ملی مسائل

نوجوان نسل کہاں جا رہی ہے!

محمد عرفان ندیم

یہ لاہور کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی اور دسمبر 2018کے آخری دن تھے۔ یونیورسٹیوں میں سمسٹر رائج ہوتا ہے، یہ سمسٹر چھ ماہ کے دورانیے پر مشتمل ہوتے ہیں، سال میں بہار او ر خزاں کے نام سے دو سمسٹر ہوتے ہیں، بہا رسمسٹر فروری مارچ جبکہ خزاں ستمبر اکتوبر میں شروع ہوتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں نئے داخلوں کے بعد عموما ویلکم پارٹی اور سمسٹر کے آخر میں فیئر ول پارٹی کا اہتمام ہوتا ہے۔ ویلکم پارٹی میں نئے داخل ہونے والے طلباء کو ویلکم کہا جاتا ہے اور فیئرول پارٹی میں فارغ ہونے والے طلباء کے لیے تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ پارٹی کی روایت ہر یونیورسٹی میں موجود ہے، اس یونیورسٹی میں بھی ویلکم پارٹی کا اہتما م تھا، میں نے تازہ تازہ بطور وزیٹنگ لیکچرر یونیورسٹی کو جوائن کیا تھا۔ پارٹی عصر کے بعد شروع ہوئی اور رات نو دس بجے تک جاری رہی۔ میں شروع میں پارٹی میں شریک نہیں ہو سکا اور جب شریک ہوا تو دس بیس منٹ سے ذیادہ وہاں بیٹھ نہیں سکا۔ تقریب کا رسمی آغازپہلے ہوچکا تھا، جب میں شریک ہواتو اسٹیج سے اونچی آواز میں میوزک چلا یا جا رہا تھا۔ اسٹیج پر موجود کمپیئرنگ کرنے والے صاحبان چیخ چلا رہے تھے، اس چیخ وپکار کا مقصد یہ تھا کہ سامنے بیٹھے طلباء و طالبات کو جوش دلا کر انہیں مدہوش کیا جائے اور جس میں تھوڑی بہت ایمان کی رمق باقی ہے وہ بھی جذبات کے ہاتھوں مغلوب ہو کر اس ماحول کا حصہ بن جائے۔ یونیورسٹی کا لان کچھا کھچ بھرا تھا، تیز میک اپ، انتہائی نامناسب فیشن، تنگ و چست لباس اور غیر مناسب حرکات کرتے طلباء و طالبات۔ ساتھ ہی اسٹیج سے مختلف قسم کے گانے مسلسل بجائے جا رہے تھے، پہلے کلچرل نمائش شروع ہوئی جس میں پانچوں صوبوں کے نمائندہ طلباء و طالبات باری باری اسٹیج پر آئے اور انتہائی غیر مناسب انداز میں اپنے لباس کی نمائش اور کیٹ واک کرکے رخصت ہو گئے۔ اس دوران سامنے بیٹھے طلباء و طالبات شور مچاتے اور آوازیں کستے رہے۔ پھر کلچرل ڈانس شروع ہوا جس میں ہر صوبے کا مخصوص میوزک چلا یا گیا اور اس صوبے کے نمائندہ طلباء و طالبات نے اسٹیج پر آ کرپرفارم کیا، اسٹیج سے مسلسل چیخ و پکار کے بعد سامنے بیٹھے طلباء و طالبات بھی رقص میں شریک ہوگئے۔ پھر ایک مشہور بینڈ کو اسٹیج پر بلایا گیا، اس بینڈ نے مشہور انڈین گانوں پرپرفارمنس دی، اسٹیج سے کمپئر مسلسل چیخ چیخ کر سامنے بیٹھے طلبا ء و طالبات کو بھی رقص کی دعوت دے رہے تھے، کچھ دہی دیر میں ماحول کچھ ایسا بن گیا تھاکہ اسٹیج پر جسم تھرک رہے تھے، اونچی آواز میں میوزک چل رہا تھا اور اس میوزک سے مدہوش لان میں موجود طلباء وطالبات بھی بے خود ہو کر رقص میں شامل ہو گئے تھے۔ میرے لیے یہاں مزید بیٹھنا ممکن نہیں تھا۔ اپنی زندگی، قوم اور امت کے مستقبل سے بے خبر ان نوجوانوں کو دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں گناہگار ضرور ہوں، میرا وجود اس دھرتی پر بوجھ سہی مگر میرے اللہ کا مجھ پر اتنا کرم ہے کہ مجھ میں ایمان کی کچھ رمق ابھی باقی ہے۔ میں بے چین ہو کر وہاں سے نکل آیا، جب مین گیٹ پر پہنچا تو گارڈ کہنے لگا ـ’’سر فنکشن عروج پر ہے اور آپ جا رہے ہیں ‘‘ میں نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے عرض کیا کہ میں مزید یہاں نہیں بیٹھ سکتا، وہ پٹھان تھا، صورتحال سمجھ گیا بتانے لگا سر تھوڑی دیر پہلے ایک طالبہ آئی تھی، اس نے کونے میں نماز پڑھی اور دوبارہ فنکشن میں چلی گئی۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا یہ طالبہ اصل بزرگ تھی جو اس آذاد ماحول اور رقص و سرود کی محفل میں بھی اپنے رب کو نہیں بھولی۔

میں نے یہ جو کچھ لکھا ہے کسی ایک یونیورسٹی کی با ت نہیں تمام یونیورسٹیوں کا یہی حال ہے، ویلکم اور فیئر ول پارٹی پر اس طرح کے فنکشنز کا ہونا ایک معمول کی بات ہے، یہ تو آفیشل فنکشن ہوتے ہیں اس کے علاوہ کبھی سپورٹس ڈے، کلچرل ڈے کے نام سے طلباء ایسے ایونٹس کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایونٹس کبھی یونیورسٹی ہی میں منعقد ہوتے ہیں اور کبھی طلبا ء و طالبات اپنے طور پر کسی اچھے ہوٹل میں بکنگ کروا لیتے ہیں۔ اور اس سے بڑا دکھ یہ ہے کہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور فیکلٹی بھی ایسے ایونٹس میں موجود ہوتی ہے مگر کسی کو احساس نہیں ہوتا کہ ہماری نوجوان نسل کہاں جا رہی ہے۔ سارا سال باپردہ آنے والی طالبات بھی اس طرح کے فنکنشز میں بے پردہ ہونے اور زیب و زینت کے اظہار کو فخر سمجھتی ہیں۔ بظاہر دین دار گھرانوں کے بچے بھی یونیورسٹیوں کے ماحول میں جا کر اس رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ میری والدین سے گزارش ہے کہ وہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے اپنے بچے اور بچیوں کو اس طرح کے فنکشنز میں شامل ہونے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔ یہ وہ نوجوان نسل ہے جس نے آگے چل کر یہ ملک سنبھالنا ہے، یہ نسل فکری و نظریاتی اعتبار سے بالکل تہی دست ہے، یہ سچے محب وطن ہیں اور نہ ہی انہیں امت مسلمہ کی کوئی فکر ہے بلکہ یہ تو بہت دور کی باتیں ہیں یہ نسل اپنی ذات سے بھی ناواقف اور بے خبر ہے۔ یہ اپنے مقصد زندگی سے واقف ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ یونیورسٹیاں ان کے لیے تفریح گاہیں اور زندگی دو چار دن کی عیش ہے۔ اپنے خاندان کی فکر نہ ملک کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس۔ جب اس نسل کا یہ حال ہے تو آنے والے دنوں میں اسلام اور پاکستان کے حوالے سے جواندازے اور خدشات ہیں وہ بہت بھیانک اور خوفناک ہیں۔

یہ یونیورسٹیوں کی صورتحا ل تھی اب اسکولوں اور کالجز میں بھی یہی فضا پروان چڑھ رہی ہے۔ الحاد، بے دینی، فحاشی و عریانی اور اپنی تہذیب سے دوری بڑھتی جا رہی ہے لیکن اس کے سامنے بندھ باندھنے کا احساس کسی کو نہیں۔ پورا تعلیمی نظام اس ماحول میں رنگا جا رہا ہے، نوجوان نسل دین سے دور ہوتی جا رہی ہے اور مغربی کلچر تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، کوئی ایک ایسی یونیورسٹی نہیں جہاں اسلامی تہذیب کے مطابق نوجوان نسل کو تیار کیا جاتا ہو، جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ تہذیب، حب الوطنی اور امت مسلمہ کا ایک فرد بن کر زندگی گزانے کا سبق سکھایا جاتا ہو۔ کسی طرف کوئی مسیحا نظر نہیں آتا، اب ایسے افراد کا منظر عام پرآنا ناگزیر ہے جو وسائل کے ساتھ ملک و قوم اور امت کا درد رکھتے ہوں۔ جو ایسے تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں قائم کریں جہاں تعلیم کے ساتھ تہذیب، حب الوطنی اور امت مسلمہ کا فرد بن کر جینے کی سپرٹ پیدا کی جائے۔ ورنہ جو اس وقت صورت حال ہے وہ بہت مایوس کن ہے۔

ہماری نوجوان نسل فکری و نظریاتی اعتبار سے بالکل کھوکھلی اور عملی اعتبار سے بالکل سست ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے پاس مطالعہ ہے، وژن ہے اور نہ ہی غور فکر اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت، یہ چار چارسال یونیورسٹیوں میں لگا کر ویسے ہی خالی ہاتھ باہر آرہے ہیں جیسے خالی ہاتھ یہ یونیورسٹیوں میں گئے تھے۔ نوجوان نسل یونیورسٹیو ں میں جو کچھ کر رہی ہے یہ ظاہری اعمال ہیں اور ظاہر ہے کہ اعمال سوچ، فکر اور نظریئے کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ اس لیے نوجوان نسل کی بگڑتی عادات، اپنی تہذیب سے دوری، ناچ گانے اور رقص و سرود کو معمول سمجھنے کے پیچھے جو سوچ، نظریہ اور نفسیات کا ر فرماہیں اگر ان کاتجزیہ کیا جائے تو دکھ اور بڑھ جاتا ہے۔ کاش ہمیں کوئی ایسا لیڈر مل جائے جو نئی نسل کو بیدار مغز نوجوان، محب وطن پاکستانی، اہمت مسلمہ کا فرد بن کر جینے اور کھوئی ہوئی میراث کو حاصل کرنے کا سبق سکھا دے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Close