ملی مسائل

مسلم پرسنل لا بورڈ: تعارف و دائرہ کار

محمد تبریز عالم حلیمی قاسمی

(خادم التدریس دارالعلوم حیدرآباد )

اللہ تعالی کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے زندگی گذارنے کا جو طریقہ متعین کیا گیا ہے، اس کو شریعت کہتے ہیں، انسان کی دنیوی اور اخروی زندگی کی کامیابی اور راحت و سکون اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت میں ہی مضمر ہے، اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اور تحفظِ شریعت بھی مسلمانوں کا انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ،ہندوستان میں تحفظِ شریعت اور اشاعت ِ شرعیت کا نمایاں اور بڑا عنوان ہے، مسلمانانِ ہند اور طلبۂ مدارس کے لئے اس تنظیم سے واقفیت بہت ضروری ہے، ذیل میں کچھ ضروری باتیں درج کی جاتی ہیں :

شریعت(فقہی ذحیرہ) کو سہولت کے لئے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

(۱)ایک حصہ وہ جس پر افراد عمل کریں گے، ہر مسلمان ہر جگہ اس حصہ کا پابند ہے، اس میں چار چیزیں شامل ہیں :(۱)عبادات (وہ احکام جو خدا اور بندہ کے براہِ راست تعلق پر مبنی ہیں )جیسے نماز، روزہ، حج، زکوۃ، قربانی، اعتکاف، نذر وغیرہ۔ (۲)عائلی قوانین یعنی نکاح، طلاق اور وراثت وغیرہ کے احکام۔ (۳)معاملات یعنی ذاتی خرید و فروخت، رہن و کفالت اور اجارہ وغیرہ۔ (۴)معاشرتی معاملات یعنی لوگوں کے ساتھ میل جول، تعلق، لباس، خوراک، کھانا پینا، ہر مسلمان ذاتی اور انفرادی طور پر ان احکام پر عمل درآمد کرنے کا شرعاً پابند ہے۔

دوسرا حصہ فقہ کے احکام کا وہ ہے جن پر عمل درآمد افراد کی ذاتی اور شخصی ذمہ داری نہیں ؛بلکہ حکومت و ریاست کے کرنے کے کام ہیں، بشرطیکہ اسلامی حکومت و ریاست قائم ہو، یہ بھی چار ہیں، (۱)دستوری قانون (سیاستِ شرعیہ)،(۲)فوجداری قانون (جنایات، جر م و سزا کے احکام )،(۳)قانونِ ضابطہ (جرم و سزا کی تعیین، اسے ادب القاضی بھی کہتے ہیں )،(۴)اسلام کا قانون بین الاقوامی (مسلمانوں کے دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات کے احکام، اسی کو سیر کہتے ہیں )۔

عائلی قوانین : 

دو آدمیوں کے درمیان غیر مالی بنیاد پر تعلقات سے متعلق احکام :اس میں نکاح، طلاق،فسخ و تفریق،عدت و ثبوتِ نسب،نفقہ و حضانت، ولایت، میراث اور وصیت وغیرہ احکام آجاتے ہیں، قدیم فقہا اس کے لئے مناکحات کا لفظ استعمال کرتے تھے،موجودہ دور میں اس کو ’’احوالِ شخصیہ‘‘ اردو زبان میں عائلی قانون اور انگریزی میں PERSONAL LAW کہا جاتا ہے، قرآنی نصوص میں عبادات کے بعد سب سے زیادہ زور اسی شعبہ پر دیا گیا ہے، تقریباً ڈیڑھ سو آیات شخصی قوانین سے تعلق رکھتی ہیں، عبادات سے انسان یعنی فرد کی شخصیت کی روحانی تکمیل ہوتی ہے، اور پرسنل لا سے اجتماعیت اور خاندان کی تشکیل ہوتی ہے، اور دونوں کی تکمیل سے اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

پرسنل لاکی اصطلاح کب بنی :  

جب ہندوستان میں انگریزوں کا غلبہ ہوا اور انہوں نے اپنا قانون نافذ کیا تو قانونِ اسلامی کو اسکی محدود شکل میں جاری رکھا گیا ؛اور فیصلہ کے لئے نظامِ قضاء باقی رکھا گیا، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں معلوم تھا کہ اگر اس ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے گاتو ہماری حکومت ہی ختم ہوجائے گی کیونکہ مسلمان اور غیر مسلم کو اپنے پرسنل لا سے گہرا لگاؤ ہے، جذباتی بھی اور عقیدہ کا بھی ؛اس لئے انہوں نے اس ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی،بعد میں نظامِ قضاء بھی مختل ہوگیا، اور شخصی اور عائلی زندگی سے متعلق اسلامی قوانین کے نفاذ کا اختیار بھی عام سرکاری عدالتوں کے حوالے کردیا گیا ؛لیکن مسلمانوں کے معاملات میں قانونِ شریعت کو جاری اور باقی رکھا گیا اور انگریزوں نے عائلی قوانین کو اپنے قانون میں جگہ دی اور اس کا نام مسلم پرسنل لا رکھا گیا، گویا ’’ مسلم پرسنل لا ‘‘ کی اصطلاح انگریزوں کے دورسےہے، اور یہ اصطلاح اب تک رائج ہے، انڈین شریعت ایکٹ ۱۹۳۷ ؁ء کی دفعہ ۲ میں اسکی تصریح کردی گئی تھی۔

آزاد ہندوستان اور مسلم پرسنل لا :

  ملک کے آزاد ہونے کے بعد بنیادی حقوق میں ’’ عقیدہ و ضمیر ‘‘ کی آزادی، اور ہر مذہب والوں کے لئے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی کی دفعات رکھی گئیں، یہ دفعات مسلم پرسنل لاکے تحفظ کی ضمانت دیتی ہیں ؛ کیوں کہ مسلم پرسنل لا سے متعلق قوانین کتاب و سنت پر مبنی ہیں ؛لیکن بد قسمتی سے دستور کے رہنما اصولوں میں ایک دفعہ (دفعہ ۴۴ )یکساں سول کوڈ سے متعلق رکھ دی گئی ہے، دستور ساز اسمبلی کے مسلم نمائندوں نے دستور بننے کے وقت بھی اس پر اعتراض کیا تھا ؛لیکن بہر حال یہ شق دستور میں باقی رہی، دفعہ ۴۴ کے متن کا ترجمہ یہ ہے  :

’’حکومت شہریوں کے لئے ایک ایسا مشترکہ سول کوڈ رائج کرنے کیلئے جد و جہد کرے گی، جس کا نفاذ ہندوستان کے طول وعرض میں ہو ‘‘

۲۶؍ جنوری۱۹۵۰ ؁ ء کو جب ہندوستان کا دستور پاس ہوا اس کے کچھ ہی سالوں کے بعد سے یکساں سول کوڈ کی آواز اٹھنے لگی،اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے، ۱۹۷۲؁ء میں حکومت نے متبنی بِل پیش کیا، جس کا مقصد بلا تفریقِ مذہب، ملک کی تمام قوموں کے لئے متبنی کو اپنی اولاد کا درجہ دینا قرار پایا اور جن کو لے پالک لینے والے مرد و عورت کے ترکہ کا وارث قرار دیا گیا، ظاہر ہے کہ یہ قانون نہ صرف اسلام کے خلاف ہے ؛بلکہ عقل و خرد کے بھی خلاف ہے ؛کیوں کہ والدین اور اولاد کا رشتہ ایسا نہیں کہ صرف زبان سے وجود میں آجائے ؛ بلکہ یہ ایک فطری رشتہ ہے۔

چناں چہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے تمام ہی مکاتبِ فکر نے اس قانون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی، ان حالات کے نتیجہ میں حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ نے دارالعلوم میں ۱۳؍۱۴ ؍(مارچ ۱۹۷۲ ؁ء)ایک اجلاس بلایا، امیرشریعت مولانا منت اللہ رحمانی صاحبؒ نے بڑے خطرے اور اس کے نزاکتوں کو محسوس فرمایا اور اس وقت کے اکابر علمائے دیوبند، دانشور اور قانون داں بھی اکٹھا ہوئے، انہوں نے بعض بہت اہم فیصلے کئے، انہی میں سے ایک اہم فیصلہ ممبئی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا کے کنونشن کے انعقاد کا تھا، چناں چہ یہ اجلاس ۲۷ ؍۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۲؁ء میں مہاراشٹرا کالج میں منعقد ہوا جس میں ہندوستان کے تمام ہی مسلم مذہبی فرقوں، اصلاحی اور سیاسی جماعتوں اور نمائندہ اداروں کو شامل کیا گیا، اور اس کے نتیجہ میں ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘  کا قیام عمل میں آیا اور اس اجلاس میں یہ تجویز منظور ہوئی کہ :

’’یہ اجلاس متبنی بِل ۱۹۷۲ ؁ء کو اپنی موجودہ شکل میں قانون شریعت میں مداخلت سمجھتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمانوں کو اس سے مستثنی قرار دیا جائے ‘‘۔

خیال رہے مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانانِ ہند کی ایک غیر حکومتی تنظیم ہے ؛ لیکن ملتِ اسلامیہ کی آنکھوں کا تارا، اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا واضح نشان ہے۔

متبنی بِل اوربورڈ  :

  متبنی بل کے خلاف بورڈ کی قرار داد  اور اس کے خلاف اجتماعات اور تجاویز کی کثرت نے مرکزی حکومت کو محسوس کرایا کہ مسلمانوں میں اس بل کی وجہ سے بڑی بے چینی ہے ؛چناں چہ اس پر رائے عامہ حاصل کرنے لئے حکومت نے متبنی بل کا مسودہ پارلیمنٹ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کردیا، اس پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بورڈ کے اہم ارکان نے اپنی بات رکھی اور مدلل نمائندگی کی، بالآخر ۱۹؍ جولائی کو جنتا پارٹی کی حکومت نے مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کو معقول تسلیم کرتے ہوئے بل واپس لے لیا، یہ بورڈ کی بہت بڑی کامیابی تھی، ۱۹۸۰ ؁ء میں جب کانگریس پارٹی کی حکومت مرکز میں برسرِ اقتدار آئی تو پھر متبنی بل کا مسئلہ اٹھایا گیا، اس وقت بورڈ نے اپنی جدوجہد جاری رکھی، بورڈ کا ایک وفد وزیرِ اعظم اندراگاندھی سے ملا اور انہیں ایک مفصل میمورنڈ پیش کیا ؛ لیکن ۱۶؍ دسمبر ۱۹۸۰؁ء میں وہ بل دوبارہ پالیمنٹ میں پیش ہوا ؛ لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ کی بروقت بیداری کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس بل میں واضح الفاظ میں مسلمانوں کو اس قانون سے مستثنی کردیا گیا۔

بورڈ کے مقاصد : 

بورڈ کے مقاصد میں بنیادی طور سے دو باتیں شامل ہیں :

(۱)پارلیمنٹ اور عدلیہ میں زیرِ بحث آنے والے تمام قوانین پر نگاہ رکھنا جس سے بالواسطہ یا براہِ راست مسلم پرسنل متأثر ہوتا ہو۔

(۲)مسلمانوں کو عائلی و معاشرتی زندگی کے بارے میں شرعی احکام و آداب، حقوق و فرائض اور اختیارات سے واقف کرانا، مسلمانو ں کے مختلف مکاتبِ فکر اور فرقوں کے مابین باہمی اشتراک و تعاون کے جذبہ کی بیداری کی جدو جہد کرنا۔

بورڈ کی تشکیل  :  مسلم پرسنل لاکی تشکیل کے بعد اس کے اغراض و مقاصد کے سلسلے میں ۱۷ ؍۱۸ ؍ اپریل ۱۹۷۳ ؁ء کو ہندوستان کے مشہور و تاریخی شہر حیدرآباد میں بورڈ کا اجلاس ہوا،اسی اجلاس میں بورڈ کا دستور اساسی منظور ہوا،اس وقت دستور کے مطابق بورڈ میں ایک مجلسِ عاملہ ہے جس کے ارکان کی تعداد اس وقت ۵۱ ؍ ہےجس میں بورڈ کے صدر سمیت ملک کے سرکردہ دینی و سماجی قائدین شامل ہیں، مفتی اشرف علی باقوی صاحب کا حال ہی میں انتقال ہواہے، ـاس لئے ۵۰ ؍ ہیں اور ارکانِ اساسی میں ۱۰۲؍ افراد ہیں ( جن میں دو رکن :مفتی اشرف علی باقوی ؒ اور سید شہاب الدین کا انتقال ہوچکا ہے )، اور جنرل اراکین(ارکانِ میقاتی) کی تعداد ۱۴۹؍ ہے، اور عہدے دار میں ۱۲؍ لوگ ہیں، ۱؍ صدر، ۵؍نائب صدور(دیوبندی، بریلوی،جماعتِ اسلامی،جمیعۃ اہلِ حدیث اور شیعہ مکاتبِ فکر کی سرکردہ نمائندہ شخصیات بہ حیثیت نائب صدر منتخب کی جاتی ہیں، ہندوستان میں موجود قادیانی فرقہ کو بورڈ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہے ؛کیونکہ وہ خارج از اسلام ہے )،ایک جنرل سیکرٹری کا اہم عہدہ ہے اور سیکرٹری کی تعداد ۵؍ ہے، ایک خازن بھی ہوتا ہے، کچھ دنوں پہلے ترجمان کا عہدہ بھی بنایا گیا ہے،مولانا سجاد نعمانی اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحبان بورڈ کے ترجمان ہیں۔

بورڈ کے کچھ اہم کارنامے: 

(۱)متبنی بل کا تذکرہ اوپر آچکا ہے، (۲)جون ۱۹۷۵ ؁ء میں اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے ایمرجنسی نافذ کردی، اور سنجے گاندھی نے جبری طور پر نسبندی کی مہم چلائی، مسلمان اس تحریک کا خاص نشانہ تھے، حکومت کے کسی فیصلہ کے خلاف زبان کھولنے کی بھی اجازت نہیں تھی، ان حالات میں ۱۷؍۱۸ ؍ اپریل ۱۹۷۶ ؁ء کو بورڈ کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں جبری نسبندی کے خلاف تجویز منظور ہوئی ؛لیکن پریس نے ان تجاویز کو شائع کرنے سے انکار کردیا، تو خود بورڈ نے ملک کے کونے کونے تک اسے پہنچایا اور اسی ماحول میں مولانا منت اللہ رحمانی نے ’’خاندانی منصوبہ بندی ‘‘ کے نام سے رسالہ تالیف فرمایا۔

(۳)اکٹوبر ۱۹۷۸ ؁ء میں الہٰ باد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ نے ایک فیصلہ دیا، جس کے تحت لکھنؤ کی دو مسجدوں، ایک قبرستان اور جئے پور کی ایک مسجد کو وہاں کی میونسپل کارپوریشن نےایکوائر کرلیا، بورڈ کی کوششوں سے یہ قبرستان اور مسجدیں مسلمانوں کو واپس کردی گئیں۔

(۴)ایک بار سپریم کورٹ نے محمد احمد خان بنام شاہ بانو کیس میں تاحیات باتا نکاحِ ثانی شوہر پر نفقہ لازم کردیا جو شریعت میں کھلی مداخلت تھی، بورڈ نے اس کا پھر نوٹس لیا، پورے ملک میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف تحریک چلائی، بالآخر حکومت ِ ہندنے ۶؍ مئی ۱۹۸۶ ؁ء کو قانون حقوق مسلم مطلقہ ۱۹۸۶ ؁ھ پاس کرکے سپریم کورٹ کےفیصلہ کو رد کردیا اور اسلامی قانونِ نفقہ جاری کیا ؛لیکن افسوس کہ تعبیر کے نقائص کی وجہ سے یہ قانون سازی بھی بے فائدہ رہی، جس کی اصلاح کے لئے جدوجہد جاری ہے۔

(۵)۱۹۸۶؁ء میں ناجائز طور پر بابری مسجد کا تالہ کھول دیا گیا اور ۱۹۴۸ ؁ء میں غلط طریقہ پر رکھے گئے عام بتوں کی پوجا شروع ہوگئی،۱۹۹۰ ؁ء میں عاملہ کا اجلاس ہوا اور طئے ہوا کہ یہ جگہ قیامت تک مسجد ہی رہے گی، اور اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی، افسوس ۶؍ ڈسمبر ۱۹۹۲؁ء کو مسجد شہید کردی گئی، اس کے بعد بورڈ نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ابھی تک سپریم کورٹ میں یہ مسئلہ زیرِ بحث ہے۔

مسلم پرسنل لا اور یکساں سول کوڈ  :

   ملک میں رائج قوانین کی دو اہم قسمیں ہیں : (۱)سول کوڈ (۲)کریمنل کوڈ۔۔۔دوسری قسم کے اندر جرائم کی سزائیں اور بعض انتظامی امور آتے ہیں، ظاہر ہے کہ اس قسم کے قوانین تمام اہلِ ملک کے لئے یکساں ہیں، اور پہلی قسم کے دائرے میں وہ قوانین آتے ہیں جن کا تعلق معاشرتی، تمدنی اور معاملاتی مسائل سے ہے اور اس قسم کے اکثر قوانین سب کے لئے یکساں ہیں ؛البتہ اس قسم کا ایک حصہ جسے پرسنل لا کہتے ہیں ملک کی بعض اقلیتوں کو جن میں مسلمان بھی ہیں ان کے مذاہب کے لحاظ سے کچھ خصوصی شعبوں میں الگ مذہبی قوانین پر عمل کا اختیار دیا گیاہے، پرسنل لا کے متعلق مقدمات اگر سرکاری عدالت میں دائر کئے جائیں اور دونوں فریق اگر مسلمان ہوں تو سرکاری عدالتیں اسلامی شریعت کے مطابق ہی فیصلہ کرنے کی پابند ہیں، اسی خصوصی قانون کو ختم کرکے ملک کے تمام شہریوں کے لئے ایک ہی معاشرتی قانون نافذ کرنا یکساں سول کوڈ کہلاتا ہے، اگر اس پر عمل ہوتا ہے تو بقول مولانا علی میاں ندویؒ :’’ایسی چالیس آیتیں اور سینکڑوں احادیث ہیں جن سے مسلمانوں کو دست بردار ہونا پڑیگا، لیکن حکومت بتدریج یکساں سول کوڈ کی طرف قدم بڑھا رہی ہے، چناں چہ وہ اپنے ملازمین پر بلا تفریقِ مذہب تعدد ازدواج کا دروازہ بند کرچکی ہے، اسپیشل میرج ایکٹ پاس کرچکی ہے جس کے تحت ایک مسلمان عورت اپنا مذہب تبدیل کیے بغیر غیر مسلم سے شادی کرسکتی ہے اور جس کے تحت وہ اپنے شوہر کی نصف جائدادکی مالک ہوجاتی ہے، ابھی حال ہی میں تین طلاق کے تعلق سےبھاجپا حکومت کا اقدام اسی پسِ منظر کی عکاسی کرتا ہے۔

بورڈ کے صدور اور نظماء  : 

۱۹۷۲ ؁ء میں جب بورڈ کا قیام عمل میں آیا تو باتفاقِ رائے قاری طیب صاحب ؒکو پرسنل لا کا پہلا صدر اور مولانا منت اللہ رحمانی ؒکو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا، ۱۹۸۳ ؁ء میں قاری صاحب کے انتقال کے بعد مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒکو بورڈ کا دوسرا صدر چن لیا گیا اور ۲۰۰۰ ؁ء میں ان کے انتقال کے بعد قاضی مجاہد الاسلام کو بورڈ کا تیسرا صدر منتخب کیا گیا یہ پہلے فقیہ صدر تھے اور ۲۰۰۸؁ء میں مولانا رابع صاحب کا بورڈ کے چوتھے صدر کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیاہے جو اب تک اس عہدہ پر فائز ہیں۔

۱۹۹۱؁ء میں مولانا منت اللہ رحمانی کے انتقال کے بعد مولانا نظام الدین بورڈ کے دوسرے جنرل سیکرٹری بنے اور ۲۰۱۵ ؁ء میں ان کے انتقال کے بعد ۲۰۱۶ ؁ء میں مولانا ولی رحمانی کو جنرل سیکرٹری بنایا گیا ہے جو اب تک اس پر فائز ہیں۔

مسلمان کیا کریں : 

ملک کی موجودہ صورتِ حال میں مسلمان اپنے آپ کو پرسنل لاسے مربوط رکھیں اور ہر ممکن تعاون پیش کرنے کا جذبہ پیدا کریں، جس کے لئے مندرجہء ذیل گزارشات پر عمل ـضرور ہوگا، (۱)شرعی قوانین پر مسلمان خود عمل کریں، (۲)عوام و خواتین میں اسلامی قوانین کو رواج دیں، (۳)انصاف پسند غیر مسلموں کا تعاون حاصل کریں۔

مسلم پرسنل لا سے متعلق کتابیں  :

   اس مختصر تحریر میں مسلم پرسنل لا کی چند جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ؛تفصیل کے لئے مندرجہء ذیل کتب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔

(۱)بورڈ ایک نظر میں (بورڈ)

(۲)بورڈ کی تاریخ (بورڈ)

(۳)دستورِ ہند اور یونیفارم سول کوڈ (محمد عبدالرحیم قریشی مرحوم)

 (۴)اسلام کا نظام ِمیراث  (مولانا عتیق احمد بستوی)

(۵)اسلام کے عائلی قوانین (مولانا سید احمد عروج قادری)

 (۶)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، خدمات اور سرگرمیاں (بورڈ)

(۷)لازمی نکاح رجسٹریشن(کشمیر سے بنگال تک)    (بورڈ)

 (۸)مسلم پرسنل لا (مولانا منت اللہ رحمانیؒ)

(۹)مسلم پرسنل لا، بحث و نظر کے چند گوشے (مولانا منت اللہ رحمانیؒ)

(۱۰)متبنی بِل ۱۹۷۲ ؁ء، ایک جائزہ (مولانا منت اللہ رحمانیؒ )

(۱۱)نظامِ قضا : ایک اہم شرعی ذمہ داری(مولانا منت اللہ رحمانیؒ)

(۱۲)تعدد ازدواج، حقائق کے آئینہ میں (مولانا نورالحق رحمانی)

(۱۳)مسلم پرسنل کا مسئلہ، تعارف و تجزیہ(قاضی مجاہد الاسلام )

(۱۴)خاندانی منصوبہ بندی(مولانا منت اللہ رحمانیؒ)

(۱۵)یونیفارم سول کوڈ (مولانا منت اللہ رحمانیؒ)

(۱۶)مجموعہ قوانین اسلامی (آل انڈیا مسلم پرسنل لا)

(۱۷)تحفظِ شریعت  : ماہنامہ ضیائے علم حیدرآباد کا خصوصی نمبر، صفر، ربیع الاول، ۱۴۳۸ ؁ھ   ۲۰۱۶ ؁ء

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close