ملی مسائل

نکاح ایک نعمت ہے،جسے امت کیلئے زحمت بنادیا گیا

ڈاکٹر اسلم جاوید

ایک مرد اور عورت کے درمیان اسلامی قانون کے مطابق جو تعلق اور رابطہ استوار کیاجاتاہے ،اسے شریعت اسلامی میں نکاح کہتے ہیں ۔یہ محض اپنی نفسانی اور جنسی خواہشوں کے پورا کرنے کیلئے نہیں اور نہ نکاح کا یہ مقصد ہے کہ ایک مرد اور عورت کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کے گلے پڑ جائیں اور نہ شریعت اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ عورت کوشہوانی خواہشات کی تکمیل کا سامان بناکر رکھ دیا جائے۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح ایک دینی اور مذہبی عمل اور ایک گہرا تمدنی، اخلاقی اور قلبی تعلق ہے۔مرد و عورت میں الفت و یگانگت اور میاں بیوی میں باہمی مناسبت کا پاکیزہ رشتہ ہے اور اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مرد و عورت کے میل ملاپ سے ایک کامل اور خوشگوار زندگی وجود میں آئے،اور اس کے نتیجے میں نسل انسانی کا سلسلہ بھی حدودِ الہٰی کی نگرانی کے درمیان بڑھتا اور پھولتا پھلتا رہے۔قرآن کریم کا ارشاد گرامی ہے۔نساء کم حرث لکم فاتو احرثکم انی شئتم:’’تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو۔‘‘یعنی جہاں تک میاں بیوی میں وظیفہ زوجیت کا تعلق ہے تو تمہاری بیوی تمہارے لئے ایسی ہی ہے جیسے کاشت کار کیلئے کاشت کی زمین ،زمیندار کیلئے اس کا کھیت ہواکرتے ہیں ،کھیت کہتے ہیں اس قطعہ زمین کو جس میں کاشت کے لئے تخم ریزی ہوتی ہے۔

پیدا وار کے لئے بیج بویا جاتا ہے اور اس میں سبزی ،غلہ ،نباتات اگائے جاتے ہیں ۔ کھیت میں کسان محض تفریح اور وقت گزاری کیلئے، نہیں جاتا، بلکہ اسے اپنی بہت بڑی دولت سمجھ کر اسے نہایت درجہ عزیز رکھتا اور اس سے پیداوار حاصل کر کے خوب منافع کماتا ہے۔اسی طرح عورتیں مردوں کے لئے کھیتی کی جگہ ہیں ۔اس کا نطفہ تخم ہے اور اولاد کا حصول بمنزلہ پیداوار ہے تو عورتوں اور مردوں میں ایک دوسرے سے تعلق اور قربت سے مقصود نسل انسانی کی بقا ،صالح اولاد کا حصول اور پاکیزہ زندگی کے ساتھ ایک خوشگوار ماحول کی فراہمی ہے، خیال رہے کہ شہوت پوری کرنے، نفسانی تعیش کی پیاس بجھانے اور محض جنسی خواہشات کی تکمیل کا نام ہی عقد یا نکاح نہیں ہے ،بلکہ ایک مؤمن مردو خاتون کے درمیان عقد یعنی رشتہ زوجیت قائم کرنے کا اصل مقصد ایمان کی تکمیل اورصالح اسلامی معاشرہ کی تعمیر کرنا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق مؤ من مردو خاتون آپس میں رشتۂ زوجیت قائم کرنے کا ایک اہم الہی مقصد نیک اور خداتر س نسل کی افزائش بھی ہے۔شادی کے بعد جب مسلمان اپنی شریکہ ٔ حیات کے ساتھ شہوانی ضرورت کی تکمیل کیلئے مباشرت کرتا ہے تو اس سے جو پھل یا نسل روئے زمین پر وجود میں آتی ہے ،اس کی اسلامی منہج کے مطابق صحیح تربیت اور لازمی اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرکے اسے ایسا مثالی مسلمان بناناہمارے فرائض کا حصہ ہے ،جس کی نیک خصلت،نرم مزاجی ،اخلاق حمیدہ اورعملی زندگی میں اس کے معاملات کی نفاست اور دیانت کو دیکھ کرغیر اور منکرین اسلام بھی مذہب اسلام کی جانب متوجہ ہونے اور مذہب اسلام کے رودارانہ ماحول میں بے ساختہ داخل ہونے کیلئے بے چین ہوجائے ۔

بہر حال یہ اسی وقت ممکن ہے جب شادی صحیح اسلامی تعلیمات اور سنت نبوی ﷺ کے مطابق انجام دی جائے گی تو اس کے طفیل ہمیں وہ تمام فیوض و برکات حاصل ہوسکیں گے ،جس سے ایک مسلمان کی ازداجی زندگی دوسروں کیلئے باعث رشک و عبرت بن جائے گی اور محسن انسانیتﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی برکت سے جو نسل ہمارے گھروں اور گود میں آئیں گی اس کی مومنانہ شان کو دیکھ کر دنیاکی تباہ حال قومیں اور امن کی خوگر انسانیت دامن اسلام میں پناہ لینے کیلئے بیتاب ہوجائے گی۔اس طرح سے اگر دیکھا جائے تو شریعت اسلام میں نکاح عمل بھی ایک بہترین دعوتی مشنہے۔شریعت اسلامی کے مطابق نکاح کے احکامات پر عمل کرنے والے کی زندگی ایک عملی دعوت کے فریضہ کو بہترین ڈھنگ سے گم کردہ راہ انسانیت کے درمیان پہنچانے میں صد فیصد کامیاب رہے گی۔

مذکورہ بالا آیۃ کریمہ میں آگے یہ بھی ارشاد فرمایاگیاہے،وقدموا لانفسکم۔یعنی اپنے حق میں آئندہ کیلئے کچھ کرتے رہو ،اپنے لئے مستقبل کا سامان کرو۔اس ربانی ہدایت کا عمومی مطلب یہی نکلتا ہے کہ اگر بندۂ مومن شریعت اسلام کی تعلیمات اور سنت نبوی ﷺ کے مطابق شادی کرتا ہے اور اسکے بعد اپنی ازدواجی زندگی کو اسلامی اخلاقیات میں پوری طرح ڈھال لیتا ہے تو اس کی وہی مومنانہ طرز حیات  انسانیت کیلئے دعوت کاکام کرجاتی ہے، جو اس کیلئے دوران زیست اور موت کے بعد خیرو مغفرت اور بلندی درجات کا سامان بن جاتا ہے۔

 پھر رب کریم نے فرمایافرمایا:۔ واتقواللّٰہ۔اللہ سے ڈرتے رہو، یعنی یہ بات نہ بھولو کہ تمہیں ایک دن مرکر اپنے خالق حقیقی کے سامنے حساب کتاب بھی دینا ہے۔یہ جامع الفاظ ہیں جن سے دو مطلب نکلتے ہیں اور دونوں کی یکساں اہمیت ہے ۔ایک یہ کہ نسل برقرار رکھنے کی کوشش کروتا کہ تمہارے دنیا چھوڑنے سے پہلے تمہاری جگہ دوسرے کام کرنے والے پیدا ہوں اور کارخانہ عالم کا نظام قائم رہے۔دوسرے یہ کہ جس آنے والی نسل کو تم اپنی جگہ چھوڑ نے والے ہو اس کو دین، اخلاق اور آدمیت کے جو ہر سے آراستہ کرنے کی کوشش کرو، یہ گویا اس کی تاکید ہے کہ لذتوں میں مشغولیت کے وقت بھی مسلمان مرد اور عورت اپنی ذمہ داریوں کو نہ بھول جائیں ۔لذت پرستی ہی میں ڈوب کر نہ رہ جائیں ،بلکہ اپنی لذتوں کو بھی اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی فکر سے غافل نہ ہوں ۔اگر ان ذمہ داریوں اور فرائض کے ادا کرنے میں تم نے قصداً کوتاہی کی اور شہوانی لذتوں اور نفسانی خواہشوں ہی میں ڈوب کر رہ گئے تو خداوند قدوس کے یہاں باز پرس سے کس طرح بچ سکو گے۔

مذکورہ بالاتفصیلات میں شرعی نکاح کے مقاصد اور اس کے محاسن کو پیش کرنے کی سعی گئی ہے،اب ہم ان منہیات پر بھی تھوڑی روشنی ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے نکاح جیسی عظیم نعمت ہمارے لئے دنیا میں ہی سوہان روح بن جا تی ہے اور آخرت میں اس کے کیا وبال ہم پرپڑنے کے جوامکانات ہیں ،اسے پیش کرنا بھی نہا یت ضروری ہے ۔ ذہن نشین رہے کہ شادی بیاہ تقریباً سبھی کے یہاں ہوتے ہیں ،اکثر لوگ بحمد اللہ لڑکے لڑکی والے ہیں ،نکاح کی تقریبات کے موقع پرشریعت اسلامی کی تعلیمات کا مذاق اڑانے اور سنت نبوی ﷺسے عمداً گریز کرکے رسم و رواج کی پابندیاں کرنے کی وجہ سے جو پریشانیاں ایک شخص کو لاحق ہوتی ہیں وہ دوسرے شخص کو بھی لاحق ہوتی ہیں ،لہٰذا ہم اہل ایمان کیلئے لازم ہے کہ پہلے اس کی شناعت کو محسوس کرنے کی سعی کی جائے اور اس کا بہترین اور آسان حل تلاش کیا جائے؟آج نوے فیصد مسلم خاندانوں میں شادی شدہ زندگی جس کرب اور قتل و بدامنی سے گھری ہوئی ہے،اس کیلئے دیگر اسباب کے  ساتھ بنیادی وجہ نکاح کے عمل میں سنت اور شریعت کی روگردانی کی نحوست بھی ہے۔عصر حاضر کے بے ضرورت لوازمات اختیار کرنے کی وجہ سے تقریباً ہر شخص ایک اضطراب و پریشانی میں مبتلا ہے ،مگر ہر شخص ان تکلیفوں کو خوشی سے برداشت کیے جارہا ہے ،وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنی عزت عزیز ہے ،خواہ غریب آدمی ہو یا امیر ،آدمی چھوٹا ہو یا بڑا،ذمہ دار ہو یا غیر ذمہ دار، ہر ایک اپنی پوزیشن بنانے یا باقی رکھنے کیلئے ان تمام غیر ضروری رسوم کو اختیار کرتا ہے،جو شادیوں کا ایک جز بن چکی ہیں ،معاشرہ میں سمجھدار لوگوں کی کمی نہیں ، بحمد اللہ علماء ،صلحاء،اتقیاء،حکماء اورد ا نشوران قوم موجود ہیں ۔

مگر سبھی اپنی حیثیت برقرار رکھنے کو مجبوری سمجھ کر رسم و رواج کے سامنے سپر ڈال دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے اس سلسلہ میں ہماری کوئی رہنمائی نہیں کی ہے ،یا پھر تعلیمات، ہدایات جاننے کے باوجود اپنی جھوٹی شان دکھانے اور شادی کی تقریب کو پرشکوہ بنانے کی غیر اسلامی ذہنیت کے اسیر ہو چکے ہیں ،جس کی وجہ شادی و نکاح کے عمل میں سنت نبویﷺ کو اختیار کرنے سے لاپرواہو ناہے۔اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ رسوم و رواج کی قباحت وشناعت کو عمومی سطح پر اجاگر کیا جائے ،تمام لوگوں کو غیر اسلامی طریقوں کے نقصانات کو خواب اچھی طرح دل و دماغ میں بٹھایا جائے۔اس موضوع پر ہمارے اکابر علمائے کرام ،صوفیائے عظام اور مذہب اسلام کے عظیم داعیوں کی بے شمار تصانیف مختلف زبانوں میں موجود ہیں ،جس کے مطالعہ سیر حاصل معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔فی الحال جو برائیاں پیش نظر ہیں ان میں شادی کے موقع پر سنت و شریعت کو چھوڑ دینا ہے، جس کی وجہ سے ہم غضب الٰہی کے مستحق ہورہے ہیں ،ممنوعات شرعیہ،رسوم ورواج کا ارتکاب کیا جارہا ہے ،اسلا می طریقے مٹ رہے ہیں ، فضول خرچی ،بے پردگی،غیروں کی مشابہت ،اختلاط مع النساء،ویڈیو گرافی،رقص و موسیقی ،نمود و نمائش ،شہرت طلبی جیسے مفاسد نے اپنا دائرہ بہت وسیع کر لیا ہے، اکثر مسلم گھرانوں پر ان برائیوں کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں ،لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ذمہ داران قوم، خصوصاً علماء،اس سلسلہ میں قوم کو متوجہ کریں ،برادری اور کمیٹیاں بنا کر سدھار کی کوشش کریں ،ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ خداوند قدوس اسلام کی ناقدری کی وجہ سے ہمیں محروم کر کے دوسروں کو نواز نہ دے اور پھر وہ ہم جیسے ناقدرے نہ ہوں ۔

لیکن اسلامی معاشرہ کے ساتھ ایک المیہ یہ بھی ہے اسلام کے سادہ اورآسان تریں ضابطہ نکاح کو اپنی شان و شوکت ،نام و نمود اور دوسروں کو مرعوب کرنے کے شوق میں ہمارے معاشرہ کا زیرک متمول اور تعلیم یافتہ مالدارطبقہ جسے درحقیقت اپنے عمال  کے ذریعہ دوسروں کیلئے درس عبرت ہونا چاہئے ،وہی شادیوں اور نکاح کی تقریب کو غیروں کی طرز پر انجام دے کر اسلامی معاشرہ کو سب سے زیادہ مایوس کررہا ہے۔اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Back to top button
Close