ملی مسائل

مولانا سلمان ندوی کی برخواستگی کا قضیہ

صادق رضامصباحی

ان دنوں اردومیڈیامیں مسلم پرسنل لابورڈسے مولانا سلمان ندوی کی برخواستگی نیزاس متعلق تبصروں کا سیلاب آگیاہے۔ کچھ لوگوں کواس سے تکلیف بھی ہورہی ہےاورکچھ خوشیوں کے شادیانے بھی بجارہے ہیں ۔ یہ بھی کہاجارہاہے کہ مولاناولی رحمانی نے پورے مسلم پرسنل لابورڈکویرغمال بنارکھاہے، بورڈمیں ان کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا،سلمان ندوی صاحب کی برخواستگی بھی ان کے کیے دھرے اورسازشوں کانتیجہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس متعلق راقم الحروف کافی الحال کوئی موقف نہیں ۔ مجھے ایک دن قبل واٹس اپ پرایک تحریرموصول ہوئی ہے جس میں ان کی برخواستگی کی اصل وجہ نیزکچھ مخلص لوگوں کے ذریعے انہیں سمجھانے کابھی تذکرہ ہے۔ ہم یہاں یہ تحریرمن وعن پیش کررہے ہیں ۔ تحریرلکھنے والے ابوسعدگوتم ہیں مگر یہ نام فرضی معلوم ہوتاہے، اصل محررکوئی اورہے، بہر حال تحریرپڑھیے:

’’پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ میں جس طرح موقر اور محترم علماے کرام مثلا مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا عتیق بستوی، مولانا ارشد مدنی صاحبان نےانتہائی لجاجت اور دل سوزی کے ساتھ مولانا سلمان کو سمجھانے کی کوشش کی، ‘ ان کی خاندانی عظمتوں کے حوالے دئیے، ‘ ان کے شرمناک موقف کے ممکنہ نتائج بتائے۔

مولانا ولی رحمانی نے یہ تک پوچھا کہ کوئی ایک مثال ایسی بتا دیجیے جس میں کوئی مسجد کی جگہ غیر اللہ کی عبادت کے لئے دی گئی ہو مگر مولانا سلمان صاحب انتہائی جارحانہ انداز میں تمام بزرگوں کا خیال کیے بغیر مسجد میں مندر بنوانے کی بات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ پرسنل لا بورڈ ہی پر سوالات اور طعنوں کی بوچھار کرتے رہے۔ اس پر کچھ ممبران سے ان کی تیز گفتگو بھی ہوئی۔ مولانا کے اس انداز اور ضدی پن کی وجہ سے عاملہ کے سارے ممبران ان کے خلاف ہوگئے تھے۔ اکثریت تو اسی وقت برطرفی کا فیصلہ کرانا چاہتی تھی مگر جو بزرگ مولانا کی تلون مزاجی، ‘ جذباتیت اور سریع الغضب ہونے کو جانتے تھے، انھوں نے صدر محترم سمیت چار بزرگ ممبران پر مشتمل کمیٹی یہ سوچ کر بنوائی کہ ایک دو روز کے اندر مولانا سے تنہائی میں گفتگو کرکے سمجھا لیا جائے گا اورمولانا اپنے اس خیال خام سے حسب سابق رجوع کر لیں گے، مگر افسوس مولانا سلمان نے اس کی نوبت ہی نہیں آنے دی۔ ‘ پرسنل لا بورڈ اوراس کے کئی ممبران پر کھلے عام میڈیا میں حملے کیے، آرایس ایس کا ایجنٹ بتایا،تیس برس تک بورڈ کا ممبر رہنے کے بعد اچانک انکشاف کیا کہ پرسنل لا انگریزوں کا دیا ہوا نام ہے، ‘ الگ سے اپنا شریعت اپلی کیشن بورڈبنانے کی بات کی۔ کل تک جس بورڈ کو پوری ملت اسلامیہ ہند کا متحدہ پلیٹ فارم کہتے تھے، آج اسی کو کہہ رہے ہیں کہ یہ تمام مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہے، اس میں جھگڑا پھیلانے والے لوگ ہیں ۔

‘ کئی ممبروں سے سورۂ فاتحہ کا ترجمہ پوچھنے لگے۔ یہ تحریرپڑھنے والے کلیجے پر ہاتھ رکھ کر پوری ایمان داری سے بتائیں کیا ان سب کے بعد بھی سلمان صاحب کو بورڈ میں ہونا چاہیے تھا؟ جب سے ان کو الگ کیا گیا ہے ان کے متوسلین مستقل ان کے علم و فضل اور خاندان کی گواہی دے رہے ہیں ۔ ایسی ایسی تحریریں آرہی ہیں کہ مولانا سلمان الگ ہوگئے گویاقیامت آگئی ‘ مگر یہ لوگ بھول رہے ہیں کہ مولانا نے جن دیگر ممبران پر الزامات لگائے ہیں وہ بھی مومن ہیں ، کچھ عالم بھی ہیں ۔

یہ بھی یاد کرلیجیے کہ اس سے پہلے ایک معاملے میں مولانا سلمان صاحب حضرت مولانا ارشد مدنی کو بھی مباہلے کا چیلنج کر چکے ہیں ۔ ‘ اس کے علاوہ بھی ماضی میں نہ جانے کتنے لوگ ان کی زبان درازی کا شکار ہوچکے ہیں ۔ یاد رکھیے! مولانا سلمان صاحب یقیناایک اچھے عالم ہیں مگر ہندوستان میں ہزاروں ان سے اچھے علما بھی موجود ہیں ۔ ‘ وہ ایک اچھے مقرر ہیں مگر ہزاروں ان سے اچھے مقرر بھی ہیں ۔ پرسنل لا بورڈ میں تنہا مولانا سلمان ہی عالم نہیں تھے، درجنوں بزرگ ‘ ذی علم، ‘ زاہد شب زندہ دار علما ہیں ، ‘ دانشور ہیں ‘ سماجی خدمت گار، ‘ وکیل، صحافی ہیں ۔ مولانا سلمان کے نہ رہنے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ دنیا یوں ہی چلتی رہے گی، بورڈ اپنا کام کرتا رہے گا۔‘‘

زیرنظرتحریرسے بظاہریہ اندازہ لگ گیاہوگاکہ مولانا سلمان ندوی کوبورڈسے نکال باہرکیوں کیاگیا۔مولانااب اپنی مظلومیت کارونارہے ہیں مگراب ان کے طلبہ تک ان پرہنس رہے ہیں ۔ مولاناکی برخواستگی کے یہ توظاہری اسباب ہیں ، بقول بعض کچھ اندرونی اسباب بھی ہیں ، یہ اندرونی اسباب کیاہے، کسی کوکچھ نہیں معلوم۔ سوال یہ ہے کہ کیامولانااپناالگ ’’شریعت اپلی کیشن بورڈ‘‘بنائیں گے ؟کیاپھربورڈتقسیم ہوگا؟کیامولاناکایہ کہنابالکل صحیح ہے ؟کہ ’’یہ تمام مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہے‘‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close