ملی مسائل

ملت کو اختلاف کا ایک ہتھیار اور مل گیا

کوئی یہ نہیں بتاتا کہ الوداع والے جمعہ میں وہ کیا الگ ہوتا ہے جو دوسرے جمعہ میں نہیں ہوتا۔

حفیظ نعمانی

یہ شاید 2004 ء کی بات ہے ہم نے جمعہ کی نماز ایک مسجد میں پڑھی جس میں امام صاحب نے خطبہ میں ’’پڑھا الوداع و الوداع یا شہر رمضان الوداع‘‘ ہم خطبہ کے دوران کیا کہتے۔ نماز کے بعد ہم نے امام صاحب سے معلوم کیا کہ کیا کل روزہ نہ رکھا جائے؟ انہوں نے کہا کہ میں سمجھا نہیں۔ یہ سوال آپ مجھ سے کیوں کررہے ہیں۔ میں نے خطبہ کا حوالہ دیا اور عرض کیا کہ عربی میں شہر کے معنیٰ مہینہ ہوتے ہیں آپ نے خطبہ میں یا شہر رمضان الوداع کہا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ رمضان کا مہینہ وداع ہوگیا؟ انہوں نے چھپی ہوئی خطبہ کی کتاب مجھے دی اور کہا اس میں خطبہ جمعۃ الوداع یہ پڑھ لیجئے۔ ہم نے ادب سے عرض کیا کہ اس کتاب میں سے اسے پھاڑکر پھینک دیجئے۔

اتفاق کی بات کل ایک اخبار میں ایک مضمون کا عنوان دیکھا۔ ’’دو بار کہیں گے ہم رمضان کو الوداع‘‘ اور مضمون میں یہ لکھا ہے کہ اس بار جمعۃ الوداع کی نماز ملک میں دو بار ہوگی ایک مسلک کا اعلان ہے کہ الوداع 15 جون کو ہے اور دوسرے کا اعلان ہے کہ 8 جون کو ہے جو آٹھ جون مان رہے ہیں انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر چاند نہیں ہوا تو پھر 15 کو وہ دوبارہ جمعۃ الوداع منائیں گے۔ لکھنؤ میں ٹیلہ والی مسجد کے امام صاحب کے لئے یہ میلہ کا جمعہ ہے۔ ہم نے عیدگاہ کے امام کا اعلان تو کسی کی زبان سے سنا ہے کہ الوداع 15 جون کو ہے اور ٹیلہ والی مسجد میں 8 جون کو الوداع کا میلہ لگے گا۔

آٹھ دس سال پہلے ایسی صورت پیش آئی تھی سنہ یاد نہیں کہ ایک جمعہ 30 رمضان کو پڑرہا تھا خطرہ تھا کہ اگر چاند 29 کا ہوگیا تو اس دن عید ہوجائے گی اور الوداع کا جشن رہ جائے گا۔ اس سال تقریباً ہر جگہ خطرہ مول نہیں لیا گیا اور جمعۃ الوداع کا جشن منا لیا گیا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ ہم نے یہ سوچ کر کہ اگر چاند نہیں ہوا تو پھر 30 رمضان والے جمعہ کو کیا نام دیا جائے گا کیونکہ الوداع تو کہا جاچکا ہوگا؟ ہم نے 30 کیلئے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا۔ میں آخری جمعہ ہوں مگر الوداع نہیں۔ اور جس اخبار کے لئے لکھا تھا اس کے علاوہ ہمارے بھانجے نے 15 دوسرے اخباروں کو بھیج دیا۔ اس کے آخر میں ہم نے ایک نوٹ لکھا تھا کہ رات کو اس وقت تک انتظار کیا جائے جب تک رویت کا اعلان نہ ہو۔ اگر چاند نہ ہو تو چھاپ دیا جائے۔ اور یہی ہوا کہ چاند نہیں ہوا اور ملک کے 16 اخباروں نے اسے چھاپا۔

ہم پھر وہ باتیں دہرانا چاہتے ہیں جو ہم نے جمعۃ الوداع کے لئے برسوں پہلے لکھی تھیں پہلے ایک بات عرض کردیں کہ اس سال ایک جمعہ آٹھ جون کو اور آخری پانچواں جمعہ 15 جون کو ہے۔ جس خبر کی وجہ سے ہم لکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں کچھ لوگ آٹھ کو الوداع پڑھیں گے اور کچھ 15 اور ایک نئی قسم کے مسلمان ہوں گے جو دوبار جمعہ کو الوداع کہیں گے۔ اگر 30 رمضان کو عید نہیں ہوئی تو جو لوگ دوبارہ الوداع کہیں گے وہ کیا کہیں گے؟ معاملہ ان کے نزدیک مذہب کا ہے وہ بدتمیزی تو کر نہیں سکتے کہ کہہ دیں جب ہم الوداع پڑھ چکے تو آپ گئے کیوں نہیں؟ اب دیکھئے کیا سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے۔

ہم نے برسوں پہلے لکھا تھا۔ رمضان المبارک کا آج آخری جمعہ ہے جسے جمعۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ جس جمعہ کو جمعۃ الوداع تسلیم کیا گیا اور جس کیوداعی نماز بھی پڑھ لی گئی جس کے فوٹو بھی اخباروں میں چھپ گئے اور جس دن ایسی چھٹی ہوئی کہ پرائیویٹ بینک بھی بند ہوگئے وہ رمضان کا چوتھا جمعہ تھا۔ آخری جمعہ نہیں تھا۔ اس مسئلہ میں اب کیا کہا جائے یہ ان کے سوچنے کی بات ہے جو الوداع کی چھٹی عید کی طرح مناتے ہیں۔ رہے ہم، یا ہم جیسے کروڑوں تو ہم جیسوں کے لئے وہ رمضان المبارک میں پڑنے والے جمعہ میں سے ایک تھا۔

رمضان شریف کی عظمت کا ذکر قرآن عظیم میں صاف صاف فرمایا گیا ہے کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا اور اس مہینہ کی ایک رات ہزار مہینہ کی راتوں سے افضل ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا جو شخص شب قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ کھڑا ہو یعنی اس رات میں نفل پڑھے اس کے سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
رمضان المبارک اللہ کے نزدیک سب مہینوں سے افضل ہے اور اس کے آخری دس دن اور دس راتیں رمضان کے بقیہ دنوں اور راتوں سے بھی افضل ہیں۔ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں حضورؐ ساری رات جاگتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا روزہ اور قرآن دونوں بندوں کی شفاعت کریں گے۔

جتنا کچھ راقم کم علم کو علم ہے اور اس نے جو کچھ دینی کتابوں میں دیکھا ہے اس میں کہیں جمعۃ الوداع اور اس کی فضیلت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ رمضان المبارک سے متعلق ذکر ہے اس کے آخری عشرہ کے متعلق وضاحت ہے آخری دس راتوں میں سے ایک لیلۃ القدر کا ذکر ہے لیکن جمعۃ الوداع تو ڈھونڈنے سے بھی کہیں نہیں ملا کہ رمضان کے پہلے دوسرے اور آخری جمعہ میں فرق کیا ہے؟ البتہ حدیث میں رمضان المبارک کے بعد عیدالفطر کا ذکر ملتاہے کہ رمضان ختم ہوئے اور شوال کی پہلی تاریخ کو عیدالفطر منائی جائے۔ اور پروردگار کا ایک اعلان بھی ملتا ہے جو روزہ رکھنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے بندو! جو تم کو مانگنا ہو مانگو میری عزت اور جلال کی قسم آج اس موقع پر آخرت کی جو چیز بھی مانگوگے میں وہ تم کو ضرور عطا کروں گا اور دنیا کے متعلق بھی جو مانگوگے اس کے بارے میں تمہاری مصلحت پر نظر رکھتے ہوئے تمہارے لئے فیصلہ کروں گا۔

بات رمضان المبارک سے شروع ہوکر عید پر ختم ہوگئی لیکن جمعۃ الوداع کے متعلق ہمیں کچھ نہیں ملا۔ اگر ہمارے کسی بھائی کو قرآن عظیم اور حدیث شریف میں کچھ ملے تو ہمیں مطلع فرمائیں۔ اس گناہگار کو حرمین شریفین میں بھی آخری جمعہ پڑھنے کی توفیق ہوئی لیکن وہاں کوئی نہ جانتا ہے کہ اس کی کوئی خصوصیت ہے اور چھٹی کا تو سوال ہی نہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرآن عظیم کے 28 ویں پارے میں ایک سورۃ جمعہ ہے اس میں یہ تو فرمایا گیا ہے کہ جب اذان سنو تو سب کام چھوڑکر جمعہ کی نماز کے لئے جاؤ اور نماز کے بعد باہر آکر جو کام کررہے تھے وہ کرو وغیرہ۔ اگر الوداع کی کوئی حیثیت پروردگار کے نزدیک ہوتی تو سورۂ جمعہ میں یہ ضرور ہونا چاہئے تھا کہ رمضان کے آخری جمعہ کو ہر مسجد کے باہر ایسا میلہ لگاؤ جیسا ٹیلہ والی مسجد کے باہر لگتا ہے اور اس میں جو بریانی اور کباب بک رہے ہوں انہیں خرید کر کھاؤ یا لے جاؤ۔ وزیراعلیٰ یوگی نے جب الوداع کی چھٹی ختم کی تھی تو ہم نے ایک بدعت کے ختم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا جو اپنے قریبی دوستوں کو بھی برا لگا تھا۔ لیکن شریعت میں اضافہ یا کمی کا نام ہی بدعت ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام دوزخ کی آگ ہے اور ایک جمعہ کو الوداع کہہ کر رمضان کے دوسرے جمعہ سے الگ کرنا اور اسے دین ماننا بدعت بلکہ کسی جمعہ کو الوداعی جمعہ کہنا بھی بدعت ہے جس کاانجام دوزخ ہے خدا جاہل اور کاروباری مولویوں سے ملت کو بچائے۔ آمین

کوئی یہ نہیں بتاتا کہ الوداع والے جمعہ میں وہ کیا الگ ہوتا ہے جو دوسرے جمعہ میں نہیں ہوتا۔ تکبیر زیادہ ہوتی ہے یا رکوع زیادہ ہوتا ہے یا سجدے زیادہ ہوتے ہیں یا دو رکعت کے بجائے تین رکعت پڑھی جاتی ہے آخر جب وہ اتنا اہم جمعہ ہے کہ اگر ایک بار کہنے سے نہیں رخصت ہوا تو دوسری بار اور زور سے کہا جائے گا تو اس میں کوئی تو فرق ہونا چاہئے؟ اور فرق نہیں ہے اسی لئے وہ بدعت اور جہالت ہے جسے اختلاف ہو وہ فرق کے بارے میں لکھ کر بھیجے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close