ملی مسائل

ملت الیکش کے وقت ہی کیوں متحرک ہوتی ہے؟

ہیں اور بهی غم دنیا میں الیکشن کے سوا

مسعود جاوید

شمالی ہند میں کسی ایک مسلم  سیاسی لیڈر یا تنظیم کا نام بتائیں جن کے دس بارہ اسکول دو چار کالج آٹھ دس ووکیشنل ٹریننگ سینٹر ایک دو میڈیکل کالج دو تین انجینئرنگ کالج چل رہے ہوں۔ چندہ سے ہی سہی۔

مسلمانوں کی معاشی تعلیمی اور سماجی ترقی کے لئے مسلم دانشوروں کا vision کیا ہے ؟ اور اس vision کو زمین پر اتارنے کے لیے کیا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ اور اس پر عمل کب ہوگا؟ الیکشن میں فتح حاصل کرنا ہی معراج کیوں ہے؟

کیا کوئی ملی تنظیم کل ہند سطح پر قائم ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہے کیا کسی کے پاس آل انڈیا بیسڈ کیڈر ہے؟ دہلی کے کانفرنس ہالوں بیٹھ کر بعض ملی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں تو کیا اس وقت صوبائی اور ضلعی ذمہ داروں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شامل کرتے ہیں ؟ کیا ہر ملی تنظیم میں صرف پانچ لوگ ہی اہل ہیں وہ جو چاہیں دوسروں کو confidence میں لئے بغیر فیصلہ کرکے اپنے منتسبین پر تهوپ دیں ؟ کیا ان تنظیموں کے پاس ملک کے مختلف شاخوں سے فیڈ بیک لینے کا کوئی میکانزم ہے؟  کیا regular basis پر ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں نہیں یہ اور بات ہے کہ سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں اور سب قرآن کی آیت و امرهم شورى فيما بينهم اور  شاورهم في الامر کی تلاوت کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ الله کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کی حدیث کلکم راع و کلکم مسئول عن رعيته کا علم رکهتے ہیں کہ ہر شخص جوابدہ ہے۔ یہ hierarchy system یا decentralisationکا تصور چودہ سو سال پہلے ہمیں سکهایا گیا کہ ہر شخص کا اس کے منصب کے مطابق اختیار ہوگا اور وہ اپنے نیچے والے کے بارے میں جوابدہ ہوگا۔

یہ pyramidal organizational chart کا تصور ہے کہ تنظیم بلوک سطح والے ضلع کو ضلع سطح والے صوبہ کو اور صوبائی سطح والے مرکز سے مشورہ کریں اور تجاویز۔  پریشانیاں اوران کا مقامی ممکنہ حل سے آگاہ کریں  اور مرکز میں بیٹهے لوگ اپنے وسیع تر تجربات کی روشنی میں مسائل کو حل کریں اور حکومتی اداروں میں اثر و نفوذ کو بروئے کار لاکر لوگوں کی پریشانیوں کو دور کریں۔

ایسا اس لئے نہیں ہو سکا اس لئے کہ افراد بهی اپنی ذمہ داری سے فرار چاہتے ہیں جب کہ کلکم مسئول کی رو سے جوابدہی ان کی بهی ہے گرفت میں یہ بهی آئیں گے بهکت بننے سے چهٹکارا نہیں ملے گا آپ سے سوال ہوگا کہ آپ نے اپنے حصہ کی کهیت کی آبیاری کی یا نہیں۔ کیا آپ نے پریشر گروپ بناکر تنظیموں کو ایسا سسٹم بنانے اور follow کرنے کے لئے دباؤ ڈالا ؟

آپ کیا ہیں ؟ ایک   dreamer یا   thinker  یا planner یا executer یا financer ؟ سماج کو کچھ تو آپ دیں۔ آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں کوئی بات نہیں۔  آپ کے تعلقات میں کوئی تو مخلص پیسے والا ہوگا اس کو motivate کریں کہ مہینے میں ون ٹیچر اسکول کا خرچ پانچ سے دس ہزار آتا ہے وہ اکیلے یا دو تین مل کر فائننس کریں۔  اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا الدال على الخير كفاعله”یعنی اچهے کام کے لئے motivate کرنے والے کو اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اجها کرنے والے کو۔ ضرورت جوڑنے کی ہے۔ ہماری گرفت اسی لئے ہوگی کہ ہم تنظیموں کی تنقید اور تنظیموں سے امید لگا کر بیٹهے رہے اور خود کچھ نہ کیا۔ آپ ریٹائرڈ لوگوں کو motivate کریں کہ اگر ممکن ہو تو اپنا surplus amount میں سے کچھ رقم دیں یا کم از کم گهر میں بیٹهے رہنے کی بجائے کسی سماجی کام کے لئے کچھ وقت دیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close