ملی مسائل

وادی کے زخموں کی مندملی کا احساس

از:کانتی باجپائی

ترجمہ و تلخیص : ایڈوکیٹ بہاء الدین

مسئلہ کشمیر کو حل کرتے وقت جذبہ ہمدردی اہم ترین معاملہ ہے۔ Webster Merriam کی ڈکشنری میں Empathy کے معنی یہ ہے کہ اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ تم دوسروں کے جذبات کو سمجھ کر اس میں شریک ہوتے ہیں اور اس کے تجربات، جذبات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ بہت سے ہندوستانی موجودہ بحران سے بے چین ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیوں وادی کے لوگ اتنے زیادہ احتجاجی ہوگئے۔ یہاں میرے خیالات معقول تجربات کی روشنی میں درج ذیل ہیں۔
کشمیریوں کی ناراضگی کی وجہ کی سب سے اہم دلیل یہ ہے کہ نئی دہلی و غیر کشمیریوں نے الحاق کے موقع پر کئے گئے وعدوں کو ایفاء نہیں کیا۔ جس کے تحت کشمیر کی کچھ حد تک خوداختیاری کو تسلیم کی گئی تھی۔ جسے آرٹیکل 370 نے دستور کے ذریعہ عطا کیا ہے۔ الحاق کے معاملہ کی اصل روح آرٹیکل 370 تھا۔ جس کے ذریعہ کچھ حد تک انہیں خود اختیاری دی گئی تھی۔ جبکہ مرکزی حکومت کے تحت صرف تین شعبے دفاع، امور خارجہ، مواصلات ہی تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 370 کی عمل آوری میں ڈھیلے پن کی وجہ سے کشمیریوں کو اس نتیجہ پر پہنچنا پڑا کہ مرکزی حکومت کا اس معاملہ میں رویہ ایماندارانہ نہیں رہا۔ کوئی بھی غیر کشمیری اپنے آپ کو اس مسئلہ سے علیحدہ ہی رکھا۔ جب کبھی کوئی جماعت برسر اقتدار ہوتی ہے تو نئی دہلی میں آرٹیکل 370 کو بالکلیہ طور پر رد کرنے کی بات کرتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو کسی کو بھی اس میں تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ کشمیری اپنے آپ کو زیادہ علیحدہ محسوس کرتے ہیں۔
دوسری معقول وجہ کشمیریوں کو ملک کے دیگر حصے سے علیحدہ سمجھنے کی وجہ تاریخی ہے۔ وہ کبھی بھی اس معاملہ کی صفائی کے بارے میں سخت اور سنجیدہ نہیں رہے۔ یہاں کی زندگی کے بارے میں توجہ نہیں لی۔ خواہ وہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی یا بدھسٹ ہو۔ کشمیریوں کو وادی میں الگ تھلگ ہی کرسکا ہے۔ جو وہاں کی صحت بخش آب و ہوا کی تاثیر ہے۔ انہیں کون الزام دے سکتا ہے؟ انہیں کون الزام دے سکتا ہے کہ وہ ہندوستان کے دیگر علاقوں سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھا ہے۔ ہم اپنی سادگی و صاف گوئی کو پسند کرتے ہیں لیکن واقعتا ہم کشمیریوں کو سمجھ نہیں سکے اور نہ انہیں متوجہ کرسکے۔ صرف کشمیر ہی نہیں جو ہماری جانب متوجہ نہیں ہوئے بہت سے شمال مشرقی والے بھی ایک دوسرے سے متاثر و مشترک نہ ہوسکے۔ میرے تجربات کی بنیا د پر خیال ہے کہ کشمیریوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور ہماری سوچ میں اس بات کا تامل ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان، ہندو اکثریت والوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو نہیں سکے۔ گوکہ انڈیا رسمی و ظاہری طور پر اپنے آپ کو سیکولر ہونے کا اعلان کرچکا ہے۔ لیکن آج انڈیا سیکولرازم سے بہت دور ہوا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔
2014ء ؁ سے ہمارے ہندوستان کے سیکولرازم کے تانے بانے پر متعدد بار تشدد ہوا ہے جس کے بارے میں کشمیری پڑھتے اور دیکھتے ہیں۔ جس طرح لاکھوں ہندوستانی ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں۔ وہ ملک میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے ماحول کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس حکومت کے آنے سے پہلے ہی حملے و زیادتیاں ہوئی ہیں۔ لیکن کشمیری دیکھ رہے ہیں کہ اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس لئے وہ کیوں اس بڑھے ہوئے عدم برداشت، Illebral India کے جز بن جائیں۔ قطعی طور پر کشمیری اس وقت غصہ میں آئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ان کی کیا پسند اور خواہشات ہیں؟ وہ ہندوستان کے جز کے طور پر رہنے کا تجربہ حاصل کرچکے ہیں۔ پاکستان کے جز کا وہ جو دنیا کی سب سے زیادہ متشدد اور غیر مستحکم حکومت ہے اس کے ساتھ وابستگی تو سب سے زیادہ خراب فیصلہ ہوگا۔ بہت سے کشمیری آزادی پسند ہیں اور آزادی چاہتے ہیں لیکن کیا اس کا امکان ہے؟ جبکہ یہ سرزمین ہندوستان، پاکستان اور چین جیسے ممالک کے درمیان ہیں۔ اس لئے تقریباً نتائج صفر کے برابر ہے۔ کونسی مملکت آزاد کشمیر کو صحیح طور پر برداشت کرے گی۔ گوکہ وہ یو این او کے ممبر ہیں۔ دل کی گہرائیوں سے کشمیری ان باتوں کو جانتے ہیں اس لئے وہ اتنے مایوس اور Frustration میں ہیں۔
کشمیر میں فساد دنگے کی روک تھام کے علاوہ کیا اور بھی کچھ کرسکتے ہیں؟ نئی دہلی کو یقین دہانی کرانی ہوگی کہ آرٹیکل 370 کا احترام کیا جائے گا۔ کشمیری وادی والے نتیجتاً وہ یقین دہانی کرائیں گے کہ وہ ریاست کا حصہ ہیں اور ان کے تیقنات کو حل کیا جائے گا۔ یہ اس بات کی ضمانت نہ ہوگی کشمیری ہندوستان سے محبت کریں یا پھر جموں، لداخ و سری نگر سے محبت کریں۔ آرٹیکل 370 کے رحجان کی تبدیلی سے موجودہ تشدد کو روکنا چاہئے۔ اس عرصہ میں کشمیری اپنی شناخت ہندوستان سے بہتر طور طریقے سے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے شدت پسندی کو ختم کریں گے۔ اس دوران پاکستان اپنی کوتاہیوں کے باوجود ہندوستان کی کوتاہیوں کو اجاگر کرتا رہے گا۔ حکومت کا یہ بیان کہ اس مسئلہ کو ہندوستان کے دستور کے چوکھٹے میں حل کرنا ہے درست و صحیح ہے۔ آرٹیکل 370 دستور کا حصہ ہے۔ ہمیں اس کا احترام کرتے ہوئے کشمیریوں کو آرام دینے والا احساس دلائیں۔

(ٹائمز آف انڈیا 10-09-2016)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close