں دخل اندازی کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں پچھلے دنوں طلاق سمیت کئی کیس آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کی حکومت سے اپیل ہے کہ شریعت میں کسی طرح کی مداخلت نہ ہو۔ ماضی میں جس طرح سے حکومتوں کا شرعی قانون کو لے کر مثبت رخ رہا ہے، اسی پر اب بھی حکومت قائم رہے۔ جیلانی نے کہا کہ اجلاس میں دستورشریعت کو بچانے پر بھی بحث ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں سوریہ نمسکار وغیرہ کا چلن بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، جسے مسلمان برداشت نہیں کریں گے۔بورڈ اس کیلئے بیداری مہم چلا رہا ہے ۔جیلانی صاحب نے جو کچھ کہا اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ بورڈ کی طرف سے اس قسم کے اعلانات آتے رہے ہیں مگر اس قسم کی باتیں مسئلہ کا حل نہیں ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء کے بزرگ علماء نہ تو اصل مسئلہ کی طرف توجہ دے رہے ہیں اور نہ ہی اس کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حکومت اور کورٹ مسلمانوں کو نہیں بلاتے ہیں بلکہ پریشان حال مسلمانوں کو جب کوئی حل نہیں نظر آتا تواپنے مسئلے کے حل کے لئے حکومت اور کورٹ کی طرف رجوع کرتے ہیں جہاں ہونے والے فیصلے کو مسلم پرسنل لاء بورڈ اور علماء کی طرف سے غیراسلامی قرار دیا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ایک عورت اپنی پوری زندگی ایک مرد کے پہلو میں گزار دیتی ہے مگر کسی معمولی بات پر وہی شوہر اسے تین طلاقیں دے کر اچانک سڑک پر ڈال دیتا ہے تو اس کا حل نکالنے کے لئے نہ مسلم پرسنل لاء بورڈ سامنے آتا ہے اور نہ علماء کرام آگے بڑھتے ہیں۔ ایسے میں اگر کورٹ کہتا ہے کہ اس کا سابقہ شوہر اسے تازندگی گزارہ بھتہ دیتا رہے تو اسے مسلم پرسنل لاء میں ،مداخلت قرار دے دیا جاتا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ اگر بورڈ کے پاس مسئلے کا کوئی حل ہے تو دنیا کے سامنے رکھے اور اگر حل نہیں ہے تو خاموشی کے ساتھ عدالت کے فیصلے کو قبول کر لے۔ اگر انصاف دلانے کے لئے مسلم علماء اور اسلام کے نام لیواآگے نہیں آئینگے تو کورٹ کو سامنے آنا ہی پڑے گا۔ مسلمان خواتین کے ساتھ ناانصافی ان دنوں عام ہے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبران میں بہت سے معزز حضرات ایسے مل جائیں گے جنھوں نے اپنی بہنوں کا حق وراثت مارا ہوگا اور اپنے باپ کی وراثت میں سے ملنے والا شرعی حق اسے نہیں دیا ہوگا، ایسے میں اسلامی قانون اور مسلم پرسنل لاء کی دہائی دینے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ آج کتنی مسلمان خواتین کو وراثت میں حصہ ملتا ہے؟ کئی فیصد مسلمان عورتیں اپنی مرضی کی زندگی جینے کے لئے آزاد ہیں؟ کتنی مسلمان عورتیں ہیں جو خود کفیل ہیں اور اپنے روزگار کے لئے مردوں پر انحصار نہیں کرتیں؟ کتنی مسلمان لڑکیاں ایسی ہیں جنھیں ان کے والدین، بیٹوں کی طرح اچھے اسکول میں پڑھاتے ہیں؟کتنی لڑکیوں کی شادی طے کرنے سے پہلے ان کی مرضی جاننے کی کوشش ہوتی ہے؟مسلم خواتین کے سرپر طلاق کی تلوار کیوں لٹکتی رہتی ہے؟ اس طرح کے بہت سے سوال ہیں جن پر مسلمانوں کو غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے اور مسلم پرسنل باروڈ کو ان کا حل پیش کرنا چاہئے بجائے کورٹ اور حکومت سے مقابلہ آرائی کرنے کے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسلمان خواتین کو اسلام نے برابری کا حق نہیں دیاکیونکہ جس زمانے میں خواتین کی زندگی
جانوروں سے بدتر تھی اور انھیں جینے کا حق بھی مشکل سے ملتا تھا ،اس دور میں اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق نسواں کی بات کی اورصنفی مساوات کا نعرہ بلندکیا۔یہ الگ بات ہے کہ آج جب بعثت نبوی کو تقریباً پندرہ سو سال ہونے کو آئے ہیں،مسلم معاشرہ ،خواتین کو ان کے جائز حقوق نہیں دے پایا ہے۔ اس معاملے کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلویہ ہے کہ مسلم خواتین کی حلق تلفی عموماً اسلام کے نام پر ہی کی جاتی ہے اور مذہب کا حوالہ دے کر ان کو مردوں کے مساوی حقوق نہیں دیئے جاتے۔ ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے جب کیرل کے ایک معروف عالم دین شیخ ابوبکرمسلیار کا بیان میڈیا میں آیا تھا کہ اسلام میں مساوات مردوزن کی بات درست نہیں ہے۔ خواتین کا کام بچے پیدا کرنا ہے اور ان کے اندر عقل وشعور کی کمی ہوتی ہے۔ یہ بات صرف شیخ ابوبکر مسلیارتک محدود نہیں ہے بلکہ ’’ اسلامی مملکت ‘‘سعودی عرب میں تو سرکاری پالیسی کا حصہ بھی ہے صنفی امتیاز۔ حالیہ دنوں میں خواتین کو پہلی بار میونسپل انتخابات میں حصہ لینے اور ووٹ دینے کا حق دیا گیاجسے وہاں کی مسلم خواتین کی سب سے بڑی آزادی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس انتخاب میں خواتین امیدوار بھی شامل ہوئیں جن میں سے ایک نے مکہ کے علاقے کا انتخاب بھی جیت لیا۔حالانکہ آج بھی سعودی عرب میں خواتین گاڑی ڈرائیو نہیں کرسکتیں، بغیر کسی مرد رشتہ دار کے کہیں سفر نہیں کر سکتیں، اپنی مرضی سے شادی نہیں کر سکتیں، اس کے لئے ان کے اہل خانہ کی رضامندی ضروری ہے۔وہ بغیر اپنے اہل خانہ کی اجازت کے باہر جاکر کام بھی نہیں کر سکتیں۔اگر وہ عوامی مقامات پر جاتی ہیں تو انھیں خاص قسم کا برقع پہننا انتہائی ضروری ہے۔یہاں خواتین بہت سے ایسے کام نہیں کرسکتی ہیں جن کی اجازت مردوں کو ہے۔اسلام نے اجنبی مرداور عورت کو تنہائی میں ملنے سے منع کیا ہے مگر یہاں تو عوامی مقامات،ہوٹلوں اور پارکوں میں بھی وہ مردوں سے باتیں نہیں کرسکتیں اور آفس وکام کاج کے مقامات پر ان کا ملنا جلنا ممنوع ہے۔ یہ کس قدر دوہرا معیار ہے کہ ایک طرف تو مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اسلام کسی صنفی امتیاز کے خلاف ہے اور وہ مردوں ،عورتوں میں کسی قسم کا بھید بھاؤ نہیں کرتا ،دوسری طرف مسلم معاشرہ کی زمینی سچائی کچھ الگ ہے اور اسلام کو سرکاری مذہب ماننے والے مسلم ممالک میں آج تک خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل نہیں ملے۔ مسلم ملکوں میں آج بھی یہ بحث چلتی ہے کہ عورت ملک کی صدر یا وزیراعظم بن سکتی ہے یا نہیں؟ سعودی عرب تو چھوڑیئے جب مرحومہ بے نظیر بھٹوپاکستان کی وزیر اعظم بنیں تو یہاں بھی بحث تیز ہوگئی کہ ایک عورت ملک کی وزیر اعظم کیسے بن سکتی ہے؟ جس ملک میں قدم قدم پر شراب خانے، طوائف خانے اور سنیماہال موجود ہیں اور وہاں اسلامی ملک میں ان کی موجودگی کسی کو غیراسلامی نظر نہیں آتی ،وہیں ایک عورت کے جمہوری طریقے سے ملک کے سب سے اونچے سرکاری منصب پر پہنچنے پر اسلام کا حوالہ دے کر سوال اٹھایا جاتا ہے۔
صنفی تفریق کیوں؟
قرآن اور سیرت نبوی کی تعلیمات میں خواتین کے ساتھ کسی قسم کا بھید بھاؤ نہیں کیا گیا ہے۔کہیں نہیں کہا گیا کہ مردوں اورخواتین میں کسی قسم کا فرق ہے۔ قرآن کریم نے صاف طور پر کہا ہے کہ :
’’اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے جوڑے پیدا فرمائے اور تمہارے جوڑوں (بیویوں) سے تمہارے لیے بیٹے، پوتے اور نواسے پیدا فرمائے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا فرمایا تو کیا پھر بھی وہ (حق کو چھوڑ کر) باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت سے وہ ناشکری کرتے ہیں‘‘(القرآن، النحل، 16 : 72)
’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا۔ پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔‘‘(القرآن، النساء، 4 : 1)
قرآن کریم صاف طور پر کہتا ہے کہ مردوعورت کو ایک جان سے پیدا کیا جو صنفی مساوات کی واضح دلیل ہے،ایسے میں صنفی
تفریق کی بات قرآنی احکام کے خلاف ہے مگر مسلم معاشرے میں جاری ہے۔اسی طرح اسلام نے تعلیم کے معاملے میں بھی حکم دیا کہ’’ہرمسلم مردوعورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے‘‘ مگر تمام سرکاری اور غیرسرکاری رپورٹیں کہتی ہیں کہ مسلمان مردوں کے مقابلے مسلم خواتین میں تعلیم کی شرح بہت کم ہے۔ یہ بات صرف بھارت اور پاکستان کی سطح پر ہی نہیں ہے بلکہ کم وبیش ساری دنیا میں مسلم معاشرے کی یہی صورت حال ہے۔بھارت میں کئے گئے ایک سروے میں یہ حقیقت ابھر کر سامنے آئی کہ زیادہ تر مسلم خواتین اقتصادی اور سماجی طور پر کافی پسماندہ ہیں۔سروے کے مطابق 55.3 فیصد مسلم خواتین کی 18 سال سے پہلے ہی شادی ہو گئی اور انھیں گھریلو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔سروے میں جائیداد کے معاملے میں بھی مسلم خواتین کی پسماندگی اجاگر ہوئی، اعداد و شمار کے مطابق 82 فیصد خواتین کے نام کوئی جائیداد نہیں ہے۔ 53 فیصد خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا جبکہ زیادہ تر خواتین کی تعلیم بھی تقریباً صفر تھی۔سوال یہ ہے کہ جب اسلام نے خواتین کے ساتھ تشدد کی اجازت نہیں دی ہے اور مردوں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ عورتوں کو ماریں،پیٹیں، ایسے میں انھیں تشدد کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟ اس کا مطلب صاف ہے کہ مسلمان مردوں نے اس گائیڈ لائن کی پابندی نہیں کی جو اللہ اور رسول کی طرف سے ان کے لے بنائی گئی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنے اہل (یعنی بیوی بچوں) کے لیے اچھا ہے۔‘‘ (ترمذی، الجامع الصحیح، کتاب المناقب)
خواتین کی حق تلفی
مسلم سماج میں آج بھی یہ قبیح طریقہ رائج ہے کہ بیٹیوں کو وراثت میں حقدار نہیں بناتے اور بھائی ،اپنی بہنوں کا حق مارلیتے ہیں۔ایک حالیہ سروے میں پایا گیا کہ 82فیصدہندوستانی مسلم خواتین کے نام کوئی جائیداد نہیں ہے۔یہ بالکل وہی صورت حال ہے جو اسلام سے قبل عرب کے معاشرے میں تھی۔ بعثت نبوی سے قبل عورت کو کسی چیز کی مالک بننے کا حق حاصل نہ تھا۔ اسے کسی قسم کی وارثت نہ ملتی تھی، صرف مردوں کو وارث بننے کا حق حاصل تھابلکہ عورتوں کو بھی مرد آپس میں مال کی طرح بانٹ لیا کرتے تھے۔اسلام نے انھیں وراثت کا حقدار بنایا ۔ارشاد ربانی ہے:
’’اے ایمان والو! تم کو یہ بات حلال نہیں کہ عورتوں کے (مال یا جان کے) جبراً مالک ہو جاؤ اور اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو، اْنہیں مت روک رکھنا۔‘‘(القرآن، النساء، 4 : 91)
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں مغربی عورت کی معاشی و اقتصادی حالت کا جائزہ یوں پیش کیا گیا :
’’دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے، دنیا کے دوتہائی کام کے گھنٹوں میں عورت کام کرتی ہے مگر اسے دنیا کی آمدنی کا دسواں حصہ ملتا ہے۔ اور وہ دنیا کی املاک کے سوویں حصہ سے بھی کم کی مالک ہے۔‘‘ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ان خواتین کومدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے جن کی معاشی حالت قدرے بہتر ہے لیکن اگر صرف مسلمان عورت کی بات کی جائے تو اس کی حالت اس رپورٹ سے درجہا بدتر ہوگی۔سوال یہ ہے کہ اس کے لئے کون قصوروار ہے؟ اسلام یا مسلم معاشرہ؟
مسلم خواتین کی حالت
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی ہزاروں مسلم خواتین نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کرمطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں میں ایک سے زیادہ شادی پر پابندی لگائی جائے اور ’’حلالہ‘‘ کو جرم قرار دیاجائے۔ان خواتین نے برابری کے حق اور صنفی انصاف کا بھی مطالبہ کیا۔اس تحریک کی بانی ہیں ذکیہ سمن،جن کا کہنا ہے کہ اسے قبول کر لینے سے مسلم خواتین کو باوقار زندگی گزارنے میں مدد مل سکے گی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جائیداد میں بھی مسلم خواتین کو برابری کا حصہ ملے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ شریعت ایکٹ ۔1937 اور مسلم میرج ایکٹ ۔1939 میں ترمیم کر انہیں انصاف دلایا جائے۔ذکیہ سمن کاکہنا ہے کہ صنفی انصاف ہمارے آئین
کا اصول ہے لہذا مسلم خواتین کو بھی مسلم مردوں کے برابر حقوق ملنے چاہئیں ۔
وزیراعظم کو خط لکھنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہندوستان کی 10 ریاستوں کی 4710 خواتین پر تحقیق کر پایا کہ 92.1 فیصد خواتین طلاق کے زبانی تین بار کہنے کے طریقے پر پابندی چاہتی ہیں۔ 91.7 فیصد تعددازواج کے خلاف پائی گئیں اور 83.3 فیصد خواتین نے مانا کہ مسلم فیملی لاء میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت کی 92 فیصد مسلم خواتین کا خیال ہے کہ تین بار طلاق بولنے سے رشتہ ختم ہونے کا اصول یک طرفہ ہے اور اس پر روک لگنی چاہئے۔ خواتین نے مانا کہ طلاق سے پہلے قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جانا چاہئے اور ان صورتوں میں ثالثی ہونی چاہئے اور افہام وتفہیم کی کوشش کی جانی چاہئے۔
مسلم خواتین نے سوشل میڈیا اور موبائل پیغام کے ذریعے بھی طلاق پربھی تشویش ظاہر کی۔
مسلمان خواتین کی موجودہ حالت کے لئے اسلام ذمہ دار نہیں بلکہ مسلمان ذمہ دار ہیں۔ اسلام نے خواتین کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا مگر یہ حقیقت ہے کہ مسلم معاشرہ اللہ ورسول کے احکام کو نظر انداز کرکے ان کے ساتھ بھیدبھاؤ کر رہاہے۔ اس کے لئے عام مسلمان ہی ذمہ دار نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہیں جنھوں نے سماجی روایتوں کو مذہب کا لبادہ پہنا دیا ہے اور اپنی تنگ نظری کو انھوں نے احکام شریعت کا نام دے دیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ خود ہندوستانی مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ کہتا ہے تو اسے خواتین کے حقوق کا بھی دھیان رکھنا چاہئے۔ وہ خود مسائل کے حل کے لئے آگے نہیں آتا اور جب ملکی قانون اس کا حل نکالتا ہے تو بورڈ شور مچانے کا کام کرتا ہے، یہ رویہ نہ حکومت اور عدالت کو قبول ہوسکتا ہے اور نہ ہی سمجھدار اور پڑھے لکھے مسلمان قبول کرسکتے ہیں۔

(یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

غوث سیوانی

غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close