ملی مسائل

پوری دنیا میں ایک ہی دن عید کی کوشش کا انجام

اس مبارک مہینے میں تو جھوٹ فریب عیاری مکاری سے توبہ کرلیں اور بدعت کو فروغ نہ دیں جس کو گمراہی کہا گیا ہے اور ہر گمراہی کا انجام دوزخ بتایا گیا ہے۔

حفیظ نعمانی

ہمارے سامنے سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک بھر میں نشر کی گئی ایک تقریر ہے۔ دو دن پہلے کا ایک اخبار اور سوشل میڈیا کے ذریعہ دوسری تقریر ہے۔ پہلی تقریر جو ہمیں سنائی گئی اس میں لکھنؤ عیدگاہ کے امام پوری دنیا کے مسلمانوں کو مبارکباد دے رہے تھے کہ انہوں نے اتفاق رائے سے 17  مئی کو روزہ رکھا جو برسوں کے بعد دیکھنے میں آیا ہے اور وہ کل آٹھ جون کو دنیا بھر میں جمعۃ الوداع کی نماز پڑھیں گے۔ اخبار کی چار کالمہ سرخی ہے کہ کیا رمضان کی طرح ہی دو عیدیں بھی منائی جائیں گی؟ یہ سوال کرنے والے سید طارق تجاری، سراج الدین قریشی، اور ڈاکٹر ظفر محمود صاحبان ہیں ان حضرات نے مشترکہ بیان میں کہا کہ- جہاں تک انا کا مسئلہ ہے تو وہ اس سال بھی دیکھنے کو ملا۔ دہلی میں ایک کمیٹی نے دوسری کمیٹی سے رابطہ کئے بغیر اپنا فیصلہ سنایا اور اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ جہاں بھی وہ فیصلہ پہونچا وہاں کی کمیٹیوں نے بغیر تصدیق کئے اپنا فیصلہ سنادیا اور دیکھتے ہی دیکھتے فیصلوں کا انبار لگ گیا اور کچھ کمیٹیوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ مانیں یا نہ مانیں ہمارا تو یہی فیصلہ ہے۔ اسی اختلاف کی وجہ سے دہلی میں ایک اعلان عشاء سے قبل اور دوسرا عشاء کے بعد ہوا۔ اور وہ آگے کہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کسی نے روزہ رکھا اور کسی نے روزہ نہیں رکھا۔

اور دوسری تقریر آگرہ کے مفتی صاحب کی ہے جو مفتی عبدالقدوس رومیؔ مرحوم کے فرزند ہیں اور اب متفقہ طور پر مفتی ہیں انہوں نے کہا کہ ’’مطلع صاف تو مسئلہ صاف‘‘ جب آگرہ میں بادل اور گرد و غبار سے پاک آسمان تھا اور دیکھنے والے ہر عمر کے مسلمان تھے اور مغرب کی نماز کے دوران اور بعد میں ہر ممکن کوشش کے باوجود چاند نظر نہیں آیا تو کیسی رویت؟ اب اگر کہیں سے خبر آتی ہے تو آگرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں یہاں کوئی مسلمان روزہ نہ رکھے۔ اور یہ بات انتہائی معتبر ذریعہ سے مل چکی ہے کہ رام پور میں جامع مسجد کے امام صاحب نے اعلان کرا دیا کہ چاند نہیں ہوا ہے اس لئے پہلا روزہ کل نہیں ہوگا اور یہ بھی بتایا گیا کہ رام پور میں نواب صاحب کے زمانہ سے جامع مسجد کے اعلان سے ہی چاند کا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کے امام اور دوسرے منتظم بریلوی مسلک کے ہیں لیکن تمام مسلمان وہ کسی بھی مسلک کے ہوں ان کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں ۔ اور آخری بات یہ ہے کہ ایک بزرگ ممتاز عالم دین نے فرمایا کہ میں رویت کے اعلان سے متفق نہیں ہوں ، لیکن اس لئے روزہ رکھا ہے کہ ایک حدیث یہ بھی ہے کہ اگر سب روزہ رکھیں تو تم بھی رکھ لو۔

اس کے بعد ندوہ میں تعلیم پائے ہوئے امام جو بغیر پڑھے اور بغیر کسی دارالقضا اور دارالافتاء میں تربیت پائے ہوئے اپنے ذاتی اور خاندانی علم کی بناء پر مفتی اور قاضی بھی ہیں اور رمضان المبارک میں فتوے کی مشین بھی چلاتے ہیں وہ جھوٹی تقریر کریں تو مفتیانِ کرام ان کے بارے میں کیا فتویٰ دیتے ہیں ؟ اس تقریر میں صرف ایک ہی دن روزہ رکھنے کا جھوٹ نہیں بولا بلکہ یہ بھی اس سے بڑا جھوٹ بولا کہ ساری دنیا میں جمعۃ الوداع کی نماز بھی آٹھ جون کو پڑھی جائے گی۔ دنیا کی بات تو بہت دور ہے اپنے پورے ملک اور پورے صوبہ کو چھوڑیئے۔ صرف لکھنؤ میں جمعۃ الوداع کا لفظ صرف ان مسجدوں میں بولا گیا جن کے امام جاہل منتظم جاہل اور نماز پڑھنے والے جاہل یا وہ جو بس جمعہ جمعہ پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی ان سے معلوم کرے کہ اس دارالعلوم ندوہ میں کسی کی زبان پر الوداع کا لفظ آیا؟ ہم مسجد محمدی میں جمعہ کی نماز میں جیسے تیسے چلے جاتے ہیں وہاں آٹھ جون کو ہم ساڑھے بارہ بجے سے ڈیڑھ بجے تک ایک گھنٹہ رُکے اس مسجد میں کچہری کے مسلمان وکیل بڑی تعداد میں اور جو ٹیلیفون اور دوسرے سرکاری محکمے مسجد سے قریب ہیں ان میں کام کرنے والے مسلمان نماز کے لئے آئے کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آج جمعۃ الوداع کی نماز ہوگی یا جمعۃ الوداع 15  والے جمعہ کو ہوگا؟

ہم نے چند روز پہلے لکھا تھا کہ لفظ الوداع کے علاوہ اور وہ کیا ہے جو نماز میں پڑھا جاتاہے یا کیا جاتا ہے جو جمعہ کی عام نمازوں میں نہیں ہوتا؟ ٹیلہ والے امام جو اس قابل تھے وہ بھی ندوی تھے اور کبھی نہ بتاسکے کہ الوداع کیا ہے؟ عیدگاہ کے امام بھی ندوی ہیں وہ ساری دنیا میں جمعۃ الوداع کی نماز پڑھنے کی بات کرتے ہیں ۔ جبکہ ہم نے لکھا تھا کہ ایک سال ہمیں آخری جمعہ مکہ معظمہ مسجد حرام میں پڑھنا نصیب ہوا اور ایک سال مسجد نبویؐ میں آخری جمعہ کو نماز پڑھی اور خطاب سنا ہم نے کسی امام کی زبان سے لفظ الوداع نہیں سنا۔ اور یہ بات ہر وہ مسلمان بتا دے گا جس نے اپنی ملازمت کے زمانہ میں وہاں نماز پڑھی ہے یا صرف لکھنؤ کے وہ مسلمان جو رمضان میں عمرہ کرنے گئے ہوں اور عید کے دن یا دوسرے دن واپس آئے ہوں وہ بتا دیں گے کہ پورے عالم اسلام میں کہیں اس جہالت کا ذکر نہیں ہے۔ یہ ان سرکاری مسلمانوں کی حرکت ہے جو دین سے بے بہرہ صرف نام کے مسلمان ہیں انہوں نے حکومت کے ہندو زیروں کو من گڑھت کہانی سنادی اور ان کی بات حکومت نے مان کر الوداع کی چھٹی کردی۔

یہ بات ہر اخبار میں چھپ چکی ہے کہ جاہلوں کے ایک گروہ نے اعلان کردیا ہے کہ وہ جمعۃ الوداع 15  جون کو منائیں گے اور ایک گروپ وہ بھی جس نے کہا تھا کہ ہم دو جمعوں کو الوداع کی نماز پڑھیں گے اگر کوئی گروپ یہ کہے کہ رمضان میں اگر چار جمعہ ہوئے تو چاروں کو ورنہ پانچوں کو ہم الوداع منائیں گے کیونکہ جو جمعہ جائے گا وہ پھر سال بھر نہیں آئے گا تو ان کی بات کو بھی کیوں نظرانداز کیا جائے؟ اب ایک جمعہ 15  کا رہ گیا ہے اس دن ہر مسلمان کو دعا کرنا چاہئے کہ پروردگار جاہل مسلمانوں کو علم دے اور جو جاہلوں کی جہالت سے اپنی دُکان چلا رہے ہیں انہیں توفیق دے کر اس مبارک مہینے میں تو جھوٹ فریب عیاری مکاری سے توبہ کرلیں اور بدعت کو فروغ نہ دیں جس کو گمراہی کہا گیا ہے اور ہر گمراہی کا انجام دوزخ بتایا گیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close