ملی مسائل

نام نہاد مسلم لڑکیوں کو مودی سرکار کا تحفہ

حفیظ نعمانی

جب خبر دی جاتی ہے کہ وزیر اعظم کی کابینہ نے بل کو منظوری دے دی ہے تو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے لمبی بحث کے بعد کابینہ نے اسے منظور کرلیا۔ وہ حکومت بہت پہلے ہوا کرتی تھی جس میں کابینہ کا اجلاس بھی گھنٹوں بلکہ دو دو دن چلتا تھا۔ اب تو برسوں سے کابینہ کا کام یہ ہے کہ وزیراعظم نے جو بل تیار کرادیا کابینہ کے ارکان نے اس پر مہرلگادی مودی کابینہ میں جو مسلمان وزیر ہیں وہ خود نہیں جانتے کہ طلاق کتنی نازک چیز ہے۔ ان میں نہ کوئی شریعت سے واقف ہے اور نہ قانون سے۔ الیکٹرانک میڈیا کی مانیں تو ایسا لگتا ہے جیسے تین طلاق کا بل سائرہ بانو اور شائستہ عنبر کی رہنمائی میں بن رہا ہے۔ ان سے معلوم کیا جارہا ہے کہ اس پر سزا سخت ہونا چاہئے یا نرم؟ اور وہ کم عقل مشورہ دے رہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سخت تاکہ ڈر کی وجہ سے کوئی طلاق نہ دے سکے۔

ملک کے قانون میں قتل کی سزا پھانسی یا عمر قید ہے اور گینگ ریپ کی سزا حکومت نے سخت سے سخت بنادی تو کیا قتل اور گینگ ریپ بند ہوگئے؟ حکومت کو اس بل کی تیاری میں صرف مسلمان وکیلوں سے مشورہ کرنا چاہئے تھا اور بے وقوف عورتوں سے تو بالکل ہی نہیں۔ حکومت کے ماہروں نے کیا یہ سوچا ہے کہ تین سال کی سزا اور ضمانت نہیں کا نتیجہ کیا ہوگا؟ مڈل کلاس اور نیچے طبقے کی وہ لڑکیاں جو گھر گھر ٹی وی پر لڑکے اور لڑکی کا پیار محبت کا ڈرامہ دیکھا کرتی ہیں ان میں ہر لڑکے کی ایک محبوبہ ہوتی ہے اور ہر لڑکی کا ایک محبوب اور اس پر آگ میں تیل کا کام موبائل نے کردیا ہے اب ہم دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ 90 فیصدی لڑکے اور لڑکیاں دماغوں میں اپنے منصوبے بنائے ہوئے ہوتے ہیں اور ماں باپ کے ڈنڈوں سے مجبور ہوکر کہیں شادی کرلیتے ہیں تب بھی وہ آگ ٹھنڈی نہیں ہوتی۔ اور اپنے محبوب سے مل کر شوہر کو قتل کرنے کے واقعات صرف اسی کا نتیجہ ہیں۔ اب جبکہ حکومت ان آوارہ مزاج لڑکیوں کو بغیر ضمانت کے تین سال کی سزا کا ہتھیار دے دیگی تو آئے دن یہ کہانی سننے کو ملے گی کہ لڑکی نے تھانے میں جاکر رپورٹ لکھا دی کہ میرا شوہر مجھے طلاق دے کر کہیں چلا گیا۔ اگر یہ غلط ہے اور شوہر کہتا ہے کہ میں نے تو طلاق نہیں دی تو بات کس کی مانی جائے گی؟

اس طرح کی طلاق کے واقعات زیادہ تر اس گھر میں ہوتے ہیں جس میں شوہر بیوی اکیلے ہوں اور اگر ہوں تو چھوٹے بچے ہوں بھرے گھر میں جب بات بڑھتی ہے تو موجود رشتہ داروں میں سے کوئی نہ کوئی درمیان میں آجاتا ہے۔ لڑکا اور لڑکی تنہا رہتے ہیں تو زندگی سمٹ کر محدود ہوجاتی ہے اور ذراسی بات بھی بڑھتے بڑھتے مارپیٹ اور طلاق تک آجاتی ہے ایسے میں کون گواہی دے گا کہ طلاق دی یا نہیں دی؟ اور اگر طلاق دینے کے بعد لڑکا ہی کہے کہ میں نے تو نہیں دی تو کس کی مانی جائے گی؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ حکومت یا پارلیمنٹ کے طے کرنے کا نہیں ہے اور نہ اُن عورتوں کے طے کرنے کا ہے جنہیں ہر وقت اپنا فوٹو اور اپنا نام اخبار میں چھپوانے یا کالا برقع گلے میں ڈال کر بھینسوں کی طرح جگالی کرتی ہوئی گھومنے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ بات حکومت کو بھی معلوم ہے کہ بہت بڑی تعداد نہیں بلکہ 95 فیصدی اس کے خلاف ہیں کہ تین طلاق یا شریعت کا کوئی بھی مسئلہ عدالت یا حکومت طے کرے۔ یہ بات کوئی مسلمان یا ہندو کی نہیں ہے کہ جیسے مردوں میں کچھ لوگ عیاش ہوتے ہیں لیکن اکثریت نہیں ہوتی اسی طرح عورتوں میں بھی کچھ عیاش فطرت کی ہوتی ہیں اور یہ وہی ہوتی ہیں جن کی خبریں آئے دن اخباروں میں چھپتی ہیں اور آج کے سہارا کے صفحہ 6 پر آج بھی ہے کہ ایک شادی شدہ لڑکی کی کسی لڑکے سے دوستی تھی اور اس کی شادی ماں باپ نے کردی تو اس نے اپنے عاشق سے مل کر شوہر کو قتل کرا دیا یہ الگ بات ہے کہ دونوں ہندو ہیں۔ لیکن عیاشی میں نہ کوئی ہندو ہوتا ہے اور نہ مسلمان۔

ایک نشست میں تین طلاق کے بارے میں حکومت کو بھی معلوم ہے کہ مسلمانوں میں اختلاف ہے لیکن ہر مسلمان اسے برا کہتا ہے اس لئے کہ مسلمانوں کے آقا مولا رسول اکرمؐ اور حضرت عمرؓ کی سخت ناگواری سب کو معلوم ہے لیکن اسے حرام اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اوپر حرام نہیں کہا گیا اور جتنے طلاق کے واقعات ہوتے ہیں وہ کوئی ملک کو ہلا دینے والے نہیں ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ وہ مسلمان عورتیں جنہوں نے اسے سیاسی مسئلہ بنا لیا ہے وہ بے لگام ہیں اور کالے برقعوں کی وجہ سے الگ نظر آتی ہیں ورنہ دوسرے مذاہب کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت کم ہے اس کا ثبوت ہم خود ہیں ماشاء اللہ ہمارے خاندان جو ہمارے دادا مرحوم کی نسل ہے ان کی تعداد ہزار کا ہندسہ چھو رہی ہوگی یا اور زیادہ ہوگی اس سے زیادہ تعداد ان کی ہے جن سے تعلق ہے ان میں صرف ایک طلاق ’’وہ بھی فریقین کے فیصلہ کے نتیجہ میں‘‘ کے علاوہ دوسرا واقعہ نہیں ہے۔ مودی جی کو فکر ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بھی طلاق نہیں رُکی تو تین سال کی سزا اور جرمانہ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پھر بھی نہ رُکی تو پھانسی؟
؂س

لم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ایک نشست کی طلاق طلاق ہی نہیں رہی تو اب قانون سزا اور جرمانہ کیسا؟ بورڈ کے نزدیک یہ اقدام بہت بڑا ہے اس میں جلدبازی قطعاً مناسب نہیں ہے۔ یہ بات واقعی حکومت کے سوچنے کی ہے کہ شریعت نے اسے برا تو مانا مگر طلاق تسلیم کرلی حکومت یعنی سپریم کورٹ نے اسے طلاق ماننے سے انکار کردیا تو یہ شوہر اور بیوی کے درمیان متنازعہ مسئلہ بن گیا اور اگر اسے صرف عورتوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا تو یہ تو عیاشی کا پروانہ بن جائے گا۔ جو لڑکی اپنے پرانے عاشق سے تعلق بنانا چاہے گی وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔ اس لئے یہ ضد کہ اس اجلاس میں یہ بل پاس ہوجائے بہت غلط ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close