ملی مسائل

مسلکی اختلاف اور فرقہ بندی امت مسلمہ کے لیے ناسور 

احساس نایاب

یہ نفرت بُری ہے نہ پالو اسے

دلوں میں خلش ہے نکالو اسے

سنی، تبلیغی، اہل حدیث و فلاں

یہ سب کا ہے اسلام بچالو اسے

آج کا مسلمان سر سے لے کر پاؤں تک اس قدر گھائل ہے کہ یہ اپنے زخم نہ دکھا سکتا ہے نہ چھپا سکتا ہے، جسم کے ہر ہر حصے پہ اتنے گہرے گھاؤ لگے ہیں کہ سمجھ نہیں آتا ان پہ مرہم کریں بھی تو کہاں سے شروعات کریں، ایک کو آرام دینے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسرا کراہ اٹھتا ہے، دوسرے کو چھپانا چاہیں تو باقی ظاہر ہونے لگتے ہیں، اس اذیت اور ذلت بھری زندگی سے کیسے بچا جائے اس سوچ میں دن رات گذر رہے ہیں کہ اُس پہ ہر دن ایک نیا نشتر زخم دینے کے لئے تیار کھڑا ہے، ہمارے آپسی اختلافات ایک دوسرے پہ بہتان تراشی، طنز، بدزبانیاں ان زخموں کو ناسور بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں اور ہر بار تڑپ کر دل سے یہی آہ نکلتی ہے “دل پہ لگے ہیں گھاؤ بہت لیکن دکھائیں کہاں چھپائیں کہاں” کیونکہ زندہ قوم ایک جسم کہلانے والے مسلمانوں کا سارا بدن یہاں تک کہ روح بھی چھلنی ہوچکی ہے کبھی اللہ تعالی کی نافرمانیوں کی وجہ سے قدرتی آفات کی زد میں آکر تو کبھی دشمنان اسلام کی سازشوں کا شکار بن کر تو کبھی منافقوں کی منافقت سے یا خود اپنے رہنماء و قائدین کی انااور تکبر کی چکی میں پس کر قوم کا مستقبل تباہ وبرباد ہونے کے دہانے پہ کھڑا ہے لیکن شاید ہی کسی کو اسکی پرواہ ہو کیونکہ ایک عام مسلمان کے مستقبل سے آخر کسی کو کیا لینا دینا ہے۔

اہل علم حضرات اور قائدین کو تو ابھی اسٹیج پہ لڑنے جھگڑنے، چیخنے چلانے اور ایک دوسرے پہ آگ اگلنے سے ہی فرصت نہیں مل رہی اور اس چکر میں بھلے ہماری نوجوان نسلیں موت کے دہانے پہ کیوں نہ پہنچ جائیں، آخر انکی موت سے کسی کو کیا فرق پڑیگا کوئی مرتا ہے تو مرے، کسی کا آشیانہ جلتا ہے تو جلے، ننھی لاشیں خاک کے سپرد ہورہی ہیں تو ہوجائیں، شریعت کو سربازار نیلام کیا جارہا ہے تو کیا جائے، مسلمانوں کے حقوق سلب ہورہے ہیں تو ہو جائیں انہیں تو ابھی بس نام نہاد اتحاد کے نام پہ عید ملن کی پارٹیاں منانی ہیں، یوگا کے دھن پہ ٹھمکے لگانے باقی ہیں، اسٹیج پہ گل پوشی اور شال پوشی کرواتے ہوئے اپنی واہ واہی کروانی ہے، پھر اپنی تصاویر کو ہر اخبار کے فرنٹ پیج کی زینت بنانی ہیں اور ملک و ملت کے نام پہ سیاستدانوں کی چاپلوسی بھی تو کرنی ہے۔

پھر دیکھا جائے گا، تب تک بنت حوا لٹتی ہے تو کوئی حرج نہیں، ذلیل و خوار ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں ویسے بھی ہندوستان میں مردوں کے آگے عورتوں کی آبادی زیادہ ہے ان میں ایک آدھ ڈیڑھ گز زمین میں سوتی ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے، ہم تو ابھی بہت مصروف ہیں، ہم تو ابھی مسلک مسلک کا کھیل کھیل رہے ہیں، کوئی حنفی ہے، کوئی شافعی، کوئی مالکی تو کوئی حنبلی کے نام پہ لڑ رہے ہیں، کیونکہ یہاں پہ تو ہر کوئی خود کو اعلیٰ و افضل ثابت کرنے میں لگا ہے، لیکن آج اس میں اور بھی مزید اضافہ ہوچکا ہے، مسلکوں کے علاوہ اب تو فرقہ بندی بھی شیوہ بن چکی ہے، موجودہ حالات کے پیش نظر ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج سبھی خود کو بہت کچھ تو سمجھ رہے ہیں لیکن کیا کوئی خود کو مسلمان بھی سمجھتا ہے؟ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ جس نام کے آگے کسی مخصوص فرقے کا ٹھپا نہ لگا ہو اُس کے مسلمان ہونے میں بھی لوگ شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ نے پیدا ہوتے ہی کوئی ٹھپہ لگاکر بھیج دیا ہو کہ جا میرے بندے کوئی تجھ سے تیری پہچان پوچھے تو بتادینا کہ فلاں مسلک اور فلاں فرقے سے تعلق رکھتا ہوں کیونکہ یہاں پہ نامِ مسلمان سے بڑھ کر سنی، تبلیغی، اہل حدیث اور نا جانے کیا کیا ٹیگ معنی رکھتے ہیں جو ہمارے وجود پہ اس قدر حاوی ہوچکے ہیں کہ ہم ان فرقوں میں بندھ کر اونچی ٹوپی، چھوٹی ٹوپی، لمبی داڑھی، چھوٹی داڑھی، نماز میں ہاتھ یہاں باندھیں یا وہاں باندھیں، کوئی کہتا ہے پیر جوڑ کر کھڑے ہونا ہے، کوئی کہتا ہے پیر پھیلاکر کھڑے ہونا ہے، اسی طرح کئی مسئلے مسائل کو لیکر ہم میں اس قدر اختلافات بڑھ گئے ہیں کہ یہ اب ہماری زندگی کا اہم ترین حصہ بن چکا ہے کہ اب یہ جماعتیں اور فرقہ بندی کی ہوائیں ہمارے گھروں میں اپنے پیر پسارے ہوئے ہیں،جیسے حال ہی میں سنا ہواایک واقعہ یہاں پہ یاد آرہا ہے جسکو سنانا بیحد ضروری ہے کہ کچھ دن قبل ایک گھر پوری طرح سے بکھر گیا اور اسکی وجہ صرف اتنی سی تھی کہ شوہر کا تعلق ایک جماعت سے تھا اور بیوی کا تعلق کسی اور جماعت سے جب دونوں جماعتوں کے بیچ اختلافات بڑھنے لگے تو ساتھ ہی ساتھ ان میاں بیوی کی ازدواجی زندگی بھی متاثر ہونے لگی یہاں تک کہ دونوں نے علیحدگی اختیار کرلی اور ایک ہی پل میں ہنستا کھیلتا خاندان بکھر گیا، اور گھروں کو آباد کرنے والی جماعتیں گھرتوڑنے کی وجہ بن گئیں، آج ہم اپنی مسلم بہنوں کو پولس اور کورٹ تک جانے سے تو روکنا چاہتے ہیں، طلاق کے مدعے کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن فرقہ پرستی کی جو دیمک ہمارے گھروں کے اندر داخل ہوچکی ہے جس سے ہمارا گھریلو نظام متاثر ہورہا ہے ہم اسے نہیں پہچان پارہے ہیں جو ہماری قوم کو اندرونی طور پہ کھوکھلا کررہا ہے، ہم اُس سے نجات پانے کی جدوجہد نہیں کررہے ہیں کیونکہ یہاں پہ اس مرض کا علاج کرنے والے ڈاکٹرس یعنی علماء خود اس مرض فرقہ پرستی کی جڑ ہیں اور جب بھی کوئی عام مسلمان ان کے پاس اپنی الجھن لیکر جاتا ہے تو اُسی کہاوت کی طرح ہوتا ہے کہ مریض چاہتا بھی وہی تھا اور ڈاکٹر نے دیا بھی وہی ہے۔

آج کچھ اسی طرح عام مسلمان کے ایمان کا علاج کرنے والے خود مریض بن چکے ہیں جسکی وجہ سے اصل ایمان کی پہچان اور مسلمانیت گم ہوتی جارہی ہے اور ہمارے اس مرض لاعلاج کا پورا فائدہ دشمنان اسلام اٹھارہا ہے، کبھی ہمارے بزرگوں کی داڑھی نوچ کر تو کبھی ان کے سروں سے ٹوپی کھینچ کر، کبھی وندے ماترم کے نام پہ تو کبھی لوجہاد، گائے اور دہشتگرد کہہ کر ہم پہ ظلم و جبر قتل و غارتگری عام ہوچکی ہے، اور افسوس ہوتا ہے اس بات پہ کہ جانے انجانے میں ہی سہی ان حالات کے ذمہ دار ہم خود ہیں اور آج ہم خود اپنی ہی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں کیونکہ آج ہم اپنی آپسی تکرار کو پارلیمنٹ سے لیکر عام جلسہ، تقاریب، انٹرویوز اور سوشل میڈیا کے آگے چھپانے میں ناکام ہیں اور وقت، حالات، موقعہ کی نزاکت کو دیکھ کر بھی خود میں صبر وتحمل، زبان پہ قابو رکھ پانا ہمارے لئے مشکل ہوچکا ہے، اپنے ہی دینی بھائی کو کافر، دہشت گرد جیسے نازیبا الفاظ کے تمغے دیتے وقت فرمان الٰہی کو بھلادیتے ہیں کہ جس مذہب نے کافر کو بھی کافر کہنے سے منع فرمایا ہے آج اُسی مذہب کے اہل علم حضرات ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پہ کافر کہتے ہوئے، کفر کے فتوے لگاتے ہوئے پل بھر کے لئے بھی کیوں کسی کی زبان نہیں لڑکھڑاتی ؟

اللہ جانے کیا صحیح ہے کیا غلط ہے؟ کون سچا ہے کون جھوٹا؟ کسی کا یہ طریقہ، کسی کا وہ طریقہ، جدھر دیکھو الجھن ہی الجھن، کوئی کہتا ہے ہم قرآن کی پیروی کرنے والے ہیں، کوئی کہتا ہے ہم احادیث کی پیروی کرتے ہیں، تو کوئی کہتا ہے ہم سنت پہ عمل پیرا ہیں، سب کی باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں، لیکن جب سبھی ایک دوسرے کو کافر، دہشتگرد، بدعتی کہنے لگتے ہیں تو دل دہل جاتا ہے، پیروں تلے زمین سرکنے لگتی ہے، ایک مسلمان ہوکر دوسرے مسلمان پہ اتنے خطرناک الزامات اللہ اکبر! آج افسوس ہے اس بات کا کہ

“مسلمانوں نے ایک دوسرے کو کافر کہا

ایک کافر ہی تھا جس نے مسلمان کو صرف مسلمان کہا”

ایک بات قابل افسوس ضرور ہے کہ پارلیمنٹ میں جہاں پہ ایک غیر مسلم خاتون طلاق بل کی مخالفت میں بہترین انداز میں اسلام کی ترجمانی کرتی نظر آئی، وہیں ہمارے قابل احترام بزرگ اور ملی و دینی کاموں کے لئے اپنی شہرت رکھنے والے ہمارے قائد نے سلفیوں کودہشت گرد کہہ دیا، یقیناً یہ ایک بڑی چوک تھی،لیکن یہ بھی بڑکپن کی بات تھی کہ غلطی کرنے کے بعد فوراً ہی اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور بلا کسی تامل کے معافی بھی مانگ لیا، یقیناً یہ بھی بہت بڑی بات ہے، مگر معافی مانگنے کے باوجود مخالف جماعتوں کی طرف سے اس پر بحث مباحثہ کرنا اور ایک دوسرے کی جماعتوں پہ یلغار بولنا انتہائی چھوٹی سوچ اور منافقت کی علامت ہے، ساتھ ہی اپنے ہی پیر پہ کلہاڑی مارنے کی طرح ہے۔

جبکہ اللہ سبحانہ تعالی دونوں جہانوں کے شہنشاہ نے تو کبھی اپنے بندوں میں تفریق نہیں کی بلکہ اشرف المخلوقات کا درجہ دیا، اپنے بندوں کے بڑے سے بڑے گناہ بخش دئیے، ہر ایک کے لئے ایک جیسی دنیا بنائی، ایک رنگ کا خون، ایک رنگ و بو کا پانی، ایک ہی ہوا، ایک آسمان، ایک زمین، ایک نبی، ایک قرآن، ہر ہر لحاظ میں سبھی کے ساتھ یکساں انصاف کیا، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب کے لوگوں کے لئے اپنی بنائی گئی دنیا میں ہر قسم کی نعمت دی اور عزت سے جینے کا حق دیا، پھر کیوں آج تیرے بندے، تیری شان، تیرے رحم وکرم، تیرے بڑکپن کو بھلاکر تیرے احکامات کو جھٹلاکر اپنے ہی بھائیوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں،بہتان تراشی کتنا بڑا گناہ ہے، لیکن اس گناہ کو سرعام انجام دیا جارہا ہے،اگر یہ حرکت کوئی جاہل ان پڑھ گنوار کرتا تو بھی کچھ صبر کرلیتے خود کو سمجھا لیتے لیکن یہاں پہ تو سبھی صاحب علم حضرات ایسی حماقت کررہے ہیں، جن کے کندھوں پہ قوم کی ذمہ داری ہے، جنہیں نبیوں کے وارث ہونے کا درجہ ملا ہے، جن کی زندگیاں عبادات میں گذر رہی ہیں، ایسے حضرات سے اسطرح کی غلطیاں ناقابل برداشت ہیں۔

آخر اس کو ہم کم عقلی سمجھیں یا علمی جہالت؟جبکہ ہم تو ابھی نادان ہیں، کم عقل ہیں، لیکن آپ سبھی تو دانشوران، مفکر اور صاحب علم حضرات ہیں پھر بھی اپنی زبان سے ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں، تو دل کٹ کے رہ جاتا ہے، آج جس خوفناک دور سے مسلمان جوجھ رہا ہے، ہمارے ہی ہمسائے، ہماری جان مال آبرو کے دشمن بنے ہوئے ہیں،ایسے حالات میں ہمارے یہ اختلافات ہمیں کس سمت لے کر جائیں گے، آخر ہم اپنے لئے کس سے مدد مانگیں، بیشک رب کائنات کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے، لیکن جن کو دنیا میں ہمارے لئے رہبر،مسیحا، نگہبان،حاکم، امین بناکر بھیجا ہے آج وہ خود ہمیں ٹکڑوں میں تقسیم کررہے ہیں، ہم اپنی فریاد کس کو سنائیں، ہمارے بزرگوں کو ایمانی نیتوں سے بڑھ کر مسلکوں اور فرقوں کی پڑی ہے، ایسے میں مسلمانوں میں ایمان کی حرارت کیونکر آئیگی جبکہ ہم میں ایک دوسرے کے لئے ہمدردی، پیار محبت والا جذبہ ہی دم توڑ چکا ہے، اب تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں پہ مرہم لگانے والا کوئی نہیں رہا، سارے کے سارے زخم دینے والوں میں سے ہیں اور وارثوں کے ہوتے ہوئے بھی مسلمان لاوارث ہے۔

معذرت کے ساتھ چھوٹا منہ بڑی بات ہوگئی،لیکن ابھی بھی ہم اپنی بات پہ ڈٹے ہیں، ہم اپنے بزرگوں کو اس قدر جاہلانہ انداز میں لڑتے جھگڑتے، ایک دوسرے پہ طنز کستے، سوشل میڈیا پہ آگ اگلتے ہوئے، مسلمانوں کے درمیان زہر پھیلاتے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے جب غیرمسلمان ان ویڈیوز کو فارورڈ کرتے ہیں تو ہمارے منہ پہ تالا پڑجاتا ہے اور جب انہیں فرقوں کو ہمارے خلاف ہتھیار بناکر طنز کستے ہوئے پلٹ وار کرتے ہیں تو ہمارا دل ودماغ مفلوج ہوجاتا ہے، آخر ہم انہیں کہیں بھی تو کیا کہیں جبکہ یہاں پہ ہمارے اپنے ہی آیک دوسرے کو کفر کا فتوی دے رہے ہیں، ایک دوسرے کو کافر کہ کر مخاطب ہورہے ہیں، اور ایک دوسرے پہ سرعام دہشتگردی کا الزام لگارہے ہیں۔ اگر یہی بی جے پی، آر ایس ایس کہتی تو کہتے بھاڑ میں جاؤ، این آئی اے کی رپورٹ کہتی تو بھی کوئی پرواہ نہ تھی لیکن ہمارے اپنے کہتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور لبوں پہ یہی فریاد ہوتی ہے …۔۔

تاریخ پھر نئی رقم ہوگی یا کھلے گا باب نیا

دشمن ہے تاک میں اور اپنے ہیں خفا خفا

رحم کر میرے مالک اب تو ہے بس یہی دعا

ملک و قوم کےلئےجوہوبہترکرشمہ وہ کردکھا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close