مسلم پرسنل لاء میں حکومتی مداخلت کے خطرات

مولانا سید احمد ومیض ندوی
ملک کو انگریزوں کے تسلط سے آزادی دلانے کی خاطر دیگر برادران وطن کے ساتھ ملتِ اسلامیہ کے اکابرین نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار در اصل آفتاب نصف النہار کا انکار ہے۔ ہمارے بڑوں نے جنگ آزادی میں اپنی گراں قدر قربانیوں کا نذرانہ محض اس لئے پیش کیا تھا کہ آزادی کے بعد مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو اپنے اپنے مذاہب پر عمل کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل رہے، چنانچہ آزادی ہند کے بعد دستور کے بانیوں نے ملک کے تکثیری سماج کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک ایسا سیکولر دستور مرتب کیا جس میں یہاں بسنے والی تمام مذہبی اکائیوں کو اپنی مذہبی تعلیمات وعائلی قوانین پر کار بند رہنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ دستور کے مختلف دفعات میں اس بات کی صراحت ہے کہ ہر شخص اپنے پرسنل لاء پر عمل کرسکتا ہے۔ لیکن ملک کی بد نصیبی یہ رہی کہ یہاں کی فسطائی طاقتیں روز اول سے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، آر ایس ایس اور اس کی ہم نوا جماعتیں کانگریسی دورِ اقتدار میں بھی اس حوالہ سے خوب ہنگامہ مچاتی رہیں اور اب جب کہ اقتدار پر سنگھ کا ٹولہ براجمان ہے فسطائی طاقتیں یونی فارم سول کوڈ کے فوری نفاذ کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ یکساں سول کوڈ کے حوالے سے فسطائی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کااصل نشانہ مسلمان مسلم پرسنل لاء اور شریعت اسلامی ہے۔ اس لئے کہ ملک کی دیگر اقلیتیں مثلا عیسائیوں، یہودیوں اور پارسیوں کے لئے جو قوانین قابل عمل ہیں جنہیں بظاہر سیکولر قوانین کا نام دیا گیا ہے و ہ ہندو لاء سے الگ نہیں ہیں۔ مثلا ہندو مت کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے اگر بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہیں یا بیوی شوہر سے علیحدگی کی خواہاں ہو تو میاں بیوی دونوں کو عدالتی کاروائی کرنی پڑتی ہے اور اسپیشل میریج ایکٹ 1954ء  کی دفعات 24 اور 25 کے تحت درخواست داخل کرنی ہوتی ہے، ان دو دفعات اور ہندو میریج اکیٹ 1955ء  کی دفعات 11۔12 اور 13 میں کوئی فرق نہیں۔ اسی طرح کسی عیسائی پارسی یا یہودی کا کوئی رشتہ دار دنیائے فانی سے رخصت ہوجائے اور اس کی چھوڑی ہوئی دولت جائیداد میں اس کے رشتہ دارحصے کے طلب گار ہوں تو ان کے لئے INDIAN PARTITION ACT کے تحت مقدمہ داخل ہوگا، جس کے مطابق سب کو دوسرے ورثاء کے مساوی حصہ ملے گا، کسی کو کسی سے کم زیادہ نہیں۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں ہندؤوں، عیسائیوں، پارسیوں اور یہودیوں کے لئے یکساں قوانین نافذ ہیں۔ ایسے میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطلب ہندو لاء کا نفاذ ہے جس یونیفارم سول کوڈ کی بات ہورہی ہے وہ یقیناً ہندو لاء کی بدلی ہوئی شکل ہوگی۔
ادھر جب سے مرکز میں بی جے پی اقتدار پر آئی ہے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت اور یونیفارم سول کوڈ کا مطالبہ کچھ زیادہ ہی شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مرکزی حکومت سے بار بار استفسار کیا جارہاہے کہ آخر وہ یکساں سول کوڈ کا نفاذ کب کرے گی، گذشتہ ۱۳؍اکتوبر کو جسٹس وکرم جیت سنگھ اور شیواکیرتی سنگھ پر مشتمل سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے مرکزی حکومت سے دریافت کیا کہ وہ یکساں سول کوڈ نافذ کرنا چاہتی ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ کے اس استفسار کے دوسرے دن مرکزی وزیر قانون سدا نند گوڑا نے اپنے بیان میں کہا کہ یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ قومی یک جہتی کے لئے ناگزیر ہے، پھر ماہ اکتوبر ہی میں اے کے گوئل اور اے آر دورے پر مشتمل سپریم کورٹ کی ا یک دوسری بینچ نے اسی طرح کا استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آخر کب تک یکساں سول کوڈ کا نفاذ ہوگا؟ دوسری جانب ۵؍ نومبر کو گجرات ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو باقاعدہ حکم دے دیا کہ وہ یکساں سول کوڈ نافذ کرے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ گجرات ہائی کورٹ نے یہ تک کہا کہ مسلمانوں کو کثرت ازدواج کی اجازت نہ دی جائے۔ کیوں کہ گجرات ہائی کورٹ کے بقول کثرتِ ازدواج کی وجہ قرآنی آیات کی غلط تشریح ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کی مذکورہ بالا دو بینچوں نے اس موقع پر یونیفارم سول کوڈ کا جو مسئلہ اٹھایا ہے وہ کسی مسلمان سے تعلق رکھنے والے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے نہیں اٹھایا بلکہ اول الذکر بینچ میں عیسائیوں میں طلاق کے معاملہ پر اور دوسری بینچ میں ہندؤوں میں وراثت کے سوال پرمقدموں کی سماعت ہورہی تھی۔ دونوں مقدموں کا مسلم پرسنل لاء سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود یکساں سول کوڈ کے مطالبہ کو دہرانا ضروری سمجھا گیا۔ پہلی بینچ نے یکساں سول کوڈ کا مسئلہ اس لئے اٹھایا کہ اس کے مطابق ہر مذہب میں طلاق کا اپنا الگ الگ قانون ہے، جب کہ اسے یکساں ہونا چاہئے، دوسرے بینچ نے ہندؤوں کے وراثت کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے یکساں سول کوڈ کا تذکرہ اس لئے ضروری سمجھا کہ اس کے بقول مسلم خواتین ا پنے آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ شادی اور طلاق کے معاملہ میں ان کا استحصال کیا جاتا ہے، لہٰذا حکومت انھیں حقوق فراہم کرے، سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے حکومت سے سفارش کی کہ وہ ایک ا یسی کمیٹی نامزد کرے جو مسلمانوں کے بشمول ہر مذہبی اقلیتوں میں شادی طلاق اور تحویل سے متعلق عائلی قوانین کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے یہاں دیگر مذہبی اقلیتوں کاتذکرہ تو خانہ پری کے طور پر ہے۔ ان کے یہاں جیسا کہ گذشتہ سطور میں اشارہ کیا گیا کہ ہندو لاء نافذ ہے۔ مرکزی حکومت کی جائزہ کمیٹی کا اصل نشانہ مسلم پرسنل لاء اور مسلمانوں کے عائلی قوانین ہیں۔ چنانچہ سپریم کورٹ کی مذکورہ بینچوں کی سفارش پر مرکزی حکومت نے ایک کمیٹی نامزد کردی جس نے عائلی قوانین کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر حکومت سے سفارش کی کہ وہ یک طرفہ طلاق ثلاثہ اور کثرتِ ازدواج پر پابندی عائد کرے۔ الگ الگ موقعوں سے مسلم پرسنل لاء کے مختلف مسائل کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اس مرتبہ طلاق ثلاثہ اور تعدد ا زدواج کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس کا باعث اتراکھنڈ کی ایک مسلم خاتون سائرہ بانو کا حالیہ معاملہ بنا ہے۔ کاشی پور اتراکھنڈ کی متوطن سائرہ بانو کو ۲۰۱۵ء میں طلاق دے دی گئی تھی جس نے سپریم کورٹ میں جاریہ سال ایک رٹ عرضی پیش کرتے ہوئے مسلمانوں میں مروج ایک سے زائد شادیوں طلاق ثلاثہ اور نکاح حلالہ کو چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے عرضی پر سماعت کے دوران ۲۸ مارچ کو مرکز کو ہدایت دی تھی کہ و ہ اندرون 6 ماہ رپورٹ پیش کرے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل در آمد کرتے ہوئے مرکز نے ایک کمیٹی نامزد کردی تھی، مذکورہ کمیٹی نے گذشتہ دنوں حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کردی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے نامزد کی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قانون تنسیخ مسلم شادی ۱۹۳۹ء  میں ترمیم کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کی وجہ سے خواتین شادی شدہ زندگی کے بارے میں انتہائی غیر محفوظ ہوجاتی ہیں۔ بنا بریں قانون تنسیخ مسلم شادی ۱۹۳۹ء  میں ترمیم ضروری ہے۔
سائرہ بانونے اپنی درخواست میں صراحت کی کہ اس کے والدین نے شادی کے موقع پر جہیز دیا تھا لیکن ان کے شوہر اور سسرالی رشتہ دار ہراساں کرتے ہوئے اسے ایسی ادویات دیتے تھے جس کے استعمال سے اس کی یادداشت کمزور اور وہ بے ہوشی کے عالم میں رہتی تھی۔ ایک دن اس کے شوہرنے اچانک اسے طلاق دے دی۔ سائرہ بانونے اپنی درخواست میں یہ بھی استدلال پیش کیا کہ طلاق ثلاثہ حقوق انسانی اور صنفی مساوات کے جدید اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہے، اس نے یہ بھی کہا کہ مناسب افہام وتفہیم کے بغیر طلاق بدعت کے ذریعہ یکسر ازدواجی رشتہ منقطع کردینے سے وقار کے ساتھ زندگی گذارنے سے متعلق مسلم خواتین کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ سائرہ بانو نے رٹ عرضی کیا داخل کی حکومت اور یکساں سول کوڈ کے لئے پرجوش ججوں کو موقع ہاتھ آگیا، چنانچہ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر جسٹس یویو للت پر مشتمل بینچ نے وزراتِ اقلیتی بہبود سے کہا کہ سائرہ بانو کی عرضی پر جواب داخل کرے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے فوری اقدام کرتے ہوئے ایک عرضی داخل کردی جس میں اس نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء کا تعلق مسلم معاشرہ سے ہے جب کہ شادی بیاہ طلاق اور نان ونفقہ کا معاملہ عام قوانین کے دائرہ کار میں نہیں آتا تاہم مسلم خواتین کو مسلم ویمن ایکٹ 1986ء  کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ گذشتہ ہفتہ کو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سائرہ بانو مقدمہ میں فریق بننے اور طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کی شدت سے مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مسلم پرسنل لاء کے مطابق مردوں کے لئے طلاق ثلاثہ کے ا ختیار اور ان سے شادی ختم ہونے کے قانونی جواز کا جائزہ لینے کی ہدایت دینا بتاتا ہے کہ ملک میں مسلم پرسنل لاء کو شدید خطرات لاحق ہیں اور جب بورڈ نے اس مسئلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنا حلف نامہ داخل کیا تو میڈیا یہ شور مچانے لگا کہ بورڈ مسلم پرسنل لاء کو آئین سے بالا تر مانتا ہے۔ مسلم پرسنل لاء کے حلف نامے میں نہ کوئی قابل اعتراض بات کہی گئی اور نہ ہی آئین وعدالت کے اختیارات کو چیلنج کیا گیا ،صرف ان غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش کی گئی تھی، جو لوگوں کے ذہن میں بیٹھ گئی یا بیٹھا دی گئی ہیں، جن عائلی قوانین پر تنازعہ کھڑا کیا جاتا ہے وہ بالعموم طلاق، نان ونفقہ، تعدد ازواج اور وراثت سے متعلق ہوتے ہیں، ان معاملات میں تنازعہ ہر مذہب کے پیروکاروں میں پایا جاتا ہے۔ مسلم پرسنل لاء میں تو ان تنازعات کاحل آسانی سے ہو جاتا ہے جب کہ دیگر مذاہب میں ان کے حل کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ اب طلاق ہی کے معاملہ کو لے لیجئے، دیگر اہل مذاہب میں میاں بیوی پوری زندگی علیحدہ رہ کر گذار لیتے ہیں اور ان کے درمیان طلاق نہیں ہوپاتی انہیں ازدواجی زندگی گذارنے کے لئے حکومت کو غیر اخلاقی طریقے کا قانون بنانا پڑتا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے حلف نامہ میں صرف اتنی وضاحت کی کہ مسلم پرسنل لاء انسانوں کا بنایا ہوا یا پارلیمنٹ اورحکومت کا بنایا ہوا قانون نہیں ہے جس کا عدالت جائزہ لے سکے، یہ تو خدا کا بنایا ہوا قانون ہے جس کی بنیاد قرآن وحدیث ہے، اس میں نہ حکومت مداخلت کرسکتی ہے اور نہ ہی عدلیہ کو اس کا اختیار ہے۔ حکومت یا عدالتیں ان قوانین کا جائزہ لے سکتی ہیں جنہیں پارلیمنٹ نے بنایا ہو، مقننہ کے ذریعہ بنائے ہوئے قوانین اور خدائی قوانین کے درمیان حد فاصل قائم کرنا ضروری ہے۔ ماضی میں خود سپریم کورٹ نے بھی ایسا فیصلہ دیا ہے جس میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو بنیاد بنا کر پرسنل لاء کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
عام طور پر مسلم پرسنل لاء کے مخالفین اور یکساں سول کوڈ کے علمبردار اسلام کے نظام طلاق اور تعدد ازواج کے مسئلہ کو لے کر مسلم پرسنل لاء پر لعن طعن کرتے ہیں اور اسلام میں خواتین کی مظلومیت کی دہائی دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اسلام میں مرد کو دئے گئے طلاق ثلاثہ کے اختیار کی وجہ سے مسلم خواتین پریشانی سے دو چار رہتی ہیں، مسلم پرسنل لاء میں عورتیں نہایت مظلوم ہیں اور اپنے حقوق سے محروم ہیں، مجموعی طور پر ساری مسلم اقلیت کو اس کے جمہوری حقوق سے محروم رکھنے والی فرقہ پرست طاقتیں محض مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی خاطر مسلم خواتین کی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتی ہیں ور بالعموم یہ تأثر دیا جاتا ہے کہ طلاق کی سب سے زیادہ شرح مسلم معاشرہ ہی میں ہے اور مسلم خواتین طلاق ثلاثہ کے ا سلامی قانون سے تنگ آچکی ہیں۔ میڈیا طلاق کے مسئلہ کو اس کے سیاق وسباق سے ہٹاکر مسلم پرسنل لاء کو بدنام اور اسلام کی شبیہ کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ میڈیا کا یہ پروپیگنڈہ سراسر غلط بیانی پر مبنی ہے۔ اسلام ہی نہیں ہر مذہبی کمیونٹی میں میاں بیوی میں تفریق کے اپنے اپنے طریقے پائے جاتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر طبقہ میں خواتین کچھ نہ کچھ مسائل کا شکار ہیں۔ ہندو، سکھ، عیسائی اور جین معاشروں کا جائزہ لیجئے وہاں بھی ازدواجی تنازعات ملیں گے۔ تین طلاق کے مسئلہ کو محض اس لئے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے تاکہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی راہ ہموار ہوجائے، دشمنوں کی پروپیگنڈہ مہم سے تو ایسا تأثر ملتا ہے کہ ۹۰ فیصد سے زائد خواتین ازدواجی تنازعات میں گھری ہوئی ہیں اور مسلم پرسنل لاء سے چھٹکارا چاہتی ہیں، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ۹۰ فیصد سے زائد مسلم خواتین خوشحال ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں اور بلا جبرواکراہ مسلم پرسنل لاء کے عائلی قوانین سے مطمئن وخوش ہیں۔ شریعت اسلامی میں زوجین میں سے ہر ایک پر حقوق عائد کئے گئے ہیں، نکاح کے رشتہ کو مضبوط سے مضبوط رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ بلا وجہ بات بات پر طلاق دینا شرعا پسندیدہ نہیں ہے، طلاق در اصل آخری مرحلہ کا اختیار ہے، جب آپسی اختلافات اس قدر شدت اختیار کرلیں کہ دونوں کی زندگی اجیرن بن جائے۔ نیزجب میاں بیوی کے درمیان صلح کی ساری شکلیں بے سود ہوجائیں تو عورت ومرد دونوں کو علیحدہ ہونے کے لئے آزادانہ اختیار دیا گیا ہے، شرعی قوانین میں کسی عورت کو ظلم وزیاتی کے ساتھ نکاح میں باندھ کر نہیں رکھا جاسکتا، مرد کو طلاق کا اختیار دیا گیا تو عورت کے لئے خلع اور فسخ نکاح کی راہ ہے۔ البتہ دونوں کی ذمہ داریوں کے پیش نظر نوعیت الگ الگ رکھی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں امیر شریعت بہار واڑیسہ حضرت مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانی علیہ الرحمہ نے بڑی اچھی وضاحت فرمائی ہے، مولانا لکھتے ہیں:
’’یہ صحیح ہے کہ مسلم پرسنل لاء کی رو سے مرد کو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے اور اسے ایک سے زائد شادی کی اجازت دی گئی ہے، لیکن یہ قانون کی خامی نہیں ہے شریعت نے شوہر اور بیوی میں علیحدگی کی مختلف شکلیں بتائی ہیں۔ مرد کو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے اور عورتوں کے لئے خلع اور فسخ نکاح کی راہ بتائی گئی ہے، یہ صحیح ہے کہ مرد اپنے اس حق کا استعمال براہ راست کرسکتا ہے اور عورتیں اپنا حق بالواسطہ استعمال کرسکتی ہیں، مرد اور عورت کے حقوق میں اس فرق کی و جہ یہ ہے کہ دونوں کی ذمہ داریوں کی نوعیت جدا جدا ہے، نکاح کے بعد مرد پر جتنی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں عورتوں پر اتنی ذمہ داری نہیں رکھی گئی ہے، مرد پر بیوی اور بچوں کے اخراجات کے علاوہ مہر کی شکل میں ایک رقم بھی واجب ہوتی ہے، علیحدگی کا فیصلہ اگر بلا واسطہ عورتوں کے بھی حوالہ کیا جاتا تو عورتیں اپنے اس حق کو استعمال کرتیں جس کے نتیجہ میں عورتوں پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی، مگر مہر کی رقم کی فوری ادائیگی اور بچوں کی کفالت اور نگہداشت کا نظم مرد کو کرنا پرتا ہے اور مرد بلا وجہ دشواریوں میں مبتلا ہوتا۔ طلاق کو شریعت نے گرچہ جائز قرار دیا ہے مگر اسے ابغض المباحات یعنی جائز چیزوں میں سے سب سے ناپسندیدہ قرار دیاہے اور یہ ہدایت دی ہے کہ جب نباہ ہونے کی کوئی شکل باقی نہ رہے تو بہت سوچ سمجھ کر طلاق دی جائے، شریعت نے تفصیل کے ساتھ طلاق کا طریقہ بتایا ہے، اس طریقے پر عمل کرنے کے بعد اس کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ مرد اشتعال کے نتیجہ میں یا جذبات کی رو میں طلاق دے دے۔ شریعت کی ہدایت کے مطابق دی ہوئی طلاق ایک عاقلانہ اور ٹھنڈا فیصلہ ہی ہوسکتی ہے۔ شریعت نے عدل وانصاف کی شرط کے ساتھ تعدد ازواج کی اجازت بھی دی ہے، اسلامی قانون عفت وعصمت کے پیش نظر مرد کے ایسے حالات ہوسکتے ہیں کہ وہ صاف ستھری زندگی گذارنے کے لئے دوسرے نکاح کی ضرورت محسوس کرے‘‘۔
شریعت اسلامی کا یہ حسن ہے کہ اس نے تفریق کی ناگزیریت کی صورت میں طلاق و خلع اور فسق جیسی صورتیں رکھیں، ورنہ دیگر مذاہب میں زوجین میں تفریق کے لئے کی کئی سالوں تک مقدمہ بازی کرنی پڑتی ہے، اسرائیل میں ایک عورت کو شوہر سے خلع لینے کے لئے کئی سال تک عدالت کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح ہند میریج ایکٹ میں بھی طویل عدالتی کاروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شرعی قوانین طلاق کو دیکھ کرپوپ نے عیسائی قوانین میں طلاق وخلع کے عمل میں آسانی پیدا کرنے کے لئے تبدیلیاں کیں۔ جہاں تک مسلمانوں میں شرح طلاق زیادہ ہونے کا تعلق ہے تو یہ صرف پروپیگنڈہ ہے، سعودی عرب جیسے سو فیصد مسلم آبادی والے ملک میں ۲۰۱۵ء  کے سال میں 34000 طلاقیں ہوئیں اور صرف 434 خواتین نے خلع حاصل کیا۔ جبکہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ایک سال میں ۵۱ لاکھ طلاقیں ہوئیں، امریکہ میں 62 سیکنڈ میں ایک طلاق ہوتی ہے۔ امریکہ میں طلاق کا فیصد 73 ہے۔ بلجیم میں 71 فیصد ہے، پرتگال میں 68 فیصد ہے، اور فرانس میں 55 فیصد ہے۔
اخیر میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مسلم پرسنل لاء میں حکومت اور عدلیہ کی مداخلتوں سے تحفظ اس و قت تک ممکن نہیں جب تک خود مسلمان شریعت پر سختی کے ساتھ عمل آوری کو لازم نہ کرلیں اور عائلی تنازعات میں عدالتی چکر بازی کے بجائے اسلامی دارالقضاء کا رخ نہ کریں، اکثر وبیشتر بے دین مسلمانوں کی شریعت سے دوری اور طلاق ونکاح کے معاملات میں شرعی ہدایات کا عدم اہتمام مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی راہ ہموار کرتا ہے، اس لئے علماء امت اور ائمہ مساجد کو شرعی قوانین کے حوالہ سے عام مسلمانوں میں شعور بیدار کرنا چاہئے۔

(یو این این)



⋆ سید احمد ومیض ندوی

سید احمد ومیض ندوی
مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ حدیث و صدر شعبہ دعوۃ جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

کرنسی نوٹوں کی منسوخی

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے مولاناسید احمد ومیض ندوی مولاناسید احمد ومیض ندوی …