مسلم پرسنل لابورڈ: تحفظ شریعت کا علمبردار

محمدصابرحسین ندوی

اسلامی تعلیمات کو مجموعی طور پر چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،جن میں مالی معاملات اور سیاسی مسائل، عبادات اور خاندانی زندگی شامل ہیں، قرآن کریم نے اول الذکر دونوں صنفوں پر اصولی حیثیت سے بحث کی ہے، کیوں کہ ان کا معاملہ ہر زمانے،ماحول اور سیاسی کروٹوں کے ساتھ کروٹیں لیتا رہتا ہے اور مسائل انہی قواعد کے تحت حل کیے جاسکتے ہیں، لیکن ثانی الذکر اصناف کو پورے شرح و بسط کے ساتھ بالخصوص خاندانی و معاشرتی مسائل پر تشفی بخش بحث کی گئی ہے، جس سے مراد نکاح، طلاق، میراث، اطاعت والدین اور حقوق زوجین وغیرہ ہیں، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ نماز و روزہ اور حج و زکات سے زیادہ واضح طور پر قرآن کریم نے انہیں بیان کیا ہے۔ اب مسلمان خواہ حکومت و سربلندی میں ہوں یا اقلیت واطاعت میں ؛ان کیلئے ان پر عمل درآمد ہونا لازم ہے، مخالفت(عقیدہ کے اعتبار سے) کی صورت میں اسلام سے خارج سمجھا جائے گااور انہیں فرمان الہی ’’ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فاولئک ھم الکافرون‘‘(اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے لوگ کافر ہیں )کی وعید اوراسی کےمصداق مانا جائے گا۔

درحقیقت یہی وجہ تھی ؛کہ ملک عزیز میں ۱۸۵۷؁ءکے فیصلہ کن جنگ اور مسلم حکمرانی کے خاتمہ کے بعد اسلامی تعلیمات اور مناکحات کی حفاظت کرنے کی خاطر علماء وزعماء نے انتھک کوششیں کیں اور ۱۹۳۷؁ءکے تحت دفعہ 25 *شریعت ایپلیکیشن ایکٹ لایا گیا،جس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں اور تمام مذاہب کو مذہبی رسم ورواج اور مناکحات پر عمل پیرا ہونے کی پوری اجازت ہوگی،اور کورٹ میں جب فریقین ایک ہی مذہب کے ہوں تو انہی کے ضابطہ کے اعتبار سے فیصلہ کیا جائے گا۔لیکن واقعہ یہ ہے ؛کہ اکثریت غرور و بددیانتی کا لازمہ ہوتی ہے، اسی لئے ملک عزیز کی آزادی کے بعد جب ۱۹۵۰ ؁ء میں دستور و آئین پیش کیا گیا تو اس کے رہنمائی اصولوں میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی بات کہی گئی، چنانچہ آزادی ہند کے بعدہندو وبت پرستی اور دیومالائی احیائیت کے زور وشور اور متعدد پارٹیوں کی طرف سےایک ہی عائلی قانون کے مطالبہ نے ملک گیر تحریک پیدا کردی،اور اسے ملکی ہم آہنگی،قومی وحدت اور یک رنگی کے لئے ضروری قرار دیاجانے لگا، مزیدمسلم تجدد پسند اور آزاد خیال طبقہ بھی اس میں شامل ہوگیا تھا ؛بلکہ عبدالحمید دلوائی نامی ایک شخص کی قیادت میں کچھ افراد حکومت کی تائید کرنے لگے،اور پرسنل لا کے مسائل نکاح،طلاق، وراثت کو ختم کرکے ہندوانہ قوانین کی پابندی کا مشورہ دیتے ہوئے مسلم قانوندانوں کی خلاف ورزی کو پس پشت ڈالا گیا،مزید ان کی خباثت اور بے وفائی اس وقت کھل کر سامنے آگئی جبکہ ہندو میرج ایکٹ ۱۹۵۴ ؁ءتا ۱۹۵۶ ؁ءپیش کرتے ہوئے مسٹر یائسکر نے یکساں سول کوڈ کی حمایت کی ؛لیکن چہار طرفہ مخالفت کی وجہ سے بات آئی گئی،لیکن پھر اس کے بعد بارہا پرسنل لا سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی گئی، ۱۹۶۳ ؁ءمیں اصلاح کمیٹی اسی لئے بنائی گئی تھی!اسی طرح جسٹس گوکھلے نے ۱۹۷۲ ؁ء میں متبنی کے مسئلہ میں سول لا کی پرزور حمایت کی اور یقین ہو چلا تھا کہ اب اسلامی معاملات میں مداخلت ممکن ہے۔

’’اس خطرہ کا احساس جن لوگوں کو ہوا ن میں مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒ،امیر شریعت بہار،اڑیسہ پیش پیش تھے، ان کے منصب ومشاغل اور علمی تجربات نے اس سلسلہ میں بر وقت رہنمائی کی، اور اس کے خلاف محاز قائم کرنے میں اللہ نے ان کو کامیابی دی، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کے خلاف منظم مہم اور تحریک چلائی جائے، چنانچہ آپ نے مسلم مجلس مشاورت، جماعت اسلامی، دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء کی تائید سے ۲۷؍۲۸؍۱۹۷۲ ؁ء کو ممبئی میں مسلم پرسنل لا کنونشن بلایا، جس میں بریلوی مکتب خیال کے مولانا برہان الحق جبل پوری، اثنا عشری کے نمائندہ مولانا کلب عابد صاحب،بہرہ فرقہ کےذمہ دارڈاکٹر نجم الدین اور اہل حدیث جماعت کے متعدد مقتدر علماءوزعماء شریک ہوئے، اوررات کو مدن پورہ کے وائی،ایم،سی،اے کے میدان میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا، جس میں ایک لاکھ کے قریب لوگ جمع ہوئے۔ متعدد عالمانہ ومفکرانہ تقریریں ہوئیں اور پھر ایک آل انڈیا بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی‘‘جس کے تحت مناکحات کی حفاظت اور پرامن طریقے اور بضرورت مخالفت کے ساتھ تحفظ شریعت بلکہ تحفظ انسان کےکام کابیڑا اٹھایا اور اس کے اولیں صدر حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب (مہتمم دارالعلوم دیوبند)، اور جنرل سکریٹری اس تحریک کے بانی اور روح رواں حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی صاحب قرار پائے،اور اس طرح اس مبارک مہم کا آغاز ہو اجو مسلمانوں کیلئے (دینی وشرعی نقطہ نگاہ سے)موت وحیات کا مسئلہ ہے،اور یہ جدوجہدابھی تک جاری ہے۔

اسی کنونشن کے زمانے میں عبدالحمید دلوائی صاحب کی قیادت میں ایک چھوٹا سا گروہ مظاہرے کیلئے نکلا، عوام نے چپلوں اور جوتوں سے اس کا استقبال کیا، اگر پولس جلد اس کو اپنی حفاظت میں لیتی تو اس سے زیادہ سنگین حالات پیش آسکتے تھے،اس مہم کی اہمیت ونزاکت کا ندازہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کی اس عبارت سے لگا یا جاسکتا ہے’’میں اور مولانا محمد منظور صاحب اس سال رابطہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے جو ذی قعدہ میں ہوا کرتا تھا، حجاز مقدس گئے ہوئے تھے، اور قدرتاً حج سے فراغت کے بعد واپسی کا پروگرام تھا، لیکن مولانامحمدیوسف صاحب (جماعت اسلامی)اور بعض دوسرے احباب کے تار وپیغام پہونچے کہ اس بنیادی جلسہ اور پہلے کنونشن میں آپ دونوں کی شرکت ضروری ہے،ہم لوگوں نے اس خیال سے کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، اللہ تعالی نے اس سے پہلے کئی بار حج کی سعادت نصیب فرمائی ہے، اور آئندہ بھی اس سے توقع ہے، حج میں صرف دو، تین ہفتے کی مدت رہ گئی تھی ؛کہ ہم لوگوں نے براہ بیرات بمبئی کا سفر کیا اور کنونشن میں شریک ہوئے ‘‘(کاروان زندگی :۲؍۱۳۸۔دیکھئے:میرکارواں ۵۔۳۱۴)۔

مسلم پرسنل لا کی تحریک کی قیادت حضرت مولانا قاری طیب صاحب  مرحوم  فرمارہے تھےجن کو اللہ نے دل آویز اور ہمہ گیر شخصیت عطا فرمائی تھی ؛لیکن ۱۷؍جولائی ۱۹۸۳ ؁ء کو موصوف ؒ نے اس دار فانی سے رحلت فرمائی اور ان کی جگہ خالی ہوگئی، ان کے بعد۲۷؍۲۸ دسمبر ۱۹۸۳ ؁ء مدراس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس طے پایا جس میں سیدی علی میاں ندوی ؒ کو نقر س(GOUT) کی بیماری، افتاد طبع، صحت جسمانی اور عمر رسیدہ ہونے کے باوجود حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی ( بانی ندوہ حضرت مولانا محمد علی مونگیری کے صاحب زادے تھے)کے احترام کی بنا پرچاروناچار قبول کرنا پڑا، لیکن آپ ؒ نے غیر معمولی حزم وعزم،ملی نظم وضبط،علامت دین وماہرین قانون کے علم ومطالعہ، ذہانت تدبر اور عوام کے انقیاد واطاعت، صبروتحمل اور تفویض وتسلیم کی غیر معمولی صلاحیت اور ملی شعورواحساس کے ساتھ ادا کیا۔

اس سلسلہ میں وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جس نے ہندوستان میں نسل نو کیلئے اسلام کو نہ صرف بقا بخشی ؛بلکہ آئندہ نسل کیلئے اس پر عمل پیرا ہونے اور ملکی وآئینی اعتماد کو بھی بحال رکھا ؛جب کہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت اور شریعت اسلامیہ کے خانگی معاملات میں دخل اندازی کی کوشش کی گئی ؛معاملہ اس وقت کا ہے جبکہ عدالت عظمی نے ۲۳؍اپریل۱۹۸۵ ؁ء کونفقہ مطلقہ کے سلسلہ میں دین کی من مانی تشریح وتفسیر کرتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ دیا جو اسلام پر کھلاہوا حملہ تھا،فاضل جج نے مطلقہ عورت کوعدت کے بعد نان ونفقہ دینے کا حکم دیا ؛حالانکہ اسلام عدت کے بعد کسی نفقہ کو جائز نہیں مانتا،اس فیصلہ کے خلاف حضرت مولانا نے پرسنل لا کے تحت ملک گیر بیداری اور عائلی قوانین کے سلسلہ میں صریح اسلامی تعلیمات، متفقہ اور مسلمہ شرعی احکام ومنصوصات پر عمل کرنے کی آزادی،بقا وتحفظ کے مطالبہ اور نسل نو کیلئے دین اسلام کی حفاظت کے ساتھ جمہوریت اور سیکولرزم کی بحالی کیلئے عظیم الشان احتجاجی پروگرام کئے، اور وزیر اعظم جناب راجیو گاندھی سے مراسلات وملاقات کی اور انہیں سمجھایاکہ:

’’جس طرح رسم الخطscript کا ایک شارٹ ہینڈ ہوتا ہے،سیاست اور پالیٹکس کا بھی ایک شارٹ ہینڈ اور شارٹ کٹ ہوتا ہے،اور وہ یہ کہ جن کا مسئلہ ہے، اس کو ان کے مخلص ومستند لوگوں سے سمجھ لیا جائے،قبل اس کے کہ وہ سیاسی پالیٹیشنز کے ہاتھوں جانے پائے اور وہ اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات کیلئے اس کوطوالت دیں، اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے‘‘(کاروان زندگی:۳؍۱۲۳)،مولانا کا ماننا تھا کہ راجیو جی کو یہ بات سمجھ میں آگئی اور آخر کار بڑی جدو جہد اور انتھک کوششوں کے بعد ترمیم شدہ بل پا س ہونے سے قاصر رہا، غا لباً حضرت مولانا کی ایمانی جلالت واضطراب نہ ہوتی تو اسلام ایوان ہند کیلئے بازیچہ اطفال ہوجاتا اور نسل نو اسلام کے حقیقی عائلی نظام سے محرو م ہوجاتی۔(دیکھئے:کاروان زندگی جلد دوم اور سوم)

امت اسلامیہ کیلئے وہ دن (۳۱؍دسمبر۱۹۹۹ ؁ء)بڑا خسارے کا تھا جب کہ آپ ؒ کا انتقال ہوا،ساتھ ہی امت قیادت اور مسلم پرسنل لا کی باگ ڈور کے مسئلہ نے بڑی نزاکت اختیار کی؛لیکن رجل ساعۃ المطلوب کی طرح اللہ رب العزت نے حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام ؒ کو منتخب فرمایا اور وہی سنہ ۲۰۰ء کی مجلس عاملہ میں متفقہ صدر قرار پائے، انہوں نے اپنی گوناگوں صلاحیت اورعالی مرتبت اور فقہی بصارت وبصیرت کے ذریعہ بکھرتے تنکوں کو سنبھالادیا،اور متبنی اور بالخصوص قضاء کے مسئلوں کی پوری نمائندگی کی اور مسلم پرسنل لا کو حکومت کی بری نگاہ سے محفوظ رکھا؛ لیکن آپؒ کی زندگی نے رفاقت نہ کی اور آپ بھی قضا ءقدر کی صداپرسنہ ۲۰۰۶ میں لبیک کہہ چلے اور اپنے رب حقیقی سے جاملے، یقینا آپؒ کی وفات امت اسلامیہ کی رہنمائی  میں بڑا خلا پیدا ہو جب کہ؛ زعفرانی اور نفاقی پالیسیاں عروج پر تھیں او رگاہے بگاہے اسلامی خانگی نظام پر یورش کرنے کی سعی لا حاصل کی جارہی تھی، مگر نقارہ خداہے کہ ’’نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ ؛بنا بریں مفکر اسلام حضرت مولانا سیدی ابوالحسن علی ندوی ؒکے عزیزمن اورعلم وصلاح کے وارث حضرت مولاناسید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتھم نے صدارت وقیادت کابار اٹھایا اور پوری فکرمندی ودرمندی اوراپنی تماتر علالت وضعف کے باوجود جہد مسلسل کے ذریعہ امت کی شیرازہ بندی اور حکومت کی حیلہ بازی بالخصوص زعفرانی طاقتوں کی فتنہ پروری اور شریعت میں مداہنت کی کوششوں کے آگے سینہ سپر ہیں۔

ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم ایک جمہوری ملک کے باشندے ہیں، جہاں قوانین پارلیمینٹ اور اکثریت کی بنا پر بنتے ہیں جب کہ ہم اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں ؛ساتھ ہی اسلام ہی ہمارے لئے سب کچھ اور اسی کا ضابطہ سرمایہ حیات ہے؛ایسے میں ملکی سطح پر کم ازکم اسلام کے عائلی قوانین کی حفاظت اور اسلامی شعار کی پاسداری قابل غور امر اور سنگین معاملہ ہے،جس کا حل مسلم پر سنل لا کے پلیٹ فارم سے تلاش کیا جاسکتا ہے، اور ماضی کی طرح دلجمعی، صبر واستقامت اور ہنر مندی کے ساتھ اعتماد بحال رکھنے کی اشد ضرورت ہے، اور’’کسی وقت بھی مطمئن ہوکر بیٹھنے اور حالات وحقائق سے آنکھیں بند کرلینے کی گنجائش نہیں، اس کے متعلق فاتح مصر عمروبن عاص کی وہ آگاہی اور انتباہ بالکل حسب حال ہے،جو انہوں نے مصر کے فاتح ونئے حاکم عرب مسلمانوں کو دیا تھا’’انتم فی رباط دائم‘‘(تم مستقل محاذ جنگ پر ہو) تمہیں ہر وقت چوکنا اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے‘‘(کاروان زندگی:۳؍۱۵۶)۔



⋆ محمد صابر حسین ندوی

محمد صابر حسین ندوی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

مغربی تہذیب کا زوال اور اسلامی لائحہ عمل

اس صورت حال کا مقابلہ کسی فوجی طاقت اور احتساب ونگرانی سے مشکل ہے، البتہ اسلام اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں مساوات اور انصاف قائم کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ مغرب کی کن چیزوں سےاستفادہ ممکن ہے، اور کن چیزوں کا ازالہ ضروری ہے، اس کیلئے اصلاحی، تعلیمی تحریک کا آغاز اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ پیش قدمی کی جائے، اور ایک ایسے نظام کی بنیاد ڈالی جائے جوبنیادی عقائد واصول کے ساتھ عصری ودینی ضروریات سے ہم آہنگ ہو،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے